چند پرانی یادیں

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

چند پرانی یادیں

(غلام رسول مہر)

میں نے بخاری صاحب کو پہلی مرتبہ نومبر ۱۹۲۱ء میں دیکھتا تھا۔ ترک موالات یا لاتعاون کی تحریک اوج شباب پر تھی اور اس کے اوج شباب کی کیفیت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ لفظوں میں اس کا صحیح نقشہ پیش کرنا مشکل ہے۔ بس اتنا سمجھ لیجیئے کہ صاف نظر آرہا تھا کہ حکومت برطانیہ کے قصراقتدار میں ایک خوفناک زلزلہ آگیا ہے اور یہ قصر تھوڑی ہی دیر میں زمیں بوس ہوجائے گا۔
    سالک صاحب "زمیندار" کے مدیر کی حیثیت میں گرفتار ہوچکے تھے۔ مقدمہ چل رہا تھا اور اس کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ شفاعت الله خاں مرحوم "زمیندار" کے منیجر تھے اور انتظام کے علاوہ تحریر کا زیادہ تر کام بھی وہی انجام دیتے تھے۔ ان کی ہی تحریک پر سیدعبدالقادرشاہ مرحوم نے مجھے ادارہٴ تحریر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ليء بلایا تھا۔ مرتضیٰ احمد خاں مکیش مرحوم بھی اس وقت "زمیندار" ہی سے وابستہ تھے۔ خبروں اور مختلف مضمونوں کا ترجمہ ان کے ذمے تھا۔
    "زمیندار" کا دفتر دہلی دروازے کے باہر اس بڑی عمارت میں تھا جو جہازی بلڈنگ کے نام سے مشہور تھی۔ ایک روز شام کے وقت دو گورے چٹے جوان نہایت عمدہ سوٹ پہنے ہوئے آئے۔بادی النظر میں صاحب لوگ معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے کھڑے کھڑے شفاعت الله خاں سے باتیں کیں۔ غالباً اس روز سالک کے مقدمے کی پیشی ہوئی تھی۔ اسی کی کیفیت پوچھتے رہے اور چلے گئے۔ شفاعت الله خاں نے مجھے بعد میں بتایا کہ ان میں سے ایک احمد شاہ بخاری تھے اور دوسرے سیدامتیازعلی تاج۔ میں ان دونوں سے ناواقف تھا اور محض نام سن کر میری معلومات میں کیا اضافہ ہوسکتا تھا۔ میں نے ان کے متعلق کچھ پوچھنا بھی ضروری نہ سمجھا، البتہ اس بات پر تعجب ہوا کہ قومی تحریک کے نہایت اہم مرحلے پر بھی بعض مسلمان انگریزوں کی سی وضع قطع قائم رکہنے میں کوئی برائی محسوس نہیں کرتے۔
    چند روز بعد میں گھر واپس چلا گیا اور "زمیندار" کے ساتھ تعلق قائم نہ رکھ سکا اس ليے کہ میرے اقرباخصوصاً والدہ مرحومہ کو یہ تعلق منظور نہ تھا۔ دو تین مہینے کے بعد شفاعت الله خاں اور مرتضیٰ احمد خاں مکیش خود میرے گاؤں پہنچے جو جالندھر شہر سے چارپانچ میل کے فاصلے پر تھا اور اقربا کو راضی کرکے مجھے دوبارہ "زمیندار" میں لے آئے۔ اس وقت سے مستقل طور پر میری اخبارنویسی کی ابتدا ہوئی۔ سالک صاحب کو ایک سال قید کی سزا ہوچکی تھی اور وہ لاہور سے میانوالی جیل میں متنقل ہوچکے تھے۔ بخاری اور امتیاز وقتاًفوقتاً سالک صاحب کی صحت وعافیت دریافت کرنے کی غرض سے "زمیندار" کے دفتر آتے رہتے تھے۔ اس زمانے میں ان سے شناسائی ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ وہ سالک صاحب کے نہایت عزیز دوست ہیں۔
    ۱۹۲۲ء کے اواخر میں سالک صاحب رہا ہو کر آگئے اور ان سے وہ برادرانہ تعلق استوار ہوا جسے زندگی کا ایک عزیز ترین سرمایہ سمجھتا ہوں۔ ان کی وجہ سے بخاری اور امتیاز کےساتھ بھی ایک خصوصی علاقہ پیدا ہوگیا۔ بخاری صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور اس علاقہ میں آخری وقت تک کوئی خلل نہ آیا۔ امتیاز صاحب کو خدا تادیر سلامت رکھے، ان کے ساتھ یہ علاقہ آج بھی اسی طرح قائم ہے جس طرح آج سے تیس پینتیس سال پیشتر قائم تھا۔
    پھر بخاری صاحب سے زیادہ مفصل ملاقاتیں اس زمانے میں ہوتی رہیں جب منشی نعمت الله صاحب مرحوم دہلی مسلم ہوٹل چلا رہے تھے اور بخاری صاحب نے اسی ہوٹل میں اپنے ليے ایک یا دو کمرے لے ليے تھے۔ یہ ہوٹل اسی جگہ تھا جہاں اب اس نام کا ہوٹل موجود ہے لیکن اس کی عمارت بالکل بدل گئی ہے۔
    بخاری صاحب کی باتیں اس زمانے میں بھی سب سے نرالی ہوتی تھیں۔ ہم لوگوں کے دل ودماغ کا ریشہ ریشہ لاتعاون اور آزادی کے جوش سے معمور تھا۔ بخاری صاحب گورنمنٹ کالج میں پروفیسر تھے۔ ایک روز انہوں نے خاص احساس ذمہ داری کے ساتھ فرمایا کہ آزادی کے ليے جو کچھ ہوسکتا ہے ضرور کرنا چاہیےٴ مگر یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھیے کہ جس قوم کا لباس ایک نہیں، جس کے کھانے کے اوقات مقرر نہیں، جس میں یکسانی اور یکجہتی کا کوئی بھی پہلو نظر نہیں آتا، وہ آزادی سے کیا فائدہ اٹھائے گی؟ کوشش کرو کہ اس سرزمین میں بسنے والے لوگ واقعی ایک ایسی قوم بن جائیں جو ایک نظام زندگی کی پابند ہو۔
    اس وقت یہ سن کر احساس ہوا کہ بخاری صاحب کا دل آزادی کے جذبے سے بالکل خالی ہے لیکن جب بنیادی حقائق کے صحیح اندازے کا شعور پیدا ہوا تو پتہ چلا کہ یہ ارشاد ان کے بلوغ نظر کی ایک روشن دستاویز تھا۔
    اسی طرح مجھ سے انہوں نے بارہا کہا کہ آپ اخبار میں ایک چوکھٹا مستقل طور پر لگاتے رہیں جس کے اندر جلی حروف میں یہ عبارت مرقوم ہو کہ "بائیں ہاتھ چلو"۔ روزانہ یہ چوکھٹا چھپتا رہے گا تو یقین ہے کہ ہزاروں آدمیوں کو بائیں ہاتھ چلنے کی اہمیت کا احساس ہوتا جائے گا۔

میں خود ماضی پر نظربازگشت ڈالتا ہو

***

آبگینہ تندیٴصہبائےپگھلا جائےرہے

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

آبگینہ تندیٴصہبائےپگھلا جائےرہے

(سرظفر الله خاں)

احمد شاہ بخاری سے میری پہلی ملاقات ۱۰۱۶ء کے آخری ایام میں ہوئی جب میں وہ (لاہور میں) کالج کے طالب علم تھے۔ میری ان کی رفاقت چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہی۔ ابتدائی دور ہی میں ان کے جگمگاتے اوصاف ہر اس شخص کا دل موہ لیتے تھے جسے ان کے ساتھ واسطہ پڑتا تھا۔ انگریزی زبان پر انہیں غیرمعمولی قدرت حاصل تھی۔ ان کی یہ امتیازی خصوصیت کیمبرج اور بالآخر امریکہ میں بھی برابر قائم رہی۔
    بخاری ہر اس صحبت یا اجتماع کی روح ورواں ہوتے تھے۔ جس میں انہیں شامل ہونے کا موقع ملتا تھا۔ وہ بڑے تیز فہم اور حاضر جواب تھے۔ ان کی شخصیت گوناگوں صفات حسنہ کی حانل تھی۔ انگریزی زبان پر قدرت، ہر دور کے انگریزی ادب سے قریبی واقفیت، ملٹن اور شیکسپئیر کی تصانیف سے گہری شیفتگی، یہ ایسی خصوصیات ہیں جو بخاری کی شخصیت میں متوازن طور پر جمع ہوگئیں تھیں اور ان کی گفتگو، حاضرجوابی، مکالمے اور مباحثے کے دوران پھلجھڑیاں بن کر اپنے اظہار کی راہیں تلاش کرلیتی تھیں۔ اسی طرح اردو میں بےتکلف اظہار اور اس کی آمدبرابر کا وصف کا سمجھی جاسکتی ہے۔ یہ بات عام طور پر معلوم نہیں لیکن بخاری بانسری بجانے میں بھی قابل تعریف مہارت رکھتے تھے۔
    وہ مغربی پاکستان کی قدیم ترین تعلیمی درسگاہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پہلے انگریزی کے پروفیسر اور بعد میں پرنسپل مقرر کئے گئے۔ یہ بات انگریزی زبان اور ادب میں ان کے بلند مقام کی آئینہ دار ہے۔ مگر یہ ان کے ایک جز کی قدردانی تھی۔ انہوں نے سفارت کے میدان میں اس کے برابر امتیازی مراتب کے حصول کا سلسلہ جاری رکھا اور بالآخر بین الاقوامی تنظیم میں داخل ہو کر اپنی زندگی کا اعلیٰ ترین مقام پالیا۔ زندگی کی دوڑ میں جو یکساں طور پر درخشاں تھی وہ جہاں رکے اور جس رتبے پر فائز ہوئے وہاں ہر شخص نے انہیں صف اول کے لوگوں میں شمار کیا۔
    بخاری زندگی کے ابتدائی دور ہی میں صحت کی تشویش ناک خرابی کا شکار ہوگئے تھے اور عمر بھر یہ روگ پالتے رہے۔ جب وہ آل انڈیا ریڈیو میں مسٹر فیلڈن کےساتھ کام کر رہے تھے تو حیاتی لحاظ سے بہت آزردہ اور دل شکستہ رہتے تھے۔ انہیں خرابی ٴصحت کی شدید کیفیت کا مقابلہ بھی درپیش تھا جس نے بعدازاں کم وبیش دائمی مرض کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔ ان ایام میں انہوں نے اس مرض کے پےدرپے تکلیف دہ حملوں کا مقابلہ بڑی ہمت اور پامردی سے کیا۔ اور اپنی جسمانی تکلیف کو اپنے فرائض کی بجاآواری میں حائل نہ ہونے دیا۔ بعد میں جب وہ مسٹرفیلڈن کی جگہ آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل بنائے گئے تو انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس بات نے انہیں اس قابل بنا دیا کہ وہ اپنی تکلیف دہ بیماری کا مقابلہ کسی قدر کامیابی کے ساتھ کرسکیں۔
    یہ کہنا مشکل ہے کہ ۱۹۵۳ء میں ان پر بیماری کا جو ناگہانی حملہ ہوا اسے ان کی مستقل رنجوری سے کوئی علاقہ تھا یا نہیں تاہم یہ حملہ شدید تھا جس کی وجہ سے انہیں کئی ہفتے ہسپتال پر رہنا پڑا۔ اس حملے سے رہ بچ گئے تو ہم سب نے اپنے آپ کو مبارکباد کا مستحق قرار گردانا تاکہ وہ اپنی دلچسپی کے مختلف میدانوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ ہم پُرامید ہوگئے کہ مناسب احتیاط سے وہ اپنی فیض رساں اور لطف اندوز زندگی کے کئی مزید سال ہمارے درمیان بسر کرسکیں گے۔
    جتنا عرصہ انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کی حیثیت سے کام کیا، ہمیں مل جل کر بہت قریب رہنے کا موقعہ ملتا رہا۔ ان ہی دنوں مجھے بخاری کی ذہانت وتدبر کے بعض ایسے اوصاف کو بہ نظر غائر دیکھنے کا مقوع ملا جو پہلے چنداں واضح اور روشن نہ تھے۔
    اس اطلاع نے کہ بخاری خود کے دباؤ سے صاحب فراش ہوگئے مجھے اچانک صدمہ پہنچایا لیکن جب میں نے نیویارک پہنچ کر دیکھا کہ ان کی حالت بہتر ہورہی ہے تو دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا۔ اگرچہ انہیں تندرست ہونے کے ليے کئی ہفتے انتظار کرنا پڑا۔
    اٹھارہ ماہ بعد وہ اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے۔ اس بات نے ان کے ليے موقع مہیا کیا کہ وہ اپنی قابلیت اور استعداد احسن طریقہ پر پوری وسعت کے ساتھ بروئےکار لائیں۔ اقوام متحدہ میں انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ ابھی انہوں نے اقوام متحدہ میں اپنے فرائض انجام دینے شروع نہیں کئے تھے کہ مجھے اپنے موجودہ منصب کے ليے منتخب کرلیا گیا۔ اس کے بعد مجھے بخاری سے ملنے کے مواقع بہت میسر آئے۔ البتہ جب کبھی میں نیویارک جاتا تھا تو ان سے رابطہ پیدا ےکرنے کی کوئی نہ کوئی صورت نکال لیتا تھا۔ میرے دل میں یہ خطرہ پیدا ہونے لگا تھا کہ اگر بخاری کے قوائے جسمانی پر جو بوجھ پڑرہے ہے وہ بہت بھاری ہے اور آخرکار ان کے دل پر اثر ڈال کر رہے گا۔ ایک اور بات جس نے میرے اس احساس خطر کو تیزتر کیا یہ تھی کہ بخاری تنہائی محسوس کرنے لگے تھے اور اس حال میں ایسے چھوٹے سے چھوٹے واقعات سے حد درجہ متاثر، فکرمند اور غمگین ہوجاتے تھے جنہیں عام حالات میں نظرانداز کردیتے تھے۔ ان کی طبیعت کا یہ رخ سنبھالنا ثابت ہونے کی بجائے ان کی گرتی ہوئی صحت کی ایک علامت بن گیا۔
    اچانک ان کے انتقال کی اطلاع، جو مجھے لندن کے اخبار "ٹائمز" کی وساطت سے ملی، میرے لئے صدمہٴعظیم تھی۔ اس صدمے کے اثر سے کچھ وقت گزارنے کے بعد ہی سنبھل سکا۔ مجھے یاد ہے کہ اس روز عدالت کے پرائیوٹ اجلاس میں، میں اپنے پیڈ پر کچھ لکھتا رہ۔ یہ میری عادت کے سراسر خلاف بات تھی۔ میں ٹھٹکا اور جو کچھ میں نے لکھا تھا اسے دیکھا وہاں یہ شعر نظر آیا:

ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گراندیشئے میں ہے
آبگینہ تندی صہباسے پگھلایا جائے ہے

یہ بخاری کے نمایاں ذہنی و فکری اوصاف کے ليے میرا لاشعوری اخراج تحسین تھا۔ اور اس نقصان پر احساس رنج والم کا اظہار، جسے ہم اس ليے زیادہ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں تربیتی برسوں سے لے کر بلندیوں پر پہنچنے کے وقت سے جانتے چلے آئے ہیں۔

خدا ان کی روح کو آسودگی نصیب کرے!

(ترجمہ)
 

* * *

بنام عبدالمجید سالک

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

بنام عبدالمجید سالک

(1) نیویارک۔۱۳/ اگست ۵۱ء

برادر محترم۔ سلام مسنون۔ گرامی نامہ ملا۔ لاہور کا نقشہ واقعی بدل گیا ہوگا۔ آپ کی (کا؟) شہر آشوب پڑھ کر افسوس ہوا۔ آپ کو خط لکھنا مبارک ہوا کیونکہ اسی دوران میں ن۔ م۔ راشد کا خط بھی ملا جس میں حفیظ (ہوشیار پوری) کی تازہ تاریخ گوئی کا لطیفہ شگفتگی کا باعث ہوا۔ نہ سنا ہو تو سنا دوں۔ راشد نے جدید شعراء پر ایک مضمون لکھا جس کے بعض فقرے حفیظ صاحب (جالندھری) کو گراں گزرے۔ انہوں نے تاؤ کھا کر راشد کو یہ شعر لکھ بھیجا

خبث دروں دکھا دیا ہر دہن غلیظ نے
کچھ نہ کہا حفیظ نے ہنس دیا مسکرا دیا

اس پر حفیظ (ہوشیار پوری) نے اس واقعہ کی تاریخ کہی۔ چہ خبث دروں (۱۳۷۰ھ) راشد نے چند اردو کی کتابیں بھی بھیج دی۔ جن سے شب وروز میں کچھ رنگینی پیدا ہوگی۔ آپ کو خط لکھنے سے طبیعت کا ”یخ ٹوٹا“ تو سلمان صاحب کو بھی ایک خط لکھ دیا اگر انہیں جواب کی توفیق ہوئی تو دل میں لہو کی ایک اور بوند نظر آنے لگے گی۔ بہرحال محض انہیں مخاطب کرکے بھی رُبع ملاقات کا مزا تو آہی گیا۔ اگلے دن ایک کتب فروش کے ہاں ملک راج آنند کی ایک تازہ تصنیف انڈین تھیٹر نظر آئی۔ کتاب مختصرہے وہیں کھڑے کھڑے پڑھ لی۔ بڑے طمطراق اور شان وشکوہ سے چھپی ہے۔ لیکن جہل اور تعصب کا عجیب وغریب مرجع ہے۔ اندھرا تھیٹر اور بنگالی تھیٹر کو بہت سراہا ہے لیکن ہندوستانی تھیٹر کے عنوان کے تحت بہت کچھ زہر اگلا ہے۔ خواجہ احمد عباس اور پرتھوی راج کپور کو تھیٹر کا امام قرار دیا ہے آغا حشر کے متعلق کہا ہے کہ "A HACK WRITER CALLED AGHA HASHR A THIRDRATE POETASTER" اور اسی قسم کی اور خرافات بک کر آغا حشر کو تین چار سطروں میں ٹرخا دیا ہے۔ تن بدن میں آگ لگ گئی۔ سالہا سال سے امتیاز سے التجا کرتا چلا آیا ہوں کہ آؤ ہم تم مل کر اردو تھیٹر پر ایک کتاب لکھیں۔ اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی۔ ہمارے انتقال کے بعد کوئی یہ کام نہ کر پائے گا۔ جو مسالہ ہمارے پاس موجود ہے اور جتنی جوانی ہم نے تھیٹر پر چھڑکی ہے۔ کسی اور کو نصیب نہیں ہو سکتی۔ لیکن انہوں نے توجہ نہ کی فلم سازی انہیں ایسی چمٹی ہے کہ ان کی علم دوستی نواب اور افسانہ ہو کر رہ گئی ہے ان کے بغیر یہ کام مجھ اکیلے کے بس کا نہیں۔ ذخیرہ سب ان کے پاس ہے اور وہ متعدد کھیلوں سے واقف ہیں جن کا مجھے صرف نام معلوم ہے۔ آپ کو یہ داستن درد اس لئے سنا رہا ہوں کہ اگر ان کی طبیعت میں اکساہٹ پھر سے نہ پیدا ہو سکے تو آپ اس کام کا بیرا کیوں نہیں اٹھاتے مانا کہ آپ کراچی میں ہیں اور میں نیویارک میں اور نہ معلوم یہ بعد کب تک رہے گا تاہم یہ مشکل ایسی نہیں کہ اسے سلجھا نہ نہ سکیں۔ جب تک ہم لوگ زندہ ہیں اور یہ امر محال نہیں۔ موت رستے میں حائل ہوگئی تو کوئی اسے نہ پھاند سکے گا۔ لیکن ”حالیہ غلغلہ“ تو ”پھینک“ سکتے ہیں۔

    ہندوستان سے جو تناؤ ہے اس کی خبر محض سرکاری ذرائع سے ہم تک پہنچتی ہے۔ تفصیلات سے تشنہ رہتے ہیں اس لئے طبیعت متفکر رہتی ہے۔ نہ معلوم نہرو صاحب کے سر میں کیا سودا سمایا ہے کہ حق وراستی اور صلح خوشی سے انہوں نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ شاید آئندہ الیکشن کی ہوس نے عمل وفکر میں کجی پیدا کر دی ہے اخباروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹنڈن نے ان کے ڈنڈن کر رکھا ہے۔ خدا ہم لوگوں کا حامی ونصار ہو اپاکستان کی ہمت اور پاکستان کے لیڈروں کی دانائی اور مدبری کے یہاں سب لوگ قائل ہیں اور بیش از بیش کالم نویس ان کے معترف بنتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن کوئی خدا کا بندہ ہندوستان کے کان نہیں مروڑتا۔ سب اپنا تو سیدھا کرتے ہیں۔

    مجید لاہور صاحب کا سلام پہنچا۔ خدا انہیں خوش رکھے۔ ان سے ملاقات افسوس کہ بہت مختصر ہوئی تاہم یار زندہ صحبت باقی انہیں میرا سلام شوق بھی پہنچا دیجئے۔

                          خاکسار
                         بخاری

****

بھائی بھائی

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

بھائی بھائی

(سید ذوالفقار علی بخاری)

سید ذوالفقار علی بخاری اپنے برادر محترم سید احمد شاہ بخاری پطرس مرحوم کی موت کے بعد ان تمام یادوں کو جو اُن سے وابستہ ہیں "بھائی بھائی" کے نام سے ایک کتابی صورت میں یکجا کر رہے اور اس طرح اپنے اس سراپا زندگی بھائی کو موت کے بےرحم ہاتھوں سے چھین کر اپنے ليے زندہ رکھنا چاہتے ہیں جن کی موت کا یقین کرلینے کے بعد زندگی کا اعتبار اور بھی اُٹھ جاتا ہے۔
    سید ذوالفقار علی بخاری کی اس کتاب کا ابھی بچپن ہے مگر اسی دور کے چند اقتباس میں نے اس ليے حاصل کرلیے ہیں کہ پڑھنے کو یہ اندازہ ہوسکے کہ سب کا پطرس خود اپنے بھائی کے ليے کیا تھا۔
    میں جناب علامہ عباس کا ممنون ہوں کہ ان کی وساطت سے مجھ کو یہ اقتباس نقوش کے ليے حاصل ہوسکے اور طفیل صاحب سے سرخروئی ہوئی۔

(شوکت تھانوی)

* * *

    بھائی جان اسکول میں پڑھتے تھے اور میں ابھی اسکول میں داخل بھی نہیں ہوا تھا۔ والد گھر آئے تو بہت خوش تھے۔ میری والدہ سے کہا مبارک ہو کل پیر احمد شاہ کو اسکول میں انعام ملے گا"۔
    بھائی گھرے آئے تو میں نے کہا " لالہ اسکول میں مار پٹتی ہے یا انعام ملتا ہے"۔
پھر رات بھر ہم دنوں بھائی جاگتے رہے۔ وہ مجھے اسکول کے قصے سناتے رہے اور میں سنتا رہا۔ مجھ سے کہنے لگے "تم بڑے ہوتے میں تو میں تم کو کل ساتھ لے جاتا"۔
    میں رو پڑا۔ انہوں نے مجھے اُٹھ کر پیار کیا اور کہا۔ "اچھا دیکھو کل میں تمہاری شلوار پہن کر انعام لینے جاؤں گا"۔
    میں یہ سن کر بہت خوش ہوا اور ہنسی خوشی سو گیا۔ اگلے دن وہ میری شلوار پہن کر انعام لینے کے ليے گئے۔ ان کو کچھ کتابیں انعام میں ملی تھیں۔ جن پر سرخ رنگ کا دفتری فلیتہ بندھا ہوا تھا۔ کئی دن تک وہ وہ فلیتہ میرے پاس رہا اور میں محلے کے لڑکوں کو دکھاتا رہا۔
    میں اسکول میں داخل ہوگیا۔ بھائی جان کے ساتھ اسکول جانے لگا۔ میرے ہاتھ پاؤں کچھ ڈھیلے ڈھیلے تھے۔ کبھی بغل میں سے بستہ سرک جائے کبھی تختی پھسل جائے۔ کبھی میں گر پڑوں۔ چنانچہ بھائی میرا بستہ خود اٹھا لیتے اور انگلی پکڑ کر مجھے ساتھ چلاتے۔
    جب میں نے سڑک پر جم کر پاؤں رکھنا سیکھ لیا تو بھائی جان نے اپنا بوجھ مجھ پر لادنا شروع کردیا۔ اب ان کا بستہ میں اتھا کر لے جاتا تھا۔ کبھی ان کو اسکول جاتے ہوئے کچھ اور لڑکے مل جاتے تو یہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے مجھے پیچھے چھوڑ کر آگے نکل جاتے۔ میں رو پڑتا اور روتے روتے اسکول پہنچا۔
    اسکول میں سالانہ جلسہ ہوا۔ اس وقت ہمارے صوبہ کے چیف کمشنر سرجارچ روس کیپل تھے اور وہی جلسے کے صدر تھے۔ شہر کے تمام رؤسا اور حکام جلسے میں شریک تھے۔ ہمارے والد بھی تشریف رکھتے تھے۔ اسکول کے کئی لڑکوں نے نظمیں پڑھیں۔ بھائی جان نے بھی انگریزی میں ایک نظم پڑھی ان کی خواندگی کی بہت داد دی گئی۔ سرجارج روس کیپل بھی بہت خوش ہوئے۔
    جلسہ ختم ہوگیا اور لوگ ٹولیوں میں کھڑے ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے یا ایک دوسرے کو الوداع کہہ رہے تھے۔ بھائی جان اور میں والد کے پاس کھڑے تھے۔ لوگ والد کو مبارکباد دے رہے تھے اور بھائی جان کو پیار کررہے تھے کہ اتنے میں بھائی جان کے ليے ڈھنڈیا پڑی۔ ہمارے ایک ماسٹر صاحب بھاگتے ہوئے اور کہا "چلو پیراحمد لاٹ صاحب بلا رہے ہیں"۔
    میں بھائی جان کو لیئے ہوئے جلدی جلدی وہیں جمگھٹے میں پہنچا جس کے بیچ میں سرجارج روس کیپل کھڑے تھے۔ والد آہستہ آہستہ پیچھے پیچھے آنے لگے۔ جب سرجارج روس کیپل نے بھائی جان کو دیکھا تو آگے بڑھے اور بھائی جان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انگریزی میں کہا۔ "تم نے نظم بہت اچھی طرح پڑھی۔ تمہارا لہجہ بھی اچھا ہے اور تلفظ بھی۔ شاباش"۔
    اتنے میں والد بھی مجمع میں پہنچ گئے۔ سرجارج روس کیپل نے میرے والد سے مصافہ کیا اور بھائی جان کے متعلق تعریفی جملے پشتو میں کہے۔ والد نے کہا"صاحب جو لفظ کہہ رہے ہو یہیں لکھ دو تاکہ یہ لڑکا تمام عمر تمہارے کہے کی لاج رکھے"
    سرجارج نے بھائی کی بغل سے انعام کی کتابوں کے بنڈل میں سے ایک کتاب کی جلد کے اندر کی طرف پنسل سے یہ الفاظ لکھے "اےکاش میں پشتو اتنی اچھی طرح بولنے لوگوں جتنی طرح چھوٹا پیر۔ پیر احمد شاہ انگریزی بولتا ہے"۔
یہ سند بہت مدت تک والد نے سنبھال کر رکھی تھی۔ اگلے دن صوبہ سرحد کے واحد اخبار 'افغان' میں اس سند کی کہانی شائع ہوئی۔ عنوان تھا:

"چھوٹا پیر ۔۔ پیراحمد شاہ"

بھائی بڑے ہوتے گئے اور ہر سال اسکول میں انعام پاتے رہے۔۔ میں بھی پانچویں سوار کی طرح ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ ہمارے ایک بڑے بھائی تھے۔ پیر محمد شاہ، الله انہیں غریق رحمت کرے، بہت تیز مزاج بزرگ تھے۔ ہم دونوں کو ان سے بہت ڈر لگتا تھا۔ لیکن کئی باتوں میں ہم ان کی پیروی بھی کرتے تھے۔ مثلاً ان کو انگریزی ڈھب کے کپڑے پہننے کا بہت شوق تھا۔ ہم کو بھی یہ شوق لاحق ہوا۔ وہ شعر کہتے تھے اس لئے والد کے منظور نظر تھے۔ ہم دونوں نے بھی شعر کی طرف توجہ کی۔ جب ہماری شعر گوئی کی خبر بڑے بھائی تک پہنچی تو وہ بہت ناراض ہوئے اور والد نے بھی اس بات کو نہ سراہا کہ ہم اسکول کا کام چھوڑ کر شعروشاعری میں پڑ جائیں۔ خود والد شعر کہتے تھے۔ لیکن بچوں میں سے کسی اور کا شعروشاعری کی طر ف متوجہ ہونا شروع شروع میں انہیں پسند نہ آتا تھا۔ بھائی شعر کہتے مگر انہیں فضول سمجھ کر پھاڑ دیتے۔ میں شعر کہتا اور فضول بھی کہتا تو لوگوں کو سناتا۔ میں نے بہت سے تخلص رکھے۔ اثر۔ ذوالفقار۔ واجدان، مگر ان میں سے کوئی نہ مجھے پسند آیا نہ میرے بھائی کو۔ ایک دن جب اس تخلص کا جھگڑا اور پیش تھا تو کہنے لگے تخلص کیوں ضروری ہے۔ میں نے کہا مقطع کے ليے۔ پھر کہا مقطع کیوں ضروری ہے، میں نے کہا تاکہ معلوم ہو کہ غزل کسی کی ہے اور باقی شعر۔ میں چپ ہوگیا اور تخلص رکھنے کا خیال دل سے نکال دیا۔
    ایف اے پاس کرنے کے بعد بھائی جان گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوگئے اور ان کے خط آنے لگے۔ ایک خط میں بھائی نے مجھے لکھا کہ میں نے یہاں راجا غضنفر علی خان اور پنڈٹ اوتار لال بقایا کودوست بنایا ہے۔ راجہ غضنفر علی خان تو بہت بے سرے ہیں لیکن پنڈت اوتار لال بہت خود گاتے ہیں اور بجاجا بھی بجاتے ہیں۔ میں نے بانسری بجانی سیکھ لی ہے اور ان کے باجے کے ساتھ بانسری بجاتا ہوں۔ بھائی نے مجھے تاکید کی کہ اس بات کو صرف اپنے تک رکھوں۔


* * *

مضامین پطرس کا مطالعہ

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

مضامین پطرس کا مطالعہ

(تمکین کاظمی)

    پطرس ایک ذہین اور فریس ادیب اور فن کار تھے۔ ان کا مطالعہ نہایت ہی گہرا او رمعلومات وسیع تھیں، اردو انگریزی دونوں زبانوں پر یکساں حاوی تھے۔ ساٹھ سالہ عمر تک انہیں ساٹھ ستر نہ سہی سات آٹھ کتابیں تو لکھنی چاہئے تھیں مگر وہ ”پیشہ ور انشا پرداز“ نہ تھے جب جی چاہتا لکھتے اور جب تک جی نہ چاہتا تھا نہیں لکھتے تھے۔ چنانچہ ان کی ابتدا سے یہی روش رہی۔ ابتداً ان کے مضامین طبع ہونے لگے تو مجھے بہت پسند آئے۔ چنانچہ اسی سلسلے میں خط وکتابت بھی ہونے لگی۔ اور میں پطرس سے بےتکلف ہوتا گیا۔ ان ہی کی خواہش اور تحریک پر میں نے بعض شخصی خاکے بھی لکھے تھے۔
    اس زمانے میں ملا رموزی، امتیاز علی تاج، پطرس اور میں لکھا کرتے تھے۔ مزاح نگاری میرا اپنا رنگ نہ تھا۔ احباب کے تقاضوں پر بعض دفعہ لکھا کرتا تھ۔ چنانچہ جب میرا مجموعہ ”غنچہٴ تبسم“ شائع ہوا تو ”نیاز مندان لاہور“ نے میرے خلاف محاذ بنایا مگر پطرس شخصی طور پر میرے موافق اور اس محاذ سے الگ رہے اور اسی زمانہ سے میری دوستی کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے لکھنا کم ہی نہیں کیا بلکہ چھوڑ دیا اور میں بھی ”خوش مذاقی“ چھوڑ کر ادب اور تاریخ کی طرف متوجہ ہوگیا۔
    مضامین پطرس تو بعد کو مجموعہ کے ذریعے منظر عام پر آئے۔ میں نے ان مضامین کو طبع ہوتے ہی پرچوں سے علیحدہ کرکے محفوظ کرلیا تھا۔ اور تقریباً ہر ایک مضمون سے متعلق ان سے میری مراسلت ہوچکی تھی۔ ملک کے آزاد ہونے سے پہلے میں نے مینا جاری کیا تو پطرس سے بھی مضمون کی خواہش کی تھی اور انہوں نے بڑی خوشی سے وعدہ کرلیا تھا مگر چند مہینوں کے بعد ہنگامے شروع ہوگئے اور مینا بند ہوگیا۔ جن دنوں ریڈیو پطرس سے متعلق تھا میری مراسلت ان سے ہوئی مگر اس کے بعد نہ تو میں نے انہیں خط لکھا اور نہ انہوں نے مجھے، کہ وہ ہمیشہ کے لئے ہم سے دور ہوگئے۔ امریکہ سے لکھے ہوئے چند خطوط جو بعض رسائل میں طبع ہوئے ہیں ان کی اردو انشا پر دازی کے آخری نمونے ہیں جو لافانی ہیں۔
    زیادہ لکھنا کوئی خوبی نہیں ہے ہم بعض ایسے ”پُرنویسوں“ سے واقف ہیں جو بہت لکھنے والے تھے اور جن کی بیسیوں کتابیں چھپیں مگر بارہ پندرہ سال بھی ان کی کتابوں نے زندگی نہیں پائی، آج کتابیں تو کیا نظر آئیں گی نام بھی سننے میں نہیں آتے۔ ان کے مقابلے میں بعض ایسے ”کم نویس“ بھی نظر آتے ہیں جن کی کتابیں گنی چنی ہیں مگر لوگ انہیں سر آنکھوں پر لئے پھرتے ہیں۔ انہیں آخر الذکر لوگوں میں پطرس کا شمار بھی ہے۔ چند مضامین، چند ترجمے، چند ناول صرف یہی کائنات پطرس کی ہے۔ مگر یہ ”بہ قامت کہہ تر“ چیزیں قدر وقیمت میں بہتر سے بہتر ہیں اور آئندہ ان کی قیمت اور بھی بڑھ جائے گی۔  آئیے اب ذرا پطرس کے مضامین کا مطالعہ کریں۔ پطرس نے اپنے مضامین کا پہلا مجموعہ جو شائع کیا ہے اس میں شاید گیارہ مضامین نہیں ہیں۔ بلکہ کچھ کم ہیں بعد کے ایڈیشنوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ سب سے پہلے پطرس نے اپنے استاد پروفیسر مرزا محمد سعید دہلوی سے ”اظہار عقیدت“ کیا ہے کہ انہوں نے اس کتاب پر نظر ثانی کی اور اسے بعض لغزشوں سے پاک کیا پھر اس بات پر فخر بھی کیا ہے کہ ”مجھے اب بھی ان سے فیض تلمذ حاصل ہے“۔  پطرس کی طبیعت کا سلجھاؤ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں لغزشوں کا اعتراف بڑی فراخ دلی سے کرلیا ہے اور پھر اس بات پر اظہار افتخار بھی کیا ہے کہ انہیں اب بھی پروفیسر مرزا محمد سعید سے تلمذ حاصل ہے۔ ظاہر ہے کہ ادبی دنیا یہ معلوم کرکے کہ پروفیسر محمد سعید پطرس کے استاد ہیں، بہت زیادہ احترام کرنے لگے گی۔ مگر اس اعتراف سے علمی طبقے میں پطرس کا احترام بہت زیادہ بڑھ گیا کہ وہ برخود غلط اور مستند ہے میرا فرمایا ہوا“کہنے والے ادیب نہیں بلکہ حقیقی معنی میں عالم ہیں جو اپنے آپ کو طالب علم سمجھتے ہیں تو ان کی اس ادا سے بہت متاثر تھا۔ دیباچے میں تو پطرس نے غصب ہی کر دیا“۔
    اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھیجی ہے تو مجھ پر احسان کیا ہے۔ آپ نے کہیں سے چرائی ہے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا ہوں۔ اپنے پیسوں سے خریدی ہے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔ اب بہتر یہی ہے کہ آپ اس کتاب کو اچھا سمجھ کر اپنی حماقت کو حق بجانب ثابت کریں۔ ان مضامین کے افرادسب خیالی ہیں حتیٰ کہ جن کے لئے وقتاً فوقتاً واحد متکلم کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے وہ ہر چند کہیں کہ ہیں نہیں ہیں۔ آپ! تو اس نکتے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن کئی پڑھنے والے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھی ان کی غلط فہمی اگر دور ہو جائے تو کیا ہرج ہے؟ جو صاحب اس کتاب کو کسی غیر ملکی زبان میں ترجمہ کرنا چاہیں وہ پہلے اس ملک کے لوگوں سے اجازت حاصل کریں“۔
    یہ دیباچہ پوری کتاب سے زیادہ دلچسپ اور پطرس کے سارے مضامین سے زیادہ دل فریب ہے مجھے یقین ہے کہ یہ قلم برداشتہ بلا فکر وتردد بیک گردشِ قلم لکھا گیا ہے اس لئے اس میں اختصار، حقیقت، طنز سب ہی موجود ہے۔ خصوصاً آخری چوٹ تو ایسی بھرپور ہے کہ ہر مترجم قسم کا ادیب یا انشا پرداز تڑپ اُٹھتا ہے۔ غور فرمایے سینکڑوں کتابیں ایسی ترجمہ ہوئی ہیں جو لٹریچر کے سر پر ایک بوجھ ہیں۔ کاش یہ مترجمین ترجمہ کرنے سے پہلے اہل ملک سے مشورہ کر لیتے۔ نام بتاؤں تو آپ خفا ہوں گے اس لئے ذرا اردو میں جو ترجمے سامنے سامنے ہیں انہیں دیکھ لیجئے پھر غور فرمائیے کہ پطرس نے کتنی زہریلی گولی شکر میں لپیٹ دی ہے۔
    ”ہاسٹل میں پڑنا“ آپ اس فکر میں اپنے تئیں مبتلا نہ کریں کہ یہ پطرس کی آ پ بیتی ہے یا پربیتی یا سنی سنائی؟ آپ صرف یہ ملاحظہ فرمائیے کہ پطرس نے جو کچھ لکھا ہے صحیح ہے یا نہیں۔ جب آپ اس نقطہٴ نظر پر غور فرمائیں تو آپ کو پورا مضمون صحیح اور بالکل صحیح معلوم ہوگا۔ پرانے گھرانوں اور محتاط بزرگوں کا یہی رویہ رہا ہے جو اس مضمون میں پطرس نے اپنے والدین کا بتایا ہے اور یہ مصیبتیں بیشتر طالب علموں پر پڑ چکی ہیں۔ بلکہ اس روشن زمانے میں بھی بعض لڑکے اس میں مبتلا ہیں۔ یہ اچھی ہے یا بری؟ ان کا فیصلہ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ میں اور نہ کوئی اور، انسانی طبائع مختلف ہوتی ہیں اور ہر طبیعت الگ الگ باتوں سے متاثر ہوتی ہے اس لئے یہ فیصلہ کرنا کہ ہاسٹل میں پڑھنا مفید ہے بھی غلط اور ہاسٹل میں رہنا مضر ہے بھی غیر صحیح، میں سینکڑوں ایسے لوگوں سے واقف ہوں جنہوں نے ہاسٹل میں رہ کر سگریٹ نہیں پیا، چائے نہیں پی، سینما نہیں دیکھا، نمازیں پڑھیں اور رٹ رٹ کر پاس ہوتے گئے اور سینکڑوں ایسے برخورداروں سے بھی واقف ہوں جو گھر پر کڑی نگرانی میں رکھے گئے تھے مگر سگریٹ کے عادی، چائے کے رسیا، سینما کے شوقین اور دوسری لغویات کے پورے پورے پابند ہوگئے۔ بعضوں نے نہ چھٹنے والی کافرہ سے بھی منہ لگا لیا۔ اور بعض خمیازہ کش روگوں میں مبتلا ہوگئے۔ پڑھے لکھے خاک نہیں دولت لٹا دی، وہ جو کسی نے کہا ہے کہ ”عصمت زن اور تربیت فرزند من جانب الله ہے“ بالکل صحیح بات ہے اس لئے کوئی اصول مقرر ہی نہیں کئے جا سکتے۔  پطرس نے اپنے اس مضمون میں جس عمدگی سے طالب علموں کی نفسیات کا جائزہ لیا ہے اور جو خاکہ کھینچا ہے وہ صرف انہیں کا حصہ ہے ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بڑی ہی تفصیل سے لکھا ہے اور پھر بڑا کمال یہ ہے کہ ایک دیہاتی اور قصباتی طالب علم کی پوری پوری نمائندگی کی ہے اور بڑی ہی معصومیت سے یہ تک ظاہر کردیا ہے کہ لندن اور لاہور میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ اس کی معراج یہ ہے کہ برخوردار طالب علم اپنے والد بزرگوار سے بحث فرمانے لگتے ہیں اور شخصیت کی تشریح میں نیازمند ہوجاتے ہیں تو سیرت میں پناہ لیتے ہیں۔ اور اس کے معنی یا مطلب چال چلن قرار دے کر جب وضاحت کرنا چاہتے ہیں تو پرنسپل صاحب کی جلسہ تقسیم انعامات والی تقریر کا خیال آتا ہے مگر وہ تو حافظہ میں محفوظ ہی نہیں ہوتی کیونکہ اسے توجہ سے سننے کی زحمت ہی نہیں کی گئی تھی۔ یہ سارا مضمون اسی معصومانہ ذہنیت کا مظہر اور طالب علمانہ کش مکش ذہنی کا آئینہ ہے جو اپنی طرز کا بہترین مضمون ہے۔ اس مضمون میں جگہ جگہ ایسی ” پچی کاری“ کی ہے کہ اس کی جوت سے آنکھیں منور ہو جاتی ہیں چنانچہ آخری فقرہ تو لافانی ہے۔ ”یونیورسٹی والوں کی حماقت ملاحظہ فرمائیے کہ ہمیں پاس کرکے اپنی آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ ہاتھ سے گنوا بیٹھے“۔
    ”سویرے جو کل آنکھ میری کھلی“ بھی بڑا ہی نفیس مضمون ہے۔ اس سے تقریباً نوے فیصد قارئین متفق ہوں گے کیونکہ سو میں دس آدمی بھی بہ مشکل سحر خیز ہوتے ہیں۔ خصوصاً طالب علمی میں تو سحر خیزی بڑی تکلیف دہ معلوم ہوتی ہے۔ پطرس کی شامت جو آتی ہے تو اپنے ایک پڑوسی سے صبح جگا دینے کی خواہش کرتے ہیں اور یہ پڑوسی بھی ایسے مستعد ہوتے ہیں کہ سحر کاذب ہی میں پطرس کے کمرے پر دہاوا بول دیتے ہیں اور بم باری شروع کر دیتے ہیں اس کی ان بم باری سے متاثر ہو کر پطرس کے قلم سے بے ساختہ یہ فقرہ نکل جاتا ہے۔”یہ سوتوں کو جگا رہے ہیں یا مردے کو جلا رہے ہیں؟ اور حضرت عیسیٰ بھی تو واجبی طور پر ہلکی سی آواز میں ”قم“ کہہ دیا کرتے ہوں گے۔ زندہ ہوگیا تو ہوگیا نہیں تو چھوڑ دیا کوئی مردے کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جایا کرتے ہیں۔ توپیں تھوڑی داغا کرتے تھے“۔  یہ مضمون ہاسٹل والے مضمون کے بعد ہی لکھا گیا ہے۔ اور لکھا اس نے ہے جسے ہاسٹل میں رہنے کا ارمان تھا۔ وہ ارمان اس نے اس طرح نکالے کہ: حسبِ معمول نہایت اطمینان کے ساتھ بھلے آدمیوں کی طرح اپنے دس بجے اُٹھے بارہ بجے ہاتھ منہ دھویا اور چار بجے چائے پی کر ٹھنڈی سڑک کی سیر کو نکل گئے۔ شام کو واپس ہاسٹل میں وارد ہوئے، جوش شباب تو ہے ہی اس پر شام کا ارمان انگیز وقت ہوا بھی نہایت لطیف تھی۔ طبیعت بھی ذرا مچلی ہوئی تھی ہم ذرا ترنگ میں گاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے کہ

بلائیں زلف جاناں کی اگر لیتے تو ہم لیتے

کہ اتنے میں پڑوسی کی آواز آئی ”مسٹر“۔ ہم اس وقت ذرا چٹکی بجانے لگے تھے بس انگلیاں وہیں پر رک گئیں اور کان آواز کی طرف لگ گئے ارشاد ہوا، یہ آپ گا رہے ہیں (زور آپ پر) میں نے کہا، جی میں کس لائق ہوں لیکن خیر فرمائیے! بولے… وہ میں… ڈسٹرب ہوتا ہوں“ اس خرابی کے بعد پطرس دوسرے پڑوسی کو گھیرتے اور اس سے چھ بجے جگانے کی فرمائش کرتے ہیں اور وہ غریب چھ بجے انہیں جگا بھی دیتا ہے اس کے بعد کی واردات خود پطرس سے سنئے۔ ”اس کے بعد کے واقعات ذرا بحث طلب ہیں۔ اور ان کے متعلق روایات میں کس قدر اختلاف ہے۔ بہرحال اس بات کا تو مجھے یقین ہے اور میں قسم بھی کھا سکتا ہوں کہ آنکھیں، میں نے کھول دی تھیں، پھر یہ بھی یاد ہے کہ ایک نیک اور سچے مسلمان کی طرح کلمہ شہادت بھی پڑھا۔ پھر یہ بھی یاد ہے کہ اُٹھنے سے پیشتر دیباچہ کے طور پر ایک آدھ کروٹ بھی لی۔ پتہ نہیں شاید لحاف اوپر سے اتار دیا شاید سر اس میں لپیٹ دیا، یا شاید کھانسا کہ خدا جانے خراٹا لیا۔ خیر یہ تو یقینی امر ہے کہ دس بجے ہم بالکل جاگ رہے تھے لیکن لالہ جی کے جگانے کے بعد اور دس بجے سے پیشتر خدا جانے ہم پڑھ رہے تھے یا شاید سو رہے تھے، نہیں ہمارا خیال ہے پڑھ رہے تھے یا شاید سو رہے ہوں بہرصورت یہ نفسیات کا مسئلہ ہے جس میں نہ آپ ماہر ہیں نہ میں۔ کیا پتہ لالہ جی نے جگایا ہی دس بجے ہو یا اس دن چھ دیر سے بجے ہوں، خدا کے کاموں میں ہم آپ کیا دخل دے سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے دل میں دن بھر یہ شبہ رہا کہ قصور کچھ اپنا ہی معلوم ہوتا ہے“۔ دوسرا دن بھی یوں ہی آتا ہے جس کے متعلق پطرس کہتے ہیں: ”یہ معمہ اب مابعد الطبعیات ہی سے تعلق رکھتا ہے کہ پھر جو ہم نے لحاف سے سر باہر نکالا، اور ورڈزورتھ پڑھنے کا ارادہ کیا تو وہی دس بج رہے تھے اس میں نہ معلوم کیا بھید ہے۔“ کالج ہال میں لالہ جی ملے کہنے لگے مسٹر! صبح میں نے پھر آپ کو آواز دی تھی آپ نے جواب نہ دیا؟ میں زور کا قہقہہ لگا کر کہا ”اوہو! لالہ جی یاد نہیں رہا میں نے آپ کو گڈ مارننگ کہا تھا۔ میں تو پہلے ہی جاگ رہا تھا۔ بولے وہ تو ٹھیک ہے لیکن بعد میں… اس کے بعد … کوئی سات بجے کے قریب میں نے آپ سے تاریخ پوچھی تھی تو آپ بولے نہیں۔ ہم نے نہایت تعجب کی نظروں سے ان کو دیکھا گویا وہ پاگل ہوگئے ہیں۔ اور پھر ذرا متین چہرہ بنائے، ماتھے پر تیوری چڑھائے غور وفکر میں مصروف ہوگئے ایک آدھ منٹ تک ہم اس تعمق میں رہے پھر یکایک ایک محبوبانہ اور معشوقانہ انداز سے مسکرا کر کہا ”ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں اس وقت … اے… اے … نماز پڑھ رہا تھا۔
    صبح دس بجے سو کر اُٹھنے والے نماز کی داد دیجئے، یہ حرکت سب ہی کرتے ہیں آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ دنیا دار پطرس نے طالب علمی میں اس قسم کی دروغ بیانی کی ہے یہ ان کی ایک معصومانہ حرکت تھی۔ مگر اس دروغ بانی کو بڑے بڑے جبّہ وعمامہ ریش وگیسو والے عمداً کام میں لاتے ہیں پطرس کی اس معصومیت کا گواہ یہ فقرہ بھی ہے۔ ”اب یہی ہمارا معمول ہوگیا جاگنا نمبر ایک چھ بجے جاگنا نمبر دو دس بجے اس دوران میں لالہ جی آواز دیں تو نماز“۔
آپ یہ سمجھ لیں کہ پطرس صرف خوش مذاتی کے دلدادہ تھے اور طنز ومزاح اور پیروڈی ہی لکھتے تھے بلکہ یہ بھی جان لیجئے کہ پطرس ایک ادیب اور انشا پرواز بھی تھے اور انشائے لطیف پر بھی انہیں خاصا عبور تھا ذیل کا انشائیہ اسی منقولہ بالا مضمون کا ٹکڑا ہے پڑھئے اور لطف اٹھائیے۔
    ”جب دل مرحوم ایک جہاں آرزو تھا تو یوں جاگنے کی تمنا کیا کرتے تھے کہ ہمارا فرقِ ناز محوبالش کم خواب ہو، اور سورج کی پہلی کرنیں ہمارے سیاہ پُر پیچ بالوں پر پڑ رہی ہوں، کمرے میں پھولوں کی بوئے سحری روح افزائیاں کر رہی ہو، نازک اور حسین ہاتھ اپنی انگلیوں سے بربط کے تاروں کو ہلکے ہلکے چھڑ رہے ہوں اور عشق میں ڈوبی ہوئی سریلی اورنازک آواز مسکراتی ہوئی گا رہی ہو۔
تم جاگو موہن پیارے
خواب کی سنہری دھند آہستہ آہستہ موسیقی کی لہروں میں تحلیل ہو جائے اور بیداری ایک خوشگوار طلسم کی طرح تاریکی کے باریک نقاب کو خاموشی سے پارہ پارہ کر دے، چہرہ کسی کی نگاہِ اشتیاق کی گرمی محسوس کر رہا ہو، آنکھیں مسحور ہو کر کھلیں اور چار ہو جائیں۔ دل آویز تبسم صبح کو اور بھی درخشندہ کردے اور گیت:
سانوری صورت توری من کو بھائی
کے ساتھ ہی شرم وحجاب میں ڈوب جائے“۔ یہ تھی آرزوئے لطیف مگر اس کے بجائے غریب کو کیا حاصل ہوا، اسی کی زبان سے سنئے۔ ”پہلے مسٹر مسٹر! کی آواز دروازے کی دنادن سا معہ نوازی کرتی ہے اور پھر چار گھنٹے بعد کالج کا گھڑیال دماغ کے ریشے ریشے میں دس بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اس چار گھنٹے کے عرصے میں گڑدیوں کے گر پڑنے… دیگچیوں کے اُلٹ جانے، دروازوں کے بند ہونے، کتابوں کے جھاڑنے، کرسیوں کے گھسیٹنے، کلیاں اور غرغرے کرنے، کھنکھارنے اور کھانسنے کی آوازیں تو گویا فی البدیہ ٹھمریاں ہیں۔ اندازہ کر لیجئے کہ ان سازوں میں سرتال کی کس قدر گنجائش ہے“۔ پطرس کا یہ مضمون ان مضامین میں سے ہے جو انہیں زندہ رکھیں گے۔ اس میں خوش مذاقی، انشائے لطیف، طنز اور روانی بلا کی ہے اور ایک طالب علم کی ہاسٹل کی زندگی کا پورا پورا نقشہ اس میں موجود ہے۔ مجموعہ کے یہ دونوں مضمون (پہلا اور دوسرا) ہاسٹل کی زندگی کا آئینہ ہیں۔ ہاسٹل کی زندگی اس سے زیادہ عمدگی اور نفاست سے پیش کی جا سکتی ہے اور نہ یہ تفصیل کہیں مل سکتی ہے۔
    کُتّے ! یہ شاہ کار ہے پطرس کا! بعض جانوروں سے بعضوں کو نفرت یا خوف ہوتا ہے چنانچہ اس کی تفصیل اکثروں نے لکھی ہے میرا حافظہ جہاں تک کام دے رہا ہے سب سے پہلے ”خالاؤں کا مارا آغا“ مضمون نصیر حسین خان خیال نے لکھا تھا جو ایک آغائے ایران کے بلی سے ڈرنے اور بگڑنے اور نفرت کرنے کی تفصیل سے پُر ہے ۔یہ بڑا دلچسپ مضمون ہے مگر اس میں وہ لطافت نہیں جو پطرس کے مضمون میں ہے کیونکہ ایک آغا صاحب واقعی بلی سے ڈرتے تھے ان کی حرکات کو دیکھ کر خیال نے یہ مضمون لکھا ہے اس لئے واقعیت زیادہ اور اُپچ کم ہے بخلاف اس کے پطرس نے اپچ ہی اپچ پیش کی ہے جو واقعات کے ساتھ مل کر اتنی لطیف ہوگئی ہے کہ داد نہیں دی جا سکتی۔ کتے سے نفرت کرنے والے کا کردار افسانوی صورت میں سمرسٹ ماہم نے پیش کیا ہے (جو بدنصیبی سے بہ صورت ترجمہ میری نظر سے گذرا ہے، اصل میرے دیکھنے میں نہیں آیا) اس میں ایک کتوں سے نفرت کرنے والے کا کردار بڑی چابک دستی سے پیش کیا گیا ہے مگر یہ کوئی مضمون نہیں افسانہ ہے اس لئے میں افسانے کو اس اپچی مضمون پر ترجیح نہیں دے سکتا۔
    اس موضوع پر اپچی اور واقعاتی مضمون صرف پطرس ہی نے لکھا ہے کتوں اور پھر سڑک کے کتوں سے کون نالاں نہیں پھر ان کا بھونکنا کسے نہیں کھلتا؟ مگر اس بھونکنے اور ایک دوسرے کے سُر ملانے کو مشاعرے سے تشبیہہ دینا اور اس نفرت خیز حرکت کو اس نفاست سے بیان کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے، دیکھئے کتوں کا مشاعرہ کس عمدگی سے شروع ہوتا ہے  ۔۔۔رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں سے ایک کتے نے مطلع عرض کر دیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کر پوری غزل مقطع تک کہہ گئے اس پر شمال مشرق کی طرف سے ایک قدر شناس کتے نے زوروں کی داد دی، اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ کچھ نہ پوچھو، کم بخت بعض تو دو غزلے سہ غزلے لکھ لائے ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا، ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ آرڈر آرڈر پکارا لیکن ایسے موقعوں پر پردہان کی بھی کوئی نہیں سنتا۔
    یہ تو تھی کتوں کے مشاعرے کی روئداد جو دیسی کتوں نے منعقد کیا تھا ان دیسی کتوں کی صرف ایک ادا پطرس کو پسند تھی وہ ان کی قوم پرستانہ ذہنیت تھی کیونکہ ”اکثر تو ان میں ایسے قوم پرست ہیں کہ پتلون کوٹ کو دیکھ کربھونکنے لگ جاتے ہیں خیر یہ تو ایک حد تک قابل تعریف بھی ہے“۔ مگر یہی کتا جب ولائیتی ہوتا اور صاحب کے بنگلے پر ہوتا ہے تو پطرس اس کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں: ”ہمیں بارہا ڈالیاں لے کر صاحب لوگوں کے بنگلوں پر جانے کا اتفاق ہوا، خدا کی قسم ان کتوں میں وہ شائستگی دیکھی ہے کہ عش عش کرتے لوٹ آئے ہیں۔ جوں ہی ہم بنگلے کے دروازے میں داخل ہوئے کتے نے برآمدے ہی میں کھڑے کھڑے ایک ہلکی سی ”بخ“ کر دی اور پھر منہ بند کرکے کھڑا ہوگیا۔ ہم آگے بڑھے تو اس نے بھی چار قدم آگے بڑھ کر ایک نازک اور پاکیزہ آواز میں پھر ”بخ“ کر دی۔ چوکیداری کی چوکیداری، موسیقی کی موسیقی۔ ہمارے کتے ہیں نہ راگ نہ سُر، نہ سر نہ پیر، تان پر تان لگائے جاتے ہیں، بے تانے کہیں کے نہ موقع دیکھتے ہیں نہ وقت پہچانتے ہیں گلے بازی کئے جاتے ہیں گھمنڈ اس بات پر ہے کہ تان سین اسی ملک میں تو پیدا ہوا تھا“۔
    کتے سے ڈرنے والے کا حال آپ نے بار ہا دیکھا ہوگا۔ مگر اس کی تصویر اس عمدگی سے آپ نہ کھینچ سکیں گے جس چابک دستی سے پطرس نے کھینچی ہے۔ ملاحظہ ہو کتنی سیدھی سادھی واقعی تصویر ہے جس میں مبالغہ یا رنگ آمیزی ذرا بھی نہیں۔ ”کتے کے بھونکتے ہی ہماری طبعی شرافت ہم پہ اس درجہ غلبہ پا جاتی ہے کہ آپ ہمیں اگر اس وقت دیکھیں تو یقیناً یہی سمجھیں گے کہ ہم ”بزدل“ ہیں شاید آپ اس وقت یہ بھی اندازہ لگا لیں کہ ہمارا گلا خشک ہوا جاتا ہے۔ یہ البتہ ٹھیک ہے ایسے موقع پر کبھی میں گانے کی کوشش کروں تو کہرج کے سروں کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔ اگر آپ نے بھی ہم جیسی طبیعت پائی ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے مواقع پر آیة الکرسی آپ کو ذہن سے اتر جائے گی اس کی جگہ شاید دعائے قنوط پڑھنے لگ جائیں۔ بعض اوقات ایسا بھی اتفاق ہوا ہے کہ رات کے دو بجے چھڑی گھماتے تھیٹر سے واپس آرہے ہیں اور ناٹک کے کسی نہ کسی گیت کی طرز ذہن میں بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں چونکہ الفاظ یاد نہیں اور نومشقی کا عالم بھی ہے اس لئے سیٹی پر اکتفا کی ہے کہ بےسرے بھی ہوگئے تو کوئی یہی سمجھے گا۔ انگریزی موسیقی ہے۔ اتنے میں ایک موڑ پر سے جو مڑے تو سامنے ایک بکری بندھی تھی۔ ذرا تصور ملاحظہ فرمائیے آنکھوں نے اسے بھی کتا دیکھا ایک تو کتا اور پھر بکری کی جسامت کا گویا بہت ہی کتا، بس ہاتھ پاؤں پھول گئے چھڑی کی گردش دھیمی دھیمی ہوتے ہوتے ایک نہایت ہی نامعقول زاوئیے پر ہوا میں کہیں ٹھہر گئی۔ سیٹی کی موسیقی بھی تھرتھرا کر خاموش ہوگئی۔ لیکن کیا مجال کہ ہماری تھوتھنی کی مخروطی شکل میں ذرا بھی فرق آیا ہو گویا ایک بے آواز لے ابھی تک نکل رہی ہے۔ طلب کا مسئلہ ہے کہ ایسے موقعوں پر اگر سردی کے موسم میں بھی پسینہ آجائے تو کوئی مضائقہ نہیں، بعد میں پھر سوکھ جاتا ہے۔ یہ خیال نہ کیجئے کہ پطرس کو کبھی کتے نے یا پطرس نے کبھی کتے کو کاٹا ہے جس کی وجہ سے ایسا تنفر، خوف، ڈر یا اختلاف ہے، ایسا کبھی نہیں ہوا چنانچہ اس غلط فہمی کو خود پطرس نے رفع کر دیا ہے۔ ”چونکہ ہم طبعاً ذرا محتاط ہیں اس لئے آج تک کتے کے کاٹنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا یعنی کسی کتے نے آج تک ہم کو کبھی نہیں کاٹا۔ اگر ایسا سانحہ کبھی پیش آیا ہوتا تو اس سرگذشت کی بجائے آج ہمارا مرثیہ چھپ رہا ہوتا،تاریخی مصرعہ دعائیہ ہوتا۔
کہ اس کتے کی مٹی سے بھی کتا گھاس پیدا ہو
لیکن کہوں کس سے میں کہ کیا ہے سگِ رہ بُری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا!
    کتے کی آواز یا اس کا بھونکنا پطرس کے لئے قہر سے کم نہیں جس طرح چوہے بلی کی میاؤں سے ادھ موا ہوجاتے ہیں اسی طرح پطرس بھی کتے کے بھونکنے سے اپنے آپ کو ملک الموت کے قریب پاتے ہیں۔ اس بھونکنے کے اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں، انہیں سے سنئے: جب تک اس دنیا میں کتے موجود ہیں اور بھونکنے پر مصر ہیں سمجھ لیجئے کہ ہم قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں اور پھر ان کتوں کے بھونکنے کے اصول بھی تو کچھ نرالے ہیں یعنی ایک تو متعدی مرض ہے اور پھر بچوں بوڑھوں سبھی کو لاحق ہے اگر کوئی بھاری بھرکم اسفندیا رکتا کبھی کبھی اپنے رعب اور دبدبے کو قائم رکھنے کے لے بھونک لے تو ہم بھی چار رونا چار کہہ دیں کہ بھئی بھونک (اگرچہ ایسے وقت میں اس کو زنجیر سے بندھا ہوا ہونا چاہئے) لیکن یہ کمبخت دو روزہ اور سہ روزہ دو دو تین تین تولے کے پلے بھی بھونکنے سے باز نہیں آتے باریک آواز ذرا سا پھیپھڑا، اس پر بھی اتنا زور لگا کر بھونکتے ہیں کہ آواز کی لرزش دم تک پہنچتی ہے او رپھر بھونکتے ہی چلتی موٹر کے سامنے آکر گویا اسے روک ہی تو لیں گے اب اگر یہ خاکسار موٹر چلا رہا ہو تو قطعاً ہاتھ کام کرنے سے انکار کر دیں گے لیکن ہر کوئی ان کی جاں بخشی تھوڑا ہی کر دے گا۔ کتوں کے بھونکنے پر مجھے بہت بڑا اعتراض یہ ہے کہ ان کی آواز سوچنے کے تمام قویٰ کو معطل کر دیتی ہے خصوصاً جب کسی دکان کے تختے کے نیچے سے ان کا پورا خفیہ جلسہ باہر سڑک پر آکر تبلیغ، کا کام شروع کر دیتا ہے تو آپ ہی کہئے ہوش ٹھکانے رہ سکتے ہیں؟ ہر ایک کی طرف باری باری متوجہ ہونا پڑتا ہے کچھ ان کا شور کچھ ہماری صدائے احتجاج (زیر لب) بے ڈھنگی حرکات وسکنات (حرکات ان کی سکنات ہماری) اس ہنگامے میں دماغ بھلا خاک کام کر سکتا ہے اگرچہ مجھے نہیں معلوم کہ اگر ایسے موقع پر دماغ کام کرے بھی تو کیا تیر مارے گا؟ بہرحال کتوں کی یہ پرلے درجے کی ناانصافی میرے نزدیک ہمیشہ قابل نفریں رہی ہے۔  اس طرح پطرس کتوں سے نالاں اور متنفر رہے ہیں مگر نیک کتوں کو انہوں نے سراہا بھی ہے یہ نیک کتے کیسے ہوتے ہیں انہیں سے سنئے۔
    خدا نے ہر قوم میں نیک افراد بھی پیدا کئے ہیں کتے اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں آپ نے خدا ترس کتا بھی ضرور دیکھا ہوگا عموماً اس کے جسم پر تپسیا کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں، جب چلتا ہے تو اس مسکینی اور عجز سے گویا بارِ گناہ کا احساس آنکھ نہیں اٹھانے دیتا۔ دم اکثر پیٹ کے ساتھ لگی ہوتی ہے۔ سڑک کے بیچوں بیچ غور وفکر کے لئے لیٹ جاتا ہے اور آنکھیں بندکر لیتا ہے ۔شکل بالکل فلاسفروں کی سی اور شجرہ دیو جانس کلبی سے ملتا ہے، کسی گاڑی والے نے متواتر بگل بجایا۔ گاڑی کے مختلف حصوں کو کھٹکھٹایا، لوگوں سے کہلوایا خود دس بارہ دفعہ آوازیں دیں۔ تو آپ نے سر کو وہیں زمین پر رکھے سرخ مخمور آنکھوں کو کھولا صورت حال کو ایک نظر دیکھا پھر آنکھیں بند کر لیں۔ کسی نے ایک چابک لگا دیا تو آپ نہایت اطمینان کے ساتھ وہاں سے اُٹھ کر ایک گز پرے جا لیٹے اور خیالات کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹ گیا تھا۔ وہیں سے پھر شروع کر دیا۔ کسی بائیسکل والے نے گھنٹی بجائی تو لیٹے لیٹے سمجھ گئے کہ بائیسکل ہے ایسی چھچھوری چیزوں کے لئے وہ راستہ چھوڑ دینا فقیری کی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔   رات کے وقت یہی کتا اپنی خشک پتلی سی دم تابحد امکان سڑک پر پھیلا کر رکھتا ہے اس سے محض خدا کے برگزیدہ بندں کی آزمائش مقصود ہوتی ہے جہاں آپ نے غلطی سے اس پر پاؤں رکھ دیا انہوں نے غیض وغضب کے لہجہ میں آپ سے پرسش شروع کر دی ”بچا! فقیروں کو چھڑتا ہے؟ نظر نہیں آتا، ہم سادھو لوگ یہاں بیٹھے ہیں“ بس اس فقیر کی بددعا سے اس وقت رعشا شروع ہو جاتا ہے ۔ بعد میں کئی راتوں تک یہی خواب نظر آتے رہتے ہیں کہ بے شمار کتے ٹانگوں سے لپٹے ہیں اور جانے نہیں دیتے۔ آنکھ کھلتی ہے تو پاؤں چارپائی کی ادوان میں پھنسے ہوتے ہیں“۔ یہ تو سب معمولی باتیں تھیں مگر اصل حقیقت آخر میں ظاہر ہوتی ہے کہ خود پطرس کو جوشِ انتقام میں یہ آرزو تھی کہ کتا بنیں اور سارے کتوں پر بھونکیں ہی نہیں انہیں کاٹ بھی کھائیں چنانچہ اس آرزو کو انہوں نے ظاہر بھی کر دیا ہے۔ ”اگر خدا مجھے کچھ عرصے کے لئے اعلیٰ قسم کے بھونکنے اور کاٹنے کی طاقت عطا فرمائے تو جنونِ انتقام میرے پاس کافی مقدار میں موجود ہے رفتہ رفتہ سب کتے علاج کے لئے کسولی پہنچ جائیں“۔ جب یہ آرزو پوری نہ ہوئی تو جھنجھلا کر ان اشعار کی طرف توجہ کی جن میں کتوں کا ذکر آیا ہو چنانچہ سب سے پہلے عرفی کا ایک شعر ذہن میں آگیا پس پھر کیا تھا بے چارے عرفی کی شامت آگئی، لگے برسنے۔

    ایک شعر ہے:

عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کند رزقِ گدارا

    یہی وہ خلافِ فطرت شاعری ہے جو ایشیا کے لئے باعث ننگ ہے۔ انگریزی میں ایک مثال ہے کہ:
بھونکتے ہوئے کتے کاٹا نہیں کرتے
    یہ بجا سہی مگر کون جانتا ہے کہ ایک بھونکتا ہوا کتا کب بھونکنا بند کر دے اور کاٹنا شروع کر دے۔   انشاء پردازی یہی ہے کہ انشاء پرداز کو اتنی قوت حاصل ہو کہ ہر موضوع پر بے تکلف لکھ سکے اور شروع سے آخر تک اپنا رنگ بھی برقرار رکھے یہ بات پطرس میں پوری طرح موجود تھی۔ کتے جیسے حقیر، پامال اور پیش پا افتادہ موضوع پر اتنا جامع، شگفتہ اور رواں دواں مضمون لکھنا ان کا اور صرف ان کا ہی کام تھا ہر شخص اس میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
اردو کی آخری کتاب، یہ پیروڈی ہے اور اردو زبان کی سب سے پہلی پیروڈی ہے۔ آپ فرمائیں گے پہلی کس طرح ہوئی۔ پطرس سے پہلے بھی لوگوں نے پیروڈی لکھی ہے! سو اس کے متعلق میرا جواب یہ ہے کہ پیروڈی سمجھ کر، اور پیروڈی کے طور پر سب سے پہلے پطرس نے لکھا ہے، ورنہ یوں تو رتن ناتھ سرشار نے جو ”خدائی فوجدار“ ترجمہ کیا ہے وہ بھی پیروڈی ہے مگر سرشار نے اسے محض ایک مزاحیہ کتاب سمجھ کر ترجمہ کیا ہے۔ پیروڈی کی حیثیت سے انہوں نے بھی نہیں پیش کیا اور اگر پیش بھی کیا تو غیر کامال تھا جسے صرف ترجمہ کیا گیا خود سرشار نے کوئی پیروڈی نہیں لکھی اس کے بعد سجاد حسین نے حاجی بغلول میں مولویوں کا مذاق اڑایا او رمولانا محمد علی کے روزنامہٴ ہمدرد میں حاجی بغلول یا بلغ العلانام سے دو تین بزرگوں نے اسی طرح مولویوں کا مذاق اڑایا جسے آخر میں ملارموزی نے گلابی اردو بنا کر اپنا مستقل رنگ ہی بنا لیا تھا مگر یہ پیروڈی نہ تھی یہ مولویوں کا منہ چڑھاتے چڑھاتے خود ان لوگوں نے اپنا منہ ٹیڑھا کر لیا تھا اور خود انہیں خبر نہ تھی کہ :
لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
    بہرحال ان بزرگوں (حاجی بلغ العلا اور ملا رموزی) نے پیروڈی کا مفہوم ہی نہیں سمجھا تھا اور انہوں نے جو کچھ لکھا وہ پیروڈی سمجھ کر لکھا اور نہ حقیقت پر وہ پیروڈی تھی۔ پیروڈی کو سب سے پہلے پطرس نے اپنایا اور اردو میں پہلی کوشش پیروڈی کی جو کہ وہ اردو کی آخری کتاب ہے۔ پنجاب کے محکمہ تعلیم نے مولانا محمد حسین آزاد سے ایک سلسلہ اردو نصاب کا مرتب کرایا تھا جو سارے ہندوستان میں لاگو کر دیا گیا اس کی پہلی کتاب ہی میں ”ماں بچے کو گود میں لئے بیٹھی ہے“ تھا اس لئے بچہ اسے ”ماں بچوں کی کتاب“ کہتے تھے اور یہ نام ایسا پڑ گیا تھا کہ اس سلسلے ہی کو ”ماں بچوں“ کے نام سے مشہور کر دیا گیا اور ماں بچوں کی پہلی، ماں بچوں کی دوسری، ماں بچوں کی تیسری کتاب کہلانے لگی۔ ہمارے بچپن میں یہی سلسلہ شریکِ نصاب تھا اور پطرس نے بھی ابتداً اسی کو پڑھا ہے معلوم نہیں وہ کب سے اس کے متعلق سوچ رہے تھے آخر رہ نہ سکے اور انہوں نے یہ پیروڈی لکھ دی۔ اس پیروڈی کو دیکھتے وقت پطرس کے آگے اصلاحی پروگرام تھا نہ ہی تخریبی، صرف تفریحی مقصد پیش نظر تھا جو بڑی عمدگی سے پورا ہوا۔ یہ نہایت ہی مختصر تقریباً چالیس سطر کی پیروڈی ہے مگر پطرس نے جان ڈال دی ہے۔ ماں بچے کے سبق کا خاکہ انہوں نے اس طرح اڑایا ہے:
ماں کی مصیبت
    ماں بچے کو گود میں لئے بیٹھی ہے، باپ انگوٹھا چوس رہا ہےاور دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے، بچہ حسب معمول آنکھیں کھولے پڑا ہے۔ ماں محبت بھری نگاہوں سے اس کے منہ کو تک رہی ہے او رپیار سے حسب ذیل باتیں پوچھتی ہے:
۱۔ وہ دن کب آئے گا جب تو میٹھی میٹھی باتیں کرے گا۔
۲۔ بڑا کب ہوگا؟ مفصل لکھو۔
۳۔ دولہا کب بنے گا اور دلہن کب بیاہ کر لائے گا؟ اس میں شرمانے کی ضرورت نہیں۔
۴۔ ہم کب بڈھے ہوں گے؟
۵۔ تو کب کمائے گا؟
۶۔ آپ کب کھائےگا؟ اور ہمیں کب کھلائےگے؟ باقاعدہ ٹائم ٹیبل بنا کر واضح کرو۔

     بچہ مسکراتا ہے اور کلینڈر کی مختلف تاریخوں کی طرف اشارہ کرتا ہے تو ماں کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے جب ننھا سا ہونٹ نکال کر باقی چہرے سے رونی صورت بتاتا ہے تو یہ بے چین ہوجاتی ہے سامنے پنگوڑا لٹک رہا ہے۔ سلانا ہو تو افیم کھلا کر اس میں لٹا دیتی ہے۔ رات کو اپنے ساتھ سلاتی ہے (باپ کے ساتھ دوسرا بچہ سوتا ہے) جاگ اٹھتا ہے تو جھٹ چونک پڑتی ہے اور محلے ولوں سے معافی مانگتی ہے، کچی نیند میں رونے لگتا ہے تو بےچاری مامتا کی ماری آگ جلا کر دودھ کو ایک اور ابال دیتی ہے جب صبح بچہ کی آنکھ کھلتی ہے تو آپ بھی اُٹھ بیٹھتی ہے۔ اس وقت تین بجے کا عمل ہوتا ہے۔ دن چڑھے منہ دھلاتی ہے، آنکھوں میں کاجل لگاتی ہے او رجی کڑا کرکے کہتی ہے کیا چاند سا مکھڑا نکل آیا ہے۔ واہ وا“
    یہ تھا پہلا شہپارہ، اب دوسرا شہپارہ ملاحظہ فرمائیے یہ اس سبق کی پروڈی ہے جو ”کھانا پک رہا ہے“ نام سے ہے۔
کھانا خود پک رہا ہے
    دیکھنا بیوی آپ بیٹھی پکا رہی ہے ورنہ دراصل یہ کام میاں کا ہے، ہر چیز کیا قرینے سے رکھی ہے، دھوئے دھائے برتن صندوق پر چنے ہیں تاکہ صندوق نہ کھل سکے ایک طرف نیچے اوپر مٹی کے برتن دہرے ہیں کسی میں دال ہے کسی میں آٹا کسی میں چوہے، پھکنی اور پانی کا لوٹا پاس ہے۔ تاکہ جب چاہے آگ جلائے جب چاہے پانی ڈال کر بجھا دے۔ آٹا گندھا رکھا ہے چاول پک چکے ہیں نیچے اتار کر رکھے ہیں۔ دال چولہے پر چڑھی ہے غرض کہ سب کام ہو چکا ہے لیکن یہ پھر بھی پاس بیٹھی ہے۔ میاں جب آتا ہے کھانا لا کر سامنے رکھتی ہے، پیچھے کبھی نہیں رکھتی، کھا چکتا ہے تو کھانا اٹھا لیتی ہے، ہر روز یوں نہ کرے تو میاں کے سامنے ہزاروں کا بیوں کا ڈھیر لگ جائے۔ کھانا پکانے سے فارغ ہوتی ہے تو کبھی سینا لے بیٹھی ہے کبھی چرخہ کاتنے لگتی ہے کیوں نہ ہو مہاتما گاندھی کی بدولت یہ ساری باتیں سیکھی ہیں۔ آپ ہاتھ پاؤں نہ ہلائے تو ڈاکٹروں سے علاج کروانا پڑے۔
    یہ تھا دوسرا شہپارہ، تیسرا شہپارہ جس کا عنوان ”دھوبی کپڑے دھو رہا ہے“ تھا یوں خراد پر چڑھتا ہے۔
دھوبی آج کپڑے دھو رہا ہے
    بڑی محنت کرتا ہے شام کو بھٹی چڑھاتا ہے دن بھر بے کار بیٹھا رہتا ہے کبھی کبھی بیل پر لادی لادتا ہے اور گھاٹ کا راستہ لیتا ہے کبھی نالے پر دھوتا ہے کبھی دریا پر، تاکہ کپڑے والے کبھی پکڑ نہ سکیں۔ جاڑا ہو تو سردی ستاتی ہے گرمی ہو تو دھوپ جلاتی ہے صرف بہار کے موسم میں کام کرتا ہے۔ دوپہر ہونے کو آئی اب تک پانی میں کھڑا ہے۔ اسے ضرور سرسام ہوجائے گا۔ درخت کے نیچے بیل بندھا ہے جھاڑی کے پاس کتا بیٹھا ہے دریا کے اس پار ایک گلہری دوڑ رہی ہے دھوبی انہیں سے اپنا جی بہلاتا ہے۔ دیکھنا دھوبن روٹی لائی ہے، دھوبی کو بہانہ ہاتھ آیا، کپڑے پٹرے پر رکھ کر اس سے باتیں کرنے لگا، کتے نے بھی دیکھ کر کان کھڑے کئے اب دھوبن گانا گائے گی دھوبی دریا سے نکلے گا دریا کا پانی پھر نیچا ہوجائے گا۔ میاں دھوبی یہ کتا کیوں پال رکھا ہے؟ صاحب! کہاوت کی وجہ سے ۱ور پھر یہ تو ہمارا چوکیدار ہے دیکھئے امیروں کے کپڑے میدان میں پھیلے پڑے ہیں، کیا مجال کوئی پاس تو آجائے، لوگ ایک دفعہ کپڑے دے جائیں، پھر واپس نہیں لے سکتے۔ میاں دھوبی تمہارا کام بہت اچھا ہے میل کچیل سے پاک صاف کرتے ہو ننگا پھراتے ہو۔
اس پیروڈی کا پورا لطف اس وقت آئے گا جب آپ ”ماں بچوں کی کتاب“ سامنے رکھ لیں اور پھر ہر سبق کا اس سے مقابلہ کریں افسوس ہے کہ یہ کتاب اس وقت میرے پاس نہیں ہے ورنہ میں دونوں نقل کرتا۔
    اس (اردو کی پہلی کتاب) کو دیکھے زمانہ ہوگیا مگر پھر بھی بعض جملے ابھی تک ذہن میں ہیں۔ بڑی ہی نفیس پیروڈی لکھی ہے۔ یہ اردو میں پیروڈی نگاری کی کوشش تھی جو سو فیصد کامیاب رہی ہے۔ دوسری کوشش بھی پطرس ہی نے ”لاہور کا جغرافیہ“ کے عنوان سے کی ہے جو مضامین پطرس کا آخری مضمون ہے۔ اردو کی آخری کتاب سے زیادہ لمبی اور بڑی ہی نفیس ہے۔ پہلے آپ لاہور کا کوئی ایسا جغرافیہ لیجئے جو آج سے بیس سال پہلے وسطانی جماعتوں کے لئے لکھا گیا ہو پھر اس کو سامنے رکھ کر پطرس کی پیروڈی کا مطالعہ کیجئے۔
        ایک بڑی ہی بےساختہ تمہید کے بعد لکھا ہے: ”لاہور لاہور ہی ہے مگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہیں مل سکتا تو آپ کی تعلیم ناقص اور آپ کی ذہانت فاتر ہے۔“ محلِ وقوع بناتے ہوئے دو بڑی غلط فہمیاں رفع کی ہیں ایک یہ کہ ”لاہو رپنجاب میں واقع ہے لیکن پنجاب اب پنج آب نہیں رہا۔ اس پانچ دریاؤں کی سرزمین میں اب صرف ساڑھے چار دریا بہتے ہیں۔ اور جو نصف دریا ہے وہ تو اب بہنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ اسی کو اصطلاح میں راوی ضعیف کہتے ہیں، ملنے کا پتہ یہ ہے کہ شہر کے قریب دو پل بنے ہیں ان کے نیچے ریت ہے یہ دریا لیٹا رہتا ہے بہنے کا شغل عرصہ سے بند ہے اس لئے اب یہ بتانا مشکل ہے کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔“
    دوسری غلط فہمی اس طرح رفع کی ہے۔
    ”لاہور تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں دوان میں سے بہت مشہور ہیں۔ ایک پشاور سے آتا ہے اور دوسرا دہلی سے۔ وسط ایشیا کے حملہ آور پشاور کے رستے اور یوپی کے حملہ آور دہلی کے راستے وارد ہوتے ہیں ۔ اول الذکر اہل سیف کہلاتے ہیں اور غزنوی اور غوری تخلص کرتے ہیں۔ موخرالذکر اہل زبان کہلاتے ہیں یہی تخلص کرتے ہیں اور اس میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔“ حدود اربعہ جغرافیہ میں بڑی چیز ہے پطرس نے بڑی خوبی سے لاہور کے حدود اربعہ بیان کئے ہیں: ”کہتے ہیں کسی زمانے میں لاہور کا حدود اربعہ بھی ہوا کرتا تھا لیکن طلباء کی سہولت کے لئے میونسپلٹی نے اسے منسوخ کر دیا ہے اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے اور روز بروز واقع تر ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہوگا جس کا درالخلافہ پنجاب ہوگا“۔   آب وہوا میں پطرس نے جو ندرت پیدا کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے سنئے:
    ”لاہور کی آب وہوا کے متعلق طرح طرح کی روایات مشہور ہیں جو تقریباً سب کی سب غلط ہیں، حقیقت یہ ہے کہ لاہو رکی باشندوں نے حال ہی میں یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اور شہروں کی طرح ہمیں بھی آب وہوا دی جائے۔ میونسپلٹی بڑی بحث وتمحیص کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ اس ترقی کے دور میں جب کہ دنیا میں کئی ممالک کو ہوم رول مل رہا ہے اور لوگوں میں بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں اہل لاہور کی یہ خواہش ناجائز نہیں بلکہ ہمدردانہ غور وخوض کی مستحق ہے۔ لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے پاس ہوا کی قلت تھی، اس لئے لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ مفاد عامہ کے پیش نظر اہل شہر ہوا کابےجا استعمال نہ کریں بلکہ جہاں تک ہو سکے کفایت شعاری سے کام لیں چنانچہ اب لاہور میں عام ضروریات کے لئے ہوا کی بجائے گرد اور خاص خاص حالات میں دھواں استعمال کیا جاتا ہے۔ کمیٹی نے جا بجا دھوئیں اور گرد کے مہیا کرنے کے لئے مرکز کھول دیئے ہیں جہاں یہ مرکب مفت تقسیم ہوتا ہے۔“ آب رسانی کی جو تفصیل لکھی ہے وہ تو بس غصب کی ہے۔ ”پانی کا یہ انتظام کیا گیا ہے کہ فی الحال بارش کے پانی کو حتی الوسع شہر سے باہر نکلنے نہیں دیتے اس میں کمیٹی کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ تھوڑے ہی عرصے میں ہر محلے کا اپنا ایک دریا ہوگا جس میں رفتہ رفتہ مچھلیاں پیدا ہوں گی اور ہر مچھلی کے پیٹ میں کمیٹی کی ایک انگوٹھی ہوگی جو رائے دہندگی کے موقع پر ہر رائے دہندہ پہن کر آئے گا۔“ ”نظام سقے کے مسودات سے اس قدر ضرور ثابت ہوا ہے کہ پانی پہنچانے کے لئے نل ضروری ہیں چنانچہ کمیٹی نے کروڑوں روپے خرچ کرکے جا بجا نل لگوا دیئے ہیں فی الحال ان میں آکسیجن اور ہائیڈروجن بھری ہے لیکن ماہرین کی رائے ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ گیسیں ضرور مل کر پانی بن جائیں گی۔ چنانچہ بعض بعض نلوں میں اب بھی چند قطرے روزانہ ٹپکتے ہیں اہل شہر کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے اپنے گھڑے نلوں کے نیچے رکھ چھوڑیں تاکہ عین وقت پر تاخیر کی وجہ سے کسی کی دل شکنی نہ ہو، شہر کے لوگ اس پر بہت خوشیاں منا رہے ہیں“۔ ذرائع آمد ورفت جس عمدگی سے ظاہر کئے گئے ہیں وہ قابل دید ہیں۔
    ”جو سڑک بل کھاتی ہوئی لاہور کے بازاروں میں سے گزرتی ہے، تاریخی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ یہ وہی سڑک ہے جسے شیر شاہ سوری نے بنایا تھا۔ یہ آثارِ قدیمہ میں شمار ہوتی ہے اور بےحد احترام سے دیکھی جاتی ہے چنانچہ اس میں کسی قسم کا ردو بدل گوارا نہیں کیا جاتا۔ وہ قدیم تاریخی گڑھے اور خندقیں جوں کی توں موجود ہیں جنہوں نے کئی سلطنتوں کے تختے الٹ دیئے تھے آج کل بھی کئی لوگوں کے تختے یہاں الٹتے ہیں اور عظمتِ رفتہ کی یاد دلا کر انسان کو عبرت سکھاتے ہیں۔ بعض لوگ زیادہ عبرت پکڑنے کے لئے ان تختوں کے نیچے کہیں کہیں دو ایک پہیئے لگا لیتے ہیں اور سامنے دو ہک لگا کر اس میں ایک گھوڑا ٹانک دیتے ہیں اصطلاح میں اس کو تانگا کہتے ہیں۔ شوقین لوگ اس تختہ پر موم جا مہ منڈھ لیتے ہیں تاکہ پھسلنے میں سہولت ہو، اور بہت زیادہ عبرت پکڑی جائے۔ اصلی اور خالص گھوڑے لاہور میں خوراک کے کام آتے ہیں۔ قصابوں کی دکانوں پر ان ہی کا گوشت بکتا ہے اور زین کس کر کھایا جاتا ہے۔ تانگوں میں ان کی بجائے بناسپتی گھوڑے استعمال کئے جاتے ہیں، بناسپتی گھوڑا شکل وصورت میں دم دار تارے سے ملتا جلتا ہے کیونکہ اس گھوڑے کی ساخت میں دم زیادہ اور گھوڑا کم پایا جاتا ہے۔ حرکت کرتے وقت اپنی دم کو دبا لیتا ہے اور اس ضبط نفس سے اپنی رفتار میں ایک سنجیدہ اعتدال پیدا کرتا ہے تاکہ سڑک کا ہر تاریخی گڑھا اور تانگے کا ہر ہچکولا اپنا نقش آپ پر ثبت کرتا جائے۔ اور آپ کا ہر ایک مسام لطف اندوز ہوسکے“۔
    قابل دید مقامات بھی بڑے ہی لطیف ہیں یوں تو یہ سارا مضمون طنز ہی طنز ہے مگر یہ پارہ تو بڑا ہی گہرا طنز ہے، سنئے:
    ”لاہور میں قابل دید مقامات مشکل سے ملتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ لاہور میں ہر عمارت کی بیرونی دیوار دہری بنائی جاتی ہیں پہلے اینٹوں اور چونے سے دیوار کھڑی کرتےہیں او رپھر اس پر اشتہاروں کا پلستر کر دیا جاتا ہے جو دبازت میں رفتہ رفتہ بڑھتا ہی جاتا ہے، شروع شروع میں چھوٹے سائز کے مبہم اور غیر معروف اشتہارات چپکائے جاتے ہیں مثلاً اہل لاہور کو مژدہ، اچھا اور سستا مال، اس کے بعد ان اشتہاروں کی باری آتی ہے جن کے مخاطب اہل علم اور سخن فہم لوگ ہوتے ہیں مثلاً گریجویٹ درزی ہاؤس یا اسٹوڈنٹوں کے لئے نادر موقع یا کہتی ہے ہم کو خلقِ خدا غائبانہ کیا، رفتہ رفتہ گھر کی چار دیواری ایک مکمل ڈائریکٹری کی صورت اختیار کر لیتی ہے، دروازے کے اوپر بوٹ پالش کااشتہار ہے، دائیں طرف تازہ مکھن ملنے کا پتہ مندرج ہے۔ بائیں طرف حافظ کی گولیوں کا بیان ہے، اس کھڑکی کے اوپر انجمن خدام ملت کے جلسے کا پروگرام ہے، اس کھڑکی پر کسی مشہور لیڈر کے خانگی حالات بالوضاحت بیان کئے گئے ہیں، عقبی دیوار پرسرکس کے تمام جانوروں کی فہرست ہے اور اصطبل کے دروازے پر مس نغمہ جان کی تصویر اور ان کے فلم کے محاسن گنوا رکھے ہیں، یہ اشتہارات بڑی سرعت سے بدلتے رہتے ہیں اور ہر نیا مژدہ اور ہر نئی دریافت یا ایجادات یا انقلاب عظیم کی ابتلا چشم زون میں ہر ساکن چیز پر لیپ دی جاتی ہے اس لئے عمارتوں کی ظاہری صورت ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے اور ان کے پہچاننے میں خود شہر کے لوگوں کو بہت دقت پیش آتی ہے۔ لیکن جب سے لاہور میں دستور رائج ہوا ہے کہ بعض بعض اشتہاری کلمات پختہ سیاہی سے دیوار پر خود نقش کردئے جاتے ہیں یہ دقت بہت حد تک رفع ہوگئی ہے۔ ان دوامی اشتہاروں کی بدولت اب یہ خدشہ نہیں رہا کہ کوئی شخص اپنا یا اپنے کسی دوست کا مکان صرف اس لئے بھول جائے کہ پچھلی مرتبہ وہاں چارپائیوں کا اشتہار لگا ہوا تھا اور لوٹتے وقت وہاں اہلیانِ لاہور کو تازہ اور سستے جوتوں کا مژدہ سنایا جا رہا ہے چنانچہ اب وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ جہاں بحرف جلی ”محمد علی دندان ساز“ لکھا ہے وہ انقلاب کا دفتر ہے، جہاں ”بجلی پانی بھاپ کا بڑا اسپتال“ لکھا ہے وہاں ڈاکٹر اقبال رہتے ہیں ”خالص گھی کی مٹھائی“ امتیاز علی صاحب کا مکان ہے ”کرشنا بیوٹی کریم“ شالامار باغ“ کو اور ”کھانسی کا مجرب نسخہ“ جہانگیر کے مقبرے کو جاتا ہے۔
    صنعت وحرفت میں تو پطرس نے کمال کر دیا ہے لکھا ہے: ”اشتہاروں کے علاوہ لاہور کی سب سے بڑی صنعت رسالہ بازی اور سب سے بڑی حرفت انجمن سازی ہے۔ ہر رسالہ کا ہر نمبر عموماً خاص نمبر ہوتا ہے اور عام نمبر صرف خاص خاص موقعوں پر شائع کئے جاتے ہیں ”عام نمبر“ میں صرف ایڈیٹر کی تصویر اور خاص نمبروں میں مس سلوچنا اور مس کجن کی تصاویر بھی دی جاتی ہیں اس سے ادب کو بہت فروغ نصیب ہوتا ہے اور فنِ تنقید ترقی کرتا ہے۔ لاہور کے ہر مربع انچ میں ایک انجمن موجود ہے۔ پریزیڈنٹ البتہ تھوڑے ہیں اس لئے فی الحال صرف دو تین اصحاب ہی یہ اہم فرض ادا کر رہے ہیں چونکہ ان انجمنوں کے اغراض ومقاصد مختلف ہیں اس لئے بسا اوقات ایک ہی صدر صبح کسی مذہبی کانفرنس کا افتتاح کرتا ہے، سہ پہر کو کسی سینما کی انجمن میں نغمہ جان کا تعارف کراتا ہے اور شام کو کسی کرکٹ ٹیم کے ڈنر میں شریک ہوتا ہے۔ اس سے ان کا مطمع نظر وسیع ہوتا ہے تقریر عام طور پر ایسی ہوتی ہے جو تینوں موقعوں پر کام آسکتی ہے چنانچہ سامعین کو بہت سہولت رہتی ہے“۔
    پیداوار میں تو پطرس نے طنز کے پورے تیر ونشتر بڑے ہی زور وشور سے چلائے ہیں، لکھتے ہیں: ”لاہور کی سب سے بڑی پیداوار یہاں کے طلباء ہیں جو بہت کثرت ے پائے جاتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں دساور کو بھیجے جاتے ہیں۔ فصل شروع سرما میں بوئی جاتی ہے اور عموماً اواخر بہار میں پک کر تیار ہو جاتی ہے۔ طلباء کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے چند مشہور ہیں قسم اول جمالی کہلاتی ہے، یہ طلباء عام طور پر پہلے درزیوں کے ہاں تیار ہوتے ہیں، بعد ازاں دھوبی اور پھرنائی کے پاس بھیجے جاتے ہیں اور اس پر عمل کے بعد کسی ریستوران میں ان کی نمائش کی جاتی ہے غروب آفتاب کے بعد کسی سینما یا سینما کے گردو نواح میں۔

رُخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے

شمعیں کئی ہوتی ہیں لیکن سب کی تصویر ایک البم میں جمع کرکے اپنے پاس رکھ چھوڑتے ہیں اور تعطیلات میں ایک ایک خط لکھتے رہتے ہیں۔ دوسری قسم جلالی طلباء کی ہے۔ ان کاشجرہ جلال الدین اکبر سے ملتا ہے اس لئے ہندوستان کا تخت وتاج ان کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ شام کے وقت چند مصاحبوں کو ساتھ لئے نکلتے ہیں اور جو دوسخا کے خم لنڈھائے ہوئے پھرتے ہیں کالج کی خوراک انہیں راس نہیں آتی اس لئے ہوسٹل میں فروکش نہیں ہوتے۔ تیسری قسم خیالی طلباء کی ہے یہ اکثر روپ اور اخلاق اور آداگون اور جمہوریت پر باآواز بلند تبادلہ خیالات کرتے پائے جاتے ہیں۔آفرینش اور نفسیات جنسی کے متعلق نئے نئے نظرئیے پیش کرتے ہیں۔ جسمانی صحت کو ارتقائے انسانی کے لئے ضروری سمجھتے ہیں اس لئے علی الصباح پانچ چھ ڈنر پیلتے ہیں اور شام کو ہوسٹل کی چھت پرگہرے سانس لیتے ہیں گاتے ضرور ہیں لیکن اکثر بےسرے ہوتے ہیں۔ چوتھی قسم خالی طلباء کی ہے، یہ طلباء کی خالص ترین قسم ہے ان کا دامن کسی قسم کی آلائش سے تر ہونے نہیں پاتا۔ کتابیں، امتحانات، مطالعہ اور اس قسم کے خرخشے کبھی ان کی زندگی میں خلل انداز نہیں ہوتے جس معصومیت کو ساتھ لے کر کالج میں پہنچے تھے اسے آخر تک ملوث نہیں ہونے دیتے اور تعلیم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں میں اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح بتیس دانتوں میں زبان رہتی ہے۔ پچھلے چند سالوں سے طلباء کی ایک اور قسم دکھائی دینے لگی ہے لیکن ان کو اچھی طرح سے دیکھنے کے لئے محدب شیشے کا استعمال ضرور ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریل کا ٹکٹ نصف قیمت پر ملتا ہے اور اگر چاہیں تو اپنی انا کے ساتھ زنانے ڈبے میں بھی سفر کر سکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اب یونیورسٹی نے کالجوں پر شرط عائد کر دی ہے کہ آئندہ سے صرف وہی لوگ پروفیسر مقرر کئے جائیں جو دودھ پلانے والے جانوروں میں سے ہوں“۔ طبعی حالات میں کوئی خاص بات نہیں بتائی گئی صرف یہ لکھا گیا ہے کہ:”لاہور کے لوگ بڑے خوش طبع ہیں“۔
    البتہ سوالات بڑے ہی لطیف ہیں بسم الله آپ بھی ان کے جواب دیجئے!
۱۔ ”لاہور تمہیں کیوں پسند ہے؟ مفصل لکھو۔
۲۔ لاہور کس نے دریافت کیا اور کیوں؟ اس کے لئے سزا بھی تجویز کرو۔
۳۔ میونسپل کمیٹی کی شان میں ایک قصیدہ مدحیہ لکھو“۔
    لیجئے اس شان سے یہ طنزیہ شاہ کار ختم ہوتا ہے اس میں پیروڈی کا کمال طنز کی انتہا اور مزاج کا لطیف ترین پہلو موجود ہے پڑھئے اور مزے لیتے جائیے۔ کاش پطرس ایسے ہی دو چار مضامین اور لکھتے جو اردو ادب کی جان ہوتے۔ یہ دونوں مضامین ان کی جوانی کی امنگوں کے زمانہ کے ہیں بعد میں وہ اس قسم کے مضامین اگر چاہتے بھی تو لکھ نہ سکتے۔ ابتداً طنز ومزاح مجھے بھی پسند تھا اور میں نے بھی چند مضامین لکھے جن میں سے دو ایک مضمون پطرس نے بہت پسند کئے تھے مگر وہ مضامین بھی میں نے اسی عمر میں لکھے تھے جس عمر میں پطرس نے یہ مضامین لکھے ہیں۔ اس عمر کے بعد یعنی چہل سال عمر عزیز گزار کر میں نے پھر ویسے ہی مضامین لکھنے کی کوشش کی تو کامیاب نہ ہو سکی۔ مزاح نگاری او رطنز نویسی کا تعلق اپچ سے ہے جس شخص میں جتنی اپچ ہوگی وہ اتنا ہی بہترین مزاح نگار اور طنز نویس ہوگا مگر یہ اپچ عنفوانِ شباب سے شروع ہو کر تیس پینتیس برس کی عمر میں ختم ہوجاتی ہے اس کے بعد اس میں شک نہیں کہ خیالات میں پختگی طرزتحریر میں لوچ اور اپنا ایک اسلوب اور ڈھنگ الگ ضرور بن جاتا ہے مگر وہ جو چیز اپچ کہلاتی ہے باقی نہیں رہتی اب کہنے کو یوں کہہ لیجئے:

گھٹا زور مشقِ سخن بڑھ گئی
ضعیفی نے ہم کو جواں کر دیا

مگر حقیقت یہ ہے، کہ لطافتِ تحریر اور قلمی البیلا پن مفقود ہو جاتا ہے۔
    ”میں ایک میاں ہوں“ یہ سو فیصدی مزاحیہ مضمون ہے ممکن ہے اس میں تھوڑی بہت حقیقت بھی ہو یا پھر بالکل ہی فرضی ہو مگر ہے بڑا ہی لطیف مضمون، اس میں وہ تمام باتیں ہیں جو ایک شادی شدہ اور نئے شادی شدہ نوجوان کو پیش آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے ان سب دوستوں سے جلنے لگتی ہے جو زیادہ بے تکلف اور چہیتے ہوں کیونکہ اسے ایک قسم کی رقابت محسوس ہوتی ہے وہ یہ چاہتی ہے کہ ہر طرح صرف وہی اپنے شوہر کی توجہ کا مرکز بنی رہے کوئی اور شخص یا اشخاص اس میں حصہ دار نہ ہوں۔ یہ عورت کی فطرت ہے اس لئے یہ مطالبہ بالکل فطری ہے اس سے بچنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ عورت پر یہ ظاہر نہ ہونے دیا جائے کہ دوستوں سے آپ کو محبت ہے یا آپ کے دوست آپ سے محبت کرتے ہیں چنانچہ اسی چپقلش کو پطرس نے بڑے ہی معصومانہ انداز میں بیان کر دیا ہے چونکہ

ذکر روشن آرا کا اور پھر بیاں اپنا

ہے اسی لئے شوخی بھی پیدا ہوگئی ہے۔مجرد شخص کی جب شادی ہوتی ہے تو اسے ابتداً اپنی زندگی میں تبدیلی دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے مگر رفتہ رفتہ یہ حالت زائل ہوجاتی ہے اور پھر وہ وہی تنہائی اور بےلگامی پسند کرنے لگتا ہے چنانچہ اس متاہلانہ زندگی میں کوئی وقفہ بیوی سے تھوڑی بہت عارضی دوری کا مل جائے تو فوراً خوش ہوجاتا ہے اور بڑی مسرت کا اظہار کرنے لگتا ہے مگر صرف چند گھنٹوں تک، اس کے بعد پھر ردعمل شروع ہوتا ہے اور تنہائی بری طرح ستانے لگتی ہے چنانچہ پطرس نے بھی اسی تجربے کو بڑی ہی سادگی سے لکھ دیا ہے، وہ بیوی کے جانے کے بعد جتنے خوش تھے ایک رات گزرتے ہی اتنے ہی مغموم ہوگئے اور نہ صرف مغموم ہوئے بلکہ بیوی کو تار تک دے دیا کہ ”فوراً آجاؤ“۔ گھر خالی ہو اور بے تکلف احباب جمع ہوجائیں تو جوانی میں بالکل یہی کیفیت ہوتی ہے جو تاش کھیلنے میں پطرس کی ہوئی چنانچہ چور بنے ہوئے چلم بدست کلاہ کاغذی برسررو سیاہی کے عالم میں بیوی نے دیکھ لیا۔ اس کے بعد کی کیفیت پطرس ہی سے سنئے: ”روح منجمد ہوگئی اور تمام حواس نے جواب دے دیا روشن آرا کچھ دیر تو چپکی کھڑی دیکھتی رہی اور پھر کہنے لگی… لیکن میں کیا بتاؤں کہ کیا کہنے لگی؟ اس کی آواز تو میرے کانوں تک جیسے بےہوشی کے عالم میں پہنچ رہی تھی۔“ اس کے بعد پطرس نے صفائی پیش کی ہے مگر یہ حصہ وہ نہ لکھتے ہی تو بہتر تھا اس خاتمے پر ہی قاری سب کچھ سمجھ لیتا دیکھ لیتا پالیتا سوچ لیتا اور محسوس کر لیتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ مضمون بڑا ہی نفیس ہے یہ کلاہ کاغذی جس کے سر پر رکھ دیجئے بغلول بن جاتا ہے۔ صاحبِ ذوق جوانوں میں اسی فیصدی ایسے نظر آئیں گے جن پر اس قسم کے حادثات گزر چکے ہیں مگر دس فیصدی بھی اتنے صاحبِ کردار نظر نہ آئیں گے جو ڈنکے کی چوٹ پر ان حادثات کا ذکر کر سکیں اور اگر وہ ایک ہمت کر بھی لیں تو انہیں اسلوب نگارش نصیب نہ ہوسکے گا۔ بہ ظاہر ایک سیدھا سادھا واقعہ بیان کر دینا کوئی بات نہیں مگر اس عمدگی اس تسلسل اس ہم آہنگی اس روانی میں اس ڈٹھائی اس صفائی اس شوخے اور شستگی اس خوب صورت اس نفاست اور ندرت اور اس ہمت سے لکھنا کمال ہے اور یہ کمال پطرس میں بدرجہٴ اتم موجود تھا۔
    ”مرید پور کا مرید“ یہ مضمون پطرس نے معلوم نہیں کسی ایک شخص کو سامنے رکھ کر لکھا ہے یا کئی ایک اشخاص کو کیونکہ یہ بعض خاص خاص لوگوں کی چغلی کھاتا ہے ممکن ہے محض قیاس اور فرضی ہو مگر بڑی اچھی چیز، بیشتر حضرات اس قسم سے بن چکے ہیں۔ چنانچہ میں بھی ذاتی طور پر مرید پور کے کئی ایک پیروں سے واقف ہوں جو لیڈر بنتے بنتے رہ گئے اور رہے بھی تو ایسے کہ کہیں کے نہ رہے۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔ ایسے ہی ایک بزرگ کا واقعہ اس میں موجود ہے چونکہ کسی اور کا نام لینا اپنی عافیت میں خلل ڈال لینا تھا اس لئے پطرس نے اپنے آپ ہی کو مرید پور کا پیر بنا کر پیش کیا ہے۔ مگر آپ باور کیجئے کہ پطرس میں لیڈر پن کا کوئی حوصلہ نہ تھا اور نہ وہ اتنے بدذوق تھے کہ یکمشت لیڈر بننے کو تیار ہوجاتے  ان کے بےتکلف دوست بتا سکتے ہیں کہ اس خاکے میں کس کی مٹی پلید کی گئی ہے، کاش سالک صاحب اس پر روشنی ڈالیں اور مرید پور کے پیر کو بےنقاب کریں۔ ایک جاہل اور سیاسیات سے ناواقف شخض لیڈر بننے کے لئے کس طرح کوشاں رہتا ہے اور لیڈری کی تیاری کس طرح کرتا ہے یہ مضمون آپ کو ساری تفصیل سمجھا دے گا اب اگر اسے پڑھ کر آپ بھی لیڈری فرمانے لگیں تو بسم الله!
    ”انجام بخیر“ یہ مال کچھ غیر کا معلوم ہوتا ہے مگر پطرس نے اس عمدگی سے اپنایا ہے کہ داد نہیں دی جا سکتی اسے آپ چاہے مکالمہ کہیں یا ایک ایکٹ کا ڈرامہ یا فکاہیہ جو بھی ہے بڑی عمدہ چیز ہے۔
    ”سینما کا عشق“ بقول پطرس اس مضمون کا عنوان ہوس خیز ہے مگر اس کے پڑھنے کے بعد ”تمام توقعات مجروح“ ہوجاتی ہیں کیونکہ اس میں پطرس نے کچھ دل کے داغ دکھائے ہیں۔ دراصل یہ ہجونامہ پطرس کے دوست مرزا کا اور ان کا کردار پیش کرکے پطرس نے اپنا غصہ فرو کیا ہے ایسے دوست اکثر ہوتے ہیں اور ان سے نباہنا ہی پڑتا ہے اس لئے یہ سب کہٹنائیاں اس دوستی میں جھیلنی پڑتی ہیں۔ شریف لوگ اپنے دوست احباب کو تفریح کے وقت ساتھ لیجاتے ہیں چنانچہ پطرس نے بھی ایسی ہی طبیعت پائی ہے جو جب بھی سینما دیکھنا چاہتے ہیں مرزا کو ساتھ لے جاتے ہیں اور مرزا اپنی کاہلی کی وجہ سے وقت پر چلتے ہی نہیں او رپھر سینما دیر سے پہنچنے کے بعد جو اذیتیں ہوتی ہیں ان کا بعینہ تفصیل پطرس نے لکھی ہے۔ یہ باتیں اس وقت کی ہیں جب کہ بولتے فلم شروع نہیں ہوئے تھے، ساکت فلم تھے۔ ایسے فلموں میں درمیان میں یعنی فلم شروع ہونے کے بعد پہنچنا ہی فضول ہوتا تھا کیونکہ ان کا سمجھا اور کڑیاں ملانا مشکل ہوجاتا تھا۔ صرف اس قدر سمجھ سکتے تھے کہ ایک مرد اور ایک عورت جو پردے پر بغل گیر نظر آتے ہیں ایک دوسرے کو چاہتے ہوں گے ظاہر ہے کہ وقت اور روپیہ خراب کرکے صرف اتنی سی بات معلوم کرنے سینما پہنچنا تو نہایت ہی دیوانہ پن ہے اسی بات پر پطرس کو غصہ آتا ہے اور وہ دل کی بھڑاس اس مضمون میں نکال لیتے ہیں۔ یہ مضمون اپنی روانی، تسلسل کے لحاظ سے بڑا ہی یکساں، تیکھا اور مزے دار ہے اس میں انسانی جھنجھلاہٹ کے سارے پہلو نمایاں کئے گئے ہیں اور سینما دیکھنے والوں کی حرکات پر بڑا ہی لطیف طنز کیا گیا ہے۔ یہ طنز جتنا گہرا ہے اتنا ہی لطیف اور اسی قدر واقعاتی ہے جسے لوگ صرف واقعات کا اظہار سمجھ کر بھی پڑھ لیتے ہیں اور صاحبانِ بصیرت اس سے عبرت بھی حاصل کرتے ہیں اور اہل دل اس کے طنز سے لطف اٹھاتے ہیں۔
    ”مرحوم کی یاد میں“ یہ کسی کا مرثیہ نہیں ہے اور نہ اس میں کسی واقعی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے بلکہ یہ بھی پطرس کے دوست مرزا کی ایک سادہ لوحی کا نقشِ جمیل ہے۔ قصہ یہ ہے کہ ایک روز پطرس کو اپنی ”پیدل زندگی“ پر کوفت ہونے لگی۔ اور انہوں نے مرزا سے گفتگو کی تو مرزا نے عجیب وغریب رویہ کا اظہار کیا اور اس پر بگڑ کر انہوں نے موٹر کی خریداری کا ارادہ ظاہر کیا اور مرزا نے سنجیدگی سے موٹر کی قیمت ادائیگی کے متعلق گفتگو شروع کر دی بالاخر موٹر کی بجائے ساٴیکل کی خریداری طے ہوئی تو مرزا نے اپنی سائیکل پیش کی کہ بلا قیمت لے لو، مگر پطرس کو بلاقیمت ساٴیکل قبول کرنے سے انکار رہا اور انہوں نے مبلغ چالیس روپے ساٴیکل کی قیمت کے طور پر مرزا کی جیب میں ڈال دیئے اور رات ہی میں مرزا نے سائیکل بھیجوا دی جسے صبح پطرس نے دیکھا تو خوشی خوشی اس پر سوار ہو کر سیر کو چلے۔ یہ سائیکل اولین تخلیقات میں سے تھی جو از کار رفتہ ہوگئی تھی اب اس پر چڑھ کر کیا حال ہوا اس کی تفصیل پطرس نے جس چابک دستی سے لکھی ہے وہ انہیں کا اور صرف انہیں کا حصہ تھا۔ اسی طرح کا ایک مضمون یا مضمون میں اسی طرح کا ایک پارہ سجاد حیدر یلدم نے بھی آج سے پچاس سال پہلے لکھا ہے اور اس کے پورے پچیس سال بعد پطرس نے لکھا ہے مگر جو بات پطرس نے پیدا کی ہے وہ سجاد حیدر کو نصیب نہ ہوسکی تھی۔ اس مضمون میں کوئی لفظ ایسا نہیں جو بےہودہ ہو، کوئی عبارت ایسی نہیں ہے جو مضحکہ خیز ہو، صرف سائیکل پر سواری کرنے کی تفصیل بڑے ہی معصومانہ اور سیدھے سادھے الفاظ میں ہے جو کمال ہے پطرس کی انشا پروازی کا، ناممکن ہے کہ کوئی شخص پڑھے اور مارے ہنسی کے بے چین نہ ہوجائے پطرس کے مزاحیہ مضامین میں یہ شاہکار ہے جو نہ صرف بےساختہ ہے بلکہ بڑی ہی فنکاری سے لکھا گیا ہے کیونکہ اس ساٴیکل سے گر کر پیچ وتاب کھاتے ہوئے اسے لے جا کر دریا میں ڈال آتے ہیں اس لئے اسے مرحوم فرض کیا ہے اور اس قصہ کو مرحوم کی یاد سے تعبیر کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی لطیف طنز ومزاح کا آمیزہ ہے۔ اس مضمون میں پطرس نے سماجیات، ثقافت، تہذیب، تمدن، روز مرہ زندگی اور فطرت انسانی کے بڑے بڑے نکتے حل کر دیئے ہیں، تمہید میں لکھا ہے: ”جب دوستی پرانی ہوجائے تو گفتگو کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔ اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں“۔ دیکھئے نفسیات کا کتنا پیچیدہ مسئلہ اس نکتے نے حل کر دیا۔ اس کے بعد ہی کمیونسٹ ذہنیت کا نقشہ کس لطافت سے کھینچا ہے:”میری طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میں جب کبھی کسی کی موٹر کار کو دیکھوں مجھے زمانہ کی ناسازگاری کا خیال ضرور ستانے لگتا ہے اور میں کوئی ایسی ترکیب سوچنے لگتا ہوں جس سے دنیا کی تمام دولت سب انسانوں میں برابر برابر تقسیم کی جاسکے۔ اگر میں سڑک پر پیدل جا رہا ہوں اور کوئی موٹر اس ادا سے گزر جائے کہ گردوغبار میرے پھیپھڑوں، میرے دماغ، میرے معدے اور میری تلی تک پہنچ جائے تو اس دن میں گھر آکر علم کیمیا کی وہ کتاب نکال لیتا ہوں جو میں نے ایف اے میں پڑھی تھی اور اس غرض سے مطالعہ کرنے لگتا ہوں کہ شاید بم بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ آجائے۔“
    فرمائیے اس سے بہتر تشریح کمیونسٹ ذہنیت کی کوئی کرسکتا ہے اور اس سے بہتر طنز کہیں آپ نے سنی ہے؟ پیدل روی اور انسانی پیدل زندگی سے متعلق پطرس کی بین جب مرزا پر اثر نہیں کرتی تو پطرس ان سے یوں انتقام لیتے ہیں: ”میں نے اپنے دانت پچی کر لئے اور اور کرسی کے بازو پر سے جھک کر مرزا کے قریب پہنچ گیا۔ مرزا نے بھی سر میری طرف موڑ دیا میں مسکرا دیا لیکن میری تبسم میں زہر ملا ہوا تھا جب مرزا سننے کے لئے بالکل تیار ہوگیا تو میں نے چبا چبا کر کہا“۔ آپ جانتے ہیں پطرس نے مرزا سے کیا کہا صرف اتنا کہ ”مرزا میں ایک موٹر کار خریدنے لگا ہوں“۔ اور پھر اس کی توضیح وتشریح بھی، الفاظ واشارات سے کی مگر مرزا بھی ایسا خرانٹ تھا کہ ٹس سے مس نہ ہوا بلکہ اس نے ”ہوں“ پر ٹرخا دیا اور مسلسل ہوں کی رٹ لگا دی جس سے پطرس بگڑ گئے اور! ”میں نے کہا مرزا جہاں تک مجھے معلوم ہے تم نے اسکول اور کالج اور گھر پر دو دو تین تین زبانیں سیکھی ہیں اور اس کے علاوہ تمہیں کئی ایسے الفاظ بھی آتے ہیں جو کسی اسکول یا کالج یا شریف گھرانے میں نہیں بولے جاتے پھر بھی اس وقت تمہارا کلام ”ہوں“ سے آگے نہیں بڑھتا، تم جلتے ہو مرزا اس وقت تمہاری جو ذہنی کیفیت ہے اس کو عربی زبان میں حسد کہتے ہیں“۔ مگر مرزا نے بڑی دکھتی رگ پکڑی پوچھا۔ ”تم نے کہا تھا میں ایک موٹر خریدنے لگا ہوں تو میاں صاحبزادے خریدنا تو ایک ایسا فعل ہے کہ اس کے لئے روپے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے وغیرہ کا بندوبست تو بخوبی ہوجائے گا لیکن روپے کا بندوبست کیسے کرو گے؟“ اس کے بعد پطرس نے اپنی قیمتی اشیاء بیچ کر موٹر کی قیمت جمع کرنی چاہی مثلاً سگریٹ کیس وغیرہ مگر یہ قیمتی اشیاء بہت ہی کم قیمت ثابت ہونے لگیں مجبوراً اس خیال کو ترک کر دینا پڑا مگر مرزا نے حق دوستی ادا کر دیا اور اپنی ساٴیکل مفت دینے کی پیش کش کی۔ اس پیش کش سے پطرس کو کتنی مسرت ہوئی، ان الفاظ سے ظاہر ہے: ”ایسے موقع پر جو ہنسی میں ہنستا ہوں اس میں معصوم بچے کی مسرت، جوانی کی خوش دلی، ابلتے ہوئے فواروں کی موسیقی اور بلبلوں کا نغمہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں اور اس طرح ہنسا کہ کھلی ہوئی باچھیں بھی گھنٹوں تک اپنی اصل جگہ واپس نہ آئیں“۔ اس کے بعد بڑی دیر تک ردو قدح ہوتی رہی۔ پطرس مفت لینے کو تیار نہ تھے اور مرزا مفت دینے کے خواہشمند تھے بالآخر یہ طے ہوا کہ پطرس رقم مرزا کی جیب میں ڈال دیں گے چنانچہ انہوں نے اپنے خزانے کا جائزہ لیا تو چالیس روپے ملے جن میں سے چالیس انہوں نے مرزا کی جیب میں ڈال دئیے اور مرزا چلتے بنے۔ صبح اُٹھے تو معلوم ہوا کہ مرزا نے رات ہی کو سائیکل بھجوا دی تھی اور ایک اوزار بھی ساتھ ہی بھجوا دیا تھا۔ یہ سائیکل کیسی تھی پطرس ہی سے سنئے: ”رفتہ رفتہ میں اس چیز کے قریب آیا جس کو میرا نوکر بائیسکل بتا رہا تھا۔ اس کے مختلف پرزوں پر غور کیا تو اتنا ثابت ہوگیا کہ بائیسکل ہے لیکن مجمل ہئیت سے یہ صاف ظاہر تھا کہ مل اور راہٹ اور چرخہ اور اسی طرح کی اور جدید ایجادات سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ پہیئے کو گھما گھما کر وہ سوراخ تلاش کیا جہاں کسی زمانے میں تیل دیا جاتا تھا لیکن اب اس سوراخ میں سے آمدروفت کا سلسلہ بند تھا“۔ اس آلہٴ ناکارہ پر جسے مرزا نے سائیکل بتایا تھا اور پطرس بھی سائیکل ہی سمجھ رہے تھے، پطرس سوار ہوئے اور تماشا بنے ہوئے گھومتے رہے بالآخر تنگ ہو کر ایک مستری کی دکان پر پہنچے تو اس نے درستی کی اجرت چالیس روپے مانگی۔ انہوں نے پوری مشین درست نہیں کرائی صرف ہینڈل اور سیٹ  گدے اونچی کرکے کس دی اور دو آنے پیسے دے کر جانے لگے تو مستری نے کہا۔ ”میں نے کس تو دیا ہے لیکن پیچ سب گھسے ہوئے ہیں ابھی تھوڑی دیر میں پھر ڈھیلے ہوجائیں گے۔“ اس پر پطرس نے ڈانٹا: ”بدتمیز کہیں کا، تو دو آنے پیسے مفت میں لے لئے؟“ مستری بند کیوں ہوتا ہے اس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا: ”جناب! آپ کو بائیسکل بھی تو مفت میں ملی ہوگی، یہ آپ کے دوست مرزا صاحب کی ہے نا؟… اور یہ وہی بائیسکل ہے، جو پچھلے سال مرزا صاحب یہاں بیچنے لائے تھے، پہچانی تم نے؟ بھئی صدیاں ہی گزر گئیں لیکن اس بائیسکل کی خطا معاف ہونے میں نہیں آتی۔“ یہ سن کر پطرس بگڑے کہ”واہ مرزا صاحب کے لڑکے اس پر کالج آیا جایا کرتے تھے اور ان کو ابھی کالج چھوڑے دو سال بھی نہیں ہوئے“۔ مگر مستری نے تڑ سے جواب دیا: ”ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن مرزا صاحب خود جب کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے پاس بھی تو یہی سائیکل تھی۔“
    اس بات چیت سے اندازہ کر لیجئے کہ سودا نے گھوڑے کی ہجو میں جو یہ کہا تھا کہ آدم اسی پر سوار ہو کر جنت سے نکل آئے تھے اسی طرح یہ بائیسکل بھی وہی تھی جو موجد نے پہلے پہل تخلیق کی تھی۔ اس طرح مستری سے نپٹ کر پطرس نے اس مشین کو فروخت کر دینا ہی مناسب سمجھا چنانچہ ایک دکان دار کو دکھایا تو اس نے بڑی رد وقدح کے بعد تین روپے قیمت لگائی یہ سن کر پطرس کا خون کھول اٹھا اور انہوں نے غصہ سے کہا:”او صنعت وحرفت سے پیٹ پالنے والے نچلے طبقے کے انسان مجھے اپنی توہین کی پروا نہیں لیکن تو نے اپنی بےہودہ گفتاری سے اس بےجان چیز کو جو صدمہ پہنچایا ہے اس کے لئے تجھے قیامت تک معاف نہیں کرسکتا۔“ اسی غصے میں وہ اچک کر ساٴیکل پر سوار ہوگئے اور لگے اندھا دھند پاؤں چلانے مگر بہ مشکل بیس قدم گئے ہوں گے کہ ایک پہیہ ہی الگ ہوگیا اور حضرت گرے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ سائیکل کا باقی ماندہ حصہ اور علیحدہ شدہ پہیہ ہاتھ میں لئے وہاں سے رفو چکر ہوجاتے چنانچہ ایسا ہی کیا مگر راستہ والوں  کے فقرے، پھبتیاں  جب برداشت نہ ہو سکے تو یہ بوجھ اٹھائے ہوئے سیدھے دریا پر پہنچے اور پل پر کھڑے ہو کر یہ کھڑاک غرق کر دیا اور پھر مرزا کے گھر پہنچ کر اس اوزار کو جسے مرزا نے سائیکل کے ساتھ بھجوایا تھا یہ کہہ کر نذر کر دیا کہ: ”مرزا صاحب آپ ہی اس اوزار سے شوق فرمایا کیجئے۔ میں اب اس سے بےنیاز ہوچکا ہوں“۔ پھر وہاں سے گھر آکر علم کیمیا کی اس کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا جو ایف اے میں پڑھی تھی ”معلوم نہیں اس مطالعے سے بم بنانے کا نسخہ معلوم کرنا تھا یا خودکشی کے لئے زہر کا انتخاب مقصود تھا۔ بہرحال صرف اتنی سرگذشت ساٴیکل کی تھی۔
    ”میبل اور میں“ یہ ایک افسانہ اور طنزیہ افسانہ ہے۔ مرد عام طور پر نیک اور سادہ لوح واقع ہوا ہے وہ ہمیشہ عورت کو نیک اور معصوم سمجھتا ہے اور پھر اگر تعلیم یافتہ ہو اور عورت یورپ کی ہو تو اس کی نیک نیتی اور سادہ لوحی اور بڑھ جاتی ہے چنانچہ ایسا ہی معاملہ میبل سے ہوا ہے۔ عورت ہمیشہ مرد کو دھوکہ دیتی ہے اور شرماتی نہیں مگر مرد کسی عورت کو کبھی دھوکا دیتا ہے تو مارے شرم کے پانی پانی ہوجاتا ہے چنانچہ یہی اس افسانے کا ماحصل ہے۔ شکر کہ یہ عقیدہ پطرس پر میبل کی وجہ سے عنفوانِ شباب ہی میں حل ہوگیا جس کی وجہ سے وہ آئندہ زندگی خصوصاً آخری زندگی میں محفوظ اور مطمئن رہے ورنہ بڑے پریشان ہوتے۔

    بس یہ کائنات ہے پطرس کے مضامین کی اتنے ہی مضامین ان کے مجموعہ میں ہیں۔ ان مضامین کے علاوہ ان کی طالب علمی کے زمانے کے چند اور م