عالمی شہری |
|
جب سے کپلنگ نے "مشرقی مشرق ہے اور مغرب مغرب" ہے کا گیت گیا ہے اسی دن سے ہم
مختلف اور متصادم معاشروں کے تعلقات کے بارے میں زیادہ سوچ بچار کر رہے ہیں۔ ہمیشہ
ہم اسی فکر میں رہتے ہیں کہ کوئی ایسا مرکب مل جائے جو ہر ایک کی بہترین خوبیوں کا
کو محفوظ کردے۔
کبھی کبھی ہمیں کسی ایسی ہستی کی موجودگی کا یقین ہوجاتا ہے جو ہمارے تخیلات کو عمل کی دنیا میں لے آتی ہے۔ ابھی ابھی ہمیں پاکستان کے سفیر پروفیسر احمد شاہ بخاری کے بےوقت موت کی شکل میں ایسی ہی ایک شخصیت کے ضیاع کا سامنا ہوا ہے جنہوں نے اقوام متحدہ میں رئیس شعبہ اطلاعات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں وہ صحیح معنوں میں عالمی شہری تھے۔ پروفیس کا تعلیمی پس منظر مشرق اور مغرب۔۔ پنجاب یونیورسٹی اور کیمبرج۔۔ دونوں کو آغوش میں ليے ہوئے ہے وہ دنیا کے دونوں حصوں کی زبان کے قادرالکلام شاعر تھے۔ انہوں نے مشرق اور مغرب دونوں کی زبانوں اور محاوروں کا راگ الاپا۔ وہ مشرق اور مغرب دنوں کے نزدیک عالم تھے۔ لیکن مشرق اور مغرب کا یہ ملاپ اس سے بھی زیادہ گہرا ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک عظیم انسان تھے۔۔ حاضر جواب، شائستہ دانش مند، زندہ دل، اور گرم جوش۔ وہ خود پسندی کی نمائش سے پاک تھے، انہیں زندگی سے اُنس تھا۔ وہ اس دنیا میں بسنے والے لوگوں سے ن کی قومیت، رنگ، نسل، مذہب، یا پیشے کا خیال کئے بغیر محبت کرتے تھے۔ ان کی روح ان کے ذہن کی طرح تنگ سرحدوں کی قائل نہ تھی۔ ہزاروں امریکی جنہیں ان سے ذاتی شناسائی کا شرف حاصل ہے ان کی موت کو اپنا ذاتی رنج محسوس کر رہے ہیں سب سے بڑھ کر اس ليے کہ وہ دوست تھے۔ لیکن یہ نقصان ذاتی نہیں بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہے۔ دنیا ایک ایسے شخص کے اُٹھ جانے سے مفلس تر ہوگئی ہے جو ہمیں بہتر طریق سے یہ دکھاتا تھا کہ آسودہ مستقبل کے ليے کون کون سی اچھی باتیں ممکن ہیں۔ (ترجمہ) * * * |
بھلے مانس بنو |
نیوریاکر
ہم نے سُن گن پائی کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے پروفیسر احمد شاہ بخاری ہیں جو عام طور پر عرب ایشیائی بلاک کے قابل ترین ترجمان سمجھے جاتے ہیں اور وہ پاک وہند کے سرکردہ مزاح نویس بھی ہیں۔ مستقل نمائندوں اور مزاح نویسوں میں مجموعی طور پر یا الگ الگ دلچسپی رکھنے کے باعث ہم نے پروفیسر بخاری کی تصانیف حاصل کرنی چاہیں لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ ان میں سے کسی کا ترجمہ انگریزی میں نہیں ہوا۔ ہم نے یہ ٹھان کہ ان کا پیچھا ضرور کریں گے خود پروفیسر صاحب کو ٹیلی فون کیا اور ہمیں اقوام متحدہ کی عمارت میں لنچ پر حاضر ہونے کی دعوت مل گئی۔ بہرکیف پروفیسر صاحب ان چند خوش دل، بامروت اور ذی علم مستقل نمائندوں یا مزاحیہ نویسوں میں سے ایک ہیں جن سے ہم مدت کے بعد ملے ہیں۔ انہوں نے دریائے ایسٹ سے توجہ ہٹا کر کھانے کی طرف ہماری رہنمائی کی۔ بھنا ہوا گوشت اور ٹوماٹو منگوایا اور کہا کہ"پاکستان کی آزادی کے بعد ۱۹۴۸ء تک وہ ایک استاد، مترجم اور مصنف تھے، سیاسی سفیر نہ تھے۔ ۱۹۴۷ء سے وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے صدر (پرنسپل) تھے۔ تیس برس وہ اس کالج میں ادب کے پروفیسر رہے۔ انہوں نے اس درس گاہ کے تجرباتی تھیٹر کے ليے دوسری چیزوں کے علاوہ شیکسپئیر اوربرنارڈ شا کے بہت سے ڈرامے اردو میں ترجمہ کرکے دیئے جن میں امبن کا ڈرامہ "گڑیاگھر" اور اطررائس کا ڈرامہ"جمع کرنے والی مشین"بھی ہیں"۔ پروفیسر نے ہمیں بتایاکہ" ہارون الرشید کے زریں دور کے بعد گذشتہ چالیس سال کا زمانہ اسلامی دنیا میں تراجم کے ليے بڑا سازگار رہا ہے۔ پہلے زمانے میں مسلمان ہر اس چیز کا ترجمہ کرلیتے تھے جو فلسفہ اور سائنس میں ان کے ہاتھ لگتی تھی۔ اب ادب کے تراجم پر زور صرف ہورہا ہے۔ تمہیں شیکسپئیر کو اردو میں سننا چاہیئے۔ لاہور کی مقامی بولی میں "پیندا" نہایت ظریفانہ لفظ ہے شیکسپئیر کی حیرت انگیز خوبی یہ ہے کہ ترجمہ خواہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو ڈرامے سے کچھ نہ کچھ لطف حاصل ہو ہی جاتا ہے۔ تیز نیلی آنکھوں والے پروفیسر بخاری نے جو ٹویڈ کا سوٹ پہنے اور نیلے رنگ کی ٹائی لگائے ہوئے تھے برطانیہ اور امریکہ کی غیر افسانوی کتابوں کے ترجمے بھی کئے ہیں۔ اردو کا ایک مزاحیہ رسالہ بھی مرتب کرتے رہے ہیں انہوں نے انگریزی اور اردو میں ادبی تنقیدیں بھی لکھی ہیں۔ مزاح نگار کی حیثیت سے ان کی شہرت تین یا چار سو مختصر افسانوں پر پھیلی ہوئی ہے جو انہوں نے پطرس کے قلمی نام سے لکھے تھے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ"ان افسانوں کی مقبولیت کی بعض وجوہ یہ ہیں کہ وہ غلط ہیں نقادوں نے ان کے بارے میں کہا کہ یہ افسانے اگرچہ مزاحیہ ہیں لیکن انہیں بےدھڑک گھروں میں لے جایا سکتا ہے۔" پطرس کو پاکستان میں شگفتہ ترین شخص مانا جاتا ہے۔ ان کے چند افسانوں کا ترجمہ انگریزی میں ہوچکا ہے۔ جنہوں نے اہل برطانیہ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ برطانیہ والے کہتے ہیں کہ انہیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ ایک مشرقی مزاحیہ نگار ایسا بھی ہے جو "غزالی" آنکھیں اور ناموافق حالات کو اپنی تحریروں کا مرکز نہیں بناتا۔ ہم نے پوچھا "آخر پطرس اپنی توجہ کا مرکز کس چیز کو بناتا ہے؟" پروفیسر بخاری نے جواب دیا "میری کہانیوں کا مثالی کردار ہمیشہ ایک معمولی آدمی ہوتا ہے جس میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں ہوں۔ حادثات اسے ایسے ناموافق ماحول میں پھینک دیں جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔ وہ ہمیشہ بڑا سیاستدان اورعظیم ادیب بننے کے خواب دیکھتا ہو۔ ایک کہانی وہ خطرناک سرغنہ بننے کی کوشش کرتا ہے اور بالآخر ناکام رہنے کے نتیجے میں بہتر آدمی بن جاتا ہے اس نے اپنی تحریروں میں واحد متکلم اور جمع متکلم کا صیغہ استعمال کیا ہے تاکہ طنز کا نشانہ خود بیان کرنے والا بنے۔ پاکستانی اس بات کو بہت پسند کرتے ہیں۔ میرا اصول یہ ہے کہ: "بھلے مانس بنو" پروفیسر بخاری ۱۸۹۸ء میں پشاور میں پیدا ہوئے۔ اس صدی کے انتہائی بیس اور تیس برسوں کے درمیان چھ سال انہوں نے کیمبرج میں تعلیم پائی، دوسری عالمی جنگ کے وقت وہ آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ ان کی سفارتی زندگی کا آغاز ۱۹۴۰ء میں اس وقت ہوا جب وہ بین الاقوامی "ہائی فری کوئنسی براڈ کاسٹنگ کانفرنس" منعقدہ میکسیکو میں پاکستانی وفد کے رئیس کی حیثیت میں شریک ہوئے۔ ۱۹۵۰ء سے وہ اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کے ریئس چلے آرہے ہیں۔ وہ لسانیان کے بہت بڑے ماہر ہیں۔ ایک دفعہ انہوں نے کوکنی (Cockney) کے اختلافی لب ولہجہ میں مہارت حاصل کرنے کے ليے چھ مہینے صرف کئے تھے۔ انہوں نے بڑی گرم جوشی سے ہمیں بتایا "آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ کوکنی زبان اپنی گرامر اور حروف علت کا مخصوص نظام رکھتی ہے"۔ ہم امیدوار بن کر انتظار کرنے لگے۔ لیکن انہوں نے نے کہا۔ "اب میں کوکنی لب و لہجہ کی نقل اتارنے کی جراٴت نہیں کروں گا۔ میرا خیال ہے کہ میں پھر شاہی انگریزی کی طرف لوٹ آیا ہوں اور بونوں کی جون سے نکل چکا ہوں۔" ہم نے دریافت کیا کہ آپ سفارتی فرائض اور مزاح نویسی کو کس طرح یکجا کرتے ہیں؟ پروفیسر نے جواب دیا کہ۔ "مزاحیہ نویسی میں میری پیداوار بہت کم ہوگئی ہے ایک مکشل یہ ہے کہ وقت نہیں ملتا۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ سفارتی کاروبار میں آپ بعض چیزوں پر ہنس تو سکتے ہیں لیکن مضحکہ اڑانے کی مقدار روایات نے مقرر کردی ہے۔" "مجھے نیویارک ہے پیار ہے۔ میں بڑے شہر کا باشندہ ہوں تاہم ابھی مجھے ملامت کی جاتی ہے کہ میں چلنے میں بہت سست ہوں۔ دواؤں کے ذخیرے مجھے بہت دلچسپ نظر آتے ہیں۔ جب میں پہلے پہل یہاں آیا تو میں نے ایک سینڈوچ (سموسے) کی فرمائش کی۔ اسٹال والے نے پوچھا۔ "سفید یارئی (یو گندمی)؟"اس کی بات سمجھ میں مجھے کچھ وقت لگا۔ وہ یہ ہے کہ تمہاری زبان میں چک کا مطلب ہے بل۔ باقی کیا رہا؟ میں اپنے شاگردوں کو لاہور میں امریکہ کے متعلق طویل خط لکھا کرتا تھا تاکہ وہ مجمعوں کے سامنے پڑھ کر سنائے جائیں۔ ایک خط میں، میں نے لکھا کہ یہاں کے کونے کونے پر ایک ڈرگ اسٹور موجود ہے۔ انہوں نے جواب میں خطرے اور تعجب کا اظہار کیا۔ پھر اگلے خط میں اس کی تشریح کرنی پڑنی کہ یہ ڈرگ اسٹور زہریلی اور نشہ آور چیزیں نہیں بیچتے۔ جب معلومات اور وافقیت بڑھ جائے گی تو ممکن ہے کہ پطرس امریکہ کے بارے میں کچھ لکھے"۔ ۱۰ ستمبر ۱۹۵۴ء * * * |
پروفیسر بخاری ۔۔ آخری لمحات |
|
مارملی ہچمین "وہ آخری لمحے تک زندہ رہے" ان کے ڈاکٹر کا قول ہے "وہ کام کرتے ہوئے مرے"۔
اقوام متحدہ میں ان کے ایک رفیق کار کا کہنا ہے کہ دونوں حضرات پروفیسراحمد شاہ
بخاری سے بہت قریبی تعلق رکھتے تھے۔ ان کے ڈاکٹر ان کے دوست بن گئے تھے۔ اور انہوں
نے بخاری کے سفر زندگی کی رفتار کو حتی المقدور کم کرنا چاہا تھا مگر پروفیسر صاحب
(جیسا کہ لوگ انہیں محبت سے کہتے تھے) یہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنے معذور ہونے کا
اعلان کردیں۔ گو وہ چند سال سے اچھے خاصے بیمار رہتے تھے۔ ان پر دل کا پہلا دورہ ۱۹
اگست ۱۹۵۳ء کو پڑا۔ پروفیسر بخاری کو اس کا اتنا شدید احساس تھا کہ وہ جب اسپتال
میں طبی مشورے کے ليے گئے تو انہوں نے اپنا نام "مسٹر براؤن" لکھوایا۔ اس دورے کی
وجہ سے وہ کمزور ہوگئے تھے لیکن انہوں نے اقوام متحدہ کے انڈرسیکرٹری کا کام شروع
کرنے سے احتراز نہ کیا بلکہ چارج لینے سے قبل مسٹر ڈیگ ہیمرشیلڈ کے ساتھ چین کے
تاریخی دورے میں کام شروع کردیا۔ * * * |
|
گورستان ادب کا فقیر |
(عبدالمجیدسالک) مسلم ٹاؤن لاہورمکرمی ۔ السلام علیکم آپ کے دو تین خط ملے لیکن میں کسی ایک کا بھی جواب نہ لکھ سکا۔ حالانکہ یہ کوتاہی میری وضع کے خلاف ہے۔ بخاری کا مرنا، میری محفل احباب کا قطعی طور پر اجڑ جانا ہے زندگی بالکل بےمزہ وبےرنگ ہوکر رہ گئی ہے۔ آپ کو غالباً معلوم نہیں، میں کوئی سال بھرسے عوارض قلب میں مبتلا ہوں، لکھنا پڑھنا چھوٹ چکا ہے۔ مرکھپ کر ایک آدھ نشری تقریر ہفتہ میں لکھ لیتا ہوں اور بس۔ آج کل بھی بلڈپریشر میں مبتلا ہوں۔ ڈاکٹر محمد یوسف مہینوں سے علاج کررہے ہیں۔ آپ مجھ سے مضمون کی فرمائش کرتے ہیں تو بےحد شرمندہ ہوتا ہوں۔ کچھ کہہ نہیں سکتا کہ تعمیل حکم کرسکوں گا۔ اگر ممکن ہوا تو شاید کچھ لکھدوں نہ ہوا تو معذور جان کر معاف فرمادیجیئے گا۔ عبدالمجیدسالک مولانا عبدالمجیدسالک کا یہ خط مجھے ۱۳ دسمبر ۱۹۵۸ء کو ملا
تھا۔ مگر اس عرصے میں مولانا موصوف کی صحت اور بگڑی اور کہ ہم لوگ دم سادھ کے رہ
گئے۔ مضمون لکھوانا تو درکنار، ہمیں اپنی زندگی، ان کے حساب میں جمع کرانا پڑی۔ تب
کہیں انہیں دوبارہ زندگی نصیب ہوئی۔ (محمد طفیل) ۱ * * * ۲ یاریانِ موافق ہمہ اردست شدند *** |
|
چند پرانی یادیں |
(غلام رسول مہر)
میں نے بخاری صاحب کو پہلی مرتبہ نومبر ۱۹۲۱ء میں دیکھتا تھا۔ ترک موالات یا
لاتعاون کی تحریک اوج شباب پر تھی اور اس کے اوج شباب کی کیفیت دیکھنے سے تعلق
رکھتی تھی۔ لفظوں میں اس کا صحیح نقشہ پیش کرنا مشکل ہے۔ بس اتنا سمجھ لیجیئے کہ
صاف نظر آرہا تھا کہ حکومت برطانیہ کے قصراقتدار میں ایک خوفناک زلزلہ آگیا ہے اور
یہ قصر تھوڑی ہی دیر میں زمیں بوس ہوجائے گا۔ میں خود ماضی پر نظربازگشت ڈالتا ہو *** |
|
آبگینہ تندیٴصہبائےپگھلا جائےرہے |
(سرظفر الله خاں)
احمد شاہ بخاری سے میری پہلی ملاقات ۱۰۱۶ء کے آخری ایام میں ہوئی جب میں وہ (لاہور
میں) کالج کے طالب علم تھے۔ میری ان کی رفاقت چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہی۔
ابتدائی دور ہی میں ان کے جگمگاتے اوصاف ہر اس شخص کا دل موہ لیتے تھے جسے ان کے
ساتھ واسطہ پڑتا تھا۔ انگریزی زبان پر انہیں غیرمعمولی قدرت حاصل تھی۔ ان کی یہ
امتیازی خصوصیت کیمبرج اور بالآخر امریکہ میں بھی برابر قائم رہی۔
ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گراندیشئے میں ہے یہ بخاری کے نمایاں ذہنی و فکری اوصاف کے ليے میرا لاشعوری اخراج تحسین تھا۔ اور اس نقصان پر احساس رنج والم کا اظہار، جسے ہم اس ليے زیادہ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں تربیتی برسوں سے لے کر بلندیوں پر پہنچنے کے وقت سے جانتے چلے آئے ہیں۔ خدا ان کی روح کو آسودگی نصیب کرے!
(ترجمہ) * * * |
بنام عبدالمجید سالک
(1) نیویارک۔۱۳/ اگست ۵۱ء
برادر محترم۔ سلام مسنون۔ گرامی نامہ ملا۔ لاہور کا نقشہ واقعی بدل گیا ہوگا۔ آپ کی
(کا؟) شہر آشوب پڑھ کر افسوس ہوا۔ آپ کو خط لکھنا مبارک ہوا کیونکہ اسی دوران میں
ن۔ م۔ راشد کا خط بھی ملا جس میں حفیظ (ہوشیار پوری) کی تازہ تاریخ گوئی کا لطیفہ
شگفتگی کا باعث ہوا۔ نہ سنا ہو تو سنا دوں۔ راشد نے جدید شعراء پر ایک مضمون لکھا
جس کے بعض فقرے حفیظ صاحب (جالندھری) کو گراں گزرے۔ انہوں نے تاؤ کھا کر راشد کو یہ
شعر لکھ بھیجا
خبث دروں دکھا دیا ہر دہن غلیظ نے
کچھ نہ کہا حفیظ نے ہنس دیا مسکرا دیا
اس پر حفیظ (ہوشیار پوری) نے اس واقعہ کی تاریخ کہی۔ چہ خبث دروں (۱۳۷۰ھ) راشد
نے چند اردو کی کتابیں بھی بھیج دی۔ جن سے شب وروز میں کچھ رنگینی پیدا ہوگی۔ آپ کو
خط لکھنے سے طبیعت کا ”یخ ٹوٹا“ تو سلمان صاحب کو بھی ایک خط لکھ دیا اگر انہیں
جواب کی توفیق ہوئی تو دل میں لہو کی ایک اور بوند نظر آنے لگے گی۔ بہرحال محض
انہیں مخاطب کرکے بھی رُبع ملاقات کا مزا تو آہی گیا۔ اگلے دن ایک کتب فروش کے ہاں
ملک راج آنند کی ایک تازہ تصنیف انڈین تھیٹر نظر آئی۔ کتاب مختصرہے وہیں کھڑے کھڑے
پڑھ لی۔ بڑے طمطراق اور شان وشکوہ سے چھپی ہے۔ لیکن جہل اور تعصب کا عجیب وغریب
مرجع ہے۔ اندھرا تھیٹر اور بنگالی تھیٹر کو بہت سراہا ہے لیکن ہندوستانی تھیٹر کے
عنوان کے تحت بہت کچھ زہر اگلا ہے۔ خواجہ احمد عباس اور پرتھوی راج کپور کو تھیٹر
کا امام قرار دیا ہے آغا حشر کے متعلق کہا ہے کہ "A HACK WRITER CALLED AGHA HASHR
A THIRDRATE POETASTER" اور اسی قسم کی اور خرافات بک کر آغا حشر کو تین چار سطروں
میں ٹرخا دیا ہے۔ تن بدن میں آگ لگ گئی۔ سالہا سال سے امتیاز سے التجا کرتا چلا آیا
ہوں کہ آؤ ہم تم مل کر اردو تھیٹر پر ایک کتاب لکھیں۔ اردو میں بھی اور انگریزی میں
بھی۔ ہمارے انتقال کے بعد کوئی یہ کام نہ کر پائے گا۔ جو مسالہ ہمارے پاس موجود ہے
اور جتنی جوانی ہم نے تھیٹر پر چھڑکی ہے۔ کسی اور کو نصیب نہیں ہو سکتی۔ لیکن انہوں
نے توجہ نہ کی فلم سازی انہیں ایسی چمٹی ہے کہ ان کی علم دوستی نواب اور افسانہ ہو
کر رہ گئی ہے ان کے بغیر یہ کام مجھ اکیلے کے بس کا نہیں۔ ذخیرہ سب ان کے پاس ہے
اور وہ متعدد کھیلوں سے واقف ہیں جن کا مجھے صرف نام معلوم ہے۔ آپ کو یہ داستن درد
اس لئے سنا رہا ہوں کہ اگر ان کی طبیعت میں اکساہٹ پھر سے نہ پیدا ہو سکے تو آپ اس
کام کا بیرا کیوں نہیں اٹھاتے مانا کہ آپ کراچی میں ہیں اور میں نیویارک میں اور نہ
معلوم یہ بعد کب تک رہے گا تاہم یہ مشکل ایسی نہیں کہ اسے سلجھا نہ نہ سکیں۔ جب تک
ہم لوگ زندہ ہیں اور یہ امر محال نہیں۔ موت رستے میں حائل ہوگئی تو کوئی اسے نہ
پھاند سکے گا۔ لیکن ”حالیہ غلغلہ“ تو ”پھینک“ سکتے ہیں۔
ہندوستان سے جو تناؤ ہے اس کی خبر محض
سرکاری ذرائع سے ہم تک پہنچتی ہے۔ تفصیلات سے تشنہ رہتے ہیں اس لئے طبیعت متفکر
رہتی ہے۔ نہ معلوم نہرو صاحب کے سر میں کیا سودا سمایا ہے کہ حق وراستی اور صلح
خوشی سے انہوں نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ شاید آئندہ الیکشن کی ہوس نے عمل وفکر میں
کجی پیدا کر دی ہے اخباروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹنڈن نے ان کے ڈنڈن کر رکھا ہے۔ خدا
ہم لوگوں کا حامی ونصار ہو اپاکستان کی ہمت اور پاکستان کے لیڈروں کی دانائی اور
مدبری کے یہاں سب لوگ قائل ہیں اور بیش از بیش کالم نویس ان کے معترف بنتے چلے جاتے
ہیں۔ لیکن کوئی خدا کا بندہ ہندوستان کے کان نہیں مروڑتا۔ سب اپنا تو سیدھا کرتے
ہیں۔
مجید لاہور صاحب کا سلام پہنچا۔ خدا
انہیں خوش رکھے۔ ان سے ملاقات افسوس کہ بہت مختصر ہوئی تاہم یار زندہ صحبت باقی
انہیں میرا سلام شوق بھی پہنچا دیجئے۔
خاکسار
بخاری
****
|
بھائی بھائی |
(سید ذوالفقار علی بخاری) سید ذوالفقار علی بخاری اپنے برادر محترم سید احمد شاہ بخاری پطرس مرحوم کی موت کے
بعد ان تمام یادوں کو جو اُن سے وابستہ ہیں "بھائی بھائی" کے نام سے ایک کتابی صورت
میں یکجا کر رہے اور اس طرح اپنے اس سراپا زندگی بھائی کو موت کے بےرحم ہاتھوں سے
چھین کر اپنے ليے زندہ رکھنا چاہتے ہیں جن کی موت کا یقین کرلینے کے بعد زندگی کا
اعتبار اور بھی اُٹھ جاتا ہے۔ (شوکت تھانوی) * * *
بھائی جان اسکول میں پڑھتے تھے اور میں ابھی اسکول میں داخل بھی
نہیں ہوا تھا۔ والد گھر آئے تو بہت خوش تھے۔ میری والدہ سے کہا مبارک ہو کل پیر
احمد شاہ کو اسکول میں انعام ملے گا"۔ "چھوٹا پیر ۔۔ پیراحمد شاہ"
بھائی بڑے ہوتے گئے اور ہر سال اسکول میں انعام پاتے رہے۔۔ میں بھی پانچویں سوار کی
طرح ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ ہمارے ایک بڑے بھائی تھے۔ پیر محمد شاہ، الله
انہیں غریق رحمت کرے، بہت تیز مزاج بزرگ تھے۔ ہم دونوں کو ان سے بہت ڈر لگتا تھا۔
لیکن کئی باتوں میں ہم ان کی پیروی بھی کرتے تھے۔ مثلاً ان کو انگریزی ڈھب کے کپڑے
پہننے کا بہت شوق تھا۔ ہم کو بھی یہ شوق لاحق ہوا۔ وہ شعر کہتے تھے اس لئے والد کے
منظور نظر تھے۔ ہم دونوں نے بھی شعر کی طرف توجہ کی۔ جب ہماری شعر گوئی کی خبر بڑے
بھائی تک پہنچی تو وہ بہت ناراض ہوئے اور والد نے بھی اس بات کو نہ سراہا کہ ہم
اسکول کا کام چھوڑ کر شعروشاعری میں پڑ جائیں۔ خود والد شعر کہتے تھے۔ لیکن بچوں
میں سے کسی اور کا شعروشاعری کی طر ف متوجہ ہونا شروع شروع میں انہیں پسند نہ آتا
تھا۔ بھائی شعر کہتے مگر انہیں فضول سمجھ کر پھاڑ دیتے۔ میں شعر کہتا اور فضول بھی
کہتا تو لوگوں کو سناتا۔ میں نے بہت سے تخلص رکھے۔ اثر۔ ذوالفقار۔ واجدان، مگر ان
میں سے کوئی نہ مجھے پسند آیا نہ میرے بھائی کو۔ ایک دن جب اس تخلص کا جھگڑا اور
پیش تھا تو کہنے لگے تخلص کیوں ضروری ہے۔ میں نے کہا مقطع کے ليے۔ پھر کہا مقطع
کیوں ضروری ہے، میں نے کہا تاکہ معلوم ہو کہ غزل کسی کی ہے اور باقی شعر۔ میں چپ
ہوگیا اور تخلص رکھنے کا خیال دل سے نکال دیا۔
|
|
مضامین پطرس کا مطالعہ |
(تمکین کاظمی)
پطرس ایک ذہین اور فریس ادیب اور فن کار تھے۔ ان کا مطالعہ نہایت ہی گہرا او
رمعلومات وسیع تھیں، اردو انگریزی دونوں زبانوں پر یکساں حاوی تھے۔ ساٹھ
سالہ عمر
تک انہیں ساٹھ ستر نہ سہی سات آٹھ کتابیں تو لکھنی چاہئے تھیں مگر وہ ”پیشہ ور انشا
پرداز“ نہ تھے جب جی چاہتا لکھتے اور جب تک جی نہ چاہتا تھا نہیں لکھتے تھے۔ چنانچہ
ان کی ابتدا سے یہی روش رہی۔ ابتداً ان کے مضامین طبع ہونے لگے تو مجھے بہت پسند
آئے۔ چنانچہ اسی سلسلے میں خط وکتابت بھی ہونے لگی۔ اور میں پطرس سے بےتکلف ہوتا
گیا۔ ان ہی کی خواہش اور تحریک پر میں نے بعض شخصی خاکے بھی لکھے تھے۔ بلائیں زلف جاناں کی اگر لیتے تو ہم لیتے
کہ اتنے میں پڑوسی کی آواز آئی ”مسٹر“۔
ہم اس وقت ذرا چٹکی بجانے لگے تھے بس انگلیاں وہیں پر رک گئیں اور کان آواز کی طرف
لگ گئے ارشاد ہوا، یہ آپ گا رہے ہیں (زور آپ پر) میں نے کہا، جی میں کس لائق ہوں
لیکن خیر فرمائیے!
بولے… وہ میں… ڈسٹرب ہوتا ہوں“
اس خرابی کے بعد پطرس دوسرے پڑوسی کو گھیرتے اور اس سے چھ بجے جگانے کی فرمائش کرتے
ہیں اور وہ غریب چھ بجے انہیں جگا بھی دیتا ہے اس کے بعد کی واردات خود پطرس سے
سنئے۔ ”اس کے بعد کے واقعات ذرا بحث طلب ہیں۔ اور ان کے متعلق روایات میں کس قدر
اختلاف ہے۔ بہرحال اس بات کا تو مجھے یقین ہے اور میں قسم بھی کھا سکتا ہوں کہ
آنکھیں، میں نے کھول دی تھیں، پھر یہ بھی یاد ہے کہ ایک نیک اور سچے مسلمان کی طرح
کلمہ شہادت بھی پڑھا۔ پھر یہ بھی یاد ہے کہ اُٹھنے سے پیشتر دیباچہ کے طور پر ایک
آدھ کروٹ بھی لی۔ پتہ نہیں شاید لحاف اوپر سے اتار دیا شاید سر اس میں لپیٹ دیا، یا
شاید کھانسا کہ خدا جانے خراٹا لیا۔ خیر یہ تو یقینی امر ہے کہ دس بجے ہم بالکل جاگ
رہے تھے لیکن لالہ جی کے جگانے کے بعد اور دس بجے سے پیشتر خدا جانے ہم پڑھ رہے تھے
یا شاید سو رہے تھے، نہیں ہمارا خیال ہے پڑھ رہے تھے یا شاید سو رہے ہوں بہرصورت یہ
نفسیات کا مسئلہ ہے جس میں نہ آپ ماہر ہیں نہ میں۔ کیا پتہ لالہ جی نے جگایا ہی دس
بجے ہو یا اس دن چھ دیر سے بجے ہوں، خدا کے کاموں میں ہم آپ کیا دخل دے سکتے ہیں۔
لیکن ہمارے دل میں دن بھر یہ شبہ رہا کہ قصور کچھ اپنا ہی معلوم ہوتا ہے“۔ دوسرا دن بھی یوں ہی آتا ہے جس کے متعلق پطرس کہتے ہیں:
”یہ معمہ اب مابعد الطبعیات ہی سے تعلق رکھتا ہے کہ پھر جو ہم نے لحاف سے سر باہر
نکالا، اور ورڈزورتھ پڑھنے کا ارادہ کیا تو وہی دس بج رہے تھے اس میں نہ معلوم کیا
بھید ہے۔“
کالج ہال میں لالہ جی ملے کہنے لگے مسٹر! صبح میں نے پھر آپ کو آواز دی تھی آپ نے
جواب نہ دیا؟
میں زور کا قہقہہ لگا کر کہا ”اوہو! لالہ جی یاد نہیں رہا میں نے آپ کو گڈ مارننگ
کہا تھا۔ میں تو پہلے ہی جاگ رہا تھا۔
بولے وہ تو ٹھیک ہے لیکن بعد میں… اس کے بعد … کوئی سات بجے کے قریب میں نے آپ سے
تاریخ پوچھی تھی تو آپ بولے نہیں۔
ہم نے نہایت تعجب کی نظروں سے ان کو دیکھا گویا وہ پاگل ہوگئے ہیں۔ اور پھر ذرا
متین چہرہ بنائے، ماتھے پر تیوری چڑھائے غور وفکر میں مصروف ہوگئے ایک آدھ منٹ تک
ہم اس تعمق میں رہے پھر یکایک ایک محبوبانہ اور معشوقانہ انداز سے مسکرا کر کہا
”ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں اس وقت … اے… اے … نماز پڑھ رہا تھا۔ ایک شعر ہے:
عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں
یہی وہ خلافِ فطرت شاعری ہے جو ایشیا کے لئے باعث ننگ ہے۔ انگریزی میں ایک مثال ہے
کہ: بچہ مسکراتا ہے اور کلینڈر کی مختلف تاریخوں کی طرف
اشارہ کرتا ہے تو ماں کا دل
باغ باغ ہو جاتا ہے جب ننھا سا ہونٹ نکال کر باقی چہرے سے رونی صورت بتاتا ہے تو یہ
بے چین ہوجاتی ہے سامنے پنگوڑا لٹک رہا ہے۔ سلانا ہو تو افیم کھلا کر اس میں لٹا
دیتی ہے۔ رات کو اپنے ساتھ سلاتی ہے (باپ کے ساتھ دوسرا بچہ سوتا ہے) جاگ اٹھتا ہے
تو جھٹ چونک پڑتی ہے اور محلے ولوں سے معافی مانگتی ہے، کچی نیند میں رونے لگتا ہے
تو بےچاری مامتا کی ماری آگ جلا کر دودھ کو ایک اور ابال دیتی ہے جب صبح بچہ کی آنکھ کھلتی
ہے تو آپ بھی اُٹھ بیٹھتی ہے۔ اس وقت تین بجے کا عمل ہوتا ہے۔ دن چڑھے منہ دھلاتی ہے،
آنکھوں میں کاجل لگاتی ہے او رجی کڑا کرکے کہتی ہے کیا چاند سا مکھڑا نکل آیا ہے۔
واہ وا“ |