Download Fontsetup 

بنام عبدالمجید سالک

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

بنام عبدالمجید سالک

(1) نیویارک۔۱۳/ اگست ۵۱ء

برادر محترم۔ سلام مسنون۔ گرامی نامہ ملا۔ لاہور کا نقشہ واقعی بدل گیا ہوگا۔ آپ کی (کا؟) شہر آشوب پڑھ کر افسوس ہوا۔ آپ کو خط لکھنا مبارک ہوا کیونکہ اسی دوران میں ن۔ م۔ راشد کا خط بھی ملا جس میں حفیظ (ہوشیار پوری) کی تازہ تاریخ گوئی کا لطیفہ شگفتگی کا باعث ہوا۔ نہ سنا ہو تو سنا دوں۔ راشد نے جدید شعراء پر ایک مضمون لکھا جس کے بعض فقرے حفیظ صاحب (جالندھری) کو گراں گزرے۔ انہوں نے تاؤ کھا کر راشد کو یہ شعر لکھ بھیجا

خبث دروں دکھا دیا ہر دہن غلیظ نے
کچھ نہ کہا حفیظ نے ہنس دیا مسکرا دیا

اس پر حفیظ (ہوشیار پوری) نے اس واقعہ کی تاریخ کہی۔ چہ خبث دروں (۱۳۷۰ھ) راشد نے چند اردو کی کتابیں بھی بھیج دی۔ جن سے شب وروز میں کچھ رنگینی پیدا ہوگی۔ آپ کو خط لکھنے سے طبیعت کا ”یخ ٹوٹا“ تو سلمان صاحب کو بھی ایک خط لکھ دیا اگر انہیں جواب کی توفیق ہوئی تو دل میں لہو کی ایک اور بوند نظر آنے لگے گی۔ بہرحال محض انہیں مخاطب کرکے بھی رُبع ملاقات کا مزا تو آہی گیا۔ اگلے دن ایک کتب فروش کے ہاں ملک راج آنند کی ایک تازہ تصنیف انڈین تھیٹر نظر آئی۔ کتاب مختصرہے وہیں کھڑے کھڑے پڑھ لی۔ بڑے طمطراق اور شان وشکوہ سے چھپی ہے۔ لیکن جہل اور تعصب کا عجیب وغریب مرجع ہے۔ اندھرا تھیٹر اور بنگالی تھیٹر کو بہت سراہا ہے لیکن ہندوستانی تھیٹر کے عنوان کے تحت بہت کچھ زہر اگلا ہے۔ خواجہ احمد عباس اور پرتھوی راج کپور کو تھیٹر کا امام قرار دیا ہے آغا حشر کے متعلق کہا ہے کہ "A HACK WRITER CALLED AGHA HASHR A THIRDRATE POETASTER" اور اسی قسم کی اور خرافات بک کر آغا حشر کو تین چار سطروں میں ٹرخا دیا ہے۔ تن بدن میں آگ لگ گئی۔ سالہا سال سے امتیاز سے التجا کرتا چلا آیا ہوں کہ آؤ ہم تم مل کر اردو تھیٹر پر ایک کتاب لکھیں۔ اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی۔ ہمارے انتقال کے بعد کوئی یہ کام نہ کر پائے گا۔ جو مسالہ ہمارے پاس موجود ہے اور جتنی جوانی ہم نے تھیٹر پر چھڑکی ہے۔ کسی اور کو نصیب نہیں ہو سکتی۔ لیکن انہوں نے توجہ نہ کی فلم سازی انہیں ایسی چمٹی ہے کہ ان کی علم دوستی نواب اور افسانہ ہو کر رہ گئی ہے ان کے بغیر یہ کام مجھ اکیلے کے بس کا نہیں۔ ذخیرہ سب ان کے پاس ہے اور وہ متعدد کھیلوں سے واقف ہیں جن کا مجھے صرف نام معلوم ہے۔ آپ کو یہ داستن درد اس لئے سنا رہا ہوں کہ اگر ان کی طبیعت میں اکساہٹ پھر سے نہ پیدا ہو سکے تو آپ اس کام کا بیرا کیوں نہیں اٹھاتے مانا کہ آپ کراچی میں ہیں اور میں نیویارک میں اور نہ معلوم یہ بعد کب تک رہے گا تاہم یہ مشکل ایسی نہیں کہ اسے سلجھا نہ نہ سکیں۔ جب تک ہم لوگ زندہ ہیں اور یہ امر محال نہیں۔ موت رستے میں حائل ہوگئی تو کوئی اسے نہ پھاند سکے گا۔ لیکن ”حالیہ غلغلہ“ تو ”پھینک“ سکتے ہیں۔

    ہندوستان سے جو تناؤ ہے اس کی خبر محض سرکاری ذرائع سے ہم تک پہنچتی ہے۔ تفصیلات سے تشنہ رہتے ہیں اس لئے طبیعت متفکر رہتی ہے۔ نہ معلوم نہرو صاحب کے سر میں کیا سودا سمایا ہے کہ حق وراستی اور صلح خوشی سے انہوں نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ شاید آئندہ الیکشن کی ہوس نے عمل وفکر میں کجی پیدا کر دی ہے اخباروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹنڈن نے ان کے ڈنڈن کر رکھا ہے۔ خدا ہم لوگوں کا حامی ونصار ہو اپاکستان کی ہمت اور پاکستان کے لیڈروں کی دانائی اور مدبری کے یہاں سب لوگ قائل ہیں اور بیش از بیش کالم نویس ان کے معترف بنتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن کوئی خدا کا بندہ ہندوستان کے کان نہیں مروڑتا۔ سب اپنا تو سیدھا کرتے ہیں۔

    مجید لاہور صاحب کا سلام پہنچا۔ خدا انہیں خوش رکھے۔ ان سے ملاقات افسوس کہ بہت مختصر ہوئی تاہم یار زندہ صحبت باقی انہیں میرا سلام شوق بھی پہنچا دیجئے۔

                          خاکسار
                         بخاری

****