|
یہ عصمت چغتائی کا وہ مضمون ہے جس کا پطرس نے انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔ یہاں اصل اور ترجمہ دونوں پیش کئے جا رہے ہیں۔ |
ہیروئن
تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے۔ ادبی تالی بجانے کے لئے بھی دو ہاتھوں کی ضرورت پڑتی ہے اور عرف عام میں ان دو ہاتھوں سے ہمارا مطلب ادب کے ہیرو اور ہیروئن سے ہے یوں تو ایسا ادب بھی ہے جس میں ہیرو اور ہیروئن نہیں وہ ادب بھی ایسا ہی ہے جیسے کسی نے ایک ہاتھ اور پیر کے تلوے کی مدد سے تالی بجا دی ہو ایسی تالی بج تو گئی مگر کتابوں کی جلدوں ہی میں گونج کر رہ گئی عوام تک اس کی رسائی نہ ہو سکی اور اگر سارے ادب میں ہیروئن اور ہیروز نہ ہوئے تو یقیناً یہ خشک ستو بن کر حلق میں پھنس جاتا۔ عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لئے بندر بندریا کو ڈگڈگی بجا کر نچانا پڑتا ہے ویسے اگر وعظ کرنے کھڑے ہو جائیں یا حالات زمانہ سنانے لگیں، تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہ سنے گا۔ دیکھئے نا محکمہ تعلیم اور مسجدوں سے لوگ کتنا کترا کر نکلتے ہیں۔ لہٰذا جب کسی کو کچھ کہنا ہوتا ہے تو بندر بندریا کے گلے میں ڈوری باندھی اور ڈگڈگی بجانا شروع کر دی۔ ہیرو اور ہیروئن کے رسیلے کارناموں سے ایسی رنگینیاں بھریں کہ لوگ ٹوٹ پڑے، کچھ احساسات کو پھسلایا، کچھ جذبات کو گدگدایا اور مطلب حاصل ہوگیا۔ شعبہ تعلیم میں سب سے زیادہ اہمیت دلچسپ اسباق کو حاصل ہے ہر بات ایسی صورت میں پیش کرنی چاہئے کہ بچے اس میں گلی ڈنڈے اور کبڈی کی رعنائیاں پا کر متوجہ ہوجائیں۔ ادب کا بھی کچھ یہی حال ہے۔ کڑوی سے کڑوی خوراک شکر میں لپیٹ کر دے دیجئے لوگ واہ واہ کرکے نکل جائیں گے۔ رامائن اور مہا بھارت کا زمانہ کیوں اب تک کل کی بات بنا ہوا ہے۔ عظیم بیگ چغتائی نے قرآن کی مدد سے پردے کو چاک کرنا چاہا مگر سوائے مولویوں کی جوتیوں کے کچھ نہ ملا۔ لیکن ”شریر بیوی“ نے کونین کھلا کر اور”کولتار“ نے عقلوں پر سیاہ پردہ ڈال کر حجاب کو مار بھگایا۔ علامہ راشد الخیری اور پریم چند جی اگر ہیرو ہیروئن کے کندھوں کا سہارا نہ لیتے تو آج بجائے لوگوں کے دل ودماغ کے صرف بوسیدہ کتب خانوں میں پڑے اونگھ رہے ہوتے۔ ادب اور زندگی، ادب اور سماج، ادب اور تاریخ میں چولی دامن کا ساتھ ہے اگر انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنے کی کوشش کی جائے گی تو دونوں مٹ جائیں گے۔ دوسرے معنوں میں اگر ادب سے زندگی یعنی ہیرو اور ہیروئن کو الگ کر دیا جائے تو ایک خلا رہ جائے گا۔ ہیرو سے زیادہ میں اس وقت ہیروئن کی حیثیت (جو ادب میں ہے) پر غور کرنا چاہتی ہوں۔ ”ہیروئن جام جم“ کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ اس پر ایک نگاہ ڈالی کر ہی ہم اس کے زمانے کی اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی حالات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مثلاً ”فسانہ آزاد“ کی عورت کو دیکھ کر جو اس زمانے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت جو قابل ذکر عورت تھی وہ نہایت مہذب، تعلیم یافتہ اور دلچسپ طوائف تھی۔ سرشار کو بھلا شریف گھرانے کی عورت کہاں ملی ہوگی اور وہ بھی مسلمان خاندان کی۔ اس وقت شریف بیویاں گھر میں بیٹھی ہنڈیا چولہے سے سر مار رہی ہوں گی۔ سٹری بسی، بے ڈھنگی خادمائیں جن سے اکتا کر لوگ طوائفوں کی آغوش میں سکونِ دل ودماغ تلاش کرنے جاتے ہیں۔ یہ طوائف اتنی بازاری اور کاروباری قسم کی نہ تھی وہ بالکل شریف زادیوں کی طرح رہتی مگر شریف زادیوں سے زیادہ خوش مذاق اور لطیف تھی۔ ظاہر ہے کہ طوائف کی حیثیت سے بالکل ایک باغِ عام کی سی تھی جو عوام کے چندے سے عوام کی خوشنودی کے لئے قائم کیا جائے۔ ہر مرد کی اتنی حیثیت کہاں کہ تعلیم یافتہ، باسلیقہ بیوی شان دار مکان میں پھولوں سے لدی اور عطر میں بسی ہوئی رکھ سکے۔ لہٰذا اس نے اس کا نہایت آسان علاج نکالا۔ گھر میں تو بیوی رکھی جو علاوہ نسل بڑھانے کے دوسری ضرورتوں کو بھی پورا کرتی رہی اور بازار میں طوائف جو جذبات لطیفہ کی پال پوس کرتی رہی۔ یہ بڑا کارآمد انتظام ثابت ہوا، گھر بھی رہا، رنگینیاں بھی۔ مگر طوائف کی سوکن گرہستن نے شراتیں شروع کر دیں اگر میاں سکونِ روح کے لئے طوائف کے یہاں گئے تو وہ بھی محلہ ٹولہ میں آنکھ لڑانے لگی۔ مجبوراً وہ شوہرجنہیں ”باغ عام“ کی سیر ذرا مہنگی پڑتی تھی واپس گرہستن کی طرف لوٹ پڑے۔ سوچا کہ چوراہے کی ہانڈی سے تو اپنی ”دال روٹی“ ہی بہتر ہے عورت بھی کچھ شیر ہوگئی اس نے وہ سب کچھ سیکھنا شروع کیا جس کی تلاش میں شوہر طوائف کے پاس جاتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ اس نے قدم بڑھائے۔ آہسنا کی پالیسی کے ماتحت طوائف کے در سے بھیک مانگ کر عزت اور توجہ حاصل کرنا شروع کی۔ سرشار کی فتح مند طوائف کو شکست دے کر پریم چند کی گرہستن وبے پیر گھونگھٹ کاڑہے قدم قدم پر پیر چومتی، ماتے ٹیکتی، ادب میں رینگنے لگی۔ باغ عام کے سیلانے اپنے ہی گملے میں چھوئی موئی کا کلہ پھوٹتے دیکھ کر کچھ متحیر کچھ مغرور اس کی سنیچائی کرنے لگے۔ رنڈی تو خیر تھی ہی مگر یہ میٹھی میٹھی، معصوم سی بےضرر چیز کچھ ایسی پیاری معلوم ہوئی کہ طوائف کا پلہ اچک گیا۔ اس کی خوبیاں عیب ہوگئیں۔ وہی نازو ادا جس کی تلاش میں ناکیں رگڑنے جاتے تھے، رنڈی کے چہل بن گئے۔ چوراہے کے نل کو گندہ کہہ کر لوگوں نے اپنے ہی گھروں میں کنوئیں کھودنا شروع کر دیئے۔ مگر یہ کنویں روز بروز گہرے ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ کنارے ہاتھ سے چھوٹ گئے اور ڈوبنا پڑا۔ طوائف بہت جھلائی بہت بگڑی مگر تاج سدا ایک کے سر نہیں رہتا۔ ناعاقبت اندیش نے پھل تو کچے پکے خوب کھائے مگر نئی پود نہیں لگائی اور ادھر معصوم گھونگھٹ والی نے نئی پود بھی لگائی اور پرانوں کو بھی سینچا۔ نتیجہ یہ کہ رنڈی کے کھنڈروں کو میٹ کر گرہستن نے دنیا بنانی شروع کر دی اور پھر اس کی کمان چڑھ گئی وہی ایڑی تلے کچلنے والے مرد اس کی حمایت میں ایک دوسرے کو لعنت ملامت کرنے لگے۔ ایک دوسرے کے عیب کھول کر شاہراہ پر پٹخ دئے۔ وہ خود غیرجانبدار رہی نہ کسی سے لڑی نہ بھڑی آہنسا کی قائل مگر جیسی گاندھی جی برت رکھ رکھ کر گورنمنٹ کو بوکھلائے دیتے ہیں بالکل اسی طرح جھکی جھکی آنکھوں سے نقاب کے پیچھے سے حشر برپا کرنے لگی۔ لیکن اب بھی پوری فتح حاصل نہ ہوسکی۔ کیونکہ طوائف کے بعد فیشن ایبل میم یا پارسن نے کچھ نہ کچھ حصہ میدان کا گھیرے رکھا۔ ادب کی اس قسم کی ہیروئن نے ہر کہانی اور ہر قصہ میں گھسنا شروع کیا۔ مگر وہ جس نے طوائف کو مار بھگایا اس میم سے کیا دبتی۔ اس نے اتنا تو معلوم کر لیا کہ گھر میں بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا۔ مرد مجبوراً اسے گھر میں بند کرکے اکیلا باہر جاتا ہے مگر وہاں وہ اکیلا رہ نہیں سکتا۔ وہ سیدھے ہاتھ میں چھڑی اور الٹے ہاتھ میں عورت چاہتا ہے۔ تقویت دل ودماغ کے لئے گھر میں رکھی ہوئی معجون دفتر اور کاروبار میں بھلا کیا مدد پہنچا سکتی تھی۔ لہٰذا وقتی گزارے کے لئے اس نے دفتر ہی میں دور بیٹھی ہوئی ٹائپسٹ، کبھی کبھی نظر آجانے والی منیجر کی حسین لڑکی اور ایسی ہی اکا دکا ہیروئن ڈھونڈ کر جسم تاپنا شروع کر دیا۔ اس کے جواب میں ”گوڈر کا لعل“ روشنگ بیگم ”زہرہ بیگم“ کی ہیروئن کو دیکھ کر ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ عورت کی جنگ برابر جاری رہی اور جیت آخر میں اسی کی ہوئی۔ مگر اسے پھر بھی قرار نہ آیا۔ اس نے تو بالکل ہی طوق گلو بننے کا فیصلہ کر لیا تھا وہ اور بڑھی پہلے تو گھر کی چار دیواری میں رشتہ کے بھائیوں ان کے ودستوں اور پاس پڑوس والوں سے آنکھ مچولی شروع کر دی۔ عظیم بیگ کی ہیروئن کے پردے اور برقعے کے تانے بانے کو اندر کشتیاں پچھاڑنی شروع کر دیں۔ موقع بےموقع سر پر چڑھ بیٹھی۔ گردن میں جھول گئی۔ سینے سے آن لگی۔ یہ چھپے ڈھکے جلوے اور بھی زیادہ گدگدانے لگے۔ طوائفوں کے نخرے پرانے اور پریم چند کے آہنسا کے قائل مقدس چیلی، بےوقوف اور بزدل نظر آنے لگی اس کے گیگلے پن سے جان جل گئی۔ جتنا بھی وہ ناک رگڑتی گئی اس سے نفرت ہوتی گئی۔ یہاں تو اب صرف وہ ہیروئن پیر جما سکتی تھی جو منہ کا نوالہ اچک لے۔ بھڑوں کا چھتہ منہ پر اوندھا دے۔ بجائے میٹھی میٹھی نظروں کے کونین میں بجھے ہوئے تیروں سے کام ودہن کی تواضع کرے۔ پڑھی لکھی چاہے خاک نہ ہو مگر وقتاً فوقتاً تھپڑ اور چانٹوں سے گال سینک دے۔ تنخواہ کم، گزارا مشکل، لیکن اگر ایسی شوخ شلستہ بیوی ہو جو سارے دکھ درد چٹکیوں میں اڑا دے تو پھر کون جنت کی آرزو میں مرے۔ مرد، عورت کے ظلم سہنے کے لئے ہی پیدا ہوا ہے۔ اس کے بغیر تو جنت میں بھی رہنے کو تیار نہ ہوسکا۔ حضرت آدم نے بیٹھے بٹھائے پسلی چیر کراس فتنے کو نکال ڈالا اور اپنے سر پر سوار کر لیا۔ خواہ بیوی ہو یا رنڈی جو لگام پکڑے ہنکے چلے جائیں گے۔ جتنے کوڑے زیادہ پڑیں گے۔ چال میں مستی اور روانی بڑھتی جائے گی۔ مگر ہر بات کی حد ہوتی ہے دل کے ساتھ ساتھ وہ قول وفعل کی بھی چوکیدار بن بیٹھی اور دماغ کی پاسبانی شروع کر دی۔ سانپ کے منہ کی چھچھوندر بن گئی۔ جو نگلی جائے نہ تھوکی جائے۔ چھتری ٹوپی اور برساتی کوٹ کی طرح ساتھ ٹنگ کر رہ گئی۔ یہاں تک کہ مرد چیخ اُٹھا۔ سب سے پہلے پطرس قبولے اور ان کے بعد عظیم بیگ اور شوکت تھانوی بھی چیخ چیخ کر دہائی دینے لگے۔ ادھر چچا چھکن، منشی جی، مرزا جی اور ہزاروں جی بھی پکار اُٹھے: ”یہ زیادتی ہے بیگم! ہمیں ہنساؤ مگر نہ اتنا کہ پیٹ میں درد اُٹھنے لگے“۔ ادھر ہیروئن ڈھیلی ڈوری کھینچتی گئی اس نے یہ راز بھی معلوم کر لیا کہ اگر وہ ذرا دبی ہوئی ہے تو سوائے اس کے اور کوئی بات نہیں کہ میاں پیسوں پر اکڑتے ہیں کیوں نہ یہ چار پیسوں کی کمائی توڑ کر الگ کر دی جائے لہٰذا محلہ ٹولہ کی سلائی سے شروع کرکے اقتصادی بازار کے ہر کونے میں رینگنے لگی۔ اس نئے روپ نے اس میں چار چاند لگا دیئے۔ ویسے اگر عورت بھیس بدل کر آئے تو خود اس کا میاں اس پر عاشق ہوجاتا ہے۔ جب کمانے نکلی تو یوں معلوم ہوا جیسے کوئی شاندار سرکس شہر میں آگیا ہے۔ عورت اسکولوں میں پڑھا رہی ہے۔ ملا جی ہکا بکا منہ پھاڑے رہ گئے۔ عورت ڈاکٹر بن گئی۔ حکیم جی مارے حیرت کے پلکیں جھپکانے لگے۔ عدالت میں وکیل مخالف کو بوکھلاہٹ کے مارے کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔ ہٹو! بچو! عورت آرہی ہے۔ لوگ گھبرا کر اُلٹ گئے اور دھڑا دھڑ میدان مارنے لگے۔ اقتصادیات کے میدان کے ساتھ ساتھ بھلا وہ دل کی دنیا کو کیوں نہ تاراج کرتی۔ لہٰذا ہر طرف تباہی مچا دی۔ تو…یہ کماؤ ہیروئن جسمانی اور دماغی اعتبار سے چاق وچوبند، بالکل لٹیروں کی طرح چاروں طرف ہاتھ مارنے لگی۔ اب تو مذاق کی حد ہوگئی خیر کونین کھلاتی تھی، تھپڑ لگاتی تھی تو کوئی مضائقہ نہ تھا۔ یہ تو ایک عورت کے نخرے ہوئے۔ چوکیداری کرتی تھی۔ ذرا سی بات پر ٹسوے بہانے لگتی تھی۔ ہمزاد بن کر وقت بےوقت سوار رہتی تھی تو کیا تھا؟ تھی تو اپنی دست نگر! اپنی بلی بھی کبھی پنجہ مار بیٹھتی ہے۔ مگر خرخر کرکے پھر اپنا نرم گرم جسم پیروں سے رگڑ کر منا بھی تو لیتی ہے۔ فیشن بھی کرتی ہے۔ خرچ ہے تو کیا۔ ہے تو اپنی ۔ہمیں سے تو مانگ کر اتراتی ہے۔ہماری جیبوں سے تو اٹھلا اٹھلا کر پیسہ نکالتی ہے لیکن یہ بالکل مردانہ وار اقتصادی دنیا میں خم ٹھونک کر جو خود اپنی کمائی کہہ کر کھسوٹ لے جاتی ہے یہ تو سرا سر ڈاکہ زنی ہے۔ صاف دھوکہ! نتیجہ یہ کہ بڑی جلدی یہ ہیروئن ڈائن بن گئی۔ بہت سمجھایا، صاف صاف دکھا دیا کہ ایسی خود سر اور خود مختار عورتوں کا بڑا بد انجام ہوتا ہے حرام کے بچے پیدا ہو جاتے ہیں۔ عصمتیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ ساری دنیا جنم میں تھوکتی ہے۔ دفتر میں کلرک بہکالےجاتے ہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹر روگ لگا دیتے ہیں۔ اسکولوں میں ماسٹر عاشق ہو جاتے ہیں۔ ادھر والدین کی شمع ہدایت دکھائی۔ اسکول میں ہر لڑکی کو کم از کم ایک بار ضرور ناجائز بچے کی ماں بننا پڑتا ہے۔ پڑھنا لکھنا کچھ نہیں صرف عشق بازی سکھائی جاتی ہے۔“ شرم دلائی ”بیٹیوں اور بیویوں کی کمائی کھاتے ہو۔ ڈوب نہیں مرتے“۔ یہ ماسٹر دیکھنے میں کھٹائی جیسے چمرخ مگر ہر ایک اپنے وقت کا مجنوں اور فرہاد ہے۔ اس وقت کی جو کہانی اٹھا کر دیکھئے بس استاد اور طالبہ کے پر سوز عشق اور عبرتناک انجام سے پُر نظر آئے گی۔ یقیناً یہ ادب بھی اپنا اثر دکھاتا اور ہیروئن واپس پستی کے چرنوں میں سرنگوں ڈھکیل دی جاتی۔ بات یہ ہوئی کہ بازار میں نہ جانے کیوں لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں کی مانگ ہوگئی۔ اگر ایک گریجویٹ بیس روپیہ کماتا تو لڑکی ایک سو بیس مار لیتی۔ جوں جوں تعلیم نسواں کار آمد ہوتی گئی۔ تعلیم مرداں فضول اور بے کار بنتی گئی۔ ہیروئین نے پیر مضبوط جما دیئے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک عجیب وغریب کشمکش شروع ہوگئی۔ تعلیم یافتہ لڑکیوں کی مانگ بڑھی مگر اس تیزی سے نہیں جس تیزی سے تعداد بڑھی۔ جب ایک میٹرک پاس لڑکی عنقا سمجھی جاتی تھی۔ اب گلی گلی گریجویٹ اُگ آئیں۔ شادی کے بازار میں بڑی افراتفری مچ گئی۔ ایک پڑھی لکھی لڑکی کے لئے کم از کم ”آئی سی ایس یا پی سی ایس تو ہو۔ کاش گورنمنٹ لڑکیوں کی تعداد دیکھ کر افسروں کا تقرر کرتی۔ تو یہ مصیبت کیوں نازل ہوتی۔ یہ گنے چنے افسر تو اونٹ کی ڈاڑھ میں زیرہ بن کر رہ گئے۔ جس نے اونچی بولی لگائی وہی لے اڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گریجویٹ اور تعلیم یافتہ (لڑکیوں کی کثیر تعداد اس انتظار میں کہ کب گورنمنٹ آفیسر برسیں اور وہ سمیٹ لیں۔ مختلف شعبوں میں نوکر ہوگئیں۔ اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ افسروں کی تعداد کم رہی تو کلرک بدقسمت اسکول ماسٹر ناکام اور اجڑے ہوئے ڈاکٹر نہیں پیدا ہوئے وہ تو اور بھی شدت سے پیدا ہوئے۔ اب ان بےچاروں کے پاس دو راستے رہ گئے یا تو جاہل لڑکیوں سے نصیبہ پھوڑ لیں یا امیر اور تعلیم یافتہ لڑکیوں سے تخیلی عشق کرکے زندگی ان کی یاد میں گزار دیں۔ جنہوں نے دل پر پتھر رکھ کر سر پھوڑ لیا ان کی روحیں بھی جیون ساتھی کی تلاش میں بھٹکا ئیں۔ زندگی بھر ہم خیال وہم مذاق بیوی کا ارمان دل میں کچوکے مارتا رہا اور جو زیادہ ہمت والے تھے وہ پاس پڑوس کی کبھی کبھی نظر آجانے والی اپٹوڈیٹ حسینہ کی آگ میں سلگنے لگے۔ آخر الذکر تعداد میں زیادہ بڑھے اور نتیجہ یہ ہوا کہ عورتیں اور مرد پیدا ہوتے گئے اور دنیا میں رہتے رہے۔ ایک دوسرے کے لئے نہیں بلکہ ”موزوں رشتہ“ کے لئے ! بالکل جیسے ایک دکان میں کپڑے کے گٹھڑ پڑے گل سڑ رہے ہوں۔ اور دوسری طرف سڑکوں پر ننگے گھوم رہے ہوں۔ ایک ہوٹل میں باسی مٹھائیوں اور کھانوں کے انبار موریوں میں لنڈھائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں جوں جوں دکانیں اور ہوٹل لوازمات سے بھر جاتے ہیں۔ سڑکوں پر ننگے اور بھوکوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک پنجرے میں لڑکے اور دوسرے میں لڑکیاں بند کرکے بیچ میں چال چلن کے پہرے دار بٹھا دیئے گئے۔ لڑکیاں کنواری بیٹھی سوکھ گئیں ادھر لڑکے حیوان بنتے چلے گئے۔ نتیجہ یہ کہ انسانیت زیادہ بھوکی، مفلوج اور غیر انسانی بنتی گئی اور پھر ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا جو برسوں کی چھپی ڈھکی غلاظتوں کے مواد کی طرح پھوٹ پڑا۔ اس نے جو پہلا کام کیا وہ تخریب تھا۔ بوڑھے گھنے ہوئے پیڑ کا تنا اکھاڑے بغیر نیا پودا لگانا دشوار ہے پرانے مکان کو ڈھا کر ہی نئی کوٹھیاں بنائی جا سکتی ہیں سب سے پہلے تو عورت اور مرد کے بیچ میں جو پاسبان بیٹھا تھا اس سے مڈبھیڑ ہوئی چونکہ بغیر عورت کے دنیا ادھوری تھی گھر میں اپنی کمائی سے عورت رکھنے کی نہ ہی اقتصادی حالت نے اجازت دی اور نہ پاسبانوں نے۔ لاچار ہو کر وہ واپس طوائف کی آغوش میں جاگرا۔ گرہست ہیروئن کے راج میں طوائف مٹ مٹا کر خاک ہو چکی تھی۔ ناقدری اور پھٹکار نے اسے صورت سے بےصورت کر دیا تھا۔ کچھ دیوالیہ ہو کر نکاح کر بیٹھی تھیں۔ کچھ لمبی چوڑی دکانیں لٹوا کر گندی نالیوں کے پاس خوانچہ لگا چکی تھیں۔ کچھ نے روپ بدل ڈالا تھا۔ اور جیسے طوائف ہیروئین سے مرد کو چھیننے کے لئے گرہستن نے گھونگھٹ اٹھایا تھا۔ آج اس نے اسی پھینکے ہوئے آنچل میں منہ چھپانے کی کوشش کی تھی۔ کبھی گرہستن نے اس کے ہتھکنڈے اور بناؤ سنگھار چھینے تھے آج اس نے گرہستن کی بےچارگی اور بے کسی کی آڑ لی اور سوائے بالکل نچلے طبقہ کے طوائف کو پہچاننا بھی دشوار ہوگیا تھا اور جب یہ باغی طبقہ طوائف کی تلاش میں نکلا تو اس کی حالتِ زار دیکھ کر اس کا جی دہل گیا۔ طوائف اب وہ سرشار کی چہکتی ہوئی بلبل نہیں رہی تھی۔ بلکہ بھوکی کمینی بلی بن گئی تھی سوائے فقیروں اور یکہ تانگہ والوں اور مزدوروں کے کسی کو اس کا نام ونشان بھی معلوم نہ رہا تھا۔ اپنا مطلب تھا تو اسی طوائف کو شعروں میں پرو ڈالا قصیدوں میں گوندھ کر، ناولوں میں سجا کر، ادب کو اس کی لونڈی بنا دیا اور پھر جو بھولے تو ایسا بھولے کہ لوٹ کر خبر بھی نہ لی۔ گھر میں نل لگ گیا تو میٹھے پانی کی کنوؤں کو ایسا فراموش کیا کہ اندھی ہو کر سانپوں اور کنکھجوروں کا مسکن بن گئی اور اب وقت پڑا تو اسی کے کنارے پیاسی زبانیں لٹکائے ہانپ رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ میونسپلٹی سے کہہ کر صفائی کرانے پر تلے ہوئے ہیں مگر یہ اندھا کنواں دوبارہ کار آمد ہونے سے پہلے بڑی سخت مدد کا طالب تھا چنانچہ باغی طبقہ اس کی حمایت میں چیخ پڑا۔ پکار پکار کر اس نے دنیا کے اس زخم کو دکھایا جو نا سور بن کر بج بجا اٹھا تھا۔ غریب مگر خودار جوان اس طبقے کی حفاظت کو اٹھ کھڑا ہوا جو اس کی تھی۔ اس کے کام آسکتی تھی۔ اسے سارا حسن اور تمام لطافتیں اس ٹکھیائی اور فقیرنی میں نظر آئیں جس میں دنیا بھر کی غلاظتیں جذب ہوچکی تھیں۔ مگر جو اسے مل سکتی تھی ناقدری کی وجہ سے وہ گر گئی تھی۔ اور اسی کے کرم کی محتاج تھی شریف عورت اس نوجوان کی زندگی سے دور تر ہوتی گئی۔ وہ اس کے بارے میں نہ کچھ جان سکا اور نہ اس نے جاننے کی کوشش کی۔ اس کی نظروں میں وہ صرف نک چڑھی، خود غرض اور جھوٹی مخلوق بن کر رہ گئی جو پیار بھری نظروں کو گال اور عشق کو گھناؤنا سمجھتی ہے۔ جو محبت کرنا ہتک سمجھتی ہے۔ اور مرد کی حفاظت کو اپنی توہین۔ اس میں عام طوائف جیسی گندی بھیانک جاذیبت کہاں؟ عام طوائف سے وہ طوائف مراد نہیں جو بڑے آدمیوں کی دنیا میں چمکا کرتی ہے بلکہ سڑک کی وہ ننگی بھوکی کتیا جو راہ چلتے کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹتی ہے جو ہر قیمت پر ہر حیثیت کے انسان کو لنگر بانٹتی ہے اس کی گندگی اور غلاظت گھن کھانے کی چیز نہیں بلکہ اصلاح کی محتاج ہے۔ اگر ہمارے مکان میں نالی سڑ رہی ہے تو یہ اس بیچاری نالی کا قصور نہیں بلکہ مکان دار کا قصور ہے اسے گندہ کہہ کر منہ موڑ لینے سے گندگی دور نہیں ہو جائے گی۔ طوائف گندی اور بیمار، کمینی اور جعلساز ہے تو اس کا قصور نہیں بلکہ اس نظام کا قصور ہے جو انسانیت کی یوں بے قدری کرتا ہے۔ نئے ادیبوں نے طوائفوں کا حال لکھ کر بے شک ایک متعفن پھوڑےکا منہ کھول دیا جس نے نازک مزاج لوگوں کی لطیف طبیعتوں پر برا اثر ڈالا مگر اس پھوڑے کا مواد نکل جانے سے دنیا کے تھوڑے بہت دکھ مٹ جانے کا امکان پیدا ہو گیا طوائف کیسی بھی ذلیل ہو، ہماری دنیا کے جسم کا ایک حصہ ہے اسے سڑا کر نہیں پھینکا جاسکتا۔ لوگ اسے عورت نہیں مانتے وہ جو دنیا کے ہر دکھیارے کا سہارا ہر بھوکے کا دسترخوان ہے وہ بےشک عورت نہیں مگر اس سے بھی زیادہ کار آمد ہستی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کا نوجوان گرہستن سے زیادہ بازاری مال کی بہتری کا خواہاں ہے۔ وہ اس کی زندگی سے دور اور یہ قریب ہے اسے کیا غرض جو تعلیم نسواں نہیں ہو رہی یا بیوائیں بن بیاہی سوکھ رہی ہیں یا میاں بیوی کی ناکیں کاٹے ڈال رہے ہیں۔ اس کی بلا سے دنیا بھر بیوہ ہو جائے اور عورت مٹے یا رہے۔ دیکھئے نا آپ کے محلے کی نالی خراب ہوجاتی ہے تو آپ غل مچا دیتے ہیں۔ اور آپ پروا بھی نہیں کرتے کہ اس سال لڑائی کی وجہ سے وکٹوریہ گارڈن میں عمدہ بیج نہ بوئے جا سکے۔ اس لئے اس سال تختہٴ گل کی بہار سے لوگ محروم رہ جائیں گے۔ آپ کی بلا سے پھول کھلیں یا نہ کھلیں مگر نالی ضرور صاف ہونی چاہئے۔ اب خواہ دنیا موجودہ ادب کی ہیروئن کو ناپاک، عریاں اور مکروہ کہے، زمانے نے اسے ہیروئن کا رتبہ دے دیا۔ یہ زمانے کی نشیب وفراز کی ڈھالی ہوئی اینٹ ہے جو تعمیر میں اپنی جگہ پا گئی۔ یہ تو ہوئی ہیروئن سرشار کی نازو ادا بھری نازنین، جسے دنیا میں سوائے کھانے پینے اور عیش کرنے کے کسی بات کی فکر نہیں…میں نے غلط کہا، ایک بات کی بے انتہا فکر ہے اور وہ عشق لڑانے کی۔ یہ زمانہ ہے فارغ البالی کا۔ پھر اس کے مقابلے میں پریم چند کی مظلوم عورت، اور راشد الخیری کی کچلی ہوئی بیوہ، یہ زمانہ ہے اقتصادی کشمکش کا اور سدھار کا پھر لیجئے مزاح نگاروں…یہ ہنس گئے اور ہنسا گئے۔ چمڑی میں مگن، نہ آگے جانا نہ پیچھے ہٹنا۔ پھر ایم اسلم کی سادھو کی لڑکی جسے سوائے ندی کے کنارے آنے جانے والوں سے پریم کی پتنگیں بڑھانے اور بھونروں کے ساتھ گیت گانے کے اور کوئی کام نہیں۔ مس حجاب کی بےوقوف، کاہل اور بےمصرف دوشیزہ جسے سوائے چوہوں سے ڈر کر بےہوش ہوجانے کے اور کچھ نہیں آتا۔ جہاں حسن وعشق کو بناوٹ نے الو بنا رکھا ہے۔ یہ زمانہ ہے عاجز آکر اونگھنے کا۔ اور پھر کرشن کی زندہ عورت، بیدی کی کاروباری ہیروئن، منٹو کی جیتی جاگتی سب کی جانی پہچانی بےحیا رنڈی، عصمت کی بےچین منہ پھٹ اور بےشرم لڑکی، ستیارتھی کی خانہ بدوش، عسکری کی فلسفی میم صاحب…یہ زمانہ ہے زندہ رہنے کے لئے لڑ مرنے کا، کچھ تعمیر کرنے کے لئے جدوجہد کا، کچھ مٹانے کے لئے اورکچھ بنانے کے لئے۔ دین ودنیا کو پلٹ کر دینے کا۔ جیسا کہ موجودہ فضا سے ظاہر ہورہا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ہماری آئندہ زندگی کی ہیروئن کس شان سے جلوہ افروز ہوتی ہے۔ خدا کے بعد عورت ہی کی پرستش ادب میں کی گئی ہے۔ یا شاید اس کا نمبر پہلے آتا ہے او رپھر دنیا کی دوسری طاقتوں کا۔ جہاں تک اندازہ لگایا جاتا ہے آنے والی ہیروئن نہ تو ظالم ہوگی نہ مظلوم بلکہ صرف ایک عورت ہوگی۔ اور اہرمن ویزداں کے بجائے ادیب اسے عورت کا رتبہ ہی بخشیں گے۔ اور پھر تعمیر شروع ہوگی۔ (ایک بات) * * * |
| ہیبت ناک افسانے |
|
”ہیبت ناک افسانے“ کا پیکٹ جب یہاں پہنچا۔ میں گھر پر موجود نہ تھا۔ میری عدم
موجودگی میں چند انگریز احباب نے جو کتابوں اور اشیائے خوردنی کے معاملے میں ہر
قسم کی بےتکلفی کو جائز سمجھتے ہیں، پیکٹ کھول لیا۔ یہ دوست اردو بالکل نہیں جانتے۔
بجز چند ایسے کلموں کے جو غصے یا رنج کی حالت میں وقتاً فوقتاً میری زبان سے نکل
جاتے ہیں او رجو بار بار سننے کی وجہ سے انہیں یاد ہوگئے ہیں۔ اردو تقریر میں ان کی
قابلیت یہیں تک محدود ہے۔ تحریر میں اخبار ”انقلاب“ کا نام پہچان لیتے ہیں وہ بھی
اگر خط طغریٰ میں لکھا گیا ہو چنانچہ جب واپس پہنچا تو ہر ایک نے محض کتاب کی وضع
قطع دیکھ کر اپنی اپنی رائے قائم کر رکھی تھی۔ سرورق پر جو کھوپڑی کی تصویر بنی
ہوئی ہے اس ے ایک صاحب نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ کتاب:
میں بھی کبھی کسی کا سر پر غرور تھا سے متعلق ہے۔ ایشیا کے ادیب (عمر خیام، گوتم بدھ وغیرہ) اکثر اس قسم کے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے صاحب سمجھے کہ فن جراحی کے متعلق کوئی تصنیف ہے۔ ایک بولے جادو کی کتاب معلوم ہوتی ہے (ہندوستان کے مداریوں کا یہاں بڑا شہرہ ہے) ایک خاتون نے کتاب کی سرخ رنگت دیکھ کر بالشویکی شبہات قائم کرلئے۔
میں نے کتاب کو شروع سے آخر تک پڑھا۔ گو یہ سب کی سب کہانیاں میں پہلے انگریزی میں
پڑھ چکا ہوں۔ اور ان میں سے اکثر تراجم کتابی صورت میں شائع ہونے سے پہلے خود
امتیاز سے سن چکا ہوں۔ وہ مختلف قسم کی دلفریبیاں جو مجھے کبھی کسی تصنیف کو مسلسل
پڑھنے پر مجبور کرسکتی ہیں سب کی سب یہاں یکجا تھیں۔ کتابت ایسی شگفتہ کہ نظر کو
ذرا الجھن نہ ہو تحریرمیں وہ سلاست اور روانی
کہ طبیعت پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔ او رپھر
امتیاز کے نام میں وہ جادو جس سے ہندوستان یا انگلستان میں کبھی بھی مَفر نہ ہو۔
یہ کتاب تیرہ ہیبت ناک افسانوں کا مجموعہ ہے۔ جن کے مصنف کا مدعا یہ تھا کہ پڑھنے
والوں کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے او رہر افسانے میں درد وکرب خوف ودہشت یا
پھر مرگ وابتلاء کی ایسی خونیں تصویر کھینچی جائے کہ بدن پر ایک سنسنی سی طاری ہوجائے۔ ایڈگرایلن پو کے پڑھنے والے ایسے افسانوں سے بخوبی آشنا ہوں گے۔ حق تو یہ ہے
کہ پو اس فن کا استاد تھا۔ اور یہ جو آج کل اس صنف ادب کی کثرت فرانس میں نظر
آتی ہے
عجب نہیں کہ اس کا بیشتر حصہ تو اسی کی بدولت ہو۔ کیونکہ فرانس کی ادیبات پر پو کا
اثر مسلم ہے اور ادب کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو۔ جہاں کسی نہ کسی صورت میں اس نے
اپنا رنگ نہ پھیر رکھا ہو۔ پیرس میں ایک خاص تھیٹر اسی بات کے لئے وقف ہے کہ اس میں
دہشت انگیز کھیل دکھائے جائیں۔ اس کمپنی نے اس قسم کے ڈراموں کا اچھا خاصا مجموعہ
مہیا کر رکھا ہے۔ تھیٹر کی ڈیوڑی میں چیدہ چیدہ ڈراموں کے مشہور مناظر کی تصاویر
آویزاں ہیں۔ کہیں کوئی بدنصیب موت کی آخری انگڑائیاں لے رہا ہے۔ چہرہ تنا ہوا ہے
اور آنکھیں باہر پھوٹی پڑتی ہیں۔ کہیں کوئی سفاک کسی حسینہ کی آنکھیں نکال رہا ہے۔
بائیں ہاتھ سے گردن دبوچے ہوئے ہے۔ دائیں ہاتھ میں خون آلود چھری
ہےاورلڑکی کی
آنکھوں سے لہو کی دھاریں بہہ رہی ہیں۔ کھیل کو ہیبت ناک بنانے کے لئے جو جو تدابیر
بھی ذہن میں آسکتی ہیں ان سب پر عمل کیا جاتا ہے۔ ایکٹر اپنی شکل شباہت اپنی
آواز اور اپنی حرکات کے ذریعے ایک خوف سے کانپتی ہوئی فضا پیدا کرلیتے ہیں۔ پردہ
اُٹھنے سے پہلے ہی گھنٹی نہیں بجائی جاتی بلکہ چراغ گل کرکے لکڑی کے تختے پر دستک دی
جاتی ہے۔ اس سے ہیبت اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ پطرس ۔ از کیمبرج (مخزن مئی ۱۹۲۸ء) * * * |
رونا رُلانا |
|
ایک امریکن ادبی نقاد ایک مقام پر لکھتا ہے کہ مرد ایک ہنسوڑا جانور ہے اور
عورت ایک ایسا حیوان ہے جو اکثر رونی شکل بنائے رہتا ہے۔
مصنف کی خوش طبعی نے اس فقرے میں مبالغے اور تلخی کی آمیزش کر دی ہے اور چونکہ وہ خود مرد ہے اس لئے شاید عورتوں کو اس سے کلی اتفاق بھی نہ ہو لیکن بہرحال موضوع ایسا ہے جس پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔ میرے ایک دوست کا مشاہدہ ہے کہ عورتوں کی باہمی گفتگو یا خط وکتابت میں موت یا بیماری کی خبروں کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسے واقعات کے بیان کرنے میں عورتیں غیرمعمولی تفصیل اور رقت انگیزی سے کام لیتی ہیں۔ گویا ناگوار باتوں کو ناگوار ترین پیرائے میں بیان کرنا ان کا نہایت پسندیدہ شغل ہے۔ ان سے وہ کبھی سیر نہیں ہوتیں۔ ایک ہی موت کی خبر کے لئے اپنی شناساؤں میں سے زیادہ سے زیادہ سامعین کی تعداد ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتی ہیں ایسی خبر جب بھی نئے سرے سے سنانا شروع کرتی ہیں ایک نہ ایک تفصیل کا اضافہ کر دیتی ہیں اور ہر بار نئے سرے سے آنسو بہاتی ہیں اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ موت یا بیماری کسی قریبی عزیز کی ہو۔ کوئی پڑوسی ہو، ملازم ہو، ملازم کے ننھیال یا سہیلی کے سسرال کا واقعہ ہو، گلی میں رو زمرہ آنے والے کسی خوانچہ والے کا بچہ بیمار ہو، کوئی اُڑتی اُڑتی خبر ہو ، کوئی افواہ ہو۔ غرض یہ کہ اس ہمدردی کا حلقہ بہت وسیع ہے: ”سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے“ نہ صرف یہ بلکہ رقت انگیر کہانیوں کے پڑھنے کا شوق عورتوں ہی کو بہت زیادہ ہوتا ہے
اور اس بارے میں سب ہی اقوام کا ایک ہی سا حال ہے۔ غیرممالک میں بھی رلانے والی کہانیاں
ہمیشہ نچلے طبقہ کی عورتوں میں بہت مقبول ہوتی ہیں۔ گھٹیا درجے کے غم نگار مصنفین
کو اپنی کتابوں کی قیمت اکثر عورتوں کی جیب سے وصول ہوتی ہے۔ وہ بھی عورتوں کی فطرت
کو سمجھتے ہیں۔ کہانی کیسی ہی ہو اگر اس کا ہر صفحہ غم والم کی ایک تصویر ہے تو اس
کی اشاعت یقینی ہے اور عورتوں کی آنکھوں سے آنسو نکلوانے کے لئے ایسے مصنفین طرح
طرح کی ترکیبیں کرتے ہیں۔ کبھی ایک پھول سے بچے کو سات آٹھ سال کی عمر میں ہی
مار دیتے ہیں اور بستر مرگ پر توتلی باتیں کرواتے ہیں۔ کبھی کسی یتیم کو رات کے
بارہ بجے سردی کے موسم میں کسی چوک پر بھوکا اور ننگا کھڑا کر دیتے ہیں۔ اور بھی
رقت دلانی ہو تو اسے سید بنا دیتے ہیں۔ یہ کافی نہ ہو تو اسے بھیک مانگتا ہوا دکھا
دیتے ہیں کہ ”میری بوڑھی ماں مر رہی ہے۔ دوا کے لئے پیسے نہیں۔ خدا کے نام کا کچھ
دیتے جاؤ۔ کبھی کسی سگھڑ خوب صورت نیک طینت لڑکی کو چڑیل سی ساس کے حوالے کرا
دیا۔ یا کسی بدقماش خاوند کے سپرد کر دیا۔ اور کچھ بس نہ چلا تو سوتیلی ماں کی گود
میں ڈال دیا اور وہاں دل کی بھڑاس نکال لی۔ پڑھنے والی ہیں کہ زاروقطار رو رہی ہیں
اور بار بار پڑھتی ہیں اور بار بار روتی ہیں۔ (تہذیب نسواں) * * * |
کاغذی روپیہ |
|
خواجہ علی احمد شہر کے بڑے سوداگر تھے۔ لاکھوں کا کاروبار چلتا تھا۔ لوگوں میں
عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ بچہ بچہ ان کی دیانت داری سے واقف تھا اور ہر شخص
جانتا تھا کہ خواجہ علی احمد قول کے سچے او ربات کے پکے ہیں۔
ایک دن انہوں نے اپنے ایک آدمی کو جوتے والے کی دکان سے جوتا خریدنے بھیجا۔ جوتے کی
قیمت بیس روپے تھی لیکن بجائے اس کے کہ خواجہ علی احمد اپنے نوکر کو بیس روپے دے کر
بھیجتے، انہوں نے نوکر کے ہاتھ کریم خاں جوتے والے کے نام ایک رقعہ لکھا:
”میاں کریم خاں! مہربانی کرکے ہمارے آدمی کو بیس روپے کا ایک جوتا دے دو، ہمارا یہ رقعہ اپنے پاس سنبھال کے رکھ چھوڑو۔ جب تمہارا دل چاہے۔ یہ رقعہ آکے ہم کو یا ہمارے منشی کو دکھا دینا اور بیس روپے لے جانا۔ یہ رقعہ اگر تم کسی اور شخص کو دینا چاہو تو بےشک دے دو، جو ہمارے پاس لائے گا ہم اس کو بیس روپے دے دیں گے۔ راقم خواجہ علی احمد“۔ دکان دار نے جب رقعے کے نیچے خواجہ علی احمد کا دستخط دیکھا تو اسے اطمینان ہوا۔ جانتا تھا کہ خواجہ صاحب مکرنے والے آدمی نہیں اور پھر لاکھوں کے آدمی ہیں۔ روپے نہیں بھیجے تو نہ سہی۔ یہ رقعہ کیا روپوں سے کم ہے؟ جب چاہوں گا، رقعہ جا کر دے دوں گا اور روپیہ لے لوں گا، چنانچہ اس نے بغیر تامل کے جوتا بھیج دیا۔ تھوڑی دیر بعد کریم خاں دوکان دار کے پاس عبدالله حلوائی آیا اور کہنے لگا۔ ”میاں کریم خاں! میرے تمہارے طرف پچیس روپے نکلتے ہیں۔ ادا کر دو تو تمہاری مہربانی ہوگی۔ کریم خاں نے کہا۔ ”ابھی لو۔ یہ پانچ تو نقد لے لو۔ باقی بیس روپے مجھے خواجہ علی احمد سے لینے ہیں یہ دیکھو، ان کا رقعہ ذر ٹھہر جاؤ، تو میں جاکے ان سے بیس روپے لے آؤں۔ عبدالله بھی خواجہ علی احمد کو اچھی طرح جانتا تھا کیونکہ شہر بھر میں خواجہ صاحب کی ساکھ قائم تھی کہنے لگے۔ تم یہ رقعہ مجھے ہی کیوں نہ دے دو میں ان سے بیس روپے لے آؤں گا کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ جو شخص یہ رقعہ لائے گا اس کو بیس روپے دے دیئے جائیں گے“۔ کریم خان نے کہا۔ ”یونہی سہی“۔ چنانچہ عبدالله حلوائی نے بیس روپے کے بدلے وہ رقعہ قبول کرلیا۔ کئی دنوں تک یہ رقعہ یونہی ایک دوسرے کے ہاتھ میں پہنچ کر شہر بھر میں گھومتا رہا۔ خواجہ علی احمد پر لوگوں کو اس قدر اعتبار تھا کہ ہر ایک اسی رقعے کو بیس روپے کے بجائے لینا قبول کرلیتا کیونکہ ہر شخص جانتا تھا کہ جب چاہوں گا اسے خواجہ صاحب کے منشی کے پاس لے جاؤں گا اور وہاں سے بیس روپے وصول کرلوں گا۔ ہوتے ہوتے یہ رقعہ ایک ایسے شخص کے پاس پہنچ گیا جس کا بھائی کسی دوسرے شہر میں رہتا تھا۔ یہ شخص اپنے بھائی کو منی آرڈر کے ذریعے بیس روپے بھیجنا چاہتا تھا۔ ڈاک خانے والوں نے اس رقعہ کے بیس روپے کے عوض میں لینا قبول نہ کیا۔ چنانچہ وہ شخص سیدھا خواجہ احمد علی کی کوٹھی پر پہنچا۔ رقعہ منشی کو دیا۔ منشی نے بیس روپے کھن کھن گن دیئے۔ اس نے روپے جا کر ڈاک خانے والوں کو دیئے اور انہوں نے آگے اس کے بھائی کو بھیج دیئے۔ اس مثال سے یہ ظاہر ہوا کہ محض ایک کاغذ کا پرزہ کتنی مدت تک روپے کا کام دیتا رہا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کاغذ کے نیچے ایک ایسے شخص کے دستخط تھے جس کی دیانت داری پر سب کو بھروسہ تھا۔ اور جس کی دولت کا سب کو علم تھا۔ سب جانتے تھے کہ یہ شخض جب چاہے بیس روپے ادا کرسکتا ہے۔ اور قول کا اتنا پکا کہ کبھی ادا کرنے سے انکار نہ کرے گا۔ اگر ایسے ہی ایک رقعے کے نیچے ہم یا تم دستخط کر دیتے تو کوئی بھی اسے روپے کے بدلے میں قبول نہ کرتا۔ اول تو ہمیں جانتا ہی کون ہے اور جو جانتا بھی ہے وہ کہے گا کہ ان کا کیا پتہ۔ آدمی نیک اور شریف اور دیانت دار سہی، لیکن خدا جانے ان کے پاس بیس روپے ہیں بھی یا نہیں؟ کیا معلوم یہ مانگنے جائیں اور وہاں کوڑی بھی نہ ہو۔ خواجہ احمد کا رقعہ گویا ایک قسم کا نوٹ تھا۔ سرکاری نوٹ بھی بالکل یہی چیز ہوتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ان کے نیچے سرکار کی طرف سے سرکاری خزانے کے ایک افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔ اگر تم دس روپے کے نوٹ کو لے کر دیکھو تو اس پر اوپر حکومت پاکستان اور اس کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ ”میں اقرار کرتا ہوں کہ عندالمطالبہ حامل ہذا کو دس روپیہ سرکاری خزانہ کراچی سے ادا کروں گا“۔ اس عبارت کے نیچے سرکاری افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔ خواجہ احمد علی کو تو صرف ایک شہر کے لوگ جانتے تھے۔ حکومت پاکستان کو ملک کا ہر آدمی جانتا ہے۔ بلکہ اور ملکوں میں بھی اس کی ساکھ قائم ہے اس لئے سرکاری نوٹ کو ہر شخص بلا تامل قبول کرلیتا ہے۔ اور کوئی قبول کیوں نہ کرے۔ لوگ جانتے ہیں کہ جب چاہیں خزانے میں جا کر اس کے روپے بھنا سکتے ہیں۔ خواجہ علی احمد کے رقعے اور سرکاری نوٹ میں ایک فرق اور بھی ہے۔ خواجہ علی حسن کا رقعہ تو ڈاک خانہ والوں نے قبول نہ کیا تھا لیکن سرکاری نوٹ انہیں ضرور ہی قبول کرنا پڑتا۔ سرکاری نوٹوں کو قانونی طور پر ملک کا سکہ قرار دیا گیا ہے اور کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان کو روپے کے بدلے لینے سے انکار کرے۔ اگر تمہیں کسی شخص نے دس چاندی کے روپے قرض دیئے تھے اور اب اس کو یہ قرضہ اتارنے کے لئے دس روپے کا نوٹ دیتے ہو تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تو چاندی کے روپے ہی لوں گا۔ اسے دس کا نوٹ ضرور لینا پڑے گا۔ روپیہ ایسا ہونا چاہیئے کہ آسانی سے پاس رکھا جا سکے۔ چاندی کے سکوں میں یہ خوبی ایک حد تک پائی جاتی ہے۔ تاہم چاندی کے سکے وزنی ہوتے ہیں۔ اسی روپے کا وزن سیر بھر ہوجاتا ہے تو جہاں پانچ چھ سو روپے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا ہوں، وہاں اچھی خاصی دقت پیش آتی ہے۔نوٹوں سے یہ دقت رفع ہوجاتی ہے۔ ہزاروں روپے کے نوٹ ایک جیب میں آسانی سے ڈالے جا سکتے ہیں۔ نوٹوں کے جاری کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ باوجود ان سب باتوں کے جس شخص کے پاس بہت سا روپیہ ہو۔ اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ بہت سے نوٹ، کچھ روپے چونیاں، دونیاں یہ سب کچھ اپنے پاس سنبھال رکھئے۔ ایک تو سنبھالنے کی تکلیف، دوسرے چوری کا خطرہ، اس لئے بہتر یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنا سب روپیہ بنک میں رکھوا دے۔ بنک میں روپیہ امانت کے طور پر رہتا ہے۔ روپے کا مالک جب چاہے اس کو نکلوا سکتا ہے یا جس کو چاہے اپنے حصے کا روپیہ دلوا سکتا ہے کسی اور کو اپنے حصے کا روپیہ دلوانے کی ترکیب یہ ہے کہ اس کو چک لکھ کر دے دیا جائے۔ ہم یہاں چک کے معنوں کو واضح طور پر بیان کرنا چاہتے ہیں۔ فرض کرو، عبدالله نے بنک میں بہت سا روپیہ جمع کر رکھا ہے۔ کریم خاں اس سے دس روپے مانگنے آتا ہے۔ عبدالله بجائے اس کے کہ کریم خاں کو دس روپے نقد دے، وہ اسے دس روپے کا چک لکھ دیتا ہے۔ چک گویا ایک قسم کا رقعہ ہے۔ جو عبدالله کریم خان کی معرفت اپنے بنک کو بھیج رہا ہے۔ چک پر مفصلہ ذیل الفاظ لکھے ہوتے ہیں: بنام فلاں بنک کریم خاں کو دس روپے دے دو۔ راقم عبدالله کریم خاں کی بجائے عبدالله اگر کسی اور کا نام لکھ دے تو جس کا نام لکھے گا اسی کو روپے ملیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کریم خاں دس روپوں کی بجائے یہ دس روپے کا چک کیوں قبول کرلیتا ہے؟ اس لئے کہ اسے عبدالله پر اعتبار ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بنک میں ضرور عبدالله کا روپیہ جمع ہوگا۔ میں جب یہ چک لے جاؤں گا مجھے روپیہ مل جائے گا۔ اب فرض کرو کہ کریم خاں وہ چک لے کر عبدالله کے بنک میں گیا۔ اور کہا کہ مجھے اس چیک کا روپیہ ادا کر دو۔ بنک والوں نے عبدالله کا حساب دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہاں تو کل تین روپے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ چک ادا نہیں کرسکتے۔ چنانچہ وہ انکار کر دیں گے اور کریم خاں کا عبدالله پر اعتبار باقی نہ رہے گا۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بنک والے عبدالله کو جانتے ہیں۔ مدت سے اس کا حساب کھلا ہوا ہے وہ کہتے ہیں بنک میں تو عبدالله کے تین روپے ہیں، مگر چلو فی الحال ہم باقی کے ساتھ روپے اپنے پاس سے دے دیتے ہیں اور عبدالله کی لاج رکھ لیتے ہیں ہم یہ سات روپے پھر اس سے لے لیں گے لیکن عام طور پر ایسا کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ لوگوں کا جتنا روپیہ بنک میں ہوتا ہے اس کے اندر اندر ہی چک دیتے ہیں اور کم ہی ایسا موقعہ پیش آتا ہے کہ بنک چک ادا کرنے سے انکار کر دے۔ اگر کریم خاں نے خود بھی کسی بنک میں حساب کھول رکھا ہے تو یہ ضروری نہیں کہ عبدالله کا چک لے کر خود عبدالله کے بنک میں جائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح وہ اپنا روپیہ بنک میں جمع ہونے کے لئے بھجوا دیتا ہے۔ اسی طرح یہ چک بھی بھجوا دے۔ اس کے بنک والے خود ہی عبدالله کے بنک سے اس چک کا روپیہ وصول کرلیں گے۔ یہ دس روپے کی رقم کریم خاں کے حساب میں جمع کر دی جائے گی۔ اور عبدالله کے حساب میں خرچ کی آمد میں چڑھا دی جائے گی۔ اسی طرح سے یہ سہولت ہوئی کہ عبدالله اور کریم خاں دونوں کا روپیہ اپنے اپنے بنک میں محفوظ پڑا ہے۔ نہ تو عبدالله کو روپیہ ادا کرتے وقت نہ کریم خاں کو وصول کرتے وقت بنک جانا پڑا۔ اور روپیہ ایک کے حساب میں سے نکل کر دوسرے کے حساب میں جمع بھی ہوگیا۔ یہ سب کچھ ایک چک کی بدولت ظہور میں آیا۔ یہاں ہم نے صرف ”کاغذی روپے“ کی دو قسموں کا ذکر کیا ہے، ایک سرکاری نوٹ اور دوسرے چک، ان کے علاوہ اور بھی کاغذات ایسے ہیں جن کے ذریعے سے بڑی بڑی رقمیں یہاں سے دور دراز ملکوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ (بچوں کے لئے) (خیابانِ اردو) * * * |
نوع انسان کی کہانی |
|
دنیا کی ابتدا
ہماری ہستی ایک بہت بڑا گورکھ دھندا ہے۔ ہم کون ہیں؟ ہم کہاں سے آئے ہیں؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ان سوالات کا جواب افق سے بھی پرے کہیں اور ہمارا انتظار کر رہا ہے اور ہم بہت ہی آہستہ آہستہ لیکن بڑے استقلال اور ہمت کے ساتھ اس کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ لیکن ابھی ہم کچھ بھی مسافت طے نہیں کی! ابھی ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ ابھی ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ تاہم اتنا کچھ جان گئے ہیں کہ اپنے علم کی بدولت کئی اور باتیں بہت حد تک بوجھنے کے قابل ہوگئے ہیں اس باب میں، میں تمہیں یہ بتاؤں گا کہ ظہور انسان سے پہلے جہاں تک ہمیں معلوم ہے دنیا کا کیا حال تھا! اگر ہم یہ اندازہ لگائیں کہ کرہٴ زمین پر جان دار اشیاء کا وجود کتنے عرصہ سے ممکن ہے اور مدت کو اس لکیر سے ظاہر کریں کہ جو ننھی سی لکیر اس کے نیچے کھینچی گئی ہے وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ انسان یا انسان کی طرح کی مخلوق یہاں کتنے عرصہ سے رہتی ہے۔ انسان سب آخر میں آیا لیکن عقل کے ذریعے قدرت کی طاقتوں کو تسخیر سب سے پہلے کیا۔ اسی لئے ہم بلیوں یا کتوں یا گھوڑوں یا دوسرے جانوروں کی بجائے انسان ہی کی تاریخ کا مطالعہ کریں گے گو اپنی اپنی جگہ ہر ایک کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے۔ یہ کرئہ ارض جس پر ہم آباد ہیں شروع شروع میں شعلہ بار مادے کا ایک بہت بڑا گولہ تھا جو فضا کے ناپیدا کنار سمندر میں دھوئیں کے ایک ننھے سے بادل کی مانند اڑ رہا تھا۔ رفتہ رفتہ کئی سال بعد جب زمین کی سطح جل چکی تو اس پر چٹانوں کی ایک ہلکی سی تہہ نمودار ہوئی ان بنجر چٹانوں پر موسلا دھار مینہ برسا سخت پتر بارش کے پانی میں تحلیل ہوگئے۔ اور گدلا پانی وادیوں میں بہہ نکلا جو گرم گرم زمین کی اونچی اونچی پہاڑیوں کے درمیان چھپی ہوئی تھی۔ آخر ایک ایسا زمانہ آیا جب سورج نے بادلوں میں اپنا چہرہ نکالا اور دیکھا کہ اس ننھے سے کرے کی سطح پر پانی نے چند تالاب سے بن گئے ہیں یہی تالاب بعد میں مشرقی او رمغربی نصف کروّں کے عظیم الشان سمندر بن گئے۔ پھر ایک دن ایک حیرت انگیز معجزہ ظہور میں آیا بے جان دنیا نے جان دار چیزوں کو جنم دیا۔ پہلا جان دار ذرہ سمندر کی سطح پر نمودار ہوا۔ کئی سال تک یہ ذرہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتا رہا۔ اس عرصے میں رفتہ رفتہ زمین کے ناموافق حالات سے مانوس ہوتا گیا اور بالآخر زندگی کی مشکلات پر قابو پالیا۔ بعض ذرے ایسے بھی تھے جو جھیلوں اور جوہڑوں کی تاریک گہرائیوں ہی میں خوش رہتے تھے بہت سی مٹی اور کیچڑ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بہہ کر نیچے آگئی تھی اس میں جڑیں پکڑ لی اور پودے بن گئے بعض نے کسی جگہ ٹھہرنا پسند نہ کیا یونہی ادھر ادھر گھومتے رہے۔ ان کے جسم میں سے بچھوؤں کی سی عجیب وغریب جوڑ دار ٹانگیں نمودار ہوئیں۔ اور وہ سمندر کی تہ میں پودوں اور ان سبزی مائل لوتھڑوں کے درمیان جو جیلی مچھلیوں سے مشابہ تھے رینگنے لگے۔ بعض چھلکوں والے ذرے ایسے بھی تھے جنہیں خواراک کی تلاش میں ادھر ادھر تیرنا پڑا ان کی بدولت سمندر رفتہ رفتہ کروڑوں مچھلیوں سے آباد ہوگیا۔ اس عرصے میں پودوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ انہیں رہنے کے لئے نئی نئی جگہیں تلاش کرنی پڑیں۔ صوعاً وکراہاً پانی کو الوداع کہا اور پہاڑوں کے دامن میں کیچڑ اور دلدلوں کے اندر سکونت اختیار کر لی۔ دن میں دو دفعہ جو ار بھاٹے کی وجہ سے نمکین سمندر کی لہروں سے ہم آغوش ہوتے۔ لیکن ساتھ تمام وقت بڑی بے چینی سے کاٹتے اور رقیق ہوا میں جو زمین کی سطح کو لپٹی ہوئی تھی۔ زندہ رہنے کی کوشش کرتے کئی صدیوں کی تربیت کے بعد اس قابل ہوئے کہ جس طرح پہلے پانی میں رہتے تھے۔ اسی آسانی کے ساتھ اب ہوا میں رہنے لگے۔ بڑے ہوئے تو جھاڑیاں اور درخت بنے اور آخر کار خوب صورت پھول پیدا کرنا سیکھا۔ جب پھول اُگے تو بھنورے آکر رس چوسنے لگے۔ پرندے دور دور تک بیج اڑا کر لے گئے یہاں تک کہ سب زمین پر سبزے نے اپنی بسات بچھا دی۔ او ربڑے بڑے درختوں نے اپنے سائبان پھیلا دیئے۔ بعض مچھلیوں نے بھی سمندر سے باہر قدم رکھا اور گلپھڑوں کے بجائے پھیپھڑوں سے سانس لینا سیکھا۔ ایسے جانوروں کو خاکابی کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ دو خشکی اور تری دونوں جگہ آسانی سے زندگی رہ سکتے ہیں کسی میڈنگ سے پوچھو تو وہ تمہیں بتائے گا کہ خاکابی جانور کس مزے سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ جب ایک دفعہ پانی سے باہر نکل آئے تو یہ جانور رفتہ رفتہ خشکی ہی کے ہو رہے بعض نے رینگنا سیکھا اور سنسان جنگلوں میں کیڑے مکوڑوں کے ساتھ رہنے لگے۔ نرم نرم زمین پر تیزی سے جلنے کی خواہش پیدا ہوئی تو رفتہ رفتہ ٹانگیں بڑی ہوگئیں۔ ساتھ ہی جسامت بھی بہت بڑھ گئی۔ چنانچہ دنیا بڑے جانوروں سے آباد ہوگئی۔ علم حیوانات کی کتابوں میں اختیا سورس (Iehthyosaurus) میگلاسورس (Megalosaurus) اور برانتو سورس (Brantosaurus) نامی جانوروں کا ذکر آتا ہے جو تیس تیس چالیس چالیس فٹ لمبے تھے اور ہاتھیوں سے اس طرح کھیل سکتے تھے جس طرح بلی اپنے بچوں سے کھیلتی ہے۔ ان رینگنے والے جانوروں میں سے بعض جانور درختوں پر جا چڑھے اور وہیں رہنے لگے (درخت ان دنوں سب سے زیادہ اونچے نہ تھے) چنانچہ پھرنا موقوف ہوگیا تو ٹانگوں کی بھی ضرورت نہ رہی لیکن ایک شاخ سے دوسری شاخ تک پھرتی سے حرکت کرنے کے لئے اپنی جلد کی جھلی سی بنائی اور اسے اگلے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان اس ٹانگ سے اس ٹانگ تک پتنگ کی طرح پھیلا لیا۔ پھر اس جھلی پر پر لگائے دم سے مڑنے تڑنے کا کام لیا۔ ڈال ڈال اڑنے لگے اور سچ مچ کے پرندے بن گئے۔ اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ بڑے عظیم الحبثہ رینگنے والے جانور سب کے سب مر گئے اس کا سبب آج تک معلوم نہیں ہوسکا شاید آب وہوا یک لخت تبدیل ہوگئی۔ یا شاید بھوک کے مارے مرگئے کیونکہ بہت ممکن ہے وہ اتنے بڑے ہوگئے ہوں کہ نہ تیرنے کے قابل رہے ہوں نہ چلنے کے نہ رینگنے کے اور بڑے بڑے پودے اور درخت سامنے دکھائی دے رہے ہوں لیکن وہ ان تک پہنچ نہ سکتے ہوں بہرحال بڑے بڑے رینگنے والے جانور دس لاکھ سال تک اس دنیا پر مسلط رہے او رپھر یہاں سے چل بسے۔ ان کی جگہ بالکل ہی مختلف جانوروں نے لے لی۔ یہ اولاد تو انہی رینگنے والے جانوروں کی تھی لیکن ان میں بڑا فرق یہ تھا کہ اپنے بچوں کو چھاتیوں کا دودھ پلاتے اس لئے انہیں دودھ پلانے والے جانوروں نے بعض ایسی عادات سیکھ لیں جن کی بدولت ان کی نسل کو باقی تمام جانوروں پر فوقیت حاصل ہوگئی۔ جب تک بچے پیدا نہ ہو جاتے مادہ اپنے انڈے جسم کے اندر ہی اٹھائے اٹھائے پھرتی۔ باقی سب جانور تو اپنے بچوں کو گرمی اور سردی کے رحم پر چھوڑ دیتے لیکن دودھ پلانے والے جانور بہت مدت تک اپنے بچوں کے ساتھ رکھتے۔ اور جب تک وہ طاقت ور ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ ہو جائیں خود ان کی حفاظت کرتے۔ اس طرح دودھ پلانے والے جانوروں کے بچے کئی باتیں اپنی ماں سے سیکھ لیتے اور زیادہ آسانی سے زندہ رہ سکتے۔ کسی بلی کو دیکھو کس طرح بچوں کو اپنی حفاظت کرنا اور منہ دھونا اور چوہے پکڑنا سکھاتی ہے۔ لیکن ان دودھ پلانے والے جانوروں کے حالات بہت تفصیل کے ساتھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ تم انہیں اچھی طرح جانتے ہو وہ تمہارے ارد گرد ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ بازار میں اور گھر پر وہ تمہارے ساتھ رہتے ہیں و رجو اتنے عام نہیں انہیں تم چڑیا خانے میں جا کر دیکھ سکتے ہو۔ ان بے شمار بے زبان جانورں میں سے ایک جانور نے باقی سب سے الگ اپنے لئے ایک رستہ نکالا۔ عقل وشعور سے کام لیا اور اس کی بدولت زندگی کی کشمکش میں اپنی نسل کی رہنمائی کی۔ یہ جانور ”انسان “ کہلایا۔ تھا تو یہ بھی دودھ پلانے والا جانور لیکن خوراک مہیا کرنے اور جان بچانے میں سب سے ہوشیار تھا۔ پہلے اگلی ٹانگوں سے شکار پکڑنے کی عادت ڈالی۔ ہوتے ہوتے پنجے کی شکل ہاتھ کی سی بن گئی۔ پھر بے انتہا کوششوں کے بعد پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا سیکھا۔ (یہ کرتب اب بھی کچھ ایسا آسان نہیں۔ انسان دس لاکھ سال سے اس کا عادی ہے پھر بھی بچے کو یہ از سر نو سیکھنا پڑتا ہے۔) یہ جانور دیکھنے میں کچھ بندر، کچھ بن مانس سے ملتا جلتا تھا لیکن ذہانت میں دونوں سے بڑھ کر تھا۔ شکار میں کوئی اس کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا ہر قسم کی آب وہوا میں رہ سکتا تھا۔ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتا تو حفاظت کی خاطر ہم جنسوں کی ایک ٹولی بنا کر سفر کرتا۔ بچوں کو خطرے سے آگاہ کرنے کے لئے عجیب وغریب آوازیں نکالتا۔ کئی لاکھ سال بعد انہیں آوازوں سے گفتگو کرنا سیکھا۔ تمہیں یقین تو مشکل سے آئے گا۔ ہم تو سب اسی جانور کی اولاد ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔ وہ سچ جو کبھی جھوٹ نہ ہوگا میں انسانی زندگی کی الجھنوں پر جس قدر غور کرتا ہوں اتنا ہی مجھ پر روشن تر ہوتا جاتا ہے کہ جس طرح قدیم مصر کے لوگ بخشش اور نجات کے لئے آئیس اور نیفتیس کا دامن پکڑتے تھے اسی طرح ہمیں اپنی مشکات کے حل کے لئے طنز اور رحم کا دامن پکڑنا پڑتا ہے۔ طنز اور رحم سے بڑھ کر کوئی چیز ہماری مشکل کشا نہیں ہو سکی۔ طنز سے زندگی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے اور رحم اپنے آنسوؤں سے زندگی کو مقدس بناتا ہے۔ جس طنز کو میں اپنا دیوتا بنانا چاہتا ہوں وہ کوئی منگدل دیوتا نہیں۔ وہ محبت اور حسن کا مضحکہ نہیں اڑاتا وہ حلیم اور مہربان دیوتا ہے اس کا تبسم دشمنوں کو بھی دوست بنا لیتا ہے اور وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ احمقوں اور ظالموں پر ہنسو ان سے نفرت مت کرو۔ کیونکہ یہ کمزوری کی نشانی ہے۔ ایک بہت بڑے فرانسیسی کے ان دانش مندرانہ الفاظ پرمیں اس کتاب کو ختم کرتا ہوں اور رخصت چاہتا ہوں۔ خدا حافظ۔ ماخوذ از کتاب ”نوع انسان کی کہانی“ مصنفہ ہنڈرک فان لون مترجم پطرس * * * |
بچے کا پہلا سال |
|
ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگ بچے کی عمر کے پہلے سال کو تعلیم
کے دائرے سے خارج سمجھتے تھے۔ جب تک بچہ کم از کم بولنا شروع نہ کرتا۔ اسے صرف ماں
یا دایہ کی زیر نگرانی رکھا جاتا تھا۔ اور یہ فرض کرلیا جاتا تھا کہ وہ فطرتاً ہی
بچے کے نیک وبد کو ایسی اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ انہیں سکھانے کی ضرورت نہیں لیکن فی
الحقیقت لوگوں کا یہ خیال غلط تھا۔ اکثر بچے سال بھر کے بھی نہ ہونے پاتے کہ مرجاتے
اور زندہ رہتے ان میں سے کئی ایک کی صحت ہمیشہ کے لئے خراب ہوجاتی۔ غلط تربیت کی
وجہ سے خطرناک ذہنی عادات کی بنیاد پہلے ہی پڑجاتی۔ یہ حقیقت ہمیں حال ہی میں معلوم
ہوئی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ اکثر لوگ شیر خوار بچوں کی پرورش کے معاملے میں سائنس کا دخل پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ اس سے ماں کی مامتا اور بچے کے لاڈلے پن کا جو دلاویز تصور ان کے ذہن میں موجود ہے اسے صدمہ پہنچتا ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اندھا دھند محبت اور لاڈ پیار اور چیزیں ہیں۔ اصل محبت اور چیز ہے جن والدین کو اپنے بچوں سے سچی اور اصلی محبت ہے وہ ان کی تربیت کے لئے سائنس کے اصولوں پر عمل کرنے سے نہیں گھبراتے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ضرررساں قسم کی محبت ان ہی لوگوں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ جن کے کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ یا جو (روسو کی مانند) اپنے بچوں کو کسی یتیم خانہ کے حوالے کر دینا چاہتے ہیں اکثر تعلیم یافتہ والدین سائنس کی معلومات سے متنفر ہونے کی بجائے استفادہ کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان پڑھ لوگوں میں بھی سائنس کا چرچا روزبروز بڑھتا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بچوں کی اموات روزبروزکم ہوتی جاتی ہے، اگر لوگ پوری احتیاط سے کام لیں تو نہ صرف اموات کی تعداد اور بھی کم ہوجائے گی بلکہ جو بچے زندہ رہیں گے ان کی دماغی اور جسمانی حالت بہتر ہوگی۔ جسمانی صحت کے ماہر ڈاکٹر لوگ ہیں وہی ان مسائل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسائل اس کتاب کے دائرے سے خارج ہیں لیکن ہم یہاں جسمانی صحت کے مسائل پر اسی حد تک بحث کریں گے جس حد تک اس کا تعلق ذہنی یا نفسیاتی زندگی سے ہے۔ اور ان پر اس وقت بحث کرنا یوں ضروری ہے کہ اول تو عمر کے پہلے سال میں جسمانی زندگی اور ذہنی زندگی میں تمیز کرنا مشکل ہوتا ہے دوسرے اگر شروع میں بچے کے جسم کا کماحقہ خیال نہ رکھا جائے تو چند ایسے نقائص کے پیدا ہونے کا احتمال رہتا ہے جو بڑے ہو کر تعلیم کے رستے میں حارج ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ہر چند کہ جسمانی صحت پر بحث کرنا ڈاکٹروں ہی کا حصہ ہے تاہم اس موقعے پر ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے متعلق کچھ عرض کریں۔ نوزائیدہ بچہ کسی چیز کا عادی نہیں ہوتا۔ اس کی تمام حرکات کسی عادت کی وجہ سے نہیں بلکہ اضطراراً سرزد ہوتی ہیں اگر ماں کے پیٹ میں اس نے بعض عادتیں اختیار کرلیں ہیں تو وہ کم از کم ایسی نہیں کہ پیدا ہونے کے بعدبھی اس کے کام آسکیں۔ یہاں تک کہ سانس لینا بھی اسے پیدائش کے بعد سیکھنا پڑتا ہے۔ اور بعض بچے تو مر ہی اسی لئے جاتے ہیں کہ تنفس کا عمل دیر میں سیکھتے ہیں۔ ایک زبردست خواہش بچہ فطرت کی طرف سے اپنے ساتھ لاتا ہے اور وہ چوسنے کی خواہش ہے جب تک بچہ اس عمل میں مصروف رہے بہت خوش رہتا ہے۔ باقی تمام وقت وہ ایک تحیر کے عالم میں گزارتا ہے جس سے یوں نجات حاصل ہوتی ہے کہ دن اور رات کا بیشتر حصہ نیند میں گزرجاتا ہے۔ پندرہ دن کے بعد یہ حالت بدل جاتی ہے۔ اور بعض باتیں (مثلاً دودھ پینا وغیرہ) تواتر کے ساتھ ظہور میں آنے لگتی ہیں۔ اس لئے بچہ ان باتوں کا متوقع رہتا ہے یعنی یوں کہئے کہ اب وہ بعض چیزوں کا عادی ہوجاتا ہے اور جن باتوں کا عادی ہو انہیں کو پسند کرتا ہے گویا قدامت پسند بن جاتا ہے۔ اور قدامت پسند بھی ایسا کہ اغلباً پھر عمر بھر ایسا نہیں ہوتا۔ ہر نئی چیز اسے ناپسند ہوتی ہے اگر بچہ اس عمر میں بولنے کے قابل ہوتا تو بڑے بوڑھوں کی طرح اپنی پسندیدگی کا اظہار ان الفاظ میں کرتا کہ میاں جانے دو اس عمر میں اب ہم بھلا نئی نئی باتیں کیونکر سیکھ سکتے ہیں۔ تاہم شیر خوار بچے نئی عادتیں بہت جلد اختیار کرلیتے ہیں۔ اس دوران میں اگر کوئی بری عادت سیکھ لیں تو وہ بعد میں اچھی تربیت کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے، اس ليے شیرخواری کے زمانے کی عادات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیئے اگر شروع شروع کی عادات اچھی ہوں تو بہت سہولت ہوتی ہے علاوہ برآں شیر خوارگی کے زمانے کی عادت اتنی راسخ ہوتی ہے کہ بڑے ہو کر وہ بالکل جبلت معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے اعمال پر اس کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے جو عادات بعد میں سیکھی جائیں ان میں یہ پختگی کبھی نہیں ہوتی۔ اس لئے زمانہ طفلی کی عادات خاص طور پر توجہ کی مستحق ہیں۔ اس سلسلے میں دو باتیں پیش نظر رکھنی چاہیں۔ اول اور سب سے مقدم صحت، دوم سیرت، ہم چاہتے ہیں کہ بچہ بڑا ہو کر ایک ایسا انسان ثابت ہو جس کے اوصاف پسندیدہ ہوں اور جو اپنے گردوپیش سے بوجہ احسن عہدہ برآ ہوسکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ صحت اور سیرت دونوں کے مطالبات ایک ہیں۔ جو چیز ایک کے لئے مفید ہے وہی دوسرے کے لئے مفید ہے۔ یہاں بحث سیرت سے ہے لیکن جو اصول ہم سیرت کی بہتری کے لئے وضع کریں گے۔ وہی صحت کے لئے بھی مفید ہیں گویا یہ نہیں ہوسکتا کہ بچہ تنومند تو ہو لیکن اس کے اخلاق برے ہوں یا نیک سیرت تو ہو لیکن اس کا جسم امراض کا شکار ہو۔ آج کل ہر تعلیم یافتہ ماں جانتی ہے کہ صرف مقررہ اوقات پر دودھ پلانا چاہئے اس سے بچے کا ہاضمہ درست رہتا ہے۔ یہ بجائے خود ایک نہایت معقول وجہ ہے لیکن اس کے علاوہ اخلاقی نقطہ نظر سے بھی یہ بہت مفید ہے۔ شیرخوار بچہ اتنا بےعقل نہیں ہوتا جتنا ہم اسے سمجھتے ہیں اسے ایک دفعہ یقین ہوجائے کہ رونے سے مطلب نکل آتا ہے تو وہ ضرور روتا ہے لیکن جب بڑا ہوکر اسی عادت کے زیر اثر ہر وقت رونی صورت بنا کر لوگوں کے گلے شکوے کرتا ہے تو لوگ اسے چمکارنے کی بجائے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں لوگوں کا یہ سلوک اسے ازحد ناگوار گزرتا ہے۔ اور وہ دنیا کو خودغرضی اور ہمدردی کے جذبے سے معرا سمجھ لیتا ہے۔ اگر لڑکی ہو اور بڑی ہو کر خدا اسے حسین بنا دے تو بےجا توجہات اور بےجا خاطر مدارت کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور یہ نقص اور بھی مستحکم ہوجاتا ہے۔ یہی حال دولت مند لڑکوں کا ہوتا ہے کہ بچپن میں بگڑجاتے ہیں تو پھر تمام عمر بگڑتے چلے جاتے ہیں جس شخص کی پرورش شیرخوارگی کے زمانے میں غلط طریقے پر ہو وہ بڑا ہو کر اگر ذی اقتدار ہے تو ضدی اور حریص ہوتا ہے اور اگر بےبضاعت ہے تو لوگوں کی مفروضہ بےتوجہی سے کڑھتا رہتا ہے اس لئے اخلاقی تعلیم روز اول ہی سے شروع کردینی چاہئے تاکہ نہ غلط توقعات پیدا ہوں۔ نہ بعد میں انہیں مجروح ہونا پڑے۔ اگر شروع میں اس کا تدارک نہ کیا جائے تو بعد میں بچے کی خواہشات کو ٹھکرانے سے اس کے دل میں غصے اور رنج کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ گویا بچے کی تربیت اس طرح کرنی چاہیئے کہ نہ تو اسے لاڈ پیار اور چاؤ چونچلوں سے بگاڑا جائے نہ اس کی طرف سے بالکل ہی بےتوجہی برتی جائے مثلاً جو بات صحت کے لئے ضروری ہے اس میں کوتاہی نہ کرنی چاہئے۔ بچے کو ہوا اور بارش سے تکلیف پہنچ رہی ہو تو اسے اٹھا لینا چاہئے تاکہ اسے سردی نہ لگے اور وہ بھیگ نہ جائے لیکن اگر بچہ بغیر کسی جسمانی تکلیف کے رونا شروع کر دے تو اسے رونے دینا چاہئے ورنہ وہ بےجا خدمت کرانے کا عادی ہوجائے گا۔ جب اس کی دیکھ بھال کی جائے تو بہت زیادہ چاؤ اور اہتمام کرنا فضول بلکہ مضر ہے جو بات مناسب ہو وہ کردینی چاہئے اور ضرورت سے زیادہ پیار محبت اور ہمدردی کا اظہار نہ کرنا چاہئے۔ بچوں کی پرورش چاؤ چونچلوں سے نہیں بلکہ متانت اور سنجیدگی سے کرنی چاہئے گویا وہ بچہ نہیں بلکہ بڑی عمر کا انسان ہے۔ بچوں میں بڑوں کی سی عادتیں تو پیدا نہیں ہوسکتیں۔ لیکن ہمیں یہ خیال ضرور رکھنا چاہئے کہ کوئی ایسی بات نہ ہونے پائے جو ان کی عادات کے رستے میں رکاوٹ ثابت ہو۔ مدعایہ کہ بچہ مزاج دار نہ بن جائے۔ ورنہ بعد میں اسے سخت مایوسی کا سامنا ہوگا اور یوں دیکھئے تو وہ خود بھی اس قابل نہیں کہ اس میں اس قدر اہمیت کا احساس پیدا کیا جائے۔ بچوں کی پرورش میں سب سے مشکل بات یہ ہے کہ والدین کو غفلت اور لاڈ کے بین بین رہنا پڑتا ہے بچے کی صحت کو درست رکھنے کے لئے ہر وقت اس کی نگہداشت کرنی پڑتی ہے۔ اور اس کی خاطر بڑی بڑی مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ والدین کو بچے سے بہت زیادہ الفت ہو لیکن مصیبت یہ ہے کہ جہاں والدین کو محبت زیادہ ہوتی ہے وہاں اکثر ان کی عقل پر پردہ پڑجاتا ہے۔ جن والدین کو اپنے بچوں سے بہت محبت ہے۔ ان کے نزدیک اولاد کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے اگر احتیاط نہ برتی جائے تو بچہ بھی اس بات کو محسوس کرنے لگتا ہے اور جتنا اہم اسے والدین سمجھتے ہیں اتنا ہی اہم وہ بھی اپنے آپ کو سمجھتا ہے جب اسے خودبینی کی عادت پڑجاتی ہے اور بڑے ہو کر لوگ والدین کی طرح اس کی خوشامد درآمد نہیں کرتے تو اسے مایوس ہونا پڑتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ نہ صرف پہلے سال بلکہ بعد میں جب کبھی بچہ بیمار ہو والدین خندہ پیشانی اور بہ ظاہر بے فکری کے ساتھ اس کا علاج کریں اور بات کا بتنگڑ نہ بنائیں۔ پرانے زمانے میں بچوں کو جکڑ کر بھی بہت رکھا جاتا تھا۔ اور ان سے لاڈ بہت کیا جاتا تھا ان کے اعضا کو حرکت کرنے کا موقع نہ دیا جاتا تھا کپڑے ضرورت سے زیادہ گرم ہوتے تھے فطری حرکات پر پابندیاں عائد کی جاتی تھیں لیکن ساتھ ہی ان کو ہر وقت گود میں اٹھائے اٹھائے پھرتے تھے۔ ان کے سامنے گانے گاتے پھرتے تھے۔ اور انہیں چوبیس گھنٹے چوما چاٹی کا تختہ مشق بنائے رکھتے تھے۔ یہ بہت غلط طریقہ تھا اس سے بچے بگڑجاتے تھے او رہر وقت ماں باپ کے گلے کا ہار بنے رہتے تھے۔ صحیح اصول یہ ہے کہ نہ بچے کی فطری حرکات وخواہشات پر پابندی عائد کیجئے نہ اسے ان سے تجاوز کرنے دیجئے۔ بچے کے لئے آپ جو تکلیف اٹھاتے ہیں اس سے بچے کو بےخبر رہنا چاہیئے۔ خدمت کرانے کا چسکا اسے نہ پڑنے دیجئے جہاں تک ممکن ہو ایسی کامیابی کا لطف اسے ضرور اٹھانے دیجئے جو خود اس کی اپنی کوشش کا نتیجہ ہو۔ جدید تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے بچے کو خارجی قواعد وضوابط کی غلامی سے آزاد کیا جائے۔ لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ خود بچے کے دل میں انضباط کا احساس پیدا کیا جائے۔ اور اس احساس کا پیدا کرنا عمر کے پہلے سال میں نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ مثلاً جب بچے کو سلانا ہو تو اسے گود میں نہ لینا چاہئے۔ بازروں میں تھام کر ”سوجا سوجا“ نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کے پاس تک نہ ٹھہرنا چاہیئے۔ اگر آپ ایک مرتبہ یوں کریں گے تو بچہ دوسری مرتبہ بھی یہی چاہے گا اور تھوڑے عرصہ میں بچہ کا سلانا ایک مصیبت بن جائے گا۔ بچے کو اڑھا لپٹا کر بستر میں سلا دینا چاہیئے اور ایک دو باتیں کرکے اسے اکیلا چھوڑ دینا چاہیئے۔ ممکن ہے وہ چندمنٹ تک روتا رہے لیکن اگر وہ بیمار نہیں تو تھوڑی دیر میں خود بہ خود چپ ہوجائے گا۔ اس کے بعد جاکر دیکھئے تو مزے کی نیند سو رہا ہوگا۔ لاڈ پیار سے ایک تو اس کی سیرت بگڑ جائے گی۔ دوسرے وہ سوئے گا بھی کم۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ نوزائیدہ بچہ ماں کے پیٹ سے کوئی عادت ساتھ نہیں لاتا اس کی عادات فطری اور اضطراری ہوتی ہیں چنانچہ اسے اشیاء کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ اشیاء کے احساس کے لئے یہ ضروری ہے کہ بچہ اشیاء کو پہچانے اور اشیاء کو پہچاننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اشیاء کا بار بار تجربہ ہو۔ سو وہ رفتہ رفتہ ہی حاصل ہوتا ہے۔ پیدائش کے تھوڑے عرصہ بعد بچہ پنگوڑے کے مس ماں کی چھاتی یا دودھ کی بوتل کے مس اور خوشبو اور ماں یا ان کی آواز سے مانوس ہوجاتا ہے۔ ماں یا پنگوڑے کو دیکھنے کی قابلیت بعد میں پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ نوزائیدہ بچے کی آنکھیں ابھی اس قابل نہیں ہوتیں کہ وہ اشیاء کو واضح طور پر دیکھ سکے۔ جب رفتہ رفتہ مختلف احساسات کی ائتلاف سے بچے کے ذہن میں عادات وضع ہوجاتی ہیں تو مس اور بو اور نظر کی بدولت ذہن میں اشیا کے تصورات شکل پذیر ہونے لگتے ہیں۔ خاص خاص احساسات اس کے دل میں خاص خاص اشیاء کی توقعات پیدا کرتے ہیں۔ (دودھ کی بو آتی ہے تو چھاتی یا بوتل کے مس کے لئے تیار ہوجاتا ہے ماں کی آواز آتی ہے تو ماں کی شکل دیکھنے کا منتظر ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ) تاہم کچھ عرصے تک اشخاص اور اشیا میں تمیز نہیں کرسکتا۔ جس بچے کو کبھی بوتل کا دودھ اور کبھی چھاتی کا دودھ پلایا جائے اس کے نزدیک کچھ عرصے تک ماں اور بوتل ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس تمام عرصے کے دوران میں تعلیم کا ذریعہ محض جسمانی ہونا چاہئے بچے کی تمام مسرتیں (جو زیادہ تر گرماہٹ اور خوراک تک محدود ہوتی ہیں) اس کے تمام دکھ محض جسمانی ہوتے ہیں۔ اس کے افعال اور اس کی عادات یوں شکل پذیر ہوتی ہیں کہ جو چیز اس کے ذہن میں مسرت سے تعلق رکھتی ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو دکھ سے متعلق ہو اس سے گریز کرتا ہے۔ بچے کا رونا ایک حد تک تو اضطراری حرکت ہے جو دکھ کی وجہ سے ظہور میں آتی ہے اور ایک حد تک ایک ارادی فعل ہے جو بچہ مسرت حاصل کرنے کے لئے اختیار کرتا ہے۔ شروع شروع میں وہ محض دکھ کی وجہ سے روتا ہے لیکن جب اس دکھ کو دور کیا جائے (جیسا کہ کیا جاتا ہے) تو بچے کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ رونے کے نتائج خوش گوارہوتے ہیں چنانچہ رفتہ رفتہ بچے کو یہ عادت ہوجاتی ہے کہ نہ صرف دکھ دور کرانے کےليے روتا بلکہ مسرت حاصل کرنے کے ليے بھی اس حربے کو کام میں لاتا ہے، یہ اس کی ذہانت کی پہلی فتح ہوتی ہے لیکن باوجود بےانتہا کوشش کے جب تک اسے دکھ نہ پہنچ رہا ہو وہ ویسا نہیں رو سکتا، جیسا دکھ کے وقت روتا ہے۔ ہوشیار ماں اس قسم کے رونے اور اُس قسم کے رونے میں بخوبی تمیز کرسکتی ہے عقلمندی یہی ہے کہ جب بچہ کا رونا دکھ کا رونا ہو تو اس پر بالکل توجہ نہ کی جائے۔ بچے کو لئے لئے پھرنا اور اس سے کھیلتے رہنا یا اس کے سامنے گانے گانا آسان بھی ہے اور پُرلطف بھی۔ لیکن بہت جلد بچہ اس قسم کی تفریح کا عادی ہوجاتا ہے جو اس کی نیند میں خلل انداز ہوتی ہے۔ شیرخوار بچے کا بیشتر وقت (سوائے دودھ پینے کے اوقات کے) نیند میں گزرنا چاہیئے۔ ممکن ہے کہ بعض والدین کو یہ باتیں سخت معلوم ہوں لیکن تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بچے کی صحت اور خوشی کے لئے یہ باتیں بہت مفید ہیں۔ بچے کے لئے جو تفریحات والدین مہیا کرتے ہیں ان کو تو ایک خاص حد کے اندر رکھنا چاہیئے۔ لیکن جو تفریحات وہ خود اپنے لئے پیدا کرے ان کو ترقی دینے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ شروع ہی سے اسے اس بات کا موقع دینا چاہیئےکہ وہ آزادی سے ہاتھ پاؤں ہلا سکے۔ اور اپنے اعصاب کو کام میں لا سکے۔ پرانے زمانے کے لوگ بچوں کو باندھ کر رکھا کرتے تھے اس کی وجہ سستی کے سوا اور کچھ نہ تھی کیونکہ جن بچوں کو کھلا رکھا جائے ان کی نگہداشت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ حیرت ہے کہ ان لوگوں کی مامتا بھی ان کی سستی پر غالب نہ آسکتی تھی جب بچے کی نظر ٹھیک ہوجاتی ہے تو وہ متحرک چیزوں کو خصوصاً جو ہوا سے ہل رہی ہوں دیکھ کر خوش ہوتا ہے لیکن پھر بھی جب تک وہ اشیا کو پکڑنا نہ سیکھ لے اس کی دلچسپیوں کا دائرہ بہت محدود رہتا ہے۔ جب پکڑنا سیکھ لے تو یہ دائرہ یک لخت وسیع ہوجاتا ہے کچھ عرصے تک تو محض گرفت ہی کی مشق اتنی مسرت انگیز ہوتی ہے کہ وہ گھنٹوں اس میں مشغول رہتا ہے۔ جھنجھنے کا شوق بھی اسی زمانے میں پیدا ہوتا ہے۔ جھنجھنے کے زمانے سے ذرا پہلے وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں پر قابو حاصل کرتا ہے شروع شروع میں پاؤں کی انگلیوں کی حرکات محض اضطراری ہوتی ہے۔ بعد میں بچہ یہ دریافت کرتا ہے کہ میں انہیں اپنی مرضی سے بھی ہلا سکتا ہوں اس احساس سے وہ اتنا خوش ہوتا ہے گویا بہت بڑی مملکت حاصل کرلی ہے کیونکہ انگلیاں اب اجنبی نہیں رہتیں۔ بلکہ جسم کا جزو بن جاتی ہیں۔ اس کے بعد اگر بہت سی چیزیں بچے کے آس پاس ایسی ہوں جنہیں وہ پکڑ سکے تو اسے دل بہلاوے کا بہتیرا سامان مہیا ہوجاتا ہے بچے کو تفریح بھی ایسی ہی حرکات سے ہوتی ہے جو تعلیم کے نقطہ نظر سے ضروری ہے البتہ گر جانے یا چوٹ لگ جانے یا کسی تکلیف دہ چیز مثلاً پن یا سوئی کے نگلنے سے اسے بچانا ضروری ہے۔ پہلے تین مہینے کے عرصے میں بچہ دودھ پیتے وقت تو بہت خوش ہوتا ہے لیکن باقی تمام وقت اس کی طبیعت اکتائی رہتی ہے۔ جب وہ مزے میں ہو تو سو جاتا ہے جاگ رہا ہو تو کوئی نہ کوئی بےچینی اسے ضرور رہتی ہے۔ انسان کی خوشی کا انحصار اس کی ذہنی قابلیت پر ہے لیکن تین مہینے سے کم عمر کے بچے کو نہ کسی چیز کا کافی تجربہ ہوتا ہے نہ وہ اپنے اعصاب پر قادر ہوتا ہے اس لئے مسرتوں سے محروم رہتا ہے۔جانوروں کے بچے نسبتاً بہت جلد زندگی سے لطف اٹھانے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ان کی مسرتیں فطری ہوتی ہیں اور تجربے پر منحصر نہیں ہوتیں۔ انسان کا بچہ اگر محض جبلّت پر تکیہ کرے تو اس کی خوشیوں اور دلچسپیوں کا حلقہ تنگ رہتا ہے۔ بچہ اپنی عمر کے پہلے تین مہینے عام طور پر اکتایا رہتا ہے۔ اس اکتائے رہنے میں بھی حکمت ہے۔ اس سے نیند پوری طرح آتی ہے۔ اگر بچے کو بہت زیادہ بہلایا جائے تو وہ سوتا کم ہے۔ جب بچہ دو تین مہینے کا ہوجاتا ہے تو مسکرانا سیکھتا ہے۔ اور اشخاص کے متعلق اس کے جذبات اشیا سے ممیز ہونے لگتے ہیں۔ اس عمر کو پہنچ کر ماں اور بچے میں سوشل تعلقات کا امکان شروع ہوجاتا ہے۔ بچہ ماں کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کرسکتا ہے اور کرتا ہے اور نہ صرف جانوروں کی مانند بلکہ اور طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ تھوڑے عرصے کے بعد تحسین وتعریف کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ میرے اپنے بچے میں اس خواہش کے واضح آثار پانچ مہینے کی عمر میں ظاہر ہوئے۔ میز پر ایک وزنی گھنٹی پڑی تھی۔ بڑی مشکلوں سے اس نے اسے اٹھایا اور اٹھ کر بجایا اور فخریہ مسکرا کر سب کو باری باری دیکھنے لگا جب یہ خواہش پیدا ہوجائے تو گویا ایک زبردست حربہ معلم کے ہاتھ آجاتا ہے یہ حربہ تعریف اور ملامت کا حربہ ہے۔ بچپن کے تمام تر زمانے میں اس سے بڑا کام لیا جاسکتا ہے لیکن اس حربے کو ازحد احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا چاہیئے، عمر کے پہلے سال میں بچہ کی مذمت بالکل نہ کرنی چاہیئے بعد میں بھی اس سے بہت حد تک احتراز واجب ہے۔ تعریف نسبتاً کم مضر ہوتی ہے لیکن تعریف نہ تو فراخدلی سے کرنی چاہیئےکہ اس کی قدر ہی جاتی رہے اور نہ اس بخل کے ساتھ کہ بچے کو اس کے حاصل کرنے کے لئے بہت زیادہ زور لگانا پڑے۔ جب بچہ پہلی دفعہ قدم اٹھائے یا پہلی دفعہ الفاظ منہ سے نکالے تو کسی معقول شخص کو اس کی کارگزاری کو سراہنے میں تامل نہ کرنا چاہیئے۔ جب کبھی بچہ بہت سی کوششوں کے بعد کسی مشکل کو حل کرے تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیئے۔ بچے کو یہ احساس دلانا چاہیئےکہ ہمیں اس کی خواہش اکتساب کے ساتھ ہمدردی ہے۔ عام طور پر بچے میں خواہش اکتساب اتنی زبردست ہوتی ہے کہ اس کے لئے محض مواقع مہیا کر دینا ہی کافی ہوتا ہے باقی سب کچھ وہ خود ہی کر لیتا ہے مثلاً بچے کو گھٹنوں چلنے یا پاؤں پاؤں چلنے یا اسی طرح کی دیگر حرکات سکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ باتیں کرنا البتہ خود بول کر اسے سکھاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ بالا ارادہ الفاظ سکھانے کی کوشش کرنا غیر ضروری ہے۔ بچے اپنی ترقی کی رفتار خود ہی معین کرتے ہیں اسے تیز تر بنانے کی کوشش کرنا غلطی ہے۔ مرتے دم تک انسان کا یہ حال ہوتا ہے کہ مشکلیں پیش آتی ہیں۔ ان پر قابو پاتا ہے اور اس سے مزید کوشش کے لئے حوصلہ بڑھتا ہے۔ اس سے بہتر طریقہ شوق کے بڑھانے کا اور کوئی نہیں۔ مشکلات نہ اتنی زیادہ ہونی چاہیئیں کہ کام کرنے کا شوق ہی مرجائے۔ اور نہ اتنی کہ طبیعت کو اکسانہ سکیں۔ ہم کچھ سیکھتے اسی بات سے ہیں جو ہم خود کرتے ہیں۔ بڑوں کو صرف یہ کرنا چاہیئےکہ ایک دفعہ بچے کو کرکے دکھا دیں۔ مثلاً اس کے سامنے ایک دفعہ جھنجھا ہلا دیں اور پھر بچے کو چھوڑ دیں کہ وہ خود اس کی نقل اتارنے کی کوشش کرے۔ جو کام دوسرے لوگ سرانجام دیں۔ وہ سمندِ شوق پر تازیانے کا کام کرسکتے ہیں۔ لیکن جب تک بچہ وہ کام خود نہ کرے اسے تعلیم نہیں کہا جا سکتا۔ باقاعدگی اور وقت کی پابندی شروع بچپن اور خصوصاً پہلے |