کاغذی روپیہ |
|
خواجہ علی احمد شہر کے بڑے سوداگر تھے۔ لاکھوں کا کاروبار چلتا تھا۔ لوگوں میں
عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ بچہ بچہ ان کی دیانت داری سے واقف تھا اور ہر شخص
جانتا تھا کہ خواجہ علی احمد قول کے سچے او ربات کے پکے ہیں۔
ایک دن انہوں نے اپنے ایک آدمی کو جوتے والے کی دکان سے جوتا خریدنے بھیجا۔ جوتے کی
قیمت بیس روپے تھی لیکن بجائے اس کے کہ خواجہ علی احمد اپنے نوکر کو بیس روپے دے کر
بھیجتے، انہوں نے نوکر کے ہاتھ کریم خاں جوتے والے کے نام ایک رقعہ لکھا:
”میاں کریم خاں! مہربانی کرکے ہمارے آدمی کو بیس روپے کا ایک جوتا دے دو، ہمارا یہ رقعہ اپنے پاس سنبھال کے رکھ چھوڑو۔ جب تمہارا دل چاہے۔ یہ رقعہ آکے ہم کو یا ہمارے منشی کو دکھا دینا اور بیس روپے لے جانا۔ یہ رقعہ اگر تم کسی اور شخص کو دینا چاہو تو بےشک دے دو، جو ہمارے پاس لائے گا ہم اس کو بیس روپے دے دیں گے۔ راقم خواجہ علی احمد“۔ دکان دار نے جب رقعے کے نیچے خواجہ علی احمد کا دستخط دیکھا تو اسے اطمینان ہوا۔ جانتا تھا کہ خواجہ صاحب مکرنے والے آدمی نہیں اور پھر لاکھوں کے آدمی ہیں۔ روپے نہیں بھیجے تو نہ سہی۔ یہ رقعہ کیا روپوں سے کم ہے؟ جب چاہوں گا، رقعہ جا کر دے دوں گا اور روپیہ لے لوں گا، چنانچہ اس نے بغیر تامل کے جوتا بھیج دیا۔ تھوڑی دیر بعد کریم خاں دوکان دار کے پاس عبدالله حلوائی آیا اور کہنے لگا۔ ”میاں کریم خاں! میرے تمہارے طرف پچیس روپے نکلتے ہیں۔ ادا کر دو تو تمہاری مہربانی ہوگی۔ کریم خاں نے کہا۔ ”ابھی لو۔ یہ پانچ تو نقد لے لو۔ باقی بیس روپے مجھے خواجہ علی احمد سے لینے ہیں یہ دیکھو، ان کا رقعہ ذر ٹھہر جاؤ، تو میں جاکے ان سے بیس روپے لے آؤں۔ عبدالله بھی خواجہ علی احمد کو اچھی طرح جانتا تھا کیونکہ شہر بھر میں خواجہ صاحب کی ساکھ قائم تھی کہنے لگے۔ تم یہ رقعہ مجھے ہی کیوں نہ دے دو میں ان سے بیس روپے لے آؤں گا کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ جو شخص یہ رقعہ لائے گا اس کو بیس روپے دے دیئے جائیں گے“۔ کریم خان نے کہا۔ ”یونہی سہی“۔ چنانچہ عبدالله حلوائی نے بیس روپے کے بدلے وہ رقعہ قبول کرلیا۔ کئی دنوں تک یہ رقعہ یونہی ایک دوسرے کے ہاتھ میں پہنچ کر شہر بھر میں گھومتا رہا۔ خواجہ علی احمد پر لوگوں کو اس قدر اعتبار تھا کہ ہر ایک اسی رقعے کو بیس روپے کے بجائے لینا قبول کرلیتا کیونکہ ہر شخص جانتا تھا کہ جب چاہوں گا اسے خواجہ صاحب کے منشی کے پاس لے جاؤں گا اور وہاں سے بیس روپے وصول کرلوں گا۔ ہوتے ہوتے یہ رقعہ ایک ایسے شخص کے پاس پہنچ گیا جس کا بھائی کسی دوسرے شہر میں رہتا تھا۔ یہ شخص اپنے بھائی کو منی آرڈر کے ذریعے بیس روپے بھیجنا چاہتا تھا۔ ڈاک خانے والوں نے اس رقعہ کے بیس روپے کے عوض میں لینا قبول نہ کیا۔ چنانچہ وہ شخص سیدھا خواجہ احمد علی کی کوٹھی پر پہنچا۔ رقعہ منشی کو دیا۔ منشی نے بیس روپے کھن کھن گن دیئے۔ اس نے روپے جا کر ڈاک خانے والوں کو دیئے اور انہوں نے آگے اس کے بھائی کو بھیج دیئے۔ اس مثال سے یہ ظاہر ہوا کہ محض ایک کاغذ کا پرزہ کتنی مدت تک روپے کا کام دیتا رہا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کاغذ کے نیچے ایک ایسے شخص کے دستخط تھے جس کی دیانت داری پر سب کو بھروسہ تھا۔ اور جس کی دولت کا سب کو علم تھا۔ سب جانتے تھے کہ یہ شخض جب چاہے بیس روپے ادا کرسکتا ہے۔ اور قول کا اتنا پکا کہ کبھی ادا کرنے سے انکار نہ کرے گا۔ اگر ایسے ہی ایک رقعے کے نیچے ہم یا تم دستخط کر دیتے تو کوئی بھی اسے روپے کے بدلے میں قبول نہ کرتا۔ اول تو ہمیں جانتا ہی کون ہے اور جو جانتا بھی ہے وہ کہے گا کہ ان کا کیا پتہ۔ آدمی نیک اور شریف اور دیانت دار سہی، لیکن خدا جانے ان کے پاس بیس روپے ہیں بھی یا نہیں؟ کیا معلوم یہ مانگنے جائیں اور وہاں کوڑی بھی نہ ہو۔ خواجہ احمد کا رقعہ گویا ایک قسم کا نوٹ تھا۔ سرکاری نوٹ بھی بالکل یہی چیز ہوتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ان کے نیچے سرکار کی طرف سے سرکاری خزانے کے ایک افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔ اگر تم دس روپے کے نوٹ کو لے کر دیکھو تو اس پر اوپر حکومت پاکستان اور اس کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ ”میں اقرار کرتا ہوں کہ عندالمطالبہ حامل ہذا کو دس روپیہ سرکاری خزانہ کراچی سے ادا کروں گا“۔ اس عبارت کے نیچے سرکاری افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔ خواجہ احمد علی کو تو صرف ایک شہر کے لوگ جانتے تھے۔ حکومت پاکستان کو ملک کا ہر آدمی جانتا ہے۔ بلکہ اور ملکوں میں بھی اس کی ساکھ قائم ہے اس لئے سرکاری نوٹ کو ہر شخص بلا تامل قبول کرلیتا ہے۔ اور کوئی قبول کیوں نہ کرے۔ لوگ جانتے ہیں کہ جب چاہیں خزانے میں جا کر اس کے روپے بھنا سکتے ہیں۔ خواجہ علی احمد کے رقعے اور سرکاری نوٹ میں ایک فرق اور بھی ہے۔ خواجہ علی حسن کا رقعہ تو ڈاک خانہ والوں نے قبول نہ کیا تھا لیکن سرکاری نوٹ انہیں ضرور ہی قبول کرنا پڑتا۔ سرکاری نوٹوں کو قانونی طور پر ملک کا سکہ قرار دیا گیا ہے اور کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان کو روپے کے بدلے لینے سے انکار کرے۔ اگر تمہیں کسی شخص نے دس چاندی کے روپے قرض دیئے تھے اور اب اس کو یہ قرضہ اتارنے کے لئے دس روپے کا نوٹ دیتے ہو تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تو چاندی کے روپے ہی لوں گا۔ اسے دس کا نوٹ ضرور لینا پڑے گا۔ روپیہ ایسا ہونا چاہیئے کہ آسانی سے پاس رکھا جا سکے۔ چاندی کے سکوں میں یہ خوبی ایک حد تک پائی جاتی ہے۔ تاہم چاندی کے سکے وزنی ہوتے ہیں۔ اسی روپے کا وزن سیر بھر ہوجاتا ہے تو جہاں پانچ چھ سو روپے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا ہوں، وہاں اچھی خاصی دقت پیش آتی ہے۔نوٹوں سے یہ دقت رفع ہوجاتی ہے۔ ہزاروں روپے کے نوٹ ایک جیب میں آسانی سے ڈالے جا سکتے ہیں۔ نوٹوں کے جاری کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ باوجود ان سب باتوں کے جس شخص کے پاس بہت سا روپیہ ہو۔ اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ بہت سے نوٹ، کچھ روپے چونیاں، دونیاں یہ سب کچھ اپنے پاس سنبھال رکھئے۔ ایک تو سنبھالنے کی تکلیف، دوسرے چوری کا خطرہ، اس لئے بہتر یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنا سب روپیہ بنک میں رکھوا دے۔ بنک میں روپیہ امانت کے طور پر رہتا ہے۔ روپے کا مالک جب چاہے اس کو نکلوا سکتا ہے یا جس کو چاہے اپنے حصے کا روپیہ دلوا سکتا ہے کسی اور کو اپنے حصے کا روپیہ دلوانے کی ترکیب یہ ہے کہ اس کو چک لکھ کر دے دیا جائے۔ ہم یہاں چک کے معنوں کو واضح طور پر بیان کرنا چاہتے ہیں۔ فرض کرو، عبدالله نے بنک میں بہت سا روپیہ جمع کر رکھا ہے۔ کریم خاں اس سے دس روپے مانگنے آتا ہے۔ عبدالله بجائے اس کے کہ کریم خاں کو دس روپے نقد دے، وہ اسے دس روپے کا چک لکھ دیتا ہے۔ چک گویا ایک قسم کا رقعہ ہے۔ جو عبدالله کریم خان کی معرفت اپنے بنک کو بھیج رہا ہے۔ چک پر مفصلہ ذیل الفاظ لکھے ہوتے ہیں: بنام فلاں بنک کریم خاں کو دس روپے دے دو۔ راقم عبدالله کریم خاں کی بجائے عبدالله اگر کسی اور کا نام لکھ دے تو جس کا نام لکھے گا اسی کو روپے ملیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کریم خاں دس روپوں کی بجائے یہ دس روپے کا چک کیوں قبول کرلیتا ہے؟ اس لئے کہ اسے عبدالله پر اعتبار ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بنک میں ضرور عبدالله کا روپیہ جمع ہوگا۔ میں جب یہ چک لے جاؤں گا مجھے روپیہ مل جائے گا۔ اب فرض کرو کہ کریم خاں وہ چک لے کر عبدالله کے بنک میں گیا۔ اور کہا کہ مجھے اس چیک کا روپیہ ادا کر دو۔ بنک والوں نے عبدالله کا حساب دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہاں تو کل تین روپے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ چک ادا نہیں کرسکتے۔ چنانچہ وہ انکار کر دیں گے اور کریم خاں کا عبدالله پر اعتبار باقی نہ رہے گا۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بنک والے عبدالله کو جانتے ہیں۔ مدت سے اس کا حساب کھلا ہوا ہے وہ کہتے ہیں بنک میں تو عبدالله کے تین روپے ہیں، مگر چلو فی الحال ہم باقی کے ساتھ روپے اپنے پاس سے دے دیتے ہیں اور عبدالله کی لاج رکھ لیتے ہیں ہم یہ سات روپے پھر اس سے لے لیں گے لیکن عام طور پر ایسا کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ لوگوں کا جتنا روپیہ بنک میں ہوتا ہے اس کے اندر اندر ہی چک دیتے ہیں اور کم ہی ایسا موقعہ پیش آتا ہے کہ بنک چک ادا کرنے سے انکار کر دے۔ اگر کریم خاں نے خود بھی کسی بنک میں حساب کھول رکھا ہے تو یہ ضروری نہیں کہ عبدالله کا چک لے کر خود عبدالله کے بنک میں جائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح وہ اپنا روپیہ بنک میں جمع ہونے کے لئے بھجوا دیتا ہے۔ اسی طرح یہ چک بھی بھجوا دے۔ اس کے بنک والے خود ہی عبدالله کے بنک سے اس چک کا روپیہ وصول کرلیں گے۔ یہ دس روپے کی رقم کریم خاں کے حساب میں جمع کر دی جائے گی۔ اور عبدالله کے حساب میں خرچ کی آمد میں چڑھا دی جائے گی۔ اسی طرح سے یہ سہولت ہوئی کہ عبدالله اور کریم خاں دونوں کا روپیہ اپنے اپنے بنک میں محفوظ پڑا ہے۔ نہ تو عبدالله کو روپیہ ادا کرتے وقت نہ کریم خاں کو وصول کرتے وقت بنک جانا پڑا۔ اور روپیہ ایک کے حساب میں سے نکل کر دوسرے کے حساب میں جمع بھی ہوگیا۔ یہ سب کچھ ایک چک کی بدولت ظہور میں آیا۔ یہاں ہم نے صرف ”کاغذی روپے“ کی دو قسموں کا ذکر کیا ہے، ایک سرکاری نوٹ اور دوسرے چک، ان کے علاوہ اور بھی کاغذات ایسے ہیں جن کے ذریعے سے بڑی بڑی رقمیں یہاں سے دور دراز ملکوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ (بچوں کے لئے) (خیابانِ اردو) * * * |
نوع انسان کی کہانی |
|
دنیا کی ابتدا
ہماری ہستی ایک بہت بڑا گورکھ دھندا ہے۔ ہم کون ہیں؟ ہم کہاں سے آئے ہیں؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ان سوالات کا جواب افق سے بھی پرے کہیں اور ہمارا انتظار کر رہا ہے اور ہم بہت ہی آہستہ آہستہ لیکن بڑے استقلال اور ہمت کے ساتھ اس کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ لیکن ابھی ہم کچھ بھی مسافت طے نہیں کی! ابھی ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ ابھی ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ تاہم اتنا کچھ جان گئے ہیں کہ اپنے علم کی بدولت کئی اور باتیں بہت حد تک بوجھنے کے قابل ہوگئے ہیں اس باب میں، میں تمہیں یہ بتاؤں گا کہ ظہور انسان سے پہلے جہاں تک ہمیں معلوم ہے دنیا کا کیا حال تھا! اگر ہم یہ اندازہ لگائیں کہ کرہٴ زمین پر جان دار اشیاء کا وجود کتنے عرصہ سے ممکن ہے اور مدت کو اس لکیر سے ظاہر کریں کہ جو ننھی سی لکیر اس کے نیچے کھینچی گئی ہے وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ انسان یا انسان کی طرح کی مخلوق یہاں کتنے عرصہ سے رہتی ہے۔ انسان سب آخر میں آیا لیکن عقل کے ذریعے قدرت کی طاقتوں کو تسخیر سب سے پہلے کیا۔ اسی لئے ہم بلیوں یا کتوں یا گھوڑوں یا دوسرے جانوروں کی بجائے انسان ہی کی تاریخ کا مطالعہ کریں گے گو اپنی اپنی جگہ ہر ایک کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے۔ یہ کرئہ ارض جس پر ہم آباد ہیں شروع شروع میں شعلہ بار مادے کا ایک بہت بڑا گولہ تھا جو فضا کے ناپیدا کنار سمندر میں دھوئیں کے ایک ننھے سے بادل کی مانند اڑ رہا تھا۔ رفتہ رفتہ کئی سال بعد جب زمین کی سطح جل چکی تو اس پر چٹانوں کی ایک ہلکی سی تہہ نمودار ہوئی ان بنجر چٹانوں پر موسلا دھار مینہ برسا سخت پتر بارش کے پانی میں تحلیل ہوگئے۔ اور گدلا پانی وادیوں میں بہہ نکلا جو گرم گرم زمین کی اونچی اونچی پہاڑیوں کے درمیان چھپی ہوئی تھی۔ آخر ایک ایسا زمانہ آیا جب سورج نے بادلوں میں اپنا چہرہ نکالا اور دیکھا کہ اس ننھے سے کرے کی سطح پر پانی نے چند تالاب سے بن گئے ہیں یہی تالاب بعد میں مشرقی او رمغربی نصف کروّں کے عظیم الشان سمندر بن گئے۔ پھر ایک دن ایک حیرت انگیز معجزہ ظہور میں آیا بے جان دنیا نے جان دار چیزوں کو جنم دیا۔ پہلا جان دار ذرہ سمندر کی سطح پر نمودار ہوا۔ کئی سال تک یہ ذرہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتا رہا۔ اس عرصے میں رفتہ رفتہ زمین کے ناموافق حالات سے مانوس ہوتا گیا اور بالآخر زندگی کی مشکلات پر قابو پالیا۔ بعض ذرے ایسے بھی تھے جو جھیلوں اور جوہڑوں کی تاریک گہرائیوں ہی میں خوش رہتے تھے بہت سی مٹی اور کیچڑ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بہہ کر نیچے آگئی تھی اس میں جڑیں پکڑ لی اور پودے بن گئے بعض نے کسی جگہ ٹھہرنا پسند نہ کیا یونہی ادھر ادھر گھومتے رہے۔ ان کے جسم میں سے بچھوؤں کی سی عجیب وغریب جوڑ دار ٹانگیں نمودار ہوئیں۔ اور وہ سمندر کی تہ میں پودوں اور ان سبزی مائل لوتھڑوں کے درمیان جو جیلی مچھلیوں سے مشابہ تھے رینگنے لگے۔ بعض چھلکوں والے ذرے ایسے بھی تھے جنہیں خواراک کی تلاش میں ادھر ادھر تیرنا پڑا ان کی بدولت سمندر رفتہ رفتہ کروڑوں مچھلیوں سے آباد ہوگیا۔ اس عرصے میں پودوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ انہیں رہنے کے لئے نئی نئی جگہیں تلاش کرنی پڑیں۔ صوعاً وکراہاً پانی کو الوداع کہا اور پہاڑوں کے دامن میں کیچڑ اور دلدلوں کے اندر سکونت اختیار کر لی۔ دن میں دو دفعہ جو ار بھاٹے کی وجہ سے نمکین سمندر کی لہروں سے ہم آغوش ہوتے۔ لیکن ساتھ تمام وقت بڑی بے چینی سے کاٹتے اور رقیق ہوا میں جو زمین کی سطح کو لپٹی ہوئی تھی۔ زندہ رہنے کی کوشش کرتے کئی صدیوں کی تربیت کے بعد اس قابل ہوئے کہ جس طرح پہلے پانی میں رہتے تھے۔ اسی آسانی کے ساتھ اب ہوا میں رہنے لگے۔ بڑے ہوئے تو جھاڑیاں اور درخت بنے اور آخر کار خوب صورت پھول پیدا کرنا سیکھا۔ جب پھول اُگے تو بھنورے آکر رس چوسنے لگے۔ پرندے دور دور تک بیج اڑا کر لے گئے یہاں تک کہ سب زمین پر سبزے نے اپنی بسات بچھا دی۔ او ربڑے بڑے درختوں نے اپنے سائبان پھیلا دیئے۔ بعض مچھلیوں نے بھی سمندر سے باہر قدم رکھا اور گلپھڑوں کے بجائے پھیپھڑوں سے سانس لینا سیکھا۔ ایسے جانوروں کو خاکابی کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ دو خشکی اور تری دونوں جگہ آسانی سے زندگی رہ سکتے ہیں کسی میڈنگ سے پوچھو تو وہ تمہیں بتائے گا کہ خاکابی جانور کس مزے سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ جب ایک دفعہ پانی سے باہر نکل آئے تو یہ جانور رفتہ رفتہ خشکی ہی کے ہو رہے بعض نے رینگنا سیکھا اور سنسان جنگلوں میں کیڑے مکوڑوں کے ساتھ رہنے لگے۔ نرم نرم زمین پر تیزی سے جلنے کی خواہش پیدا ہوئی تو رفتہ رفتہ ٹانگیں بڑی ہوگئیں۔ ساتھ ہی جسامت بھی بہت بڑھ گئی۔ چنانچہ دنیا بڑے جانوروں سے آباد ہوگئی۔ علم حیوانات کی کتابوں میں اختیا سورس (Iehthyosaurus) میگلاسورس (Megalosaurus) اور برانتو سورس (Brantosaurus) نامی جانوروں کا ذکر آتا ہے جو تیس تیس چالیس چالیس فٹ لمبے تھے اور ہاتھیوں سے اس طرح کھیل سکتے تھے جس طرح بلی اپنے بچوں سے کھیلتی ہے۔ ان رینگنے والے جانوروں میں سے بعض جانور درختوں پر جا چڑھے اور وہیں رہنے لگے (درخت ان دنوں سب سے زیادہ اونچے نہ تھے) چنانچہ پھرنا موقوف ہوگیا تو ٹانگوں کی بھی ضرورت نہ رہی لیکن ایک شاخ سے دوسری شاخ تک پھرتی سے حرکت کرنے کے لئے اپنی جلد کی جھلی سی بنائی اور اسے اگلے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان اس ٹانگ سے اس ٹانگ تک پتنگ کی طرح پھیلا لیا۔ پھر اس جھلی پر پر لگائے دم سے مڑنے تڑنے کا کام لیا۔ ڈال ڈال اڑنے لگے اور سچ مچ کے پرندے بن گئے۔ اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ بڑے عظیم الحبثہ رینگنے والے جانور سب کے سب مر گئے اس کا سبب آج تک معلوم نہیں ہوسکا شاید آب وہوا یک لخت تبدیل ہوگئی۔ یا شاید بھوک کے مارے مرگئے کیونکہ بہت ممکن ہے وہ اتنے بڑے ہوگئے ہوں کہ نہ تیرنے کے قابل رہے ہوں نہ چلنے کے نہ رینگنے کے اور بڑے بڑے پودے اور درخت سامنے دکھائی دے رہے ہوں لیکن وہ ان تک پہنچ نہ سکتے ہوں بہرحال بڑے بڑے رینگنے والے جانور دس لاکھ سال تک اس دنیا پر مسلط رہے او رپھر یہاں سے چل بسے۔ ان کی جگہ بالکل ہی مختلف جانوروں نے لے لی۔ یہ اولاد تو انہی رینگنے والے جانوروں کی تھی لیکن ان میں بڑا فرق یہ تھا کہ اپنے بچوں کو چھاتیوں کا دودھ پلاتے اس لئے انہیں دودھ پلانے والے جانوروں نے بعض ایسی عادات سیکھ لیں جن کی بدولت ان کی نسل کو باقی تمام جانوروں پر فوقیت حاصل ہوگئی۔ جب تک بچے پیدا نہ ہو جاتے مادہ اپنے انڈے جسم کے اندر ہی اٹھائے اٹھائے پھرتی۔ باقی سب جانور تو اپنے بچوں کو گرمی اور سردی کے رحم پر چھوڑ دیتے لیکن دودھ پلانے والے جانور بہت مدت تک اپنے بچوں کے ساتھ رکھتے۔ اور جب تک وہ طاقت ور ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ ہو جائیں خود ان کی حفاظت کرتے۔ اس طرح دودھ پلانے والے جانوروں کے بچے کئی باتیں اپنی ماں سے سیکھ لیتے اور زیادہ آسانی سے زندہ رہ سکتے۔ کسی بلی کو دیکھو کس طرح بچوں کو اپنی حفاظت کرنا اور منہ دھونا اور چوہے پکڑنا سکھاتی ہے۔ لیکن ان دودھ پلانے والے جانوروں کے حالات بہت تفصیل کے ساتھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ تم انہیں اچھی طرح جانتے ہو وہ تمہارے ارد گرد ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ بازار میں اور گھر پر وہ تمہارے ساتھ رہتے ہیں و رجو اتنے عام نہیں انہیں تم چڑیا خانے میں جا کر دیکھ سکتے ہو۔ ان بے شمار بے زبان جانورں میں سے ایک جانور نے باقی سب سے الگ اپنے لئے ایک رستہ نکالا۔ عقل وشعور سے کام لیا اور اس کی بدولت زندگی کی کشمکش میں اپنی نسل کی رہنمائی کی۔ یہ جانور ”انسان “ کہلایا۔ تھا تو یہ بھی دودھ پلانے والا جانور لیکن خوراک مہیا کرنے اور جان بچانے میں سب سے ہوشیار تھا۔ پہلے اگلی ٹانگوں سے شکار پکڑنے کی عادت ڈالی۔ ہوتے ہوتے پنجے کی شکل ہاتھ کی سی بن گئی۔ پھر بے انتہا کوششوں کے بعد پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا سیکھا۔ (یہ کرتب اب بھی کچھ ایسا آسان نہیں۔ انسان دس لاکھ سال سے اس کا عادی ہے پھر بھی بچے کو یہ از سر نو سیکھنا پڑتا ہے۔) یہ جانور دیکھنے میں کچھ بندر، کچھ بن مانس سے ملتا جلتا تھا لیکن ذہانت میں دونوں سے بڑھ کر تھا۔ شکار میں کوئی اس کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا ہر قسم کی آب وہوا میں رہ سکتا تھا۔ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتا تو حفاظت کی خاطر ہم جنسوں کی ایک ٹولی بنا کر سفر کرتا۔ بچوں کو خطرے سے آگاہ کرنے کے لئے عجیب وغریب آوازیں نکالتا۔ کئی لاکھ سال بعد انہیں آوازوں سے گفتگو کرنا سیکھا۔ تمہیں یقین تو مشکل سے آئے گا۔ ہم تو سب اسی جانور کی اولاد ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔ وہ سچ جو کبھی جھوٹ نہ ہوگا میں انسانی زندگی کی الجھنوں پر جس قدر غور کرتا ہوں اتنا ہی مجھ پر روشن تر ہوتا جاتا ہے کہ جس طرح قدیم مصر کے لوگ بخشش اور نجات کے لئے آئیس اور نیفتیس کا دامن پکڑتے تھے اسی طرح ہمیں اپنی مشکات کے حل کے لئے طنز اور رحم کا دامن پکڑنا پڑتا ہے۔ طنز اور رحم سے بڑھ کر کوئی چیز ہماری مشکل کشا نہیں ہو سکی۔ طنز سے زندگی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے اور رحم اپنے آنسوؤں سے زندگی کو مقدس بناتا ہے۔ جس طنز کو میں اپنا دیوتا بنانا چاہتا ہوں وہ کوئی منگدل دیوتا نہیں۔ وہ محبت اور حسن کا مضحکہ نہیں اڑاتا وہ حلیم اور مہربان دیوتا ہے اس کا تبسم دشمنوں کو بھی دوست بنا لیتا ہے اور وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ احمقوں اور ظالموں پر ہنسو ان سے نفرت مت کرو۔ کیونکہ یہ کمزوری کی نشانی ہے۔ ایک بہت بڑے فرانسیسی کے ان دانش مندرانہ الفاظ پرمیں اس کتاب کو ختم کرتا ہوں اور رخصت چاہتا ہوں۔ خدا حافظ۔ ماخوذ از کتاب ”نوع انسان کی کہانی“ مصنفہ ہنڈرک فان لون مترجم پطرس * * * |
بچے کا پہلا سال |
|
ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگ بچے کی عمر کے پہلے سال کو تعلیم
کے دائرے سے خارج سمجھتے تھے۔ جب تک بچہ کم از کم بولنا شروع نہ کرتا۔ اسے صرف ماں
یا دایہ کی زیر نگرانی رکھا جاتا تھا۔ اور یہ فرض کرلیا جاتا تھا کہ وہ فطرتاً ہی
بچے کے نیک وبد کو ایسی اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ انہیں سکھانے کی ضرورت نہیں لیکن فی
الحقیقت لوگوں کا یہ خیال غلط تھا۔ اکثر بچے سال بھر کے بھی نہ ہونے پاتے کہ مرجاتے
اور زندہ رہتے ان میں سے کئی ایک کی صحت ہمیشہ کے لئے خراب ہوجاتی۔ غلط تربیت کی
وجہ سے خطرناک ذہنی عادات کی بنیاد پہلے ہی پڑجاتی۔ یہ حقیقت ہمیں حال ہی میں معلوم
ہوئی ہے۔
دراصل بات یہ ہے کہ اکثر لوگ شیر خوار بچوں کی پرورش کے معاملے میں سائنس کا دخل پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ اس سے ماں کی مامتا اور بچے کے لاڈلے پن کا جو دلاویز تصور ان کے ذہن میں موجود ہے اسے صدمہ پہنچتا ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اندھا دھند محبت اور لاڈ پیار اور چیزیں ہیں۔ اصل محبت اور چیز ہے جن والدین کو اپنے بچوں سے سچی اور اصلی محبت ہے وہ ان کی تربیت کے لئے سائنس کے اصولوں پر عمل کرنے سے نہیں گھبراتے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ضرررساں قسم کی محبت ان ہی لوگوں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ جن کے کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ یا جو (روسو کی مانند) اپنے بچوں کو کسی یتیم خانہ کے حوالے کر دینا چاہتے ہیں اکثر تعلیم یافتہ والدین سائنس کی معلومات سے متنفر ہونے کی بجائے استفادہ کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان پڑھ لوگوں میں بھی سائنس کا چرچا روزبروز بڑھتا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بچوں کی اموات روزبروزکم ہوتی جاتی ہے، اگر لوگ پوری احتیاط سے کام لیں تو نہ صرف اموات کی تعداد اور بھی کم ہوجائے گی بلکہ جو بچے زندہ رہیں گے ان کی دماغی اور جسمانی حالت بہتر ہوگی۔ جسمانی صحت کے ماہر ڈاکٹر لوگ ہیں وہی ان مسائل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسائل اس کتاب کے دائرے سے خارج ہیں لیکن ہم یہاں جسمانی صحت کے مسائل پر اسی حد تک بحث کریں گے جس حد تک اس کا تعلق ذہنی یا نفسیاتی زندگی سے ہے۔ اور ان پر اس وقت بحث کرنا یوں ضروری ہے کہ اول تو عمر کے پہلے سال میں جسمانی زندگی اور ذہنی زندگی میں تمیز کرنا مشکل ہوتا ہے دوسرے اگر شروع میں بچے کے جسم کا کماحقہ خیال نہ رکھا جائے تو چند ایسے نقائص کے پیدا ہونے کا احتمال رہتا ہے جو بڑے ہو کر تعلیم کے رستے میں حارج ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ہر چند کہ جسمانی صحت پر بحث کرنا ڈاکٹروں ہی کا حصہ ہے تاہم اس موقعے پر ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے متعلق کچھ عرض کریں۔ نوزائیدہ بچہ کسی چیز کا عادی نہیں ہوتا۔ اس کی تمام حرکات کسی عادت کی وجہ سے نہیں بلکہ اضطراراً سرزد ہوتی ہیں اگر ماں کے پیٹ میں اس نے بعض عادتیں اختیار کرلیں ہیں تو وہ کم از کم ایسی نہیں کہ پیدا ہونے کے بعدبھی اس کے کام آسکیں۔ یہاں تک کہ سانس لینا بھی اسے پیدائش کے بعد سیکھنا پڑتا ہے۔ اور بعض بچے تو مر ہی اسی لئے جاتے ہیں کہ تنفس کا عمل دیر میں سیکھتے ہیں۔ ایک زبردست خواہش بچہ فطرت کی طرف سے اپنے ساتھ لاتا ہے اور وہ چوسنے کی خواہش ہے جب تک بچہ اس عمل میں مصروف رہے بہت خوش رہتا ہے۔ باقی تمام وقت وہ ایک تحیر کے عالم میں گزارتا ہے جس سے یوں نجات حاصل ہوتی ہے کہ دن اور رات کا بیشتر حصہ نیند میں گزرجاتا ہے۔ پندرہ دن کے بعد یہ حالت بدل جاتی ہے۔ اور بعض باتیں (مثلاً دودھ پینا وغیرہ) تواتر کے ساتھ ظہور میں آنے لگتی ہیں۔ اس لئے بچہ ان باتوں کا متوقع رہتا ہے یعنی یوں کہئے کہ اب وہ بعض چیزوں کا عادی ہوجاتا ہے اور جن باتوں کا عادی ہو انہیں کو پسند کرتا ہے گویا قدامت پسند بن جاتا ہے۔ اور قدامت پسند بھی ایسا کہ اغلباً پھر عمر بھر ایسا نہیں ہوتا۔ ہر نئی چیز اسے ناپسند ہوتی ہے اگر بچہ اس عمر میں بولنے کے قابل ہوتا تو بڑے بوڑھوں کی طرح اپنی پسندیدگی کا اظہار ان الفاظ میں کرتا کہ میاں جانے دو اس عمر میں اب ہم بھلا نئی نئی باتیں کیونکر سیکھ سکتے ہیں۔ تاہم شیر خوار بچے نئی عادتیں بہت جلد اختیار کرلیتے ہیں۔ اس دوران میں اگر کوئی بری عادت سیکھ لیں تو وہ بعد میں اچھی تربیت کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے، اس ليے شیرخواری کے زمانے کی عادات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیئے اگر شروع شروع کی عادات اچھی ہوں تو بہت سہولت ہوتی ہے علاوہ برآں شیر خوارگی کے زمانے کی عادت اتنی راسخ ہوتی ہے کہ بڑے ہو کر وہ بالکل جبلت معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے اعمال پر اس کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے جو عادات بعد میں سیکھی جائیں ان میں یہ پختگی کبھی نہیں ہوتی۔ اس لئے زمانہ طفلی کی عادات خاص طور پر توجہ کی مستحق ہیں۔ اس سلسلے میں دو باتیں پیش نظر رکھنی چاہیں۔ اول اور سب سے مقدم صحت، دوم سیرت، ہم چاہتے ہیں کہ بچہ بڑا ہو کر ایک ایسا انسان ثابت ہو جس کے اوصاف پسندیدہ ہوں اور جو اپنے گردوپیش سے بوجہ احسن عہدہ برآ ہوسکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ صحت اور سیرت دونوں کے مطالبات ایک ہیں۔ جو چیز ایک کے لئے مفید ہے وہی دوسرے کے لئے مفید ہے۔ یہاں بحث سیرت سے ہے لیکن جو اصول ہم سیرت کی بہتری کے لئے وضع کریں گے۔ وہی صحت کے لئے بھی مفید ہیں گویا یہ نہیں ہوسکتا کہ بچہ تنومند تو ہو لیکن اس کے اخلاق برے ہوں یا نیک سیرت تو ہو لیکن اس کا جسم امراض کا شکار ہو۔ آج کل ہر تعلیم یافتہ ماں جانتی ہے کہ صرف مقررہ اوقات پر دودھ پلانا چاہئے اس سے بچے کا ہاضمہ درست رہتا ہے۔ یہ بجائے خود ایک نہایت معقول وجہ ہے لیکن اس کے علاوہ اخلاقی نقطہ نظر سے بھی یہ بہت مفید ہے۔ شیرخوار بچہ اتنا بےعقل نہیں ہوتا جتنا ہم اسے سمجھتے ہیں اسے ایک دفعہ یقین ہوجائے کہ رونے سے مطلب نکل آتا ہے تو وہ ضرور روتا ہے لیکن جب بڑا ہوکر اسی عادت کے زیر اثر ہر وقت رونی صورت بنا کر لوگوں کے گلے شکوے کرتا ہے تو لوگ اسے چمکارنے کی بجائے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں لوگوں کا یہ سلوک اسے ازحد ناگوار گزرتا ہے۔ اور وہ دنیا کو خودغرضی اور ہمدردی کے جذبے سے معرا سمجھ لیتا ہے۔ اگر لڑکی ہو اور بڑی ہو کر خدا اسے حسین بنا دے تو بےجا توجہات اور بےجا خاطر مدارت کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور یہ نقص اور بھی مستحکم ہوجاتا ہے۔ یہی حال دولت مند لڑکوں کا ہوتا ہے کہ بچپن میں بگڑجاتے ہیں تو پھر تمام عمر بگڑتے چلے جاتے ہیں جس شخص کی پرورش شیرخوارگی کے زمانے میں غلط طریقے پر ہو وہ بڑا ہو کر اگر ذی اقتدار ہے تو ضدی اور حریص ہوتا ہے اور اگر بےبضاعت ہے تو لوگوں کی مفروضہ بےتوجہی سے کڑھتا رہتا ہے اس لئے اخلاقی تعلیم روز اول ہی سے شروع کردینی چاہئے تاکہ نہ غلط توقعات پیدا ہوں۔ نہ بعد میں انہیں مجروح ہونا پڑے۔ اگر شروع میں اس کا تدارک نہ کیا جائے تو بعد میں بچے کی خواہشات کو ٹھکرانے سے اس کے دل میں غصے اور رنج کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ گویا بچے کی تربیت اس طرح کرنی چاہیئے کہ نہ تو اسے لاڈ پیار اور چاؤ چونچلوں سے بگاڑا جائے نہ اس کی طرف سے بالکل ہی بےتوجہی برتی جائے مثلاً جو بات صحت کے لئے ضروری ہے اس میں کوتاہی نہ کرنی چاہئے۔ بچے کو ہوا اور بارش سے تکلیف پہنچ رہی ہو تو اسے اٹھا لینا چاہئے تاکہ اسے سردی نہ لگے اور وہ بھیگ نہ جائے لیکن اگر بچہ بغیر کسی جسمانی تکلیف کے رونا شروع کر دے تو اسے رونے دینا چاہئے ورنہ وہ بےجا خدمت کرانے کا عادی ہوجائے گا۔ جب اس کی دیکھ بھال کی جائے تو بہت زیادہ چاؤ اور اہتمام کرنا فضول بلکہ مضر ہے جو بات مناسب ہو وہ کردینی چاہئے اور ضرورت سے زیادہ پیار محبت اور ہمدردی کا اظہار نہ کرنا چاہئے۔ بچوں کی پرورش چاؤ چونچلوں سے نہیں بلکہ متانت اور سنجیدگی سے کرنی چاہئے گویا وہ بچہ نہیں بلکہ بڑی عمر کا انسان ہے۔ بچوں میں بڑوں کی سی عادتیں تو پیدا نہیں ہوسکتیں۔ لیکن ہمیں یہ خیال ضرور رکھنا چاہئے کہ کوئی ایسی بات نہ ہونے پائے جو ان کی عادات کے رستے میں رکاوٹ ثابت ہو۔ مدعایہ کہ بچہ مزاج دار نہ بن جائے۔ ورنہ بعد میں اسے سخت مایوسی کا سامنا ہوگا اور یوں دیکھئے تو وہ خود بھی اس قابل نہیں کہ اس میں اس قدر اہمیت کا احساس پیدا کیا جائے۔ بچوں کی پرورش میں سب سے مشکل بات یہ ہے کہ والدین کو غفلت اور لاڈ کے بین بین رہنا پڑتا ہے بچے کی صحت کو درست رکھنے کے لئے ہر وقت اس کی نگہداشت کرنی پڑتی ہے۔ اور اس کی خاطر بڑی بڑی مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ والدین کو بچے سے بہت زیادہ الفت ہو لیکن مصیبت یہ ہے کہ جہاں والدین کو محبت زیادہ ہوتی ہے وہاں اکثر ان کی عقل پر پردہ پڑجاتا ہے۔ جن والدین کو اپنے بچوں سے بہت محبت ہے۔ ان کے نزدیک اولاد کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے اگر احتیاط نہ برتی جائے تو بچہ بھی اس بات کو محسوس کرنے لگتا ہے اور جتنا اہم اسے والدین سمجھتے ہیں اتنا ہی اہم وہ بھی اپنے آپ کو سمجھتا ہے جب اسے خودبینی کی عادت پڑجاتی ہے اور بڑے ہو کر لوگ والدین کی طرح اس کی خوشامد درآمد نہیں کرتے تو اسے مایوس ہونا پڑتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ نہ صرف پہلے سال بلکہ بعد میں جب کبھی بچہ بیمار ہو والدین خندہ پیشانی اور بہ ظاہر بے فکری کے ساتھ اس کا علاج کریں اور بات کا بتنگڑ نہ بنائیں۔ پرانے زمانے میں بچوں کو جکڑ کر بھی بہت رکھا جاتا تھا۔ اور ان سے لاڈ بہت کیا جاتا تھا ان کے اعضا کو حرکت کرنے کا موقع نہ دیا جاتا تھا کپڑے ضرورت سے زیادہ گرم ہوتے تھے فطری حرکات پر پابندیاں عائد کی جاتی تھیں لیکن ساتھ ہی ان کو ہر وقت گود میں اٹھائے اٹھائے پھرتے تھے۔ ان کے سامنے گانے گاتے پھرتے تھے۔ اور انہیں چوبیس گھنٹے چوما چاٹی کا تختہ مشق بنائے رکھتے تھے۔ یہ بہت غلط طریقہ تھا اس سے بچے بگڑجاتے تھے او رہر وقت ماں باپ کے گلے کا ہار بنے رہتے تھے۔ صحیح اصول یہ ہے کہ نہ بچے کی فطری حرکات وخواہشات پر پابندی عائد کیجئے نہ اسے ان سے تجاوز کرنے دیجئے۔ بچے کے لئے آپ جو تکلیف اٹھاتے ہیں اس سے بچے کو بےخبر رہنا چاہیئے۔ خدمت کرانے کا چسکا اسے نہ پڑنے دیجئے جہاں تک ممکن ہو ایسی کامیابی کا لطف اسے ضرور اٹھانے دیجئے جو خود اس کی اپنی کوشش کا نتیجہ ہو۔ جدید تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے بچے کو خارجی قواعد وضوابط کی غلامی سے آزاد کیا جائے۔ لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ خود بچے کے دل میں انضباط کا احساس پیدا کیا جائے۔ اور اس احساس کا پیدا کرنا عمر کے پہلے سال میں نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ مثلاً جب بچے کو سلانا ہو تو اسے گود میں نہ لینا چاہئے۔ بازروں میں تھام کر ”سوجا سوجا“ نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کے پاس تک نہ ٹھہرنا چاہیئے۔ اگر آپ ایک مرتبہ یوں کریں گے تو بچہ دوسری مرتبہ بھی یہی چاہے گا اور تھوڑے عرصہ میں بچہ کا سلانا ایک مصیبت بن جائے گا۔ بچے کو اڑھا لپٹا کر بستر میں سلا دینا چاہیئے اور ایک دو باتیں کرکے اسے اکیلا چھوڑ دینا چاہیئے۔ ممکن ہے وہ چندمنٹ تک روتا رہے لیکن اگر وہ بیمار نہیں تو تھوڑی دیر میں خود بہ خود چپ ہوجائے گا۔ اس کے بعد جاکر دیکھئے تو مزے کی نیند سو رہا ہوگا۔ لاڈ پیار سے ایک تو اس کی سیرت بگڑ جائے گی۔ دوسرے وہ سوئے گا بھی کم۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ نوزائیدہ بچہ ماں کے پیٹ سے کوئی عادت ساتھ نہیں لاتا اس کی عادات فطری اور اضطراری ہوتی ہیں چنانچہ اسے اشیاء کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ اشیاء کے احساس کے لئے یہ ضروری ہے کہ بچہ اشیاء کو پہچانے اور اشیاء کو پہچاننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اشیاء کا بار بار تجربہ ہو۔ سو وہ رفتہ رفتہ ہی حاصل ہوتا ہے۔ پیدائش کے تھوڑے عرصہ بعد بچہ پنگوڑے کے مس ماں کی چھاتی یا دودھ کی بوتل کے مس اور خوشبو اور ماں یا ان کی آواز سے مانوس ہوجاتا ہے۔ ماں یا پنگوڑے کو دیکھنے کی قابلیت بعد میں پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ نوزائیدہ بچے کی آنکھیں ابھی اس قابل نہیں ہوتیں کہ وہ اشیاء کو واضح طور پر دیکھ سکے۔ جب رفتہ رفتہ مختلف احساسات کی ائتلاف سے بچے کے ذہن میں عادات وضع ہوجاتی ہیں تو مس اور بو اور نظر کی بدولت ذہن میں اشیا کے تصورات شکل پذیر ہونے لگتے ہیں۔ خاص خاص احساسات اس کے دل میں خاص خاص اشیاء کی توقعات پیدا کرتے ہیں۔ (دودھ کی بو آتی ہے تو چھاتی یا بوتل کے مس کے لئے تیار ہوجاتا ہے ماں کی آواز آتی ہے تو ماں کی شکل دیکھنے کا منتظر ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ) تاہم کچھ عرصے تک اشخاص اور اشیا میں تمیز نہیں کرسکتا۔ جس بچے کو کبھی بوتل کا دودھ اور کبھی چھاتی کا دودھ پلایا جائے اس کے نزدیک کچھ عرصے تک ماں اور بوتل ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس تمام عرصے کے دوران میں تعلیم کا ذریعہ محض جسمانی ہونا چاہئے بچے کی تمام مسرتیں (جو زیادہ تر گرماہٹ اور خوراک تک محدود ہوتی ہیں) اس کے تمام دکھ محض جسمانی ہوتے ہیں۔ اس کے افعال اور اس کی عادات یوں شکل پذیر ہوتی ہیں کہ جو چیز اس کے ذہن میں مسرت سے تعلق رکھتی ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو دکھ سے متعلق ہو اس سے گریز کرتا ہے۔ بچے کا رونا ایک حد تک تو اضطراری حرکت ہے جو دکھ کی وجہ سے ظہور میں آتی ہے اور ایک حد تک ایک ارادی فعل ہے جو بچہ مسرت حاصل کرنے کے لئے اختیار کرتا ہے۔ شروع شروع میں وہ محض دکھ کی وجہ سے روتا ہے لیکن جب اس دکھ کو دور کیا جائے (جیسا کہ کیا جاتا ہے) تو بچے کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ رونے کے نتائج خوش گوارہوتے ہیں چنانچہ رفتہ رفتہ بچے کو یہ عادت ہوجاتی ہے کہ نہ صرف دکھ دور کرانے کےليے روتا بلکہ مسرت حاصل کرنے کے ليے بھی اس حربے کو کام میں لاتا ہے، یہ اس کی ذہانت کی پہلی فتح ہوتی ہے لیکن باوجود بےانتہا کوشش کے جب تک اسے دکھ نہ پہنچ رہا ہو وہ ویسا نہیں رو سکتا، جیسا دکھ کے وقت روتا ہے۔ ہوشیار ماں اس قسم کے رونے اور اُس قسم کے رونے میں بخوبی تمیز کرسکتی ہے عقلمندی یہی ہے کہ جب بچہ کا رونا دکھ کا رونا ہو تو اس پر بالکل توجہ نہ کی جائے۔ بچے کو لئے لئے پھرنا اور اس سے کھیلتے رہنا یا اس کے سامنے گانے گانا آسان بھی ہے اور پُرلطف بھی۔ لیکن بہت جلد بچہ اس قسم کی تفریح کا عادی ہوجاتا ہے جو اس کی نیند میں خلل انداز ہوتی ہے۔ شیرخوار بچے کا بیشتر وقت (سوائے دودھ پینے کے اوقات کے) نیند میں گزرنا چاہیئے۔ ممکن ہے کہ بعض والدین کو یہ باتیں سخت معلوم ہوں لیکن تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بچے کی صحت اور خوشی کے لئے یہ باتیں بہت مفید ہیں۔ بچے کے لئے جو تفریحات والدین مہیا کرتے ہیں ان کو تو ایک خاص حد کے اندر رکھنا چاہیئے۔ لیکن جو تفریحات وہ خود اپنے لئے پیدا کرے ان کو ترقی دینے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ شروع ہی سے اسے اس بات کا موقع دینا چاہیئےکہ وہ آزادی سے ہاتھ پاؤں ہلا سکے۔ اور اپنے اعصاب کو کام میں لا سکے۔ پرانے زمانے کے لوگ بچوں کو باندھ کر رکھا کرتے تھے اس کی وجہ سستی کے سوا اور کچھ نہ تھی کیونکہ جن بچوں کو کھلا رکھا جائے ان کی نگہداشت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ حیرت ہے کہ ان لوگوں کی مامتا بھی ان کی سستی پر غالب نہ آسکتی تھی جب بچے کی نظر ٹھیک ہوجاتی ہے تو وہ متحرک چیزوں کو خصوصاً جو ہوا سے ہل رہی ہوں دیکھ کر خوش ہوتا ہے لیکن پھر بھی جب تک وہ اشیا کو پکڑنا نہ سیکھ لے اس کی دلچسپیوں کا دائرہ بہت محدود رہتا ہے۔ جب پکڑنا سیکھ لے تو یہ دائرہ یک لخت وسیع ہوجاتا ہے کچھ عرصے تک تو محض گرفت ہی کی مشق اتنی مسرت انگیز ہوتی ہے کہ وہ گھنٹوں اس میں مشغول رہتا ہے۔ جھنجھنے کا شوق بھی اسی زمانے میں پیدا ہوتا ہے۔ جھنجھنے کے زمانے سے ذرا پہلے وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں پر قابو حاصل کرتا ہے شروع شروع میں پاؤں کی انگلیوں کی حرکات محض اضطراری ہوتی ہے۔ بعد میں بچہ یہ دریافت کرتا ہے کہ میں انہیں اپنی مرضی سے بھی ہلا سکتا ہوں اس احساس سے وہ اتنا خوش ہوتا ہے گویا بہت بڑی مملکت حاصل کرلی ہے کیونکہ انگلیاں اب اجنبی نہیں رہتیں۔ بلکہ جسم کا جزو بن جاتی ہیں۔ اس کے بعد اگر بہت سی چیزیں بچے کے آس پاس ایسی ہوں جنہیں وہ پکڑ سکے تو اسے دل بہلاوے کا بہتیرا سامان مہیا ہوجاتا ہے بچے کو تفریح بھی ایسی ہی حرکات سے ہوتی ہے جو تعلیم کے نقطہ نظر سے ضروری ہے البتہ گر جانے یا چوٹ لگ جانے یا کسی تکلیف دہ چیز مثلاً پن یا سوئی کے نگلنے سے اسے بچانا ضروری ہے۔ پہلے تین مہینے کے عرصے میں بچہ دودھ پیتے وقت تو بہت خوش ہوتا ہے لیکن باقی تمام وقت اس کی طبیعت اکتائی رہتی ہے۔ جب وہ مزے میں ہو تو سو جاتا ہے جاگ رہا ہو تو کوئی نہ کوئی بےچینی اسے ضرور رہتی ہے۔ انسان کی خوشی کا انحصار اس کی ذہنی قابلیت پر ہے لیکن تین مہینے سے کم عمر کے بچے کو نہ کسی چیز کا کافی تجربہ ہوتا ہے نہ وہ اپنے اعصاب پر قادر ہوتا ہے اس لئے مسرتوں سے محروم رہتا ہے۔جانوروں کے بچے نسبتاً بہت جلد زندگی سے لطف اٹھانے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ان کی مسرتیں فطری ہوتی ہیں اور تجربے پر منحصر نہیں ہوتیں۔ انسان کا بچہ اگر محض جبلّت پر تکیہ کرے تو اس کی خوشیوں اور دلچسپیوں کا حلقہ تنگ رہتا ہے۔ بچہ اپنی عمر کے پہلے تین مہینے عام طور پر اکتایا رہتا ہے۔ اس اکتائے رہنے میں بھی حکمت ہے۔ اس سے نیند پوری طرح آتی ہے۔ اگر بچے کو بہت زیادہ بہلایا جائے تو وہ سوتا کم ہے۔ جب بچہ دو تین مہینے کا ہوجاتا ہے تو مسکرانا سیکھتا ہے۔ اور اشخاص کے متعلق اس کے جذبات اشیا سے ممیز ہونے لگتے ہیں۔ اس عمر کو پہنچ کر ماں اور بچے میں سوشل تعلقات کا امکان شروع ہوجاتا ہے۔ بچہ ماں کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کرسکتا ہے اور کرتا ہے اور نہ صرف جانوروں کی مانند بلکہ اور طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ تھوڑے عرصے کے بعد تحسین وتعریف کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ میرے اپنے بچے میں اس خواہش کے واضح آثار پانچ مہینے کی عمر میں ظاہر ہوئے۔ میز پر ایک وزنی گھنٹی پڑی تھی۔ بڑی مشکلوں سے اس نے اسے اٹھایا اور اٹھ کر بجایا اور فخریہ مسکرا کر سب کو باری باری دیکھنے لگا جب یہ خواہش پیدا ہوجائے تو گویا ایک زبردست حربہ معلم کے ہاتھ آجاتا ہے یہ حربہ تعریف اور ملامت کا حربہ ہے۔ بچپن کے تمام تر زمانے میں اس سے بڑا کام لیا جاسکتا ہے لیکن اس حربے کو ازحد احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا چاہیئے، عمر کے پہلے سال میں بچہ کی مذمت بالکل نہ کرنی چاہیئے بعد میں بھی اس سے بہت حد تک احتراز واجب ہے۔ تعریف نسبتاً کم مضر ہوتی ہے لیکن تعریف نہ تو فراخدلی سے کرنی چاہیئےکہ اس کی قدر ہی جاتی رہے اور نہ اس بخل کے ساتھ کہ بچے کو اس کے حاصل کرنے کے لئے بہت زیادہ زور لگانا پڑے۔ جب بچہ پہلی دفعہ قدم اٹھائے یا پہلی دفعہ الفاظ منہ سے نکالے تو کسی معقول شخص کو اس کی کارگزاری کو سراہنے میں تامل نہ کرنا چاہیئے۔ جب کبھی بچہ بہت سی کوششوں کے بعد کسی مشکل کو حل کرے تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیئے۔ بچے کو یہ احساس دلانا چاہیئےکہ ہمیں اس کی خواہش اکتساب کے ساتھ ہمدردی ہے۔ عام طور پر بچے میں خواہش اکتساب اتنی زبردست ہوتی ہے کہ اس کے لئے محض مواقع مہیا کر دینا ہی کافی ہوتا ہے باقی سب کچھ وہ خود ہی کر لیتا ہے مثلاً بچے کو گھٹنوں چلنے یا پاؤں پاؤں چلنے یا اسی طرح کی دیگر حرکات سکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ باتیں کرنا البتہ خود بول کر اسے سکھاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ بالا ارادہ الفاظ سکھانے کی کوشش کرنا غیر ضروری ہے۔ بچے اپنی ترقی کی رفتار خود ہی معین کرتے ہیں اسے تیز تر بنانے کی کوشش کرنا غلطی ہے۔ مرتے دم تک انسان کا یہ حال ہوتا ہے کہ مشکلیں پیش آتی ہیں۔ ان پر قابو پاتا ہے اور اس سے مزید کوشش کے لئے حوصلہ بڑھتا ہے۔ اس سے بہتر طریقہ شوق کے بڑھانے کا اور کوئی نہیں۔ مشکلات نہ اتنی زیادہ ہونی چاہیئیں کہ کام کرنے کا شوق ہی مرجائے۔ اور نہ اتنی کہ طبیعت کو اکسانہ سکیں۔ ہم کچھ سیکھتے اسی بات سے ہیں جو ہم خود کرتے ہیں۔ بڑوں کو صرف یہ کرنا چاہیئےکہ ایک دفعہ بچے کو کرکے دکھا دیں۔ مثلاً اس کے سامنے ایک دفعہ جھنجھا ہلا دیں اور پھر بچے کو چھوڑ دیں کہ وہ خود اس کی نقل اتارنے کی کوشش کرے۔ جو کام دوسرے لوگ سرانجام دیں۔ وہ سمندِ شوق پر تازیانے کا کام کرسکتے ہیں۔ لیکن جب تک بچہ وہ کام خود نہ کرے اسے تعلیم نہیں کہا جا سکتا۔ باقاعدگی اور وقت کی پابندی شروع بچپن اور خصوصاً پہلے سال میں بہت ضروری ہیں۔ نیند، خوراک اور رفع حاجت کے لئے شروع ہی سے باقاعدگی کی عادت ڈالنی چاہیئے۔ گردوپیش کے حالات وواقعات کا مانوس ہونا ذہنی نقطہٴ نظر سے بہت ضروری ہے۔ اگر ایک ہی بات باقاعدگی سے پیش آتی رہے تو بچے کو اس کے پہچاننے میں آسانی ہوتی ہے۔ ذہن پر ضرورت سے زیادہ زور نہیں ڈالنا پڑتا۔ اور بچہ محسوس کرتا ہے کہ میں محفوظ ہوں۔ بچہ کمزور اور بے بس ہوتا ہے۔ اسے تسکین کی ضرورت ہے اگر اسے یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ہر بات باقاعدگی کے ساتھ ہوتی ہے اور کوئی نئی بات یکلخت اس کی زندگی میں خلل نہیں ڈال سکتی تو وہ خوش رہتا ہے۔ ذرا عمر بڑی ہوتی ہے تو نئی نئی باتوں کا شوق پیدا ہوتا ہے لیکن زندگی کے پہلے سال میں ہر نئی بات میں بچہ کو ڈر محسوس ہوتا ہے جس سے اسے جہاں تک ممکن ہو محفوظ رکھنا چاہیئے۔ اگر بچہ بیمار ہو اور آپ متفکر، تو اپنا فکر حتی الامکان اس پر ظاہر نہ ہونے دیجئے ورنہ وہ بھی متفکر ہوجائے گا۔ کوئی ایسی بات نہ کرنی چاہیئےجس سے بچے کی طبیعت میں ہیجان پیدا ہو اگر بچے کو ٹھیک نیند نہ آئے یا اس کا پیٹ خراب ہو تو بچے کےسامنے بےپروائی ظاہر کرنی چاہیئےاسے یہ احساس نہ ہونا چاہیئےکہ اس کی اہمیت کچھ بڑھ گئی ہے ورنہ وہ معمولی باتوں میں بھی آپ کی خوشامد اور ترغیب کا خواہش مند ہوگا۔ اس بات کا خیال نہ صرف عمر کے پہلے سال میں بلکہ بعد میں بھی رکھنا چاہیئے۔ بچہ بڑا ہو تو اس اصول پر بیش از پیش کار بند ہونا چاہیئے۔بچے کے دل میں یہ احساس کبھی نہ پیدا ہونے دینا چاہیئےکہ اس کے معمولی افعال مثلاً کھانا پینا جو خود اس کے لئے مسرت کا موجب ہیں آپ کی ممنونیت کا باعث ہیں۔ اگر اس میں یہ احساس پیدا ہوجائے تو وہ خوشامد کا متوقع رہتا ہے۔ حالانکہ اسے ایسی باتیں خودبخود بغیر ترغیب کے کرنی چاہیئں۔ یہ کبھی خیال مت کیجئے کہ بچے میں اتنی عقل کہاں جو ان باتوں کو سمجھے۔ بچے کے قوائے کمزور ہیں اور اس کا علم محدود۔ لیکن جہاں یہ کوتاہیاں اس کے رستے میں حارج نہ ہوں وہاں اس کی ذہانت بڑوں سے کم نہیں ہوتی۔ بچہ جو کچھ شروع کے ایک سال میں سیکھتا ہے پھر عمر بھر ایک سال کے عرصہ میں اتنا نہیں سیکھ سکتا۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ بچے کی ذہانت بہت تیز ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ بچے کو یہ سمجھ کر پالو کہ ایک دن اسے بڑا ہونا ہے اور دنیا کے کاروبار میں حصہ لینا ہے۔ اس کی موجودہ سہولتوں پر یا اپنی خوشی پر اس کی آئندہ بہتری کو قربان مت کیجئے اس سے اسے بہت نقصان پہنچتا ہے۔ ٹھیک تربیت دینے کے لئے محبت اور علم دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ ماخوذ از کتاب ”تعلیم خصوصاً اوائل طفلی میں“ مصنفہ برٹرنڈرسل ۔ مترجم پطرس * * * |
دیہات میں بوائے اسکاؤٹ |
|
مکھیوں کا بادشاہ
ایک دن سقراط گاؤں کے اسکول میں آیا۔ سب لوگ اسے جانتے تو تھے ہی۔ جونہی بچے بچیوں نے اس کی صورت دیکھی، ان کے چہرے خوشی سے چمک اٹھے۔ پڑھنا لکھنا بھول گیا۔ اور سب کی نظریں دروازے پر گڑ گئیں۔ جہاں بڈھے میاں کھڑے بڑے غور سے بچوں کی صورتیں دیکھ رہے تھے۔ سقراط نے کچھ کہے سنے بغیر کمرے کا ایک چکر لگایا۔ پھر اپنے آپ سے منہ ہی منہ میں باتیں کرنے لگا۔ ”نہ کسی کے کانوں میں مُرکیاں دیکھیں نہ ناک میں نتھ، نہ کسی کے چہرے پر میل، نہ کسی کی ناک بہہ رہی ہے، نہ ناخن بڑھے ہوئے ہیں (ایں، یہ کیا؟ اس بچی کے ناخن تو بڑھے ہوئے ہیں۔ کیسے افسوس کی بات ہے! لیکن نہیں یہ کوئی نئی لڑکی ہوگی) اور ہاں نہ کسی کا پیٹ بڑھا ہوا ہے، نہ چہرے پر زردی ہے، نہ آنکھیں خراب ہیں، نہ کپڑے میلے ہیں۔ سب کے چہروں پر خوشی اور مسکراہٹ ہے۔ معلوم ہوتا ہے اصلاح اور ترقی کے لئے جو ہم نے کوشش کی تھی وہ بے نتیجہ ثابت نہیں ہوئی“۔ چوتھی جماعت کے ایک شوخ لڑکے نے کہا۔ ”بڑے میاں یہ ہم پر منتر پڑھ پڑھ کر کیا پھونک رہے ہو؟“۔ سقراط یوں چونک اٹھا گویا وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہو۔ بولا ”سلام اے لوگو! ہاں میں ایک خواب دیکھ رہا تھا“۔ ”تو بڑے میاں! اس میں حیرانی کی بات ہی کیا ہے۔ ابا جان کہتے ہیں کہ تم خواب دیکھنے کے عادی ہو۔ لیکن ہم تو خواب نہیں دیکھ رہے ہم تو سب جاگ رہے ہیں“۔ ”تو پھر ضرور میرے خواب میں سے ایک خواب سچا ثابت ہوا ہے“۔ ایک ننھے سے لڑکے نے کہا۔ ”واہ وا۔ لو اب سقراط میاں ہمیں ایک کہانی سنائیں گے“۔ سقراط کے آنے سے ماسٹر صاحب کا چہرہ بھی اپنے شاگردوں کی طرح خوشی سے دمکنے لگا تھا۔ انہوں نے پوچھا ”کہئے آپ کو کون سا خواب سچا ثابت ہوا؟“۔ ”میں چھوٹے لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک ایسا اسکول دیکھ رہا ہوں جس میں گندگی نام کو بھی نہیں، جہاں نہ کوئی بچہ بیمار ہے، نہ کسی نے سونے چاندی کے زیور پہن رکھے ہیں۔ یہی خواب میرا سچا ثابت ہوا ہے“۔ ماسٹر صاحب نے کہا۔ ”یہ تو کچھ بھی بات ہیں۔ مہینوں سے ہمارے اسکول کی یہی حالت ہے کبھی کبھی کوئی نیا بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو ہمیں تھوڑی سی تکلیف ہوتی ہے لیکن ہم جلدی ہی اسے بھی راہ پر لے آتے ہیں“۔ عین اس موقع پر ایک عورت داخل ہوئی۔ وہ چپ چاپ اور شمائی ہوئی تھی لیکن تھی چست چالاک اور اکثر یہاں آیا کرتی تھی اس کے ہاتھ میں ایک کتاب او رکچھ کاغذ تھے۔ اسے دیکھ کر سب لڑکے اور لڑکیاں اٹھ کھڑے ہوئے اور جہگیں بدلنے لگے تھوڑی دیر میں سب لڑکے ایک طرف ہوگئے اور سب لڑکیاں دوسری طرف۔ تب اس عورت نے لڑکیوں کو سلائی کا ایک سبق پڑھانا شروع کر دیا۔ سقراط نے کمرے سے نکل جانا چاہا۔ مگر لڑکے اسے کب چھوڑنے والے تھے۔ سب کے سب چلا اٹھے۔ ہیں، ہیں بڑے میاں کہاں چل دیئے ٹھہرو تم ابھی نہیں جا سکتے۔ تم پہروں بیٹھے بڑی عمر کے لوگوں سے باتیں کرتے رہتے ہو۔ کیا ہم نے کچھ قصور کیا ہے؟ سقراط نے کہا۔ ”یہاں میری ضرورت بھی کیا ہے جو کچھ تمہیں بتا سکتا ہوں۔ تم اور تمہارے استاد اس سے بہت زیادہ جانتے ہیں۔ میں کسی ایسی جگہ جاؤں گا جہاں میری ضرورت ہو“۔ استاد نے کہا۔ ”نہیں آپ نہیں جا سکتے۔ ہم نے سب کچھ آپ ہی سے سیکھا ہے۔ کچھ دیر یہاں ٹھہرئیے اور کوئی نئی بات بتائیے“۔ سقراط نے کہا۔ ”میں کیا بتا سکتا ہوں؟ میں استاد تھوڑا ہی ہوں“ اسی شوخ لڑکے نے پھر کہا ”اچھا تو کوئی کہانی ہی سنا دو“۔ کہانی کا نام سننا تھا کہ سب لڑکے چلا اٹھے۔ ”ٹھیک ہے کہانی بھئی کہانی“۔ سقراط نے کہا۔ ”میں کہانیاں واہانیاں نہیں سنایا کرتا“۔ اس پر کئی لڑکے بول اٹھے۔ ”ہم نہیں مانتے تم بچوں والے ہو۔ اپنے بچوں کو تو ضرور کہانیاں سناتے ہوں گے“۔ سقراط نے کہا۔ ”یہ کام میرا نہیں۔ ان کی ماں انہیں کہانیاں سنایا کرتی ہے لیکن تمہاری ماؤں کو اپلے تھاپنے ہی سے فرصت نہیں ملتی“۔ اس پر ننھی لڑکیوں نے ایک زبان ہو کر کہا۔ ”ہرگز نہیں۔ تمہیں ہماری ماؤں پر الزام لگاتے شرم نہیں آتی“۔ انہوں نے تو یہ کام برسوں سے چھوڑ رکھا ہے۔ سقراط نے کہا۔ ”خوب خوب، مجھے بہت ہی افسوس ہے کہ میں نے تمہاری ماؤں پر یہ جھوٹا الزام لگایا ہے۔ مجھے امید ہے تم معاف کر دو گے“۔ ”معاف تب کریں گے جب تم ہمیں کوئی کہانی سناؤ گے“۔ ”اچھا تو سنو، ایک تھا مگرمچھ بہت ہی بڑا… “۔ ”رہنے دو، ہم ایسی بے ہودہ کہانی نہیں سننا چاہتے۔ سنانی ہے تو کوئی کام کی کہانی سناؤ“۔ ”دیکھو میاں سقراط! عقل کے ناخن لو اور ہمیں اچھی کہانی سناؤ، جس میں بادشاہ ہوں، شہزادوں شہزادیوں کا ذکر ہو، اگر تم چاہو تو ایسی کہانی سنا سکتے ہو“۔ ” اچھا تو سنو، ایک تھا بادشاہ۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، وہ ایک چھوٹی سی ریاست پر حکومت کرتا تھا۔ رعایا اس سے بہت خوش تھی۔ جہاں بادشاہ کا پسینہ گرتا وہاں رعایا اپنا خون بہانے کو تیار ہو جاتی“۔ لڑکوں نے کہا۔ ”اب آئے نا راہ پر، ہاں تو پھر کیا ہوا؟“ ”اس چھوٹی سی ریاست سے ملی ہوئی ایک بہت بڑی ریاست تھی جس پر ایک بہت ظالم بادشاہ حکمران تھا۔ اس بادشاہ کی بڑی آرزو یہ تھی کہ کسی طرح اس چھوٹی ریاست پر قبضہ جمالوں۔ اس چھوٹی ریاست کے بادشاہ کے ہاں کوئی بیٹا تو نہ تھا ہاں ایک خوبصورت بیٹی تھی۔ بڑے بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر میرے بیٹے کی شادی اس بادشاہ کی بیٹی سے ہو جائے تو بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کی سلطنت پر میرا قبضہ ہو جائے گا۔ لیکن چھوٹا بادشاہ اور اس کی رعایا اس کی نیت سے واقف تھے چنانچہ انہوں نے اس کے بیٹے کی شادی اپنی شہزادی کی شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر بڑا بادشاہ بہت ہی جھنجھلایا اور اپنے وزیروں کو بلا کر ان سے صلح مشورہ کیا۔ وزیروں نے کہا۔ اس چھوٹے بادشاہ نے ہماری ہتک کی ہے۔ ہمیں اس پر چڑھائی کرکے اس کی ریاست پر قبضہ کر لینا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے چڑھائی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ جب چھوٹے بادشاہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ اپنے دل میں بہت ڈرا کیونکہ اس کی فوج بڑے بادشاہ کی فوج کے مقابلے میں ایک چوتھائی بھی نہ تھی۔ اس چھوٹے بادشاہ نے اپنے امیروں وزیروں کو بلایا اور کہا ”اگر ہم لڑے تو یہ بادشاہ ہماری سلطنت پر قبضہ کر لے گا۔ اور اگر میں نے اپنی بیٹی اس کے بیٹے سے سے بیا دی تب بھی وہ ہماری سلطنت پر قبضہ کرے گا ہم کریں تو کیا کریں؟“ اس کی رعایا نے جواب دیا۔ ”ہم لڑیں گے اور اپنی جانیں حضور پر فدا کر دیں گے“۔ بادشاہ نے کہا۔ ”لیکن اس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا غنیم کے مقابلے میں ہماری فوج بہت ہی تھوری ہے“۔ اس پر سب چپ ہوگئے لیکن اس ریاست کے تمام باشندے اپنے بادشاہ سے بے حد محبت رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک دیہات میں اور کیا شہروں میں، سب جگہ لوگوں کو یہی فکر تھی کہ ہم اپنے بادشاہ اور اپنے ملک کو غنیم کے ہاتھ سے کس طرح بچائیں یہاں تک کہ حیوانوں اور درندوں کو بھی اپنے بادشاہ کی امداد کی فکر ہوئی۔ جب بادشاہ نے دوسری مرتبہ اپنے امیروں وزیروں کو طلب کیا تو اس موقع پر شیر بھی آئے او رکہنے لگے۔ ہم دشمن کے گھوڑوں اور مویشیوں کو چیر پھاڑ ڈالیں گے“۔ بھیڑئیے اور گیڈر آئے اور کہنے لگے۔ ہم دشمن کے خیموں کے اردگرد گھومتے رہیں گے اور جو کوئی اکیلا وکیلا باہر نکلے گا اسے کھا جائیں گے۔ کووّں نے کہا یوں کام نہ چلے گا۔ عین اس موقع پر ایک مکھی بادشاہ کی ناک پر آکر بیٹھی۔ بادشاہ نے ہاتھ سے اڑا دی مگر مکھی وہاں سے جانے کا نام نہ لیتی تھی۔ اس دفعہ وہ آکر بادشاہ کے کان پر بیٹھ گئی۔ بادشاہ جھنجھلا اٹھا اور کہنے لگا۔ اس مکھی نے تو ناک میں دم کر دیا۔ یہ مجھے کیوں تنگ کرتی ہے؟ میں پہلے ہی پریشان ہو رہا ہوں۔ بادشاہ کے کان میں بھنبھناہٹ کی آواز آئی جسے کوئی کہہ رہا ہو۔ میں حضور کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ بادشاہ چونک اٹھا اور کہا یہ کون بولا؟ وزیر نے عرض کیا۔ حضور! کوئی بھی نہیں بولا۔ بادشاہ کے کان میں پھر وہی باریک آواز آئی۔ میں بولا تھا۔ اب تو بادشاہ اچھل پڑا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اپنے ارد گرد دیکھنے لگا مگر اس کے آس پاس کوئی نہ تھا۔ ناچار پھر آکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا مگر دل ہی دل میں سخت حیران ہوتا اور کہتا تھا کہ میری پریشانیوں اور اندیشوں نے کہیں مجھے دیوانہ تو نہیں بنا دیا۔ اتنے پھر وہی آواز سنائی دی کہ میں حضور کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ امیر وزیر سب دم ب خود کھڑے ہوگئے کسی کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا۔ مگر اب بادشاہ سمجھ گیا کہ یہ ضرور کسی ایسی ہستی کی آواز ہے جو نظر نہیں آتی۔ بادشاہ نے پوچھا تم کون ہو؟ ”میں مکھیوں کا بادشاہ ہوں اور آپ کی مدد کے لئے حاضر ہوا ہوں“۔ بادشاہ نے کسی قدر ناراضی سے کہا۔ جاؤ یونہی فضول وقت ضائع نہ کرو۔ بھلا تم میری کیا مدد کر سکتے ہو؟ تم مجھے پریشانیوں میں مبتلا دیکھ ک رمجھ سے ٹھٹھا کرنے آئے ہو۔ ”نہیں۔ میں اس خیال سے ہرگز نہیں آیا ہوں۔ میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔ اور اگر آپ وعدہ کریں کہ میں جو کچھ مانگوں آپ دیں گے تو میں آپ کی مدد سے دریغ نہ کروں گا۔“ بادشاہ نے ہنس کر کہا۔ ”جاؤ تمہیں اجازت ہے میری دشمن کو برباد کرنے میں اپنا سارا زور لگا دو لیکن مجھے یقین ہے کہ تم نہ تو میری کچھ مدد کر سکتے ہو نہ میرے دشمن کو نقصان پہنچا سکتے ہو“۔ آس پاس جو لوگ بیٹھے تھے جب انہوں نے بادشاہ کو آپ ہی آپ باتیں کرتے اور ہنستے دیکھا تو انہیں بہت فکر ہوئی۔ وہ سمجھے کہ پریشانیوں کی وجہ سے بادشاہ کا سر پھر گیا ہ ے اور وہ دیوانوں کی طرح آپ ہی آپ ہنس رہا ہے۔ لیکن بادشاہ نے سارا وقعہ ان سے بیان کر دیا۔ اس بات کا تو کسی کو بھی یقین نہ تھا۔ مگر مکھیاں ہماری کچھ امداد کر سکتی ہیں۔ البتہ اس خیال پر انہیں بہت ہنسی آئی کہ مکھیاں ہماری سلطنت کی حفاظت کرنا چاہتی ہ یں۔ اس موقع پر ایک بڈھا جو سب سے پیچھے بیٹھا تھا اٹھ کھڑا ہوا اور مکھی کی شرطیں مان لینے کے خلاف دہائی دینے لگا۔ اس نے چلا کر کہا۔ بادشاہ سلامت! آپ نے مغرور اور ظالم ہمسائے سے بھی زیادہ خطرناک دشمن کے ہاتھ اپنی سلطنت بیچ ڈالی ہے۔ اس پر چاروں طرف سے آوازیں آنے لگیں۔ چپ رہ بڈھے، کیا بکتا ہے؟ اور بے چارے بڈھے کو زبردستی خاموش کرکے اپنی جگہ پر بٹھا دیا گیا اس کے تھوڑی دیر بعد مجلس ختم ہوگئی۔ اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے مگر اس عرصے میں بڈھا منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا رہا۔ ایک لڑکے نے کہا۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو وہ بڈھا ضرور سقراط ہی ہوگا۔ سقراط نے کہا اگر تم یوں میری باٹ ٹوکو گے تو میں باقی کہانی تمہیں نہ سناؤں گا۔ ایک ننھی سی لڑکی نے کا۔ یہ تو تم نے بتایا ہی نہیں کہ اس خوب صورت شہزادی کا کیا حال ہوا؟ سقراط نے چپکے سے اسکول سے باہر نکلتے ہوئے کہا۔ یہ پھرکبھی بتاؤں گا آج صبح میں نے پہلے ہی تمہارا بہت سا وقت ضائع کر دیا۔ کچھ دنوں کے بعد سقراط اپنی کہانی کا باقی حصہ سنانے پھر اسکول میں آیا۔ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے وہ اسکول کے احاطے میں ادھر ادھر اور نیچے بڑے غور سے دیکھتا رہا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی کوئی چیز کھو گئی ہے لیکن تھوڑی دیر بعد وہ اسکول کے کمرے میں داخل ہوگیا۔ لڑکوں نے پوچھا۔ ”احاطے میں تمہاری جو چیز کھو گئی تھی وہ ملی یا نہیں؟ سقراط نے جواہ دیا۔ ”نہیں“۔ ایک لڑکے نے کہا ”مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا۔ لیکن یہ تو بتاؤ تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے؟“ ”میری کوئی چیز گم نہیں ہوئی اور جو چیز میں تلاش کر رہا تھا وہ مجھے نہیں ملی اور مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ وہ نہیں ملی“۔ کئی لڑکوں نے زچ ہو کر پوچھا۔ ”تمہاری کوئی یز گم بھی نہیں ہوئی ہوئی اور تم دیر تک اسے ادھر ادھر تلاش بھی کرتے رہے اور جب وہ تمہیں نہیں ملی تو تمہیں خوشی بھی ہوئی یہ تو پہلی ہے پہلی“۔ ”اچھا اگر تم اسے پہلی کہتے ہو تو پہلی ہی سہی“۔ ماسٹر صاحب نے کہا۔ ”مجھے معلوم ہے کہ آپ کو کس چیز کی تلاش تھی۔ آپ کوڑا کرکٹ تلاش کر رہے تھے لیکن وہ اب آپ کو یہاں نہیں مل سکتا“۔ سقراط نے کہا ”بجا فرمایا آپ نے اور اس کے لئے میں آپ کو دلی مبارکباد دیتا ہوں۔ گرد کا ایک ذرّہ بھی تو احاطہ کے آس پاس کہیں نظر نہیں آیا۔ تمام گندگی اور کوڑا کرٹ اسکول کے گڑھے میں پھینکا جاتا ہے۔ یقین جانو مجھے یہ معلوم کرکے بہت خوشی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد سقراط چھوٹے لڑکے اور لڑکیوں کو مخاطب کرکے بولا۔ ”مجھے امید ہے کہ جب تم بڑے ہو جاؤ گے اور اسکول چھوڑ دو گے تو اپنی ان تمام اچھی باتوں کو کبھی نہ بھول گے“۔ استاد نے کہا۔ ”اس کی طرف سے آپ بے فکر رہئے اب صفائی ان کی فطرت کا جزو بن گئی ہے اور غلاظت سے انہیں دلی نفرت ہے۔ او ریہ نفرت ان کے دل سے کبھی نہیں نکل سکتی۔ سبق پڑھنے سے پہلے ہر روز اپنے اسکول کی صفائی کرتے ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ اگر یہ جگہ کوڑے کرکٹ سے اَٹی رہے تو اس کے خیال سے بھی انہیں یہاں بیٹھنا دوبھر ہو جائے“۔ یہ سن کر سقراط کے منہ سے بے اختیار ”مرحبا“ نکل گیا۔ اب کئی لڑکوں نے پوچھا ”ہاں بڑے میاں! اب وہ کہانی تو سناؤ، ہم جانتے ہیں کہ تم باٹ ٹالنے کی کوشش کر رہے ہو!“ سقراط نے کہا۔ لو بھئی سنائے دیتا ہوں۔ اچھا تو کہاں چھوڑی تھی کہانی؟ ہاں ہاں یاد آگیا۔ خوب صورت شہزادی باغ میں بیٹھی جراب بن رہی تھی۔ ”نہیں یہاں تو نہیں چھوڑی تھی“۔ تو پھر یہاں چھوڑی ہوگی کہ ”بہادر نوجوان شہزادہ گھوڑے پر سوار ہوگیا اور نیام سے تلوار نکال لی“۔ ”نہیں، یہاں بھی نہیں چھوڑی۔ سقراط تم جان بوجھ کا انجان بنے جاتے ہو۔ خیر ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں تم نے کہانی وہاں چھوڑی تھی جہاں مکھیوں کے بادشاہ نے چھوٹی سلطنت کو بچانے کا وعدہ کیا تھا“۔ ”ہاں ہاں۔ یہیں چھوڑی تھی۔ لو صاحب! یہاں سے رخصت ہو کر مکھیوں کا بادشاہ بھن بھن کرتا ہوا سیدھا بڑے بادشاہ کی سلطنت کی طرف روانہ ہوگیا جس وقت وہ وہاں پہنچا تو وہ بڑا بادشاہ چڑھائی کے لئے اپنی فوجوں کو تیار کر رہا تھا۔ اس نے دل میں سوچا کہ اپنی راجدہانی میں ایک بڑی شان دار جشن منانا چاہئے جس میں ہمارے تمام نوجوان شامل ہوں۔ اور دنگل میں سب اپنے اپنے جوہر دکھائیں اور اس طرح ان میں سے تمام بہادروں اور سورماؤں کو چن کر اپنی ایک زبردست فوج تیار کر لوں جو میرے گستاخ ہمسائے کو تباہ وبرباد کر ڈالے۔ چنانچہ بادشاہ کے حکم سے ایک شان دار جشن منایا گیا اور ملک کے کونے کونے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ آکر اس م یں شامل ہوئے“ جس جگہ نظر پڑتی تھی لوگوں کے خیمے ہی خیمے دکھائی دیتے تھے ان لوگوں کا جب جی چاہتا بادشاہ کے خزانے سے کھاتے پیتے اور رنگ رلیاں مناتے انہوں نے بادشاہ کی راجدہانی کی تمام زمین او رپانی کو دنگہ اور نجس بنا دیا نتیجہ یہ ہوا یکایک وبا پھیل گئی اور دھڑا دھڑ موتیں ہونے لگیں۔ بہترے جتن کئے مگر مرنے والوں کی تعدا روز بروز بڑھتی ہی جاتی تھی۔ ناچار بادشاہ نے سب کو حکم دیا کہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔ میرے افسر تم سب کے پاس خود آئیں گے اور تم میں سے بہادروں کو چن چن کر فوج میں بھرتی کر لیں گے یہ سن کر سب لوگ اپنے اپنے دیہات اور شہروں کو لوٹ گئے اور اپنے ساتھ بیماری کو بھی لیتے گئے ور اس طرح بڑے بادشاہ کی سلطنت میں وبا پھیل گئی اور چند ہی دنوں میں ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے تب بادشاہ نے اپنی سلطنت کے بڈھوں، امیروں، وزیروں کو بلایا۔ انہوں نے کہا ”بادشاہ سلامت! ہمارے تمام نوجوان مر چکے ہیں ہمارے گھر ویران ہو گئے ہیں ہم اب جنگ نہیں کر سکتے۔ آپ نے بہادر سورماؤں کی فوج تیار کرنے کے لئے جو جشن کیا تھا اس نے نہ صرف اس فوج ہی کو برباد کر ڈالا بلکہ ہمارے ملک میں بھی تباہی پھیلا دی۔ بادشاہ نے کہا۔ افسوس! اب کئی سال تک ہم جنگ نہیں کرسکتے۔ اور سب بڈھے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ اس خوفناک وبا کا حال چھوٹے بادشاہ کے کانوں تک بھی پہنچا اور اس کے امیر وزیر ایسے طاقت ور دشمن کے حملے سے بچ جانے پر اسے مبارکباد دینے آئے جس وقت وہ بادشاہ کے آس پاس بیٹھے تو مکھیوں کا بادشاہ بھی بھن بھن کرتا ہوا ان کے پاس آیا اور ننھی ننھی سی ترئی بجا کر اتنی اونچی آواز میں جو سب کے کانوں تک پہنچ جائے چلا کر کہنے لگا۔ بادشاہ سلامت لائیے میرا انعام! میں نے اپنا کام انجام دے دیا ہے۔ اس کی یہ بات سن کر سب لوگ ہنسنے لگے۔ اے مکھیوں کے ننھے بادشاہ! ذرا ہمیں بھی معلوم ہو تم نے کیا کام سرانجام دیا ہے؟ ہمارے دشمن اگر مرے ہیں تو وبا سے مرے ہیں۔ اس میں تیری کوشش کو کیا دخل ہے؟ تو جھوٹا اور دغا باز ہے۔ مکھیوں کے بادشاہ نے کہا میں ہرگز دغا باز نہیں۔ بادشاہ نے کہا ثابت کرو۔ مکھیوں کے بادشاہ نے کہا۔ میں ثابت کرتا ہوں۔ سنئے۔ جب اس ملک کے دیہات اور شہروں سے نوجوان بادشاہ کی راجدھانی کی طرف روانہ ہوئے تو ہم بھی ان کی پیٹھوں، ان کے اسباب اور ان کے ٹٹوؤں اور بیلوں پر بیٹھ کر ان کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے وہاں ہر جگہ اپنے خیمے گاڑ دیئے او ربڑی بے احتیاطی سے رہنے سہنے لگے۔ وہ اور ان کے بیل اور گھوڑے جہاں جی چاہتا پاخانہ اور لید کر دیتے۔ اور کوئی شخص زمین صاف نہ کرتا۔ اتفاق سے ان میں ایک شخص ایک ایسی جگہ سے آیا تھا جہاں ہیضہ پھیلا ہوا تھا وہ اپنے ساتھ اس بیماری کے جراثیم بھی لیتا آیا تھا ہم سب یعنی میں اور میرا لشکر پہلے تو گندگی اور کوڑے کرکٹ پر بیٹھتے ااس کے بعد ان لوگوں کے کھانوں اور مٹھائیوں اور ان کے ہونٹوں اور آنکھوں پر جا بیٹھتے ہم گندی جگہوں پر بیٹھنے کے بعد نہ تو اپنے پاؤں صاف کرتے اور نہ جوتے اتارتے پہلے تو ہم نے دستوں کی بیماری پھیلائی پھر جب ہم ن ے سنا کہ کوئی شخص اپنے ساتھ ہیضہ کے جراثیم یہاں لایا ہے تو ہم نے ہیضہ بھی پھیلا دیا۔ یہ کہہ کر مکھیوں کے بادشاہ نے پھر اپنی ترئی بجائی اور چلا کر کہا اے عادل اور انصاف پسند بادشاہ! اب میں اپنا اعنام مانگتا ہوں۔ یہ سن کر سب لوگ خوف سے تھرا اٹھے اور بادشاہ نے کہا بے شک تم انعام کے حق دار ہو میں اپنے قول کے مطابق تمہیں انعام دوں گا۔ اور تمہیں میری مٹھائیوں پر بیٹھنے اور جہاں جی چاہے اڑنے کی اجازت ہوگی۔ اب وہی بڈھا جس نے بادشاہ کے مکھی کی شرطیں مان لینے کی مخالفت کی تھی اپنی جگہ سے اٹھا بولا۔ بادشاہ سلامت! میری التجا ہے کہ آپ نے مکھیوں کے بادشاہ سے جو اقرار کیا ہے اس سے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھئے۔ بادشاہ نے پوچھا بڑے میاں یہ کیوں؟ اس کے جواب میں وہ بڈھا جو بلاشبہ سقراط ہی تھا اور اس دن تم لڑکوں نے ٹھیک بوجھ لیا تھا کہنے لگا۔ جب آپ نے مکھیوں کے بادشاہ کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ تو آپ نے انسان کے سب سے خطرناک دشمن کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ بادشاہ سلامت آپ کو معلوم ہونا چاہئے ککہ آئے دن جو طرح طرح کی بیماریاں گھیرے رہتی ہیں، ان میں سے زیادہ یہی مکھیاں پھیلاتی ہیں۔ بادشاہ نے پوچھا تو اب کیا کروں؟ سقراط بولا۔ حضور آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ مکھیوں کو آپ کی مٹھائیوں پر بیٹھنے کی اجازت ہوگی اور وہ جہاں چاہیں گی اڑ سکیں گی۔ بادشاہ نے کہا ہاں اور اس قول کو نبھانا میرا فرض ہے۔ سقراط بولا۔ تو اپنی قول کو نبھائیے لیکن خبردار رہئے کہ مکھیوں کا بادشاہ کہیں آپ کے دشمن کی سلطنت کی طرح آپ کی سلطنت کو بھی تباہ نہ کر ڈالے مکھیاں گندگی میں پرورش پاتی اور بچے دیتی ہیں اور آپ نے یہ تو وعدہ نہیں کیا کہ آپ ان کے لئے گندگی بھی مہیا کرتے رہیں گے۔ بادشاہ نے کہا نہیں میں نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا ورنہ یہ اجازت دی ہے کہ وہ بادشاہ کے سوا کسی اور کے دستر خوان پر بھی بیٹھ سکیں۔ یہ سن کر ایک چھوٹے قد کا شخص جو ڈرپوک تھا۔ بول اٹھا۔ بادشاہ سلامت! خدا کے لئے اس طاقت ور دشمن کو ناراض نہ کیجئے۔ لیکن بادشاہ نے اس کی بات کی کچھ پروا نہ کی اور کہا۔ ہمیں اپنی جانوں کی حفاظت کرنی چاہئے ورنہ مکھیوں نے جس طرح ہماے ہمسایہ بادشاہ کی فوج میں وبا پھیلا کر اسے تباہ کر ڈالا ہے اسی طرح میں بھی تباہ کر ڈالیں گی۔ مکھیوں کے بادشاہ نے اپنا ننھا سا پاؤں زمین پر مارا اور بڑی بے صبری سے پوچھا۔ اے بادشاہ! مجھے انعام کب ملے گا؟ بادشاہ نے جواب دیا اسی وقت لیکن میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا اس سے ذرا بھی تم قدم نہ بڑھا سکو گے۔ یہ سن کر مکھیوں کا بادشاہ اڑ گیا۔ اور تھوڑی دیر میں اپنا لاؤلشکر لے آیا۔ تمام مکھیاں بادشاہ کی مٹھائیوں کے دستر خوان پر جا کر بیٹھیں جہاں چاہتی اڑتی پھرتیں نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ تھوڑی ہی دنوں میں بیمار پڑ کر مر گیا لیکن چونکہ اور کسی نے مجھیوں کو اپنے کھانے پینے کی چیزوں کے قریب نہ پھٹکنے دیا تھا اس لئے اور کسی کو کچھ ضرو نہ پہنچا وہ اپنی کھانے پینے کی چیزیں یا تو باریک کپڑوں کے نیچے ڈھک کر یا الماریوں، برتوں اور بکسوں میں بند کر کے رکھتے اس طرح مکھیوں کا بس نہ چلتا اور وہ وبا نہ پھیلا سکتیں اور چونکہ مکھیاں گندگی میں انڈے دیا کرتی ہیں انہوں نے غلاظت اور کوڑے کرکٹ کے لئے الگ گڑھے کھود لئے وہ ان تمام کوڑا کرکٹ پھینک دیتے اور کس جگہ گندگی وغیرہ کا نام تک نہ رہنے دیتے۔ وہ اپنے گھروں اور دیہات کو ایسا صاف ستھرا رکھتے کہ مکھیوں کو انڈے دینے کے لئے کوئی جگہ ہی نہ ملتی۔ پہلے تو وہ لوگ جہاں جی چاہا پاخانہ کر لیتے تھے لیکن اب انہوں نے اس رسم کو بالکل بند کر دیا اور یہ قانون بنا دیا کہ کوئی شخص بھی سوائے گڑہوں اور گھروں کے پاخانوں کے جو انہوں نے خاص طور پر اس کام کے لئے بنوائے تھے اور کس جگہ رفع حاجت نہ کر پائے اور وہ اپنے اصطبلوں اور مویشی خانوں کو بھی بہت صاف ستھرا رکھتے اور لید اور گوبر وغیرہ گڑھوں میں پھنکوا دیتے وہ ان گڑھوں کو پانی سے تر کرتے رہتے تاکہ وہ گرم رہیں اور ان میں خمیر اٹھتا رہے۔ اور مکھیاں وہاں بھی انڈے نہ دینے پائیں۔ جب گڑھے بھر جاتے اور تمام کوڑا کرکٹ اور گندگی مٹی میں گھل کر نہایت عمدہ کھاد بن جاتی تو وہ اسے اپنے کھیتوں میں استعمال کرتے اب انہیں مکھیوں کا کچھ اندیشہ نہ رہا۔ انہیں نہ صرف بیماریوں اور مکھیوں ہی سے چھٹکارا مل گیا بلکہ ان کی کھتیاں بھی پہلے سے زیدہ ہری بھری ہوگئیں۔ اور ان کی جسمانی صحت بھی پہلے کی نسبت اچھی ہوگئی۔ اس طرح انہوں نے اپنی سلطنت کو نہ صرف اپنے ظالم ہمسایہ بادشاہی ہی سے بچا لیا بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک دشمن یعنی مکھی کے شر سے بھی محفوظ ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی چھوٹی سلطنت کی رعایا نے بڑی سلطنت کی رعایا سے دوستی بھی پیدا کر لی۔ اور دونوں نے آپس میں عہد کر لیا کہ ہم بجائے ایک دوسرے سے لڑنے کے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر گندگی، مکھی اور وبا کے خلاف جنگ کرتے رہیں گے اور چھوٹی سلطنت کی شہزادی نے بڑی سلطنت کے شہزادے سے شادی کر لی اور وہ اور ان کی رعایا ہمیشہ ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے رہے۔ سقراط نے ننھی لڑکی سے کہا کیوں ننھی اب تو تم خوش ہو؟ اب تو تمہاری شہزادی پھر خوش رہنے سہنے لگی ہے۔ پھر وہ بڑی عمر کے لڑکوں کو مخاطب کرکے بولا۔ لڑکو! اب جب سالانہ جلسہ ہو تو تم اس کہانی کو جو میں نے تمہیں سنائی ہے ناٹک تیار کرکے دکھانا۔ اس میں شیر بھی لانا اور بھیڑئیے وغیرہ بھی۔ اور مکھیوں کے بادشاہ کے لئے کوئی اچھا سا لباس تیار کرنا اور اس کے شانوں پر پَر بھی لگانا جب تمہارے والدین اور دوست اس ناٹک کو دیکھیں گے تو ان کی سمجھ میں آجائے گا کہ تم ن ہانے دھونے اور صفافئی کا اس قدر خیال کیوں رکھتے ہو اور تمہیں اپنے اسکول اور احاطے اور دیہات کو صاف ستھرا رکھنے کی اتنی فکر کیوں ہوتی ہے؟ (دیہات میں بوائے
اسکاؤٹ کا کام) * * * |