کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں

 
    عصمت چغتائی کے افسانہ میں ایک لڑکی دوسری کے متعلق کہتی ہے کہ ”سعیدہ موٹی تھی تو کیا، کمزور تو حد سے زیادہ تھی بےچاری۔ لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے جی کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے“۔ جب میں نے عصمت کی کلیاں اور چوٹیں دونوں مجموعے ختم کر لئے اور جو چند دیباچے اور مضامین ان کے مداحین اور معترضین نے ان پر ازرہ تنقید وتعارف لکھے ہیں ان سے بہرہ یاب ہوچکا تو استعارے کے رنگ میں یہ فقرہ پھر یاد آیا۔ ”لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ جی کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے“۔
    اس فقرے کے معانی کو کھینچ تان کر پھیلا لیجئے، اور اس پر تھوڑا سا فلسفیانہ رنگ پھیر لیجئے تو عصمت کے بعض کمالات اور نقادوں کی بعض کوتاہیوں کو بیان کرنے کا اچھا خاص بہانہ ہاتھ آجاتا ہے جو حال فربہی کا ہے وہی حال کئی او رمعروف اور متدا دل اور لیبلوں کا ہے جو مستعمل الفاظ اور عادات مستمرہ کی شکل میں قسم قسم کی اشیاء پر چپکے نظر آتے ہیں۔ ذہنی کسالت اور خوف اور بزدلی کے مارے ہم اکثر فیصلے لیبلوں ہی کو دیکھ کر صادر کر دیتے ہیں۔ ان سے آگے نکل کر اصل چیز کو جانچنے اور تولنے کی ہمت اپنے آپ میں نہیں پاتے۔ مامتا اور عشق پر دل گدازی کا لیبل مدت سے لگا ہوا ہے اس لئے جہاں ان کا ذکر آئے کہنے اور سننے والے دونوں ایک علّو اور ایک پاکیزہ رقت کے لئے پہلے ہی سے تیار ہو بیٹھتے ہیں۔ جنسی مشاغل تحقیق کہ پستی کی طرف لے جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کا بیان بغیر کراہت یا اخلاقی غیظ کے ہو تو لوگ برہم ہوجاتے ہیں۔ بہن بھائیوں کا سا پیار جاننا چاہئے کہ پاک محبت کا سب سے اونچا درجہ ہے لہٰذا بہن بھائی کے درمیان بجز اس جذبہٴ عالیہ کے کسی اور تعلق کی گنجائش ناممکن یا کم از کم نامناسب ضرور سمجھی جاتی ہے۔ عصمت چغتائی کے رہنما بھی اندھا دھند ایسے ہی کلیئے ہوتے تو ادب ان کی بہترین انشا سے محروم رہ جاتا لیکن ان کی بصیرت اس سے کہیں زیادہ دوررس ہے۔ وہ لیبلوں کے فریب میں نہیں آتیں اور جسم اور دل اور دماغ کی کئی کنیتیں ایسی ہیں جن سے وہ اکیلے میں دوچار ہوتے نہیں گھبراتیں۔ ایسے انشا پرداز کا بغیر حوصلہ مشاہدہ، وقت نظر اور جرأت بیان کے گزارہ نہیں۔ اور یہ ادیب کی خوش قسمتی ہے کہ عصمت کو یہ تینوں نعمتیں میسر ہیں۔
    برخلاف اس کے احساس محرومی کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس جرأت اور وقت نظر میں سے عصمت کے نقادوں کو حصہ وافر نہیں ملا۔ فی الحال ان کا ذکر جانے دیجئے جن کو عصمت کی تحریروں میں اپنے اخلاق اور ادب دونوں کی تباہی نظر آتی ہے وہ تو ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیبل گوند سے چپکے ہوئے نہیں میخوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے ذہنوں میں ایک موٹی موٹی لکیروں والی جدول بنا رکھی ہے کہ ان چیزوں کا ذکر حلال ہے ان کا حرام ہے نامحرم کا ذکر ہم مقرر کر چکے ہیں کہ فحش ہے۔ محرم کا ذکر معاملہ بندی ہے یعنی جائز ہے۔ حرام کا بچہ فطرت کو منظور ہے تو ہوا کرے، ہمارے ادب کو منظور نہیں۔ اور یہ فطرت کا مطالعہ؟ محض ایک ڈھونگ! آوارہ مزاجوں کا عذر آوارگی! ہمیں بچپن میں مطالعہ پر کوئی مجبور نہ کرسکا تو اب کسی کی کیا مجال ہے؟ ہم جب بھی کھلونے سے دل بہلاتے تھے اب بھی کھلونوں سے دل بہلائیں گے… ایسے لوگوں سے اس وقت بحث نہیں کیونکہ

وہ وہاں ہیں جہاں سے ان کو بھی
کوئی  ان  کی  خبر  نہیں  آتی

شکایت ان سے ہے اور اپنوں کی شکایت ہے، بیگانوں کی سی نہیں۔ جو عصمت چغتائی کے قدر دان اور مداح ہیں ان لیبلوں کے مضامین کو پڑھ کر روح میں ایک بالیدگی محسوس کرتے ہیں جس سے دل میں امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور نئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ گلہ ہے کہ وہ بھی ہر پھر کر لیبلوں ہی کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ افسوس کہ عصمت مرد نہیں اور افسوس کہ لیبلوں میں سے سب سے بڑا اور گمراہ کن لیبل عورت ہے۔ مرد ذات کے قرنوں کے خرابوں اور محرومیوں سے چپکا ہوا۔ عورت دلفریب ہے، مکار ہے، صنف نازک ہے، ایک معمہ ہے، کمزور ہے، کم عقل ہے، مجموعہٴ اضداد ہے۔ جہاں آپ نے عورت کا نام لیا، ان میں سے دو چارگھڑے گھڑائے معنی ذہن اُگل کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ چنانچہ اسی فریب میں آکر ہونہار اور ذہین دیباچہ نویس فرماتے ہیں:
    ”عصمت کے افسانے گویا عورت کے دل کی طرح پُر پیچ اور دشوارگزار نظر آتے ہیں۔ میں شاعری نہیں کررہا اور اگر اس بات میں شاعری ہے تو اسی حد تک جہاں تک شاعری کو سچی بات میں دخل ہوتا ہے۔ مجھے یہ افسانے اس جوہر سے متشابہ معلوم ہوتے ہیں جو عورت میں ہے۔ اس کی روح میں ہے۔ اس کے دل میں ہے۔ اس کے ظاہر میں ہے۔ اس کے باطن میں ہے۔“
    اب نہ معلوم اس نوجوان نقاد کے تصور نے عورت کا لیبل کس قسم کی چیزوں پر لگا رکھا ہے۔ یہ معلوم ہوتا تو وہ جوہر بھی کھلتا جو بہ قول ان کے عصمت کے افسانوں میں ہے لیکن ان کے رنگین تصورات ومفروضات کے خلوت کدہ میں ہمیں کیونکر باریابی ہوسکتی ہے اور کوئی ایسی ڈکشنری بھی نہیں جس میں عورت کے وہ معنی مل جائیں جو اس تنقید کی تہہ میں کام کر رہے ہیں۔ دیباچے کا مقطع ہے:
    ”عصمت کا نام آتے ہی مرد افسانہ نگار کو دورے پڑنے لگتے ہیں۔ شرمندہ ہو رہے ہیں آپ ہی آپ خفیف ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ دیباچہ بھی اسی خفت کو مٹانے کا ایک نتیجہ ہے۔“ لیجئے۔ عورت کے ایک دوسرے تصور سے پھر میرے عزیز کی ناقدرانہ نظر بہک گئی۔ دکھانے تو چلے تھے عصمت کے افسانوں کا جوہر لیکن آخر کہہ گئے کہ یہ عورت ناقص العقل جانور ہے ڈاکٹر جانسن کے کتے کی طرح کہ دو ٹانگوں کے بل کھڑا ہو جائے تو تعجب وتحسین ہی کا نہیں بلکہ ہم انسانوں (یعنی مردوں) کے لئے شرم و ندامت کا موجب ہے۔ ایک اور مقتدر و پختہ کار دیباچہ نویس نے بھی معلوم ہوتا ہے انشا پردازوں کے ریوڑ میں نر اور مادہ الگ الگ کر رکھے ہیں۔ عصمت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ”اپنی جنس کے اعتبار سے اردو میں کم و بیش انہیں وہی مرتبہ حاصل ہے جو ایک زمانہ میں اردو ادب میں جارج ایلیٹ کو نصیب ہوا“۔ گویا ادب بھی کوئی ٹینس کا ٹورنامنٹ ہے جس میں عورت اور مردوں کے میچ علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔ جارج ایلٹ کا رتبہ مسلم۔ لیکن یوں اس کا نام لے دینے سے تک ہی ملا اور بوجھوں تو کوئی کیا مرے گا۔ اب یہ امر ایک علیحدہ بحث کا محتاج ہے کہ کیا کوئی مابہ الامتیاز ایسا ہے۔ خارجی اور ہنگامی اور اتفاقی نہیں بلکہ داخلی اور جبلّی اور بنیادی جو انشا پرداز عورتوں کے ادب کو انشا پرداز مردوں کے ادب سے ممیز کرتا ہے اور اگر ہے تو وہ کیا ہے؟ ان سوالوں کا جواب کچھ بھی ہو، بہرحال اس نوع کا ہرگز نہیں کہ اس کی بنا پر مصنفین کو ”جنس کے اعتبار سے“ الگ الگ دو قطاروں میں کھڑا کر دیا جائے۔
    اسی طرح جہاں کسی افسانے میں خاندان، گھر بار، اعزا واقربا کا ذکر آگیا۔ یا کسی متمول لڑکے نے کسی مفلس لڑکی پر ہاتھ ڈالا، جوشیلے اور دردمند دل رکھنے والے نقادوں نے مسرت کا نعرہ لگایا اور بغلیں بجائیں کہ سماج کی خبر لی جا رہی ہے۔ اب غور سے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ عصمت کے اچھے افسانوں میں ماحول محض اس لئے شامل فسانہ ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ کردار کہیں تو رہیں گے۔ کسی سے تو ملیں گے افسانہ کا جو ڈھانچہ ہے اس کا کوئی گوشت پوست تو ہوگا پھر اس کے بغیر بھی چارہ نہیں کہ وہ ماحول ایک نہ ایک معروف طبقے کا ماحول ہو۔ بودوباش کا کوئی نہ کوئی ڈھنگ تو پیش نظر رکھنا ہی پڑے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ ماحول جن معاشی اصولوں کی وجہ سے پیدا ہوا خود وہ اصول جانچے اور پرکھے جا رہے ہیں۔
    عصمت کے بعض مضامین ایسے بھی ہیں جن پر شبہ ہوتا ہے کہ سماج کو سامنے رکھ کر لکھے گئے ہیں۔ لیکن انہوں نے جہاں بھی سماج کو اپنا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے ان کا ہاتھ جھوٹا ہی پڑا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سماج کی جن باتوں سے عصمت کا جی برا ہوتا ہے ان پر عصمت نے غور ضرور کیا ہوگا۔ لیکن تلخی کام ودہن ابھی ان کے رگ وپے تک نہیں پہنچی اور جب تک یہ نصیب نہ ہو سماجی کمزوریوں پر اخباروں میں مضمون لکھ لینے چاہیں۔ ان کو فن کی لپیٹ میں لانے کا خیال چھوڑ دینا چاہئے۔ عصمت کو فی الحقیقت شغف سماج سے نہیں شخصیتوں بلکہ اشخاص سے ہے۔ ان کے جوش اور ہوس سے۔ ان کی تھرتھراہٹ اور کپکپی سے، ان کی باہمی کشمکش اور عداوت اور فریب کاری سے، غرض ان تمام کیفیتوں سے جو انسان پر جب طاری ہوتی ہیں تو جسم پھڑکنے لگتا ہے اور دوران خون تیز ہوجاتا ہے یا اعصاب میں الجھاؤ اور طبیعت میں تناؤ پیدا ہوجاتا ہے اگر عصمت اور سماج کا باہم ذکر اس نقطہٴ نظر سے کیا جائے کہ ان کی سی انشاء ان کا سارا رجحان اور ان کا سااسلوب انتخاب ایک خاص زمانے اور خاصی سماجی کشمکش کی پیدوار ہیں تو یہ بحث مناسب ہی نہیں بلکہ نتیجہ خیز بھی ہوگی۔ یہ کون نہیں جانتا کہ اردو میں عصمت جیسے ادیب اس صدی کے اوائل میں بھی منفقود تھے۔ اور اس سے پہلے کا ذکر ہی کیا۔ یہ ایک امر واقعہ ہے اور اس میں کئی دلچسپ نکتے مضمر ہیں۔ جن کی توضیع یقیناً خیال انگیز ہوگی۔ لیکن حالات سے اثر پذیر ہونا اور حالات کا مفسر ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اس بات کا مطالعہ کرنا ہوکہ بعض سماجی حالات نے کیونکر عصمت جیسی انشا پرداز کو پیدا کیا تو شوق سے کیجئے لیکن اس شوق میں خواہ مخواہ سماج کی نباضی عصمت کے سر نہ منڈھ دیجئے۔ سیب درخت سے گرا تو یقیناً کششِ ثقل ہی کی وجہ سے گرا۔ لیکن اس  کارگزاری کے صلہ میں سیب کا نام نیوٹن نہیں رکھا جا سکتا۔ نہ سیب کو سیب سمجھنے میں کچھ اس کی ہیٹی ہوتی ہے۔
    عصمت کے دونوں مجموعوں میں ڈرامے، افسانے اور اسکیچ تینوں قسم کی چیزیں شامل ہیں۔ ان میں ڈرامے سب سے کمزور ہیں اور اس کی کئی وجوہ ہیں اول تو یہ کہ ڈرامے کی ٹیکنیک عصمت کے قابو میں نہیں آئی یا یہ کہیے کہ ابھی تک ان کو اس پر قدرت حاصل نہیں ہوئی۔ پلاٹ کو مناظر میں تقسیم کرتی ہے تو ناپ کی قینچی سے نہیں کترتیں۔ یونہی دانتوں سے چیر پھاڑ کر چیتھڑے بنا ڈالتی ہیں چنانچہ پھوسڑ جا بجا دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی سین جب پھیلتا ہے تو سمٹے بغیر ہی ختم ہو جاتا ہے جیسے گاڑی دو اسٹیشنوں کے درمیان کہیں بھی رک جائے۔ خیر اس قدر نازک مزاجی سے کیا حاصل؟ کھیر نہ سہی دلیا ہی سہی پیٹ بھر جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ ڈرامے کو ڈرامہ نہ سمجھے۔ کہانی سمجھ کر پڑھیئے اور فرض کر لیجئے کہ کہانی نے ڈرامے کا لباس کسی ضرورت سے نہیں بلکہ محض تنوع کی خاطر پہن رکھا ہے۔ لیکن افسوس کہ رواداری سے بھی مشکل حل نہیں ہوتی۔ کہانی کو ڈرامے کی شکل دی جائے تو ایک جبر اپنے اوپر ضرور کرنا پڑتا ہے اور وہ یہ کہ قصہ اول سے آخر تک مع اپنے نشیب وفراز کے تمام تر افراد قصہ ہی کے اقوال وافعال کے ذریعے بیان کرنا پڑتا ہے مصنف سے یہ آزادی پھر چھن جاتی ہے کہ ساتھ کرداروں کے جذبات، خیالات کو اپنی زبان سے واضح کرتا جائے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پابندی عصمت کے بس کا روگ نہیں۔ افسانہ ہو تو عصمت کو کسی انوٹ یا تیور کے واضح کرنے میں دقّت پیش نہیں آتی۔ انہیں افسانہ نویس کے اس حق سے فائدہ اُٹھانا خوب آتا ہے کہ جب چاہا کیریکٹر سے کچھ کہلوالیا۔ جب چاہا خود کچھ کہہ لیا۔ لیکن جب اپنی زبان بند ہو اور سب کھیل کیریکٹروں ہی کو کھیلنا ہو تو عصمت قاصر رہ جاتی ہے۔ اور ان مجبوریوں میں گھر کر ان کا مطلب اکثر فوت ہوجاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مکالمے بھی پھسپھسے ہوجاتے ہیں اور ان میں اس کردار پن کا نام ونشان تک نظر نہیں آتا۔ جو ان کے افسانوں کے مکالوں میں اکثر پایا جاتا ہے۔ (پردے کے پیچھے میں کس قدر چستی اور پھرتیلا پن ہے) بعض اوقات تو مکالمہ کچھ ایسا بےجوڑ ہوجاتا ہے کہ یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا واقعہ کیا پیش آیا۔ چنانچہ ان کا ڈرامہ ”انتخاب“ کے واقعات پیشتر اس کے کہ سمجھ میں آسکیں بہت کچھ وضاحت کے محتاج ہیں۔ (یہ نقص ان کے افسانہ ”تاریکی“ میں بھی رہ گیا ہے) ڈرامہ نویس کو تو اجازت نہیں کہ وہ سیدھے منہ ہم سے بات کرے۔ باقی رہے کیریکٹر سو وہ آپس میں الجھی سلجھی گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ (ڈرامہ جو ٹھہرا) مگر ہمارے پلے کچھ نہیں پڑنے دیتے۔ ڈرامہ نویس عدم تعاون پر مجبور ہیں اور کیریکٹروں کو تعاون کا سلیقہ نہیں۔ ان حالات میں ڈرامہ کامیاب ہو تو کیونکر؟ پھر ان ڈراموں میں (جہاں تک میری سمجھ میں آئے) عصمت کی کوشش یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ چند اشخاص نہیں چند ٹائپ پیش کریں۔ یعنی ہر شخص ایک طبقہ کا نمائندہ بن کر سامنے آئے۔ مگر اس کے لئے اشخاص کا اداراک نہیں گروہ کا احساس چاہئے اور عصمت اور گروہ میں وہ انہماک نہیں جو اشخاص میں ہے تو پھر نہ معلوم انہیں یہ مصیبت کیوں مول لی؟
    علاوہ ان سب باتوں کے ان ڈراموں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان میں عصمت نے جس قسم کے لوگوں کا نقشہ کھینچنا چاہا ہے، ان سے وہ طبعاً گھل مل نہیں سکتیں یعنی وہ مرفہ الحال لوگ جو کہلاتے تعلیم یافتہ ہیں مگر جن کی ترکیب میں تعلیم کم اور بےیافتہ زیادہ ہوتی ہیں۔ جو خوش حالی، بےحسی، انحطاط اور اپنے رنگ وروغن کے بل پر اپنے مشاغل اور اپنی گفتگو میں بےفکراپن اور چمک پیدا کرلیتے ہیں جس کی بدولت وہ ”سمارٹ سیٹ“ کہلاتے ہیں۔ اور کم نصیب لوگ کچھ ان سے نفرت کچھ ان پر شک کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے اس طبقے کی بعض حماقتوں اور خود فربیبیوں پر عصمت کو غصہ آتا ہے جس کو وہ بیان کرنا چاہتی ہیں۔ اور اس کی عشرتوں پر تھوڑا سا رشک جس کو وہ خود بھی نہیں جانتیں لیکن یہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس چمکیلے طبقہ کو انہوں نے دور ہی سے دیکھا ہے۔ قریب آنے کا موقع نہیں ملا کہ اس کے نقوش اور خدوخال واضح دکھائی دیتے اور اس کے خوب وزشت اور ظاہر وباطن کا وہ اچھی طرح موازنہ کرسکتیں۔ چنانچہ جب عصمت اس قسم کے کیریکٹروں یا ان کے ماحول کی تصویر کھینچتی ہیں تو نوک پلک کبھی درست نہیں ہوتی۔ چھری، کانٹے، ”ارغنوں“ (یعنی چہ؟) ٹینس، ڈرائنگ روم، ڈنر سیٹ، الم غلم اس قسم کی اصلی اور خیالی چیزیں جمع کرکے ایک کباڑ خانہ سا بنا لیتی ہیں۔ گو ان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس سازو سامان سے امیرانہ ٹھاٹھ باندھا جائے اور کچھ اس یقین کے ساتھ اسباب چنتی جاتی ہیں کہ ان کی سادگی پر رشک آتا ہے۔
    کیریکٹروں کی گفتگو اور حرکتیں بھی اس قسم کی ہوتی ہیں کہ جب مصنف ہنسائے تو رونا آتا ہے اور رلائے تو ہنسی آتی ہے۔ ایک تصنع تو ان میں وہ ہے جس کا مصنف کو علم ہے لیکن ایک تصنع ان میں ایسا بھی آجاتا ہے جس سے مصنف خود بےخبر ہے، اور جو دراصل اس کے اپنے تصنع کا عکس ہے یعنی کیریکٹروں کی سطیحت کو تو بے نقاب کرنا ہی تھا اپنی سطحیت بھی ساتھ بے نقاب ہو رہی ہے۔ ایکٹروں سے پہلے کیریکٹر خود ایکٹ کرتے ہیں۔ بات بات پر اپنی زندگی میں تھیٹر کی سی سچوایشن (situation) پیدا کر لیتے ہیں اور کچھ اس طرح بنتے ہیں کہ ان کے تو خیر خود ڈرامہ نویس کے حسن مذاق پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ ”سانپ“ میں عصمت نے چند ایسی عورتیں دکھانے کی کوشش کی ہے جو بزعم مصنف ”شکاری عورتیں“ ہیں یعنی وہ رنگین تریا چلتر ہے مردوں کے جذبات کے ساتھ کھیلتی ہیں۔ جیسے بلّی چوہے سے کھیلتی ہے۔ لیکن ان کی تھکی ہوئی باتیں سنئے اور ان کی اکتا دینے والی خوش فعلیوں کا تماشا کیجئے تو اس نتیجے پر پہنچے گا کہ کسی چوہے کا شکار تو یہ شاید کرلیں لیکن اس سے زیادہ کی امید بےچاریوں سے خام خیالی ہے۔ معلوم ہوتا ہے چند کم عقل چھوکریاں ہیں۔ جنہوں نے کوئی ارزاں قسم کا خوش پوش امریکن فلم دیکھ لیا ہے۔ اور گھر میں دو ایک جگہ صوفے، کرسیاں بچھا کر نقل اتارنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قیاس اس امکان کو بھی ردنہیں کرتا کہ وہ فلم خود مصنف ہی نے دیکھا ہو اور اس کی ارزانی کا احساس اس کو نہ ہوا ہو۔ ایک مکالمہ تو اس ڈرامے میں ایسا ہے کہ اپنے بےساختہ میلوڈرامیٹک اسلوب کی وجہ سے کشتِ زعفران سے کم نہیں۔ رفیعہ کی منگنی غفار سے ہو چکی ہے لیکن اب وہ اس سے نہیں ظفر سے شادی کرے گی۔ غفار کو اس سانحہٴ جانکاہ کا علم یوں ہوتا ہے:
رفیعہ۔ نہیں میں تمہاری زندگی برباد نہیں کروں گی۔
غفار۔ (جوش سے) برباد نہیں۔ تم میری زندگی آباد کرو گی۔
رفیعہ۔ نہیں، میں تمہیں نگل جاؤں گی۔ سانپ جو ٹھہری۔
غفار۔ (شدت جوش سے کانپ کر) کیسی باتیں کرتی ہو، تم مجھے نگل بھی جاؤ، تو میرے لئے عین راحت ہوگی۔
خالدہ۔ (رفیعہ کی سہیلی) مگر اب تو رفیعہ نے فیصلہ کرلیا۔
غفار۔ (چونک کر) کیا فیصلہ کرلیا؟
خالدہ۔  یہی کہ وہ تمہیں نہ نگلے گی۔
رفیعہ۔ ہاں اب تو میں ظفر کو نگلوں گی۔
(ظفر پریشان ہو کر مسکراتا ہے)
غفار۔ (سمجھ کر) تو… تمہارا یہ مطلب ہے کہ تم مجھے ٹھکرا رہی ہو!
رفیہ۔ اُونہہ۔ اب تم نے بھی غلیظ شاعری شروع کر دی۔
غفار۔ (پریشانی سے انگلیاں چٹخا کر) اور ظفر تم مجھے دھوکا دیتے رہے۔
ظفر۔ غفار، بچہ نہ بنو، یہ فتنہ تمہارے بس کا نہ تھا۔ شکر کرو کہ میرے ہی اوپر بیتی اور تم بچ گئے۔ تم دیکھنا میری وہ گت بنائے گی کہ توبہ ہی بھلی۔
غفار۔ کاش میری ہی وہ درگت بن جاتی۔
خالدہ۔ مگر غفار سوچو تو…
غفار۔ ایک عرصہ دراز سے بزرگوں نے یہ بات طے کر دی تھی۔
خالدہ۔ یہ ٹھیک ہے کہ آبائی حق تو تمہارا ہے پر یہاں تو رفیعہ کا معاملہ آن پڑا ہے۔ وہ ایک ضدی ہے!
غفار۔ (اندوہ گیں ہو کر) میں ۔۔جا رہا ہوں (نہایت اداسی سے) رفیعہ! خدا کرےتم خوش رہو۔
    عصمت اس سین کو کامک سین سمجھ کر لکھتیں تو شاید ڈرامہ نویس میں ان کا نام رہ جاتا۔ لیکن افسوس کہ ان کے ہونٹوں پر مجھے مسکراہٹ نظر نہیں آئی۔ اور جب مصنف نے ہنسانے والی باتیں لکھیں اور خود سے ہنسی کی کوئی بات نظر نہ آئے تو افسوس ہوتا ہے۔ کچھ ایسا ہی بے تکا پن ڈراموں کے علاوہ ان افسانوں میں بھی پایا جاتا ہے جن میں عصمت نے ان جدید نما چمکیلے لوگوں کو اپنانے کی کوشش کی ہے۔ ایسے افسانوں میں نہ پلاٹ کی چولیں ہی ٹھیک بیٹھی ہیں نہ کیریکٹر کا ناک نقشہ ہی درست ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انگریزی میں سے کہانیوں کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر جوڑ لئے ہیں۔ اور پیشہ ور افسانہ نویسوں کی طرح رسمی رومان کا رنگ دے کر جھوٹ موٹ ایک بات بنا لی ہے۔ ”پنکچر“ اور ”شادی“ پڑھ کر دل پر یہی اثر ہوتا ہے اور ”میرا بچہ“ میں تو برنارڈ شا کے“‘ آرمز اینڈ دی مین“ کے پہلے سین پر کچھ اس طرح سے ہاتھ صاف کیا ہے کہ شبہ کی گنجائش نہیں۔
    یہ سیلیا اور نیلی اور ”ارغنوں“ اور پارٹیوں کی دنیا عصمت کی دنیا نہیں۔ اس میں وہ اجنبی رہتی ہیں اس کی تہہ کو وہ جب پہنچیں گی۔ تب دیکھا جائے گا۔ فی الحال تو ان کی دنیا وہی ہے جو ان کے بہتر افسانوں یعنی جوانی، ڈائن، نیرا، بھول بھلیاں ، ساس، بیمار اور تل میں پائی جاتی ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جس میں عورتیں پردے کے پیچھے سے فقرے چست کرتی ہیں جس میں زینوں پر اور دیواروں کی آڑ میں آنکھ مچولی کھیلی جاتی ہے۔ جس میں نوا ڑ کی پلنگڑیوں پر پٹاریاں رکھی ہیں۔ مہترانیوں کی جوان بہوئیں کمر لچکا کر چلتی ہیں۔ اکھڑلڑکیاں گوبر بنتی پھرتی ہیں اور تلیا میں ڈبکیاں لگاتی ہیں جس میں گلگلے بچے ماں کے پیٹ سے چھپکلی کی طرح چپکے ہوئے چپڑ چپڑ منہ مارتے ہیں اس کے گردو پیش میں وہ اس بے تکلفی اور احساس ہم آہنگی کے ساتھ گھومتی پھرتی ہیں کہ اسی کا ایک جزو معلوم ہوتی ہیں چنانچہ وہ کس سہولت کے ساتھ دوہی چار خط کھینچ کر اس دنیا کو کاغذ پر لے آتی ہیں۔ عصمت کے بہترین افسانوں میں آپ کو فضا اور ماحول کے لمبے لمبے پُرتکلف ڈسکرپشن (Description) کہیں نہ ملیں گے۔ لیکن جو بات ہے وہ ایسے پتے کی ہے کہ اختصار سے تشنگی اور خلاء کی شکل پیدا نہیں ہوتی۔ ”ساس“ کے شروع کے فقرے ہیں:
    ”سورج کچھ ایسے زاویئے پر پہنچ گیا کہ معلوم ہوتا تھا چھ سات سورج ہیں جو تاک تاک کر بڑھیا کے گھر میں ہی روشنی پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ تین دفعہ کھٹولی دھوپ کے رخ سے گھسیٹی اور اے لو پھر پیروں پر دھوپ اور جو ذرا اونگھنے کی کوشش کی تو دھمادہم ٹھٹوں کی آواز چھت پر سے آئی۔ ”خدا غارت کرے پیاری بیٹیوں کو“۔ ساس نے بےحیا بہو کو کوسا جو محلے کے چھوکروں کے سنگ چھت پر آنکھ مچولی اور کبڈی اڑا رہی تھی“۔ دنیا میں ایسی بہوئیں ہوں تو کوئی کاہے کو جئے۔ اے لو دوپہر ہوئی اور لاڈو چڑھ گئیں کوٹھے پر ذرا ذرا سے چھوکرےاور چھوکریوں کا دل آپہنچا پھر کیا مجال ہے جو کوئی آنکھ جھپکا سکے“۔
    اتنے تھوڑی سے الفاظ میں اس سے زیادہ کوئی کیا رنگ بھرے گا اور رنگ بھی ایسے کہ نہ ضرورت سے زیادہ شوخ نہ ضرورت سے زیادہ مدہم۔ یہی حال ”نیرا“ میں کے ایک ٹکڑے کا ہے:
    ”چھوٹے تال سے گزر کر پلیا پر سے ہوتے ہوئے دونوں ننھے منے بیوپاری شہر کی سڑک پر چلنے لگے۔ یہ کم بخت جاڑا تو اب کے ایسا دانت پیس کر پیچھے پڑا تھا کہ نرم ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ گرمی تو جیسے تیسے کٹ جاتی ہے چاہو جتنا نہاؤ، پیاؤ پر سے ٹھنڈا پانی جتنا چاہو پی لو۔ نہ کپڑے کی ضرورت نہ کچھ۔ رمو کو تو دھوتی کا بھی مرہون منت نہ ہونا پڑتا تھا۔ سیاہ سوت کا ڈورا جو اس کے کچری جیسے پیٹ پر ے پھسل کر کولہے کی ہڈیوں پر مزے سے ٹک جاتا تھا۔ ضرورت سے زیادہ تھا۔ مزے سے تلّیا میں ڈبکی لگائی، کناروں پر اکڑوں بیٹھ گئے او رلُو کے چھپاکوں سے سوکھ گئے“۔
    اور اس سے بھی مختصر یہ کہ:
    ”اندھیری سنسان راتیں جیسے تیسے کٹنے لگیں۔ بیجھڑ کی روٹیاں اور لوٹا بھر مٹھا حاصل کرنے کے لئے سارے گھر کو دن بھر تیرے میرے کھیت میں جتے جتے گزر جاتی۔ نیرا گھاس چھیل لاتی، بھینسوں کو بھی دن لگے اور دودھ چرانا شروع کر دیا۔ کون دیکھتا بھالتا۔ کانجی ہاؤس میں ہی ایک توضبط ہوگئی دوسری بیاہنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ بھینس جب بوڑھی ہوجاتی ہے تو پتہ بھی نہیں چلتا۔ نہ اس کی کمر جھکے نہ بال کھچڑی ہوں“۔
    ان اقتباسات میں پانچ پانچ چھ چھ فقرے ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ اس لئے ان کو یہاں نقل بھی کر لیا۔ ورنہ اسی قسم کے ایک ایک دو دو فقروں کے کنائے تو کئی جگہ ہیں۔
    یہ دنیا بیشتر مفلسوں اور اکھڑوں کی دنیا ہے۔ بہرحال! امیروں، نفاست پسندوں اور تراشیدہ لوگوں کی دنیا نہیں۔ اس میں فاقے ہیں غلاظتیں ہیں (اور غلاظتوں کا حال عصمت کتنی برہم ہو کر اور برہمی کے مزے لے لے کر بیان کرتی ہیں)جہالتیں ہیں، بدزبانیاں ہیں، ہاتھا پائیاں ہیں، بیماریاں ہیں، ڈھیروں بچے ہیں، لیکن پھر بھی ان میں زندگی کا ایک خط ہے جو دبائے نہیں دبتا، امنگیں اُبھرتی ہیں، جوانی اپنے کرشمے دکھاتی ہے۔ ذہن میں شرارتیں چٹکیاں لیتی ہیں اور نفس انسانی کا پہلو ان زور آزمائی کرتا ہے جن افسانوں کو میں نے بحث کے لئے منتخب کیا ہے۔ ان میں آپ کو بہت بڑی بلندی یا بہت پُر معنی گہرائی نظرنہ آئے گی۔ عمیق امن، خاموش آسودگی یا مسرت عالیہ کہیں نہ ملے گی۔ نہ وہ حزن وملال ہی ملے گا جو کہر کی طرح دل پر جم جاتا ہے اس میں ٹریجیڈی کی کوشش ہے نہ کامیڈی کی۔ لیکن انسانی خون آپ کو رگوں میں دوڑتا نظر آئے گا اس طرح دوڑتا ہوا جیسے پہاڑی ندی کا پانی دوڑتا ہے۔ لبالب اور ابلتا ہوا اور ٹکراتا ہوا اور رستہ چیرتا ہوا۔
    ان افسانوں کا موضوع کیا ہے۔ اگلے وقتوں کے لوگ ان افسانوں کو (اگر ایسے افسانے انہیں ہاتھ آتے تو) عشقیہ افسانے یا ”عشقیہ افسانے ہی سمجھ“ کہتے۔ لیکن عشق کے معنی اس قدر پھیل چکے ہیں کہ عشقیہ سے یہاں کام نہ چلے گا۔ لیلیٰ مجنوں کا عشق، صوفیوں کا عشق، غزلوں کا عشق، فلموں کا عشق، امرد پرستوں کا عشق، سبھی طرح کے عشق ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں اور ہر ایک کا مزاج جدا ہے۔ اس لئے عشق کے لفظ سے نہ جانے کہنے والے کا مفہوم کیا ہو۔ اور سننے والے کیا سمجھ بیٹھیں۔ ”جنسی بھوک“ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن محض اس سے بات بھی نہیں بنتی۔ کیونکہ جنسی بھوک تو اتنے بی ایڑس سے لے کر کتے کتیا تک سبھی کو لگتی ہے۔ عصمت کے افسانوں میں جو جذبہ مرد عورت کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتا ہے اس کی کسی قدر اور تخصیص کرنی چاہئے۔ ایک بات تو ظاہر ہے اور وہ یہ کہ اس جذبے میں شاعرانہ لطافتوں کی رنگینی نہیں پائی جاتی۔ اس کا رومان سے کوئی تعلق نہیں۔ عصمت کے کسی افسانے میں مرد یا عورت کے حسن کا کبھی ذکر نہیں آتا۔ کیونکہ جو جذبہ ان کے پیش نظر ہے اس کی تحریک کے ليےحسن کی ضرورت نہیں۔ یہ محض خون کی تاریک حرارت اور جسم کی جھلسا دینے والی گرمی سے پیدا ہوتا ہے اور جب انسان کے جسم میں یہ آگ لگتی ہے تو وہ کبھی اس کو سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ اس آگ سے کوئی پیچیدہ نفسیاتی معمے پیدا نہیں ہوتے۔ صرف تند وتیز شراب کا سا نشہ روئیں روئیں میں سرایت کر جاتا ہے۔ دل کی کیفیتں جسم ہی سے رنگ پکڑتی ہیں۔ اور جو کرب یا تسکین بھی نصیب ہوتی ہے اس کا مظہر اول سے آخر تک جسم ہی رہتا ہے عصمت ہی کے فقرے ہیں کہ ”شہر کے تندرست لوگوں کا گھرسڑی بُسی چمرخ بیویوں سے اُجڑ جاتا ہے“۔ اور ”جب تک بدن چست ہے اور گال چکنے ہیں سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں“ اور پھر ”وہ بیمار تھا تو کیا، دل تو مردہ نہ ہوا تھا پھر اس میں بیوی کا کیا قصور۔ وہ نوجوان تھی اور رگوں میں خون دوڑ رہا تھا۔ مگر وہ کبھی جھوٹ موٹ کو ہی اس سے کچھ کہتا تو وہ اینٹھ جاتی۔“ مطلب یہ کہ جسم مردہ ہو تو یہاں دل کی زندگی سے کام نہیں چلتا۔ جسم کا شعور عصمت کے افسانوں میں اس قدر نمایاں ہے کہ پڑھنے والا جسم کے متواتر ذکر سے خود مصنف کی طرح ہیبت زدہ اور مسحور ہو جاتا ہے۔ صلّو دبلا پتلا آئے دن کا مریض تھا۔ اور پھر جب جوانی آئی تو خون کی حدت سے اس کا چہرہ سانولا ہوگیا۔ اور پتلے سوکھے زرد ہاتھ سخت گٹھلی دار مضبوط شاخوں کی طرح جھلسے ہوئے بادلوں سے ڈھک گئے۔ بیگم جان کے اوپر کے ہونٹ پر ہلکی ہلکی مونچھیں تھیں اور پنڈلیاں سفید اور چکنی۔ دبّو کا گٹھا ہوا ٹھوس جسم اور کسی ہوئی چھوٹی سی توند اور بڑے بڑے پھولے ہونٹ جو ہمیشہ نمی میں ڈوبے رہتے ہیں۔ بیمار کا موٹا پڑوسی سرخ چقندر بڑی گھن دار مونچھوں والا جس کے جسم سے موڑھا بھرجاتا ہے۔ اور جس کے جبڑے چکی کی طرح چلتے ہیں۔ رانی کے چکنے چکنے سیاہ گال اور وہ دیسی جگہ کا تل۔ شبراتی کے سینے پر کتنے بال تھے، گھنے پسینے میں ڈوبے ہوئے اور اس کے کسے ہوئے ڈنرملوں اور رانوں کی مچھلیاں کیسے اچھلتی تھیں۔ اور وہ اس کی چھوٹی چھوٹی مونچھیں اور پھکنی جیسی موٹی انگلیاں۔ بہادر کے بڑے بڑے بالوں دار ہاتھ اور اس کا کافوری سینہ۔ جنّو کی کھونٹے جیسی ناک۔ غرض جسم سے کہیں چھٹکارا نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ دل لبھانے والا جسم یا آراستہ جسم اپنے تناسب میں رعنائیاں لئے ہوئے یا پاکیزگی اور نفاست کے لئے داد طلب نہیں، بلکہ محض جسم، اپنی گرمی سے پُرنم اور مقناطیسی خون کی حرارت سے سنسناتا ہوا یہ جسم بھی ایک آفت ہے۔ یہ ہم پھر اپنی خواہشوں کے ساتھ اندھے مشٹنڈے کی طرح یا بقول عصمت کے ”جوان جاٹنی“ کی طرح سوار ہے جب خواہشیں پھنکارتی ہیں اور جسم جسم کو پکارتا ہے تو ان افسانوں کے کیریکٹر آہیں نہیں بھرتے۔ غزلیں نہیں گاتے، شعر نہیں لکھتے، بلکہ بغیرچوں وچرا کے اس پر اسرار آواز کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ اور وہ جدہر لے جائے بغیر سوچے بوجھے اسی طرف چل دیتے ہیں۔ مائیں گھڑکتی ہیں، ساسیں الجھتی ہیں، بے پروا لوگ غچا دے جاتے ہیں۔ افلاس کی سڑاند سے دم گھنٹا ہے لیکن اس کے قدم نہیں رکتے یا عصمت کے الفاظ میں یوں کہئے کہ ”جوانی غربت کو نہیں دیکھتی بن بلائے ٹوٹ پڑتی ہے او ربے کہے چل دیتی ہے۔ پیٹ بھر روٹی نہ ملی تو کیا، سہانے خواب تو کوئی روک نہ سکا۔ جمپر اور شلو کے نہیں جڑے تو کیا جسم نے پیر روک لئے۔ وہ تو بڑھتا ہی گیا۔“ اور یہاں غربت اور شلوکوں کی جگہ کچھ ہی رکھ لیجئے جسم کے پیر نہیں رکھتے۔
    اور جب اس جسم میں طوفان آتا ہے ”اور پیٹھ پر کن کھجورے رینگنے لگتے ہیں“۔ اور دل ودماغ پر اندھی کیفیتیں طاری ہو جاتی ہیں تو یہ عجیب عجیب بیر باندھ لیتا ہے لیکن جسم اپنا بدلہ جسم ہی سے لیتا ہے چنانچہ اس کشمکش کے زیر اثر حلم اور گداز اور ملائمت نہیں پیدا ہوتی۔ کیریکٹر تخیل کے ریشم میں لپٹ کر غنودہ نہیں ہو جاتے بلکہ ان میں کرخت قسم کی اکھڑ، الھٹرپن اور درشت قسم کی شرارتیں بیدار ہوجاتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو چھیڑتے ہیں، دق کرتے ہیں،کچلچا کر کھٹولیوں پر پٹخ دیتے ہیں۔ ننگے جسم پر بدھیاں ڈال دیتے ہیں۔ ہونٹوں کو چٹکیوں سے مسل دیتے ہیں۔ پیر سے پیر دباتے ہیں۔ تھپڑ رسید کرتے ہیں بال پکڑ کر جھٹکے دیتے ہیں۔ دھولیں مارتے ہیں جھاپر کس کس کر لگاتے ہیں، گھسیٹتے ہیں، چچوڑتے ہیں، یعنی دل پر کچھ ہی گزرے جسم کی گرفت کبھی ڈھیلی ہونے نہیں پاتی۔ اور یہ جذبہ شروع سے آخر تک اپنے کھردرے پن اور بدویت کی شان کو نہیں چھوڑتا۔ تو پھر عصمت کے افسانوں کا موضوع جسم ہے؟ نہیں یہ کہنا تو درست نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ افسانے بلاشبہ ادب کے دائرے میں شامل ہیں۔ اور ادب (یا کسی بھی آرٹ) کا موضوع جسم نہیں ہوسکتا۔ یعنی وہ جسم جو علم الاعضا کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ نہ جسم نہ چاند تارے نہ پھول نہ صحرا۔ آرٹ کو ذہنی کیفیات سے سروکار ہے کیونکہ آرٹ کا منصب ذہنی ارادات کا بیان اور بالآخر ان کیفیات کی تربیت ہے۔ یہ سب چیزیں تو محض محرکات ہیں۔ ان میں نہ سہی دوسری سہی۔ اس سے گزر جائیے کہ کس چیز کا نام لیا ہے۔ یہ دیکھئے کہ ذکر کیا ہو رہا ہے۔ اگر ذہنی کیفیات کا دخل نہ ہو تو مصور مصور نہیں ایک کیمرا ہے۔ ادیب ادیب نہیں نقل نویس ہے۔ اور جسم کا وقامع نگار علم الاعضا کا ماہر اورشارح تو بن سکتا ہے ادب پیدا نہیں کرسکتا۔
    جو کچھ میں اوپر بیان کر چکا ہوں اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ عصمت کی جنسی کشش کی ماہیت واضح کر دی جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ اس کے محرکات اور مظاہر کیا ہیں۔ لیکن بحیثیت آرٹسٹ کے عصمت کو پرکھنے کے لئے بالآخر یہ دیکھنا پڑے گا کہ جنسی بھوک سے پیدا ہونے والے جذبات واحساسات کو انہوں نے کس سطح پر ابھارا ہے اپنی مخلوق کو ان سی جو رنگینی بخشی ہے وہ کس رتبے کی ہے اور روح کے لیل ونہار میں ان کا کیا مقام ہے۔ ان سوالوں کا جواب میں مجملاً اوپر ایک دو جگہ دے چکا ہوں اس سے زیادہ تفصیل شاید سودمند نہ ہو ایسی باتوں کو جہاں تک ہوسکے بحث سے مخلصی دلا کر مذاق کے سپرد کر دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔لیکن ایک بات ظاہر ہے کہ جو آرٹسٹ عصمت کی طرح اپنی مخلوق کو یوں حیوانات کے کنارے تک لے جاتا ہے وہ تلوار کی دھار پر چلتا ہے۔ چنانچہ ان کے مشہور افسانہ ”لحاف“ میں، میں سمجھتا ہوں ان کا قدم آخر اکھڑ ہی گیا ان کی لغزش یہ نہیں کہ اس میں انہوں نے بعض سماجی ممنوعات کا ذکر کیا ہے سماج اور ادیب کی شریعتیں کب ایک دوسرے کے متوازی ہوئی ہیں۔ میلے کے ڈھیر سے لے کر کہکشاں تک سب ہی چیزیں احساسات کی محرک ہوسکتی ہیں اور جو چیز محرک ہوسکتی ہے وہ ادب کے املاک میں شامل ہے آپ جس زمین سے چاہیں شعر کہہ لیں۔ اس سے کیا غرض کہ زمین کون سی ہے غرض تو اس سے ہے کہ شعر کیسا ہے اس لئے اس پر معترض ہونے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے دیسی باتوں کا ذکر کیوں کیا۔ لیکن اس کہانی کی قیمت گھٹ یوں جاتی ہے کہ اس کا مرکز ثقل (یا عسکری صاحب کی اصطلاح میں اس کا ”تاکیدی نقطہ“) کوئی دل کا معاملہ نہیں۔ بلکہ ایک جسمانی حرکت ہے۔ شروع میں یہ خیال ہوتا ہے کہ بیگم جان کی نفسیات کو بے نقاب کریں گے۔ پھر امید بندھتی ہے کہ جس لڑکی کی زبانی یہ کہانی سنائی جا رہی ہے اس کے جذبات میں دلچسپی ہوگی۔ لیکن ان دونوں سے ہٹ کر کہانی آخر میں ایک اور ہی سمت اختیار کر لیتی ہے۔ اور اپنی نظریں امنڈتے ہوئے لحاف پر گاڑ دیتی ہے۔ چنانچہ پڑھنے والا بےچارہ اپنے آپ کو اس قسم کے لوگوں میں شامل پاتا ہے جو مثلاً جانوروں کے معاشقے کا تماشا کرنے کے لئے سڑک کے کنارے اکڑوں بیٹھ جاتے ہیں۔
    عصمت نے کچھ تھوڑے سے اسکیچ بھی لکھے ہیں جن میں سے ایک بھی دلچسپی، دّقت نظر اور عصمت کی مخصوص کنایہ بازی سے خالی نہیں۔ لیکن پھر بھی ان میں کوئی ”دوزخی“ کے رتبے کو نہیں پہنچتا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اردو ادب میں اس اسلوب نظر کی مثال نہیں ملتی۔ جو عصمت نے اس اسکیچ میں اختیار کیا ہے۔ ان چند صفحات میں عصمت کچھ اس طرح اپنے پروں کو پھیلا کر اڑتی ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے اپنے بلند ترین مقام پر پہنچ جاتی ہیں۔ ”میں ایک بہن کی حیثیت سے نہیں عورت بن کر… میں بہن ہو کر نہیں انسان ہو کر کہتی ہوں“۔ انہیں اس عذرخواہی کی ضرورت بھی یوں پیش آئی کہ اپنی دیانت پر تو ایمان تھا پڑھنے والوں کی دیانت پر ایمان نہیں تھا لیکن چند فقروں میں وہ اپنے خلوص اور اپنی جرأت سے پڑھنے والوں کی ہمت بلند کر دیتی ہیں۔ آرٹسٹ کسی کا بھائی نہیں ہوتا۔ کسی کی بہن نہیں ہوتی۔ احساسات اور اقدار کی دنیا میں ایسے رشتے تو محض اتفاقات کا نام ہیں۔ چند لیبل جو نہ معلوم کن چیزوں پر لگے ہوئے ہیں۔ لیبل ہٹا کر دیکھئے تو نیتوں اور وہموں کا امتحان ہوگا۔ اور ذہن جلا پائے گا۔ عصمت نے کس خود اعتماد ی کے ساتھ لیبلوں کو ہٹا کر پھینک دیا ہے اور جو زندگی میں بھی لاش تھا اس کی لاش کو بھی زندہ کر دکھایا ہے۔
    مضمون ختم کرنے سے پہلے دو ایک باتیں عصمت کی زبان کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کے لغوی مذاق میں بھی ہمارے لئے ایک ہدایت ہے۔ عصمت کی انشا پر فارسی اور عربی کا اثر بہ نسبت اردو ادیبوں کے بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ او ریہ بےنیازی الفاظ تک ہی محدود نہیں بلکہ ترکیبوں اور فقروں کی ساخت میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ان کی تحریر بجز ایک آدھ لاحاصل سی نقالی کی انگریزی تراکیب اور انگریزی اسالیب خیال سے بھی پاک ہے۔ اس زمانہ کے اکثر انشاپردازوں کو بہ وجہ اپنی تعلیم یا ماحول کے اس سے مضر نہیں کہ ان کے کلام میں وقتاً فوقتاً انگریزی کے سر بھی سنائی دے جائیں۔ اردو میں مغربی تلمیحات روز بروز بڑھتی جاتی ہیں۔ چنانچہ عام مصنفوں میں بھی اور کچھ نہیں تو ترجمہ شدہ ترکیبوں کی گٹھلیاں تو اکثر مل جاتی ہیں۔ عصمت انگریزی کے خیر وشر دونوں سے مبرا ہیں۔ یہ تو بتانا ناممکن ہے کہ وہ کیا لطف ہے جو ان کو تحریر میں پیدا ہوجاتا اور اس پاکدامنی کی وجہ سے نہ پیدا ہوا۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس کی بدولت وہ ٹھیٹھ اردو کے بہت سے ایسے الفاظ کام میں لے آئی ہیں جو آج تک پردے سے باہر نہ نکلے تھے۔ اور جن کو اب انہوں نے نئے نئے مطالب کے اظہار کے قابل بنا دیا ہے۔ گویا ادھر اردو انشا کو ایک نئی جوانی نصیب ہوئی۔ ادھر خانہ نشین الفاظ کو تازہ ہوا میں سانس لینے کا موقع ملا۔ عصمت کے فقروں میں بول چال کی سی لطافت اور روانی ہے۔ اور جملوں کا زیرو بم روز مرہ کا سا پھرتیلا زیر وبم ہے۔ اس لئے ان کے فقروں کا سانس کبھی نہیں پھولتا۔ اور ان میں منیشانہ ثقالت اور تکلف نہیں آنے پاتے۔ مختصر یہ کہ الفاظ کے انتخاب اور فقروں کی ساخت ان دونوں رستوں سے وہ انشا کی زبان کو زندگی کے قریب تر لے آئی ہیں جس کے لئے ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہئے۔ اس نیک کام میں عصمت کے علاوہ چند اور قابل قدر اہل زبان انشا پرداز بھی شریک ہیں۔ (اور سچ تو یہ ہے کہ یہ کام اہل زبان کے سوا کسی دوسرے کے لئے کچھ ایسا آسان بھی نہیں) لیکن عصمت کے احسان کا بوجھ کچھ اس وجہ سے ہلکا نہیں ہوجاتا۔
    عصمت کوئی قدآور ادیب نہیں۔ اردو ادب میں جو امتیاز ان کو حاصل ہے اس سے منکر ہونا کج بینی اور بخل سے کم نہ ہوگا۔ اور یہ مضمون بذات خود اس امتیاز کا اعتراف ہے لیکن بھول نہ جانا چاہئے کہ ہمارا افسانہ ابھی سن رشد یاسنِ بلوغ کو نہیں پہنچا۔ آج کل جب کہ نظروں کو وسعت نصیب ہورہی ہے اور دنیا بھر کا ادب کتاب کی طرح ہمارے سامنے کھلا پڑا ہے۔ اردو ادب کے قدر دانوں میں یہ حوصلہ پیدا ہونا چاہئے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے ادب کا دنیا کے بہترین ادب سے مقابلہ کرتے رہیں۔ تاکہ تناسب کا احساس کند نہ ہونے پائے۔ مقامی تعصبات کی حقیقت واضح ہوتی رہے اور دل میں امنگ پیدا ہو۔ ہمارے ادب جدید کے پات ضرور چکنے چکنے ہیں لیکن اس میں ابھی بھی بڑے بڑے پھول نہیں لگے۔ اتنی حد بندی کرلینے کے بعد ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے میں ذرا بھی تامل نہ ہونا چاہئے کہ عصمت کی شخصیت اردو ادب کے لئے باعث فخر ہے۔ انہوں نے بعض ایسی پرانی فصیلوں میں رخنے ڈال دیئے ہیں کہ جب تک وہ کھڑی تھیں کئی رستے آنکھوں سے اوجھل تھے اس کارنامہ کے لئے اردو خوانوں ہی کو نہیں بلکہ اردو کے ادیبوں کو بھی ان کا ممنون ہونا چاہئے۔

(ساقی دہلی، فروری ۴۵ء)

* * *

جس کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

جس کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو

(آغا بابر)

    جس قلم سے آج یہ چند منتشر خیالات خراج عقیدت کے طور پر پروفیسر بخاری مرحوم کی نذر کررہا ہوں، یہ قلم چلانا انہوں نے ہی سکھایا تھا۔ وہ میرے استاد تھے۔ مشفق تھے۔ زندگی کی جنگ لڑنے کا اعتماد، حوصلہ نہ ہارنے کا جذبہ سب کچھ انہیں کی تہذیب وتربیت کا نتیجہ تھا۔ ان کی ناگہانی موت سے خیالات اس طرح پریشان ہیں کہ کیا لکھوں کیا نہ لکھوں کا رشتہ ترتیب قلم کے قابو سے باہر ہے۔ دماغ میں جو کچھ آرہا ہے جس ترتیب سے آرہا ہے اسی طرح پیش کر رہا ہوں:

خاطر مسلسل است پریشاں چوں زلفِ یار
عیبم مکن کہ در شب ہجراں نوشتہ ام

    گورنمنٹ کالج لاہور ہندوستان میں سب سے بڑی اور سب سے پرانی درسگاہ تھی۔ اس کی تعلیم کا ڈھنگ، علمی وادبی صحبتیں اور پروفیسروں کی قابلیت کا شہرہ دور دور تھا۔ لڑکے اس درسگاہ سے منجھ کر نکلتے۔ انہیں بھی فخر ہوتا اور پروفیسروں کو بھی۔ جب فرسٹ ائیر میں یہاں داخل ہوا تو پروفیسر بخاری انٹرویو بورڈ میں تھے بلکہ بورڈ میں انہیں کی رائے چلتی تھی۔ گردن میں آپریشن ہونے کی وجہ سے ایک گڑھا سا پڑتا تھا۔ جس کی وجہ سے نسیں کھنچی رہتیں۔ شکل وصورت ایرانیوں کی سی تھی۔ ان دنوں مسٹر گیرٹ پرنسپل تھے۔ پروفیسر بخاری کی وضع قطع، باتیں کرنے کا ڈھنگ، لباس اور اطوار سے یورپینی انداز ٹپکتا۔ کسی پروفیسر کی کیا مجال کی گیرٹ کے کمرے میں سگریٹ پیتے ہوئے گھس جائے۔ مگر پروفیسر بخاری جب پرنسپل کے کمرے میں جاتے تو ہم 'کی ہول' (Key Hole) میں سے دیکھتے۔ گیرٹ کے سامنے وہ کھڑے سگریٹ پیتے۔ دھواں نتھنوں سے نکلتا۔ کبھی کش لیتے تو دھواں منہ سے نکلتا نہ نتھنوں سے۔ باتیں کر رہے ہیں دھواں غائب اتنی دیر میں دھواں نتھنوں سے نکلتا پھر منہ سے۔ یہ تماشا سرکس میں دیکھا تھا۔ گورنمنٹ کالج کے چوٹی کے پروفیسر کا یہ انداز اپنے اندر عجیب وقار، حسن، اور کشش لئے ہوئے تھا۔ پروفیسر بخاری بی اے کو ڈرامہ پڑھاتے تھے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ میں ان کی باتیں سنوں۔ ان کی صحبت میں بیٹھوں۔
    اردو مجلس کے وہ صدر تھے۔ اجلاس ان کے مکان پر ہوتے تھے۔ وہ ان دنوں میکلوڈ روڈ پر عطر چند کپور بلڈنگ میں رہتے تھے۔ پہلی دفعہ مجھے وہیں پروفیسر بخاری کی باتیں سننے کا اتفاق ہوا۔ فلیٹ کے برآمدے کی آرائش اور ڈرائنگ روم کی سجاوٹ ہر شے میں مغربی انداز جلوہ گر تھا۔ اس مغربی ماحول میں اردو مجلس کی میٹنگ پھر گفتگو کا انداز اتنا بےتکلف، سب کے ساتھ خلوص آمیز میل ملاپ۔ اس مجلس میں سید امتیاز علی تاج اور سالک صاحب بھی موجود تھے۔ ان سے بخاری گفتگو کرتے تو بات بات کے ٹکراؤ سے عجب پھلجھڑیاں اور شرارے پھوٹتے۔ تین گھنٹے کی مجلس رہی، مگر وقت گزرنے کا پتہ نہ چلا۔
    ان کی ذات میں مشرق ومغرب کا جو لطیف امتزاج موجود تھا پہلی صحبت ہی میں آدمی اس سے متاثر ہوتا۔ کمال تو یہ تھا کہ وہ بڑے سے بڑے اہم اور سنجیدہ مسئلے پر بحث کرتے ہوئے کس طرح مزاح وظرافت سے اسے حل کرکے رکھ دیتے تھے۔ ان کے مزاج کی آراستگی ساری محفل کو گرما دیتی۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی گرفت تھی کہ خواہ مخواہ طبعتیں کھنچی چلی آتیں۔وہ ان دنوں گورنمنٹ کالج کی تہذیبی سرگرمیوں کے روح رواں تھے۔ گھر پر اردو مجلس کی کھیتی کو سینچ رہے تھے۔ راشد اور فیض کو جدید شاعری کے گل بوٹے سجانے پر شاباشیاں مل رہی تھیں۔ شام کو انگریزی ڈرامے 'دی مین ہو ایٹ دی پوپو میک' (The Man Who Ate The Popomack) کا ریہرسل کرا رہے ہیں۔ انگریزی مباحثوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ادب اور فلسفہ پر لیکچر تیار کررہے ہیں۔ پھر آستینیں چڑھی ہوئی ہیں، ہاتھ گرد آلود، ڈرامے کی سیٹنگ کا ٹھونکا ٹھانکی ہورہی ہے۔ وقت کے ایک ایک لمحے سے اس کا اس طرح رس نچوڑ رہے ہیں کہ وقت اپنی تہی دامنی پر نادم ہے۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ اتنا خوش آئند ہوتا کہ دیکھنے والوں میں بھی تکمیل کار کا ایک ولولہ جاگ اُٹھتا۔ جو لوگ ڈرامے کا ریہرسل دیکھنے آتے وہیں کے ہو رہتے۔ وہ لڑکوں کو یونیورسٹی ڈی بیٹ کے لئے تیاری کراتے تو لڑکوں کا یہی جی چاہتا کہ وہ بس ڈی بیٹ ہی کو زندگی کا مسلک بنا لیں۔ یہ بخاری صاحب کے خلوص کار کے کرشمے تھے۔
    صوفی تبسم اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ : ”بخاری کا مقولہ ہے کہ کسی کام کی صحیح تکمیل کے لئے انسان میں محض شوق نہیں بلکہ چسکا ہونا چاہئے چنانچہ وہ جب بھی کسی کام کو کرتے ہیں تو ایسے ذوق وشوق سے کرتے ہیں، گویا انہیں اس کام کا چسکا ہے“۔ ان کا اپنے شاگردوں سے بڑا مشفقانہ برتاؤ ہوتا تھا، کلاس میں بھی اور کلاس سے باہر بھی۔ اس کے باوجود ان سے جی ڈرتا۔ وہ اس لئے کہ جہاں کوئی اصول کی بات آجاتی وہ معاف نہ کرتے، ڈانٹ پڑجاتی۔ میں نے بی اے میں ان سے ڈرامہ پڑھا، شیکسپیئر کے وہ عاشق تھے۔ ”ہملٹ“ ہمارے نصاب میں تھا۔ جہاں پلونیئس لی آرٹینر کو تقریر کرتے ہوئے عقل ودانش کی باتیں سمجھاتا ہے جو انسانی زندگی اور دنیوی تجربوں کا نچوڑ ہیں۔ اس مقام پر شیکسپیئر نے جو باتیں سمجھائی ہیں ان کے متعلق پروفیسر بخاری ہمیں نوٹس لکھوانا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنا اپنا قلم سنبھالا۔ اصغر (اب کمانڈ کنٹرولر راولپنڈی) میرے دائیں ہاتھ بیٹھتا تھا۔ اس نے موٹا سا پیلے رنگ کا قلم نکالا۔ نوٹ بک پر اس روز کی تاریخ لکھی۔ اور میری نوٹ بک کی طرف دیکھنے لگا میں نے اپنے قلم سے تاریخ لکھنی چاہی تو قلم نے لکھنے سے انکار کر دیا۔ میں نے اصغر کی طرف دیکھا پھر قلم کو انگلی سے ذرا ٹھونک کر لکھنا چاہا۔ قلم نے نہ لکھا۔ میں نے اصغر کو زور سے کہنی ماری اور کہا۔

”ادہر مت دیکھو میرے قلم کو نظر لگ رہی ہے“۔

    پروفیسر بخاری نے مسکرا کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ہم اگلی بنچوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ دو سال ہوئے میں نے اپنے افسانوں کا تازہ مجموعہ ”لب گویا“ ن۔م۔راشد کے ہاتھ بخاری صاحب کو نیویارک بھیجا۔ میں نے اس پر لکھا۔۔ اپنے نالائق شاگرد کی طرف سے یہ کتاب قبول فرمائیے جو اگلی بنچوں پر اس لئے بیٹھا کرتا تھا کہ آپ پچھلی بنچوں پر بیٹھنے والوں سے سوال پوچھا کرتے تھے“۔۔ بخاری صاحب مسکرا کرکتاب دیکھنے لگے اور اگلے روز نئے سال کا کارڈ مجھے روانہ کیا جو اس وقت میرے سامنے موجود ہے، ہملٹ کا وہ نسخہ بھی جو پروفیسر بخاری ہمیں پڑھایا کرتے تھے میرے پاس موجود ہے۔ حقیقت میں تو ہمارے پاس ان کے وہ تحفے ہیں جن کو ہم نے زندگی بھر اپنائے رکھا ہے۔ یہ لکھنے کا روگ جو ہم طالب علمی کے زمانے سے پال رہے ہیں انہیں کی بخشش ہے۔ ڈرامے کا شوق بلکہ چسکا انہیں کا دیا ہوا ہے۔ جذبات کی یہ آگ جس نے استخواں تک کو جلا دیا ہے اور ابھی ”آرزوئے سوختن باقیت“ انہیں کا کرشمہ ہے انہوں نے ن۔م۔راشد کی حوصلہ افزائی کی۔ فیض کی کمر ٹھونکی۔ آغا عبدالحمید (سی ایس پی) بشیر قریشی (سی ایس پی) علی اصغر (سی ایس پی) رشید احمد (ڈپٹی ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان) اور مظہر علی خاں (سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز) پروفیسر بخاری کے وہ شاگرد ہیں جن کی علمی استعداد اور ادبی تہذیب وتربیت بخاری صاحب کی شخصیت کا پر تو ہیں۔ وہ روشنی کا چراغ جس سے ہزاروں چراغ جلے۔ سینکڑوں نے اکتساب نور کیا۔ آج اپنی لو ختم کر چکا۔۔ پرانے وقت تابڑ توڑ ذہن پر وارد ہورہے ہیں جن سے اپنے استاد کی تعظیم وتکریم میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس عظیم انسان کا وقار فضیلت بڑھ رہا ہے مرحوم کی شخصیت کا ایک پیارا پہلو یاد آیا۔  اصغر حسین قلعہ گوجر سنگھ میں رہتا تھا۔ پروفیسر صوفی تبسم نے کہا ”تم میکلوڈ روڈ سے گزرتے ہوئے بخاری صاحب کے ہاں چلے جانا اور ان سے کہنا کہ آج شام کو چھ بجے اردو مجلس کی میٹنگ ان کے مکان پر ہوگی“۔ اصغر نے عطر چند کپور بلڈنگ کے ساتھ بائیسکل رکھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر پہنچا۔ دروازہ اندر سے بند۔ بجلی کی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے انگلی رکھ کر بٹن کو زیادہ زور سے دبایا۔ پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ اب وہ انگلی رکھ کر دباتا ہی چلا گیا۔
بخاری صاحب ڈریسنگ گاؤن پہنے ہوئے آئے۔ دروازہ کھول کر بولے ”جو گھنٹی کے بٹن کے اوپر لکھا ہے تم نے پڑھا۔“ وہاں لکھا ہوا تھا ”Be Brief And Patient“ اصغر کچھ نہ بولا۔ انہوں نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا ”No Mistake in Future“ اور چلے گئے۔ اصغر حیران کہ اچھا پیغام دینے آئے کہ الٹی ڈانٹ کھا لی اور اس مرد خدا نے پوچھا تک نہیں کہ کیوں آئے کیا بات ہے؟ اصغر نے گھنٹی کو زور سے بجایا۔ سیڑھیاں اترا۔ بائیسکل لیا اور بھاگ گیا۔ اگلے دن پروفیسر بخاری کے پیریڈ میں اصغر کا دل دھڑک رہا تھا کہ وہ حاضری لے رہے تھے جب نمبر ۱۵۶ بولا تو رک گئے۔ اصغر کا برا حال، بخاری نے رجسٹر سے نظر اٹھائی۔ اصغر کی طرف دیکھا۔ ذرا سا ڈرمائی وقفہ دے کر بولے۔ ”I Liked It“
اور حاضری لینے لگے۔ اسی زمانے کی بات ہے۔ یونیورسٹی سے کہہ سن کر پروفیسر نے کالجوں میں پراکٹوریل سسٹم رائج کرایا۔ طلباء کو شناختی کارڈ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ نو بجے سے اوپر بغیر اجازت نامہ کے طالب علم گھر سے باہر نہیں رہ سکتا تھا۔ میں ایک دن پکڑا گیا۔ میں اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی کے ساتھ ایک کھانے پر مدعو تھا۔ انہوں نے مجھےگنڈیریاں لینے بھیج دیا۔ میں گوالمنڈی کے چوک میں گنڈیریاں تُلوا رہا تھا کہ ایک کار آکر رکی۔ بخاری صاحب بولے۔ ”اجازت نامہ؟“ میں نے کہا ”میں تو…“ بولے ”کل صبح“ اور چلے گئے۔ میں نے عاشق صاحب سے اجازت نامہ لیا کہ میری اجازت سے باہر گیا تھا۔ مگر بخاری صاحب نے دس روپے جرمانہ کر دیا۔ بولے ”اس وقت تمہارے پاس اجازت نامہ کیوں نہیں تھا؟ تم نے اصول توڑا ہے“۔ آج جب ہم اپنے بچوں سے اصول برتتے ہیں تو انہیں کیا معلوم کہ اس میں ہمارے پروفیسر کی تربیت بول رہی ہے ہم نے جو کچھ استاد سے سیکھا اگلی پود کو وہی کچھ دے رہے ہیں۔
    گذشتہ جنوری میں وہ ڈھائی برس کے بعد رخصت لے کر امریکہ سے پاکستان آئے۔ راولپنڈی میں اپنے بڑے لڑکے ہارون کے پاس چند دن رہے۔ میں ملنے گیا۔ وہی پرانی گرم جوشی اور بزرگانہ شفقت، پوچھنے لگے ”سنا ہے تم نے پنڈی میں ڈرامے اسٹیج کئے ہیں“۔ میں نے کہا ”آپ کی لگائی ہوئی آگ ابھی تک نہیں بجھی“یہ سن کر مسکرائے۔ میں نے کہا ”لٹل تھیٹر گروپ آپ کو چائے کی پیالی پلانے کا خواہشمند ہے۔ بولے ”میں ان تکلفات (Formalities) سے بڑا تھک گیا ہوں۔ تم بلاؤ تو آجاؤں گا۔ کراچی اور لاہور میں، میں نے کسی ادارے کی دعوت قبول نہیں کی۔ میں نے کہا ”لٹل تھیٹر کو کوئی پیغام ہی دے دیں“۔ بولے ”پیغام تو بڑے آدمی دیا کرتے ہیں“۔ راولپنڈی میں انہوں نے اپنے شاگردوں اور مداحوں کے ساتھ ایک شام بسر کی۔ عابد علی کے ہاں تین گھنٹے محفل جمی اور گفتگو کے بادشاہ کو ہم نے پھر بلندیوں پر اُڑتے دیکھا۔ دل خوش ہوا کہ دل کے دوروں نے ابھی تک اس عظیم شخصیت کا کچھ نہیں بگاڑا۔ وقت سے زندگی کا پورا رس نچوڑ لینے والا یہ انسان ابھی زندہ رہے گا۔
    وہ اپنے قیام کے دوران اپنے شاگردوں اور دوستوں سے پہلا سوال یہی کرتے رہے۔ کیا تم مطمئن ہونا؟“ اس سوال کو اولیت دینے کی وجہ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ہر شخص شاکی نظر آتا ہے۔ میں یہاں ایک عام فرسٹریشن دیکھ رہا ہوں بے دلی، بے اطمنانی اور محرومی کا احساس چاروں طرف دکھائی دے رہا ہے۔ لوگوں کی اپنی ذات میں دلچسپی انتہائی طور پر بڑھ گئی ہے۔ سب قوموں میں، میں نے یہ دیکھا ہے کہ ان کی قوم کا کوئی فرد امریکہ میں آئے تو وہ اس کی بےحد تعریف کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں یہ ہمارے ملک کا ممتاز اور قابل ترین فرد ہے۔ واحدپاکستانی ایسا شخص ہے جسے میں نے کبھی اپنے ملک کے فرد کی تعریف کرتے نہیں سنا۔ وہ تو دراصل یہ کہنا چاہتا ہے کہ ”سب سے ممتاز اور قابل ترین فرد تو میں ہوں“ یہ تو بس ایسوں میں سے ہی ہے۔ اگر کسی کو کوئی اچھا عہدہ مل جائے۔ کسی منصب پر کوئی جا پہنچے اور کسی پاکستانی سے کہا جائے کیوں بھئی وہ اچھے عہدے پر جاپہنچا؟ تو پتہ ہے وہ کیا جواب دیتا ہے۔۔ اوچھڈو جی… یہاں پھرا کرتا تھا!“ پھر میری طرف دیکھ کر بولے۔ کوئی اگر یہ کہے کہ بابر نے بڑا اچھا ڈرامہ اسٹیج کیا تو کہیں گے۔ اوچھڈو جی۔۔ کل ایتھے لگا پھرداسی۔
    اس چھڈو جی میں ہماری کم ہمتی، محرومیوں اور اہلیتوں کی بہت بڑی جھلک موجود ہے۔ پاکستان چھوٹا سا ملک ہے آخر یہاں ہی کے لوگ اچھے عہدوں پر متمکن ہوں گے مگر اس پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔ پاکستانی خود کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسرا اگر کچھ کرے اور اسے نیک نامی حاصل ہوجائے تو عام ردِ عمل یہی ہوتا ہے ”اوچھڈو جی“۔ کہنے لگے امریکہ میں ایک بین الاقوامی تقریب پر چوہدری سرظفر الله خاں کسی سے تنبورے کا ذکر کر رہے تھے۔ کسی غیر ملکی نے پوچھا تنبورے اور تان پورے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ کہنے لگے ”چلو بخاری سے پوچھیں وہ آل انڈیا ریڈیو کا ڈائریکٹرجنرل رہ چکا ہے“۔ میں نے کہا ”آل انڈیا ریڈیو کا ڈائریکٹر جنرل رہنا تبنورے اور تان پورے پر کوئی اتھارٹی نہیں ہوسکتا۔ آپ کی عمر کتنی ہوگی؟“ بولے ”پینسٹھ سال“ میں نے کہا ”جہاں آپ نے پینسٹھ سال تان پورے اور تنبورے کا فرق معلوم کئے بغیر گزار دیئے ہیں دو چار سال اور بھی گزار دیجئے۔
    پروفیسر صوفی تبسم کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پروفیسر بخاری کے رفیقوں میں سے ایک یونیورسٹی کے کسی رکن کی غلط کاریوں پر چیں بہ جبیں ہو رہے تھے۔ بخاری کہنے لگے ”بھائی صاحب میری دو باتیں یاد رکھو۔ زندگی میں کسی سے الجھنا ہو تو کسی بڑے مسئلے پر الجھنا چاہئے اور اپنے سے بڑے آدمی کے ساتھ الجھنا چاہئے ورنہ مزا نہیں آتا۔ انسان کی قوتیں اور کوششیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ کمزور آدمی کو دبانے میں کوئی شان نہیں۔ بڑے آدمی سے تصادم ہو تو انسان کی استعداد کار اور بھی چمکتی ہے۔ مجھے دیکھو میں نے ریڈیو کی ملازمت کے دوران ہمیشہ بڑے آدمیوں سے ٹکر لی ہے اور خدا کے فضل وکرم سے کامیاب رہا ہوں۔“
    جب علامہ اقبال کے کلام کے سلسلے میں یوپی کے بعض اہل قلم کی طرف سے اعتراضات اُٹھنے لگے تو ”زندہ دلان“ پنجاب نے ان سے جو جنگ لڑی تھی بخاری اس میں پیش پیش تھے۔ ٹکراؤ اور پھر استعداد کا حرکت میں آنا، یہ بات ان کے ڈرامے سے غایت درجہ شغف رکھنے کا ایک طبعی باعث قرار دی جا سکتی ہے اس طرح الجھنے اور ٹکرانے میں جو رکاوٹیں پیدا ہوتیں ان سے عہدہ برآمد ہونے کے لئے وہ کبھی تھکن محسوس نہ کرتے۔ میں نے انہیں ۱۹۵۳ء میں ہملٹ کا پارٹ ادا کرتے دیکھا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پروفیسر بخاری واقعی پرنس ہملٹ ہے۔ ڈرامائی ٹکراؤ، واقعاتی الجھاؤ، کرداری رکاوٹیں ہملٹ کا راستہ روکے کھڑی تھیں۔ اور وہ کس کس طرح ان سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ ہملٹ کے کردار کی جیتی جاگتی تصویر ہمارے سامنے آگئی۔
    نیویارک کے جس ڈاکٹر کے وہ زیر علاج رہے وہ بھی شیکسپیئر کا بڑا دلدادہ تھا۔ مریض اور ڈاکٹر دیر تک اسی موضوع پر باتیں کرتے رہتے۔ عارضہٴ قلب میں مبتلا ہونے کے بعد پروفیسر بخاری جب بھی ڈاکٹر سے طبی مشورہ کرتے تو مسکرا کر پُرمعنی انداز میں ضرور پوچھتے۔ کب ڈاکٹر؟ بتاؤ تو سہی کب؟“ نیویارک میں ملک ملک کے چوٹی کے اخباری نمائندے مقیم ہیں۔ وہ بخاری کی صحبت میں بیٹھنے کو بہت بڑا پُرمسرت اعزاز سمجھتے۔ ہر شخض ان کا مداح تھا۔ پروفیسر بخاری نے ایک بےچین اور مضطرب طبیعت پائی تھی۔ اس سیماب صفت انسان کا دماغ اس کے جسم سے اور اس کا جسم اس کے دماغ سے زیادہ تیز کام کرتا:

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز وساز رومی کبھی پیچ وتاب رازی

    موت کا فرشتہ دہلیز پر آکر بیٹھ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا اگر تم چاہو تو میں حاضر ہوں۔ رات تمہارے پاس ٹھہرتا ہوں۔ صبح چلا جاؤں گا۔ پروفیسر بخاری نے کہا ”نہیں، نرس جو میرے پاس موجود ہے۔“ ڈاکٹر نے مذاق سے کہا ”اچھا سویٹ پرنس شب بخیر“۔ مگر یہ رات اس کی آخرت رات تھی۔ موت کے فرشتہ نے دہلیز الانگ لی۔ بچے باپوں سے پوچھتے ہیں آج کون مرگیا، آپ اداس جو ہیں کون بتائے نئی پود کو آج وہ مرگیا جس نے کہا تھا۔ بچوں کو بہلانا سہل ہے بڑوں کا بہلانا سہل نہیں۔
    پروفیسر بخاری کی شخصیت کی عظمت کا بہت پیارا پہلو یہ تھا کہ عام عالموں کی طرح علم کے اظہار وبیان کو وہ بوریت اور یبوست کی کوئی چیز نہ بننے دیتے۔ بلکہ اپنی فطانت اور ظرافت کے امتزاج سے اسے اتنا پُرمعنی اور پُرکشش بنا دیتے تھے کہ سننے والے کی سوچ کو تحریک بھی ہوتی اور ساتھ ہی ساتھ پھلجھڑیاں بھی بہار دکھاتی رہتیں۔ آج وہ اہل فکروہ دانشور ہم میں نہیں۔ جو فصحا میں بیٹھا تو فصاحت وبلاغت کے دریا بہاتا، لکھتا تو موتی پروتا، بولتا تو زندگی کی چاندنی اور شگفتگی بلائیں لینے آکھڑی ہوتی۔ بچوں سے باتیں کرتا تو سخت مزاج والدین منہ تکنے لگتے۔ جذبات کی باریکیوں کو سمجھنے والا یہ حقیقت پسند، حقیقت نگار انسان، زندگی کو زندوں کی طرح گزارنے والا خوش ذوق وسخن سنج ادیب، پاکستان کا شہری نہیں دنیا کا شہری اپنی سرزمین سے دور جا لیٹا۔ جس کی فطانت، طباعی اور تحریر وبیان کے دلداد گان ملک ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ شہزادہ علی خان نے اس کی میت پر آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ بخاری کی موت ے اقوام متحدہ کی لابیاں سنسان ہوگئی ہیں۔۔۔ ہائے ان آنکھوں میں کون جھانکےگا جو اس کی میت سے دور آنسو بہا رہی ہیں اور ان دلوں کا حال کون جانے گا جو یہاں ویران اور سنسان ہیں۔

نمی دانم حدیث نامہ چوں است
ہمیں بینم کہ عنو انش بخوں است

* * *

اقوام متحدہ میں پروفیسر بخاری سے ملاقات

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

اقوام متحدہ میں پروفیسر بخاری سے ملاقات

(ڈاکٹر محمد عبدالله چغتائی)

    مغربی اور مشرقی فن میں اصولی فرق میرے نزدیک ایک یہ بھی ہے کہ مغربی فن کی تصویر کو دور سے دیکھنے سے جو اس کی خوبیاں نظر آتی ہیں، وہ نزدیک سے دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی اس کی صحیح نمائش دور سے ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مشرقی فن کی تصویر کے صحیح خط وخال اور خوبیاں اس کو جس قدر بھی قریب سے دیکھا جائے گا زیادہ نظر آئیں گی ورنہ دور سے ایک مدہم مدہم یکساں رنگ کی دھندلی سی سطح معلوم ہوگی۔ چنانچہ ہم مرحوم احمد شاہ بخاری کو جب کبھی دور سے دیکھتے تو صحیح معنوں میں کسی یورپی یونیورسٹی کے ایک سجے سجائے مکمل پروفیسر نظر آتے۔ مگر جب کبھی ان کے پاس بیٹھ کر گفتگو سننے کا موقع ملتا تو ان کے برجستہ مسکراہٹ لئے ہوئے مادری زبان میں بےساختہ جملے ظاہر کرتے کہ ان کا نہایت مکمل ظاہری مغربی لباس ان کی مشرقیت پر ایک ملمع ہے ۔ اور ان کی مشرقیت کے جوہر آہستہ آہستہ گفتگو کے مدارج طے کرتے کرتے واضح ہوتے چلے جاتے بلکہ ان کی تمام انگریزی اور انگریزیت ان کی مشرقیت کے طابع نظر آنے لگتی۔
    میں مرحوم کو ایک طرح دور سے اسی زمانے سے جانتا تھا جب کہ وہ ہنوز طالب علمی کے ابتدائی مدارج لاہور میں طے کر رہے تھے کیونکہ وہ ہمارے محلے کے قریب ہی تکیہ سادہواں میں ڈاکٹر محمد دین ناظر مرحوم کے بڑے لڑکے محمد امین مرحوم کے ہم زلف تھے۔ جن کے ہاں وہ اکثر رہائش رکھتے اور محمد امین کے بھائی ڈاکٹر محمد سعید (سعدی) سے بخاری کی خاصی بےتکلفی تھی۔ ان کی اور مولوی بشیر الدین مرحوم (بن مولوی احمد دین وکیل مرحوم)کی وجہ سے کبھی کبھی ان کی گفتگو میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملتا جس کے بعد وہ ایم اے کا امتحان انگریزی میں پاس کرکے اپنی خاص طبع روشن اور بعض اچھوتی تحریروں کی وجہ سے لاہور کی زندگی میں نمایاں طور پر رچ مچ گئے۔ یوں کہئے کہ ہر علمی محفل میں وہ جزولاینفک ہونے لگے۔
    میں نے ان کو اس وقت سے زیادہ دیکھاہے جب وہ لاہور میں سنٹرل ٹریننگ کالج میں مسٹر وائٹ پرنسپل کے ماتحت ایک معلم، پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کے معتمد اور گورنمنٹ کالج لاہور میں بہ حیثیت استاد انگریزی متعین تھے مگر ان کی شہرت آل انڈیا ریڈیو کے ذریعے زیادہ وسیع ہوئی جہاں وہ کئی سال تک ناظم اعلیٰ رہے۔
    ابھی پاکستان بننے کے آثار نمودار ہو رہے تھے کہ اکتوبر ۱۹۴۶ء میں ڈاکٹر ذاکر حسین خاں صاحب مدظلہ العالی ٰنے جامعہ ملیہ دہلی کی جوبلی رچائی۔ جس میں دور دور سے علمی حضرات نے شرکت کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مرکز میں ایک عبوری حکومت قائم ہو چکی تھی۔ راقم کو بھی دکن کالج پونہ سے اسی ضمن میں نمائش کی ترتیب کے لئے مدعو کیا گیا تھا، یہ ایک بہت پُر رونق علمی میلہ تھا جس میں ہر طرح کے پڑھے لکھے حضرات نے حصہ لیا۔ جب میں نے بالکل غیر متوقع طور پر یہاں تاثیر اور بخاری کو دیکھا اور ان سے قریب دس سال بعد ملنے کا اتفاق ہوا تو وہ مجھے فوراً اپنے الگ کیمپ میں لے گئے جس میں وہ دونوں فردکش تھے۔ اس وقت وہ دونوں حکومت ہند کے شعبہ نشرواشاعت میں تھے۔ دونوں علوم جدیدہ اور قدیمہ سے سرشار نہایت روشن ضمیر اور بڑے پائے کے ناقد تھے مگر مجھے یہاں غیرمعمولی بات یہ نظر آئی کہ یہ دونوں علمی دوست شمشیر برہنہ ایک ہی نیام میں سمٹے ہوئے تھے۔ ان کو ایک ہی کیمپ میں نہایت محبت وخلوص سے مل کر اپنے فرائض انجام دیتے دیکھ کر یقین ہوگیا کہ واقعی علوم کی غائت کمال یہی ہے خواہ جس قدر بھی متضاد عنصر ہو ایک جا پُر امن طریق پر جمع ہوسکتا ہے۔
    مجھے وہ سماں ہرگز نہیں بھولتا جب ایک روز بعد دوپہر ایک ہی پلیٹ فارم پر محمد علی جناح قائد اعظم، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، لیاقت علی خان، راج گوپال اچاریہ، دلبھ بھائی پٹیل، راجہ غضنفر علی وغیرہ کو دیکھا۔ تاثیر اور بخاری اپنے رنگ میں مقررین کے بعض جملوں پر خوب ظریفانہ تبصرہ کرتے تھے۔ ایک روز یہاں مرحوم سرشیخ عبدالقادر نے کنووکیشن ایڈریس بھی دیا تھا جو پہلے چھپ چکا تھا اس کی ان پنجابی فاضل دوستوں نے نہایت عمدگی سے بےلوث تعریفب کی اور ڈاکٹر ذاکر صاحب کو داد دی کہ انہوں نے اس طرح پروگرام مرتب کیا۔ غرض یہ کہ اس جوبلی کی عملی کارروائی کو جس قدر بھی پریس میں اور ریڈیو پر نشر کیا گیا وہ تاثیر اور بخاری کا حصہ تھا جس کا لوگوں کو کم علم ہے۔
    جب پاکستان قائم ہوا تو بخاری لاہور تشریف لائے اس کے ابتدائی دور میں بعض بکھری ہوئی لائبریریوں کو یکجا کیا، کچھ پریشان کن چشم دید حالات جو مہاجرین کے ساتھ پیش آئے بغیر نام کے لکھے مگر عوام کو زیادہ تر یہی علم ہے کہ وہ آتے ہی گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ہوگئے، ۱۹۴۹ء میں وہ انڈیا آفس لائبریری کی تقسیم کے ضمن میں لندن گئے جس کے بعد ۱۹۵۰ء میں وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے بنائے گئے جہاں اپنی ذاتی قابلیت سے انہوں نے دنیا کے قابل ترین حضرات کو اس قدر مرعوب اور مطمئن کیا کہ ان کو آخر وہیں ۱۹۵۴ء سے شعبہ اطلاعات میں ڈپٹی سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا اس جگہ مرتے دم تک (۵ دسمبر ۱۹۵۸ء) نہایت معزز طریق پر فائز رہے اور اسی ادار ہ اقوام متحدہ میں راقم نے ۲۴ اپریل ۱۹۵۷ء کو ان سے آخری ملاقات کی تھی۔ جس کی مختصر سی کیفیت جو مجھے یاد ہے ذیل میں پیش کرتا ہوں۔
    اقوام متحدہ کا ادارہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے عظیم ترین شہر نیویارک کے مشرقی جانب دریائے ایسٹ کے کنارے ۴۲۔۴۸ سٹریٹ پر اول ایونیو میں واقع ہے۔ اس کے شمالی طرف سے داخل ہوتے ہی بہت بڑے ہال میں زائرین کو ایک باوجاہت خاتون سے سابقہ پڑتا ہے جس سے باقاعدہ تمام ہدایات حاصل ہوتی ہیں اور کوئی دیر نہیں لگتی۔ اسمبلی کے ہال پر گنبد ہے جس میں کل نشستیں ۲۱۵۰ ہیں جو مندوبین، ناظرین، اخباری نمائندوں اور پبلک پر مشتمل ہیں۔ اس کے جنوب کی طرف اصل سیکریٹریٹ ۳۹ منزلہ عمارت تمام آبی رنگ کی اینٹوں کی کھڑی ہے جس میں بخاری صاحب غالباً دسویں منزل پر کمرہ نمبر ۱۰۲۷ میں بیٹھتے تھے اگر صحیح اندازہ لگایا جائے تو اس عظیم الشان ادارہ کی عمارت کا سلسلہ قریب قریب ۵۰۰ فٹ لمبائی سے کم نہیں ہے۔ زائرین اس پرشکوہ عمارت کے اول ہال ملاقات میں ایک بلند نمایاں چبوترے پر یونانی دیوتا غالباً جیوپٹر کا قد آدم مجسمہ سیاہ دھات کا بنا ہوا مادرزاد برہنہ کھڑا ہوا مشاہدہ کرتے ہیں جو بادی النظر میں کافی بےحیائی کا منظر پیش کرتا ہے۔
    میں یہاں دو تین بار گیا۔ اسمبلی کی میٹنگ روم نمبر۲ میں کچھ وقت بیٹھا اور کارروائی دیکھی۔ رسالے بھی خرید کئے اور سیکریٹریٹ کے ملاقات ہال میں آکر بخاری صاحب سے ملاقات کی کوشش کی مگر انہوں نے فون پر کارکن خاتون کے ذریعے ۲۴، اپریل کی تاریخ ایک بجے کا وقت طے کیا۔ چنانچہ اس تاریخ کو میں صبح صبح گھر سے نکلا اور گھومتے گھومتے ادارہ اقوام متحدہ پہنچا۔ بخاری صاحب سے ملنے کی خواہش کی تو خاتون نے ان سے فون پر اجازت حاصل کرکے مجھے ایک مطبوعہ چٹ پر وہاں کے دستور کے مطابق تاریخ، میرا نام، جس سے ملنا ہے اس کا نام (پروفیسر بخاری) اور کمرہ نمبر وغیرہ لکھ کر میرے حوالے کی اور اشارہ کیا کہ وہاں لفٹ کے آگے کھڑے ہوجائیے، ابھی کمرہ کھلے گا اور آپ اوپر چلے جانا۔ چنانچہ جب میں اوپر پہنچا تو مجھے فوراً ان تک ایک اور خاتون جو ان کی مددگار تھی لے گئی۔ بخاری مجھے دیکھ کر کہنے لگے میں گیارہ بجے سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں کیونکہ یہی وقت میں نے دیا تھا محض اخلاقاً انتطار کرتا رہا ورنہ چلا گیا ہوتا۔ میں نے معذرت کی کہ مجھے یہی وقت دیا گیا تھا مگر انہوں نے مجھے اپنی میز کی ڈائری دکھائی جس پر گیارہ بجے کا وقت لکھا تھا خیر یہ مغالطہ تھا جو غالباً سمجھنے میں یا سننے میں ہوا۔ بہرحال میں نے بہت معذرت کے بعد خیریت پوچھی۔
    آپ نے اول امریکہ میں آنے کی وجہ دریافت فرمائی۔ میں نے کہا میں لیڈر پروگرام کے تحت یہاں آیا ہوں اورآپ سے ملے بغیر چلے جانا کوئی اچھا معلوم نہیں ہوتا تھا جس پر آپ نے فرمایا کہ میں بھی اسی لئے گیارہ بجے سے اس وقت تک (ایک بجے) بیٹھا رہا کہ ملاقات ضرور کرنی ہے حالانکہ مجھے اور اہم کام بھی اس وقت تھا۔ آپ نے لاہور کے احباب مولانا سالک، مسٹر فیض اور بعض دیگر احباب کی خیریت دریافت فرمائی۔ میں نے کہا کہ لاہور میں نیا علمی رسالہ لیل ونہار فیض صاحب نے جاری کیا ہے جو ہفتہ میں ایک بار طبع ہوتا ہے آپ کے پاس ضرور آیا ہوگا۔ فرمانے لگے اگر آیا بھی ہوگا تو کہیں نہر سویز پر آکر اٹکا ہوگا (جو دراصل ۱۹۵۶ء کے واقعات سویز کی طرف اشارہ تھا) میں مسکرایا پھر میں نے کہا آپ لوگوں نے ہی تو لڑائی بند کرائی تھی ورنہ دنیا میں کیا سے کیا ہوجاتا جس پر انہوں نے چند جملوں میں وہ تمام واقعہ سنایا کہ کس طرح مسٹر ڈاک ہیمر شوالڈ نے اپنے دفتر میں بیٹھے بیٹھے فوراً طے کیا کہ یہ ہنگامہ یکلخت بند ہوجانا چاہئے اور کسی طرح انہوں نے دنیا کے اخبار نویسوں کو نیچے پریس برانچ میں جمع کیا پھر یہاں سے لفٹ میں نیچے گئے تمام کمرہ بھرچکا تھا اور ابھی تک کسی شخص کو علم نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے جب انہوں نے ترک جنگ کا اعلان کیا تو دنیا حیران رہ گئی۔
    اس کے بعد فرمایا کہ آج رات پاکستان ہاؤس میں میراایک لیکچر اقبال پر ہے۔ میں نے کہا میں ضرور سننے آؤں گا۔ ویسے لیکچر تو آپ نے خوب عمدگی سے لکھ لیا ہوگا فرمانے لگے کہ کچھ کیا ہی ہے جس پر میں نے کہا کہ حال ہی میں میں نے یونسکو کے مجلہ کوریر Courier میں ایک مضمون بہ عنوان ”دنیا کے بہت زیادہ ترجمہ شدہ مصنفین ۱۹۴۷ء ۔ ۱۹۵۵ء“ فروری ۱۹۵۷ء کے شمارے میں دیکھا ہے جس میں اقبال کو بھی شامل ہونا جاہئے تھا کیونکہ اگر آج ہم صحیح جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اقبال کا کلام چین وجاپان کے سوا قریب قریب سب ملکوں نے اپنے ہاں ترجمہ کیا ہے۔ میرے خیال میں یہاں بین الاقوامی شہر نیویارک میں سامعین وحاضرین جلسہ کو بتانا چاہئے اگر آپ کے مضمون میں اس امر کی طرف اشارہ نہیں ہے تو ضرور آنا چاہئے چنانچہ انہوں نے اس مشورہ کو مفید خیال کیا اور کچھ نوٹ بھی کیا۔ فرمانے لگے کہ لاہور کے ماجے ساجے یعنی لاہور کی زندگی کا کیا حال ہے؟ جس پر میں نے مسکرا کر کہا۔ آپ کو لاہور کی اس قسم کی گہماگہمی کا بڑا خیال رہتا ہے تو مسکرا کر فرمانے لگے کہ یہی تو ایک شہر ہے جو ہماری تمام جدوجہد کا آئینہ ہے۔ میں نے کہا توبہ قول آپ کے لاہور سب شہروں سے افضل ہے۔ جس شہر میں علامہ اقبال دنیا کا بہترین شاعر وفلسفی، گاماں پہلوان رستم زماں، آغا حشر کاشمیری، بہترین اردو ڈرامہ نویس عبدالرحمن چغتائی، بہترین مشرقی مصور حاجی دین محمد کاتب، مولانا ظفر علی خان جیسا اخبار نویس اور پطرس جیسا مزاح نگار ہو اس کی خوش نصیبی کی تو قسم کھانی چاہئے۔ دراصل میں نے ان کے کبھی کے کہے ہوئے ان جملوں کا اعادہ کیا ہے کہ یہ ان کا تصور ایمان کی حد تک تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ پنجاب کو زندگی کا آئینہ تصور کرتے تھے۔ بات کاٹ کر فرمانے لگے کہ بھائی کی تصویریں بھی یہاں دیکھی ہیں؟ میں نے کہا ہاں دیکھی ہیں۔
    دراصل نچلے ہال میں ایک نمائش کا حصہ ہے جس میں تین تصاویر عبدالرحمن چغتائی کی لگی ہوئی ہیں جن کو غالباً اسی سال پاکستان گورنمنٹ نے اقوام متحدہ کو ہدیہ کیا تھا اور اس میں بھی بخاری صاحب کا انتخاب اور جدوجہد شامل ہے ورنہ یہ کام نہ ہوتا۔ واقعی یہ بہت بڑا اعزاز ہے، کئی ہزار کی تعداد میں زائرین روزانہ دیکھتے ہیں۔
    میں نے تجویز کیا کہ بعض لوگوں کو یہ گمان ہے کہ کسی قدیم مصور کی تصاویر ہیں اس کو رفع کرنے کے لئے ان پر مصور کے نام کے آگے محض تاریخ پیدائش لکھ کر چھوڑ دینا چاہئے تاکہ معلوم ہو کہ آرٹسٹ زندہ ہے اور آج کل یہ طرز مصوری اس ملک کی خصویت ہے جسے آپ نے قبول فرمایا۔ یہ علم نہیں کہ اس پر عمل ہوا یا نہیں۔ ابھی تک کسی دوسرے ملک کے آرٹسٹ کو یہ موقع نہیں ملا تھا۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ بتاؤ اس ادارہٴ اقوام متحدہ کو کیسا پایا جس پر میں نے مسکرا کر بطور ظرافت جواب میں پنجابی کا محاورہ ”گھر دے بھاگ بُوئے تے“ پیش کیا یعنی یہاں جو آدمی اول مرتبہ شمالی دروازے سے ملاقات کے ہال میں داخل ہوتا ہے تو اس کی نظر فوراً مشرقی جانب مادرزاد سیاہ فام ننگے یونانی دیوتا جیوپٹر کے قد آور بلند نشست مجسمہ پر پڑتی ہے تو وہ متحیر ہوتا ہے۔ ایسے شائستہ عالمی ادارہ میں اس طرح کی عریانی اس کے لئے ایک مسئلہ بن جاتی ہے خواہ اس مجسمہ میں بہت وسیع الخیال فلسفہ اور حقیقت ہی کیوں نہ ہو۔ جب وہ نووارد اس تمام ادارے کی سیر کرتا ہے اور واپسی پر پھر ایک بار اس جیوپٹر کے بت پر نظر کرتا ہے تو اس کا ذہن اس طرف ضرور منتقل ہوتا ہے کہ یہ مقام بطور تفریح گاہ تمام دنیا کی زندہ اقوام کی نمائندوں کا مختلف رنگوں اور لباسوں میں ایک عجائب گھر یا چڑیا گھر ضرور ہے مگر اس ادارے سے اقوام کی داد رسی ہرگز متوقع نہیں کیونکہ یہ ننگا بت جو یہاں کی علامتی نشان Symbol قرار دیا گیا ہے، اس امر کی دلیل ہے کہ یہاں کچھ نہیں رکھا ”جامہ ندارم دامن از کجا آرم“ بخاری صاحب نے اس مزاح کو سن کر حسب عادت ایک قہقہہ لگایا اور اُٹھ کر فرمایا کہ اب رات کو پاکستان ہاؤس میں اقبال کے لیکچر میں ملاقات ہوگی۔
    چنانچہ ہم اپنے ہوٹل وڈسٹاک نیویارک ٹائمز چوک سے پروفیسر اجینی احمد جیو گرافی ڈھاکہ یونیورسٹی اور ایک اور صاحب جو کراچی سے تھے، مل کر نکلے اور قریب نو بجے وہاں پہنچ گئے، لیکچر ہمارے جانے کے بعد شروع ہوا۔ تمام پاکستان ہاؤس بھرا ہوا تھا۔ یہ کافی وسیع عمارت تھی۔ اس جلسہ کی صدارت ڈاکٹر جلال عبدہ ایران کے مستقل نمائندہ اقوام متحدہ نے کی تھی، ابتدا میں انہوں نے بخاری مرحوم کی علمی قابلیت کی نہایت تعریف کرتے ہوئے تعارف کروایا اور اعزاز صدارت کا شکریہ ادا کیا۔ بخاری صاحب نے اپنا مقالہ قریب ۴۵ منٹ میں ختم کیا اور لوگوں نے دل کھول کر داد دی۔ موضوع یہ تھا کہ اقبال نے شاعری کو اپنے افکار کے اظہار کے لئے ایک موزوں ذریعہ قرار دے کر کیا کیا علمی خدمات انجام دیں۔ بعد میں اس پر کوئی سوال جواب نہیں ہوئے۔ صدر ڈاکٹر جلال عبدہ نے فارسی شاعری میں اقبال کے مقام پر کچھ مزید روشنی ڈالی۔ جلسہ کے اختتام پر میں نے پروفیسر بخاری کی معرفت ڈاکٹر جلال عبدہ سے تعارف حاصل کیا۔
    دو روز بعد میں نے پھر ان کے دفتر ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ کی باسٹھ ویں منزل پر جاکر ان سے ایک تعارف نامہ بنام ڈاکٹر سید مصطفویٰ ناظم محکمہ آثار قدیمہ ایران حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ تعارف نامہ انہوں نے بطیب خاطر فارسی زبان میں لکھ کر عنایت کیا۔ نیویارک میں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ یک صد منزل سے زیادہ کی ہے اور بلند ترین عمارت ہے۔ حسنِ اتفاق سے جب میں ان کے کمرہ میں بیٹھا ان سے باتیں کر رہا تھا تو ہوائی جہاز گزرا، میں نے ظرافتہً کہا کہ دیکھو ہوائی جہاز آپ سے نیچے اُڑ رہا ہے یہ محض اس عمارت کی بلندی کی خصوصیت کی طرف ایک اشارہ تھا۔
    میں نے امریکہ سے روانہ ہوتے وقت جون کے نصف میں بخاری سے پھر ملنے کا ارادہ کیا مگر وہ ۱۴ تاریخ کو جنیوا جاچکے تھے اس کا علم مجھے ان کے مددگار آغا اشرف سے ہوا۔
    میں اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں سمجھتا کہ پروفیسر بخاری مرحوم کی علمی کارناموں پر کوئی تبصرہ کروں مگر یہ ضرور عرض کروں گا کہ ان کا ایک خاص انداز تھا یعنی روزانہ کے حالات اور تجربات زندگی ان کو موضوع بخشتے تھے اور وہ اپنی تحریر کو اس قدر نفسیاتی طور پر بلند لے جاتے تھے کہ ہر مطالعہ کرنے والا اس پر خود گھومتا نظر آتا تھا اور اس سے اس قدر لطف اندوز ہوتا تھا کہ ختم کرنے کے بعد محسوس کرتا تھا کہ وہ واقعی اسی ماحول میں چلا گیا ہے چنانچہ ۱۹۵۷ء میں جب میں طہران پہنچا اور ایک شب مسٹر رحمان پاکستان کے ادارہ سفارت کے ہاں دعوت پر ایک اور سیکریٹری مسٹر صدیقی سے مذاکرہ ہوا تو بخاری کا ذکر آگیا پھر کیا تھا ان کے بعض خاص خاص موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی معلوم ہوا کہ ان کو بخاری کا مضمون ”بائیسکل“ ایک طرح زبانی یاد ہے انہوں نے اس مضمون کے بعض حصے اس طرح سنائے کہ تمام محفل پُرلطف ہوگئی جو آج تک نہیں بھولتی۔

* * *

ضابطہ، بے ضابطہ

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

ضابطہ، بے ضابطہ

(عشرت رحمانی)

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں،
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

    بات ۱۹۳۴ء کی ہے۔ دہلی میں آل انڈیا ریڈیو کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ محکمہ کے کنٹرولر ذہین وطباع انگریز مسٹر لائنیل فلیڈن، اسٹیشن ڈائریکٹر مسٹر اسٹپلٹن اور پروگرام ڈائریکٹر سید ذوالفقار علی بخاری (ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل) تھے۔ ان کے علاوہ آغا محمد اشرف (بنیرہٴ آزاد) اور سجاد سرور نیازی جیسے اہل فن حضرات بھی عملہ کے رکن تھے۔ مسٹر فیلڈن خود ایک ماہر اہل قلم ہونے کے ساتھ نشریات کے رموز سے بھی کما حقہ واقف تھے جو ارباب ہنر انہوں نے جمع کئے تھے ان کے لئے ایسے سرگروہ کی تلاش تھی جو ان کی صحیح قیادت کی اہلیت رکھتا ہو اور ملک کے لئے نشریات کا موزوں لائحہ عمل مرتب کرکے ان کو مناسب طریقے پر چلا سکے۔ چنانچہ مسٹر فیلڈن نے برصغیر کی تمام یونیورسٹیوں کو مراسلے بھیجے کہ وہ اپنے اداروں سے ایسے لائق اہل علم وہنر چن کر اس کام کے لئے بھیجیں جن کے تعاون سے وہ اپنے دست وبازو مضبوط کرکے باضابطہ کام چلا سکیں چنانچہ کئی اداروں کے اربابِ اختیار نے چند اہم شخصیتوں کو منتخب کرکے مسٹر فیلڈن سے ملاقات کے لئے بھیج دیا۔ ان میں دو نام خاص تھے۔ ایک مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے پروفیسر رشید احمد صدیقی اور دوسرے گورنمنٹ کالج لاہور کے پروفیسر سید احمد شاہ بخاری پطرس۔ یہ حسنِ اتفاق تھا یا حسنِ انتخاب کہ یہ دونوں حضرات اردو کے مشہور مزاح نگار اور بلند پایہ ادیب بھی تھے اور ادب انگریزی کے پروفیسر بھی۔
    فیلڈن صاحب نے تمام منتخب حضرات کا ملاقات کے دوران میں ضابطہ بے ضابطہ جائزہ لیا اور سید احمد شاہ بخاری کو اپنا دستِ راست منتخب کر لیا۔ مسٹر فیلڈن نے برصغیر کے قیام کے دوران میں آغا محمد اشرف سے اردو پڑھی تھی لیکن یہ استعداد معمولی تھی۔ وہ بخاری صاحب کی اردو ادیب کی حیثیت سے بےمثال خوبیوں کا اندازہ تو نہ کرسکتے تھے لیکن ابتدائی ملاقاتوں میں ان کی شخصیت وکمال کا بخوبی جائزہ لے کر اس حقیقت کے معترف ہوچکے تھے کہ پطرس بخاری انگریزی زبان وادب کی مہارت میں اس برصغیر کی منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔ اور اپنی طباعی، غیر معمولی ذہانت اور مختلف علوم وفنون میں واقفیت رکھنے کے سبب ان کی متنوع شخصیت گوناگوں کمالات کی حامل ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہ تھی باخبر حضرات اس حقیقت سے اچھی طرح آشنا تھے اور ہیں کہ پطرس بخاری کی شگفتہ مزاجی، بزلہ سنجی اور ہمہ گیر لیاقت وذہانت ہر اعلیٰ وادنیٰ محفل میں ان کی ذات کو ممتاز بنائے رہتی اور بڑی سے بڑی مجلس میں ان کی صفات غالب ونمایاں نظر آتیں۔ بیک وقت ان کو متعدد زبانوں اردو، انگریزی، فارسی، پشتو اور فرانسیسی وغیرہ پر قدرت حاصل تھی۔ چونکہ میرے پیش نظر بخاری صاحب کے ادبی ولسانی کمالات سے بحث کرنا نہیں بلکہ ان کی باضابطہ شخصیت کی چند یادوں کا بےضابطہ تذکرہ مقصود ہے اس لئے ان تفصیلات سے گریز مناسب ہوگا، مختصر یہ ہے کہ آل انڈیا ریڈیو دہلی کے اسٹیشن پر پروفیسر سید احمد شاہ بخاری اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے اور دہلی کی علمی ادبی مجالس میں پطرس کے چرچے ہونے لگے۔
    زیادہ عرصہ نہ گزرنے پایا تھا کہ پطرس بخاری نے محکمہ میں اپنی قابلیت کا سکہ جما لیا لیکن اس وقت ریڈیو اسٹیشن پر دو بخاری تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے انداز فکر ونظر کے لحاظ سے اس برصغیر میں نشریات کی تاریخ کی تدوین کا آغاز کر دیا اور متحدہ طور پر مستحکم تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ اب نشری دنیا میں یہ دو شخصیتیں، بڑے بخاری اور چھوٹے بخاری کے نام سے مشہور ہوگئیں۔ کچھ عرصہ ”بڑے بخاری“ اسٹیشن ڈائریکٹر اور ”چھوٹے بخاری“ اسسٹنٹ اسٹیشن ڈائریکٹر رہے لیکن پھر بڑے بخاری ڈپٹی کنٹرولر مقرر ہوگئے اور چھوٹے بخاری اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے فیلڈن صاحب کنٹرولر رہے مگر انہوں نے بڑے بخاری صاحب کو ان کی ذہانت وقابلیت کے بھروسے پر محکمہ کے سیاہ وسفید کا مالک بنا دیا۔
    ڈپٹی کنٹرولر بخاری نے برصغیر میں نشریات کا جال بچھانا شروع کیا۔ نئے نئے اسٹیشن کھولے۔ ضروری قواعد منضبط کئے اور گوشے گوشے میں ہونہار شخصیتوں کو کھینچ کر کسی نہ کسی حیثیت سے محکمہ نشریات میں لاشامل کیا۔ تعلیمی اور ادبی حلقوں سے متعدد نامور حضرات آکر مختلف اسٹیشنوں پر جمع ہوگئے۔ پروفیسر رشید احمد (حال ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان) سومناتھ چب (حال سیکریٹری ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ، ہند) ن۔ م۔ راشد (حال ڈپٹی ڈائریکٹر اقوام متحدہ امریکہ متعینہ کراچی) محمود نظامی (حال ڈائریکٹر محکمہ تعلقات عامہ، مغربی پنجاب) الطاف گوہر (حال کنٹرولر محکمہ درآمد وبرآمد حکومت پاکستان) اعجاز بٹالوی (بیرسٹر)سید انصار ناصری (حال ریجنل ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان) ملک حسیب احمد (حال پبلک ریلیشن آفیسر این ڈبیلو آر) رفیع پیرزادہ (میوزک ڈائریکٹر) راقم الحروف اور متعدد اصحاب تھے جو بڑے بخاری صاحب کے عہد میں ان کے اشارے یا تحریک پر نشریات میں ”داخل دفتر“ ہوئے ان میں سے بعض حضرات نے بعد میں اپنے لئے کوئی نہ کوئی نیا میدان تلاش کر لیا اور بعض اب تک ریڈیو پاکستان میں موجود ہیں لیکن بخاری صاحب کی نظرِ انتخاب نے جن لوگوں کو قابل اہلکار تصور کیا تھا وہ اب خواہ کسی میدان میں بھی ہوں سرمیدان ہی نظر آتے ہیں۔
    ڈپٹی کنٹرولرہونے کے زمانے میں بخاری صاحب فیلڈن صاحب ہی کی نظر میں نہیں بلکہ اعلیٰ انگریز حکام اور اقتدار اعلیٰ کی نگاہوں میں بھی معتمد الیہ تصور کئے جانے لگے ان کا ضابطہ تحریر وتقریر دونوں حیثیت سے ناقابل تسخیر تھا۔ جو تجویز یا تحریک ہوتی، معقول اور مدّلل، جو بات کرتے پختہ اور مناسب، اس لئے کوئی وجہ نہ تھی کہ افسران بالا سے منوا کر نہ چھوڑتے۔
    بخاری صاحب کی بےضابطہ شخصیت کے رموزو نکات اور ادبی کمالات سے تو ہر عام وخاص بخوبی واقف ہے اور پطرس کی حیثیت سے جاننے والے ان کے طنز ومزاح کی بے مثال خوبیوں کے دلی مدّاح ہیں۔ لیکن باضابطہ سرکاری افسر اعلیٰ کی حیثیت سے صرف وہی لوگ ان کی نکتہ رس شخصیت سے آگاہ ہیں جنہوں نے ان کے ماتحت براہِ راست یا بالواسطہ محکمہ نشریات میں کام کیا ہے۔ بخاری صاحب ڈپٹی کنٹرولر ہی تھے کہ میں ان کے ایما سے اسی محکمہ میں پروگرام اسسٹنٹ کی حیثیت سے داخل ہوا۔ ۱۹۳۹ء کا زمانہ تھا اور میں اس وقت دہلی کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ادارے سے منسلک تھا۔ میرے ڈرامے اور تقریریں دہلی کے ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہوا کرتی تھیں۔ دہلی میں رہتے سات آٹھ سال گزرے تھے۔ میں اور چھوٹے بخاری دہلی کی بزم احباب کے قدیم رکن تھے۔ بڑے بخاری صاحب سے مجھے نیازمندی کا شرف حاصل تھا۔ ایک مجلس میں نشریات پر بات ہو رہی تھی۔ بحث کے دوران میں بڑے بخاری صاحب نے بڑی شفقت سے حاضرین سے چند اصحاب کو مخاطب کرکے مشورہ دیا بلکہ ڈانٹا کہ آپ لوگوں کو ریڈیو کے محکمے میں باضابطہ داخل ہو کر کام کرنا چاہئے تاکہ آپ اپنے رجحان کے مطابق کچھ مفید کام کر سکیں۔ علمی، ادبی دلچسپیوں کا مرکز اب محکمہ نشریات کو بننا چاہئے۔ اسی سلسلے میں ایک مشہور ادیب کا نام لے کر فرمایا ”…صاحب، لکھنوٴ سے مجھے ملنے آئے تھے۔ آج کل جو آسامیاں پروگرام اسسٹنٹ کی ہمارے یہاں خالی ہیں ان کے لئے پُرزور اصرار کرتے تھے۔ میرے خیال میں وہ اس جگہ کے لئے موزوں نہیں، ضابطہ کی پابندی ہر ادیب کے بس کی نہیں!“ چونکہ میں ان صاحب سے واقف تھا۔ بخاری صاحب نے میری طرف دیکھ کر فرمایا ”کیا خیال ہے؟“ میں سمجھا کہ بخاری صاحب ان کی نسبت مجھ سے دریافت کر رہے ہیں میں نے کہا ”بجا ارشاد ہے“ بخاری صاحب نے مخصوص انداز سے زیرلب تبسم فرما کر کہا ”بھئی میں… صاحب کے بارے میں آپ کا خیال نہیں پوچھ رہا میں کسی کے بارے میں یونہی رائے قائم نہیں کرتا نہ اپنی رائے پر ووٹ حاصل کرنے کا پیشہ اختیار کیا ہے۔ میں تو اس آسامی کے لئے آپ سے دریافت کر رہا ہوں اگر آنے کا خیال ہے تو درخواست دے ڈالئے۔ ہو جائے مقابلہ“ میں پہلے تو کچھ نادم ہوا پھر سوچ میں پڑ گیا کہ جواب کیا دوں۔ بخاری صاحب نے میرے تذبذب کو تاڑ لیا فرمایا ”سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لو جلدی نہیں مقابلہ ذرا سخت ہے۔ انتخابی بورڈ میں دس بارہ ممبر ہوتے ہیں۔ فیلڈن صاحب صدر ہیں۔ میں تو دانستہ بورڈ میں شامل نہیں ہوتا۔ سفارشوں کے طومار کون بھگتے، پھر ضابطہ کرے تو معقولیت ضبط، بے ضابطہ کارروائی اپنے بس کی نہیں۔ پھر ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ مجلس برخواست ہوئی چلتے ہوئے بخاری صاحب نے فرمایا مجھے ”پھر درخواست آتی ہے؟“ میں نے عرض کیا ”سوچ رہا ہوں“ بولے صرف یہ سوچو کہ اگر انتخاب میں آگئے اور داخل دفتر ہوگئے تو یکسوئی ملتی ہے، منتشر خیالات میں کچھ بات نہیں بنتی“۔
    میں نے چند احباب واعزا سے مشورہ کیا۔ درخواست بھی دی۔ منتخب بھی ہوگیا۔ پروگرام اسسٹنٹ کے عہدہ پر تقرر ہوا اور لکھنوٴ اسٹیشن کی تعیناتی ملی۔ میرے لئے دہلی چھوڑنا سخت تکلیف دہ تھا۔ بارہ خواجاؤں کی چوکھٹ، ادیبوں، شاعروں اور سب سے بڑھ کر عزیز دوستوں کی جدائی بڑی شاق تھی۔ احباب کی رائے ہوئی کہ بخاری صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر لکھنوٴ کی تعیناتی کی جگہ دہلی اسٹیشن کی تقرری منظور کرالوں۔ یہ معاملہ قطعی بخاری صاحب کے اختیار میں تھا۔ میں نے ٹیلی فون کے ذریعے بخاری صاحب سے حاضری کی اجازت لی۔ اب میں ڈپٹی کنٹرولر نشریات کے دفتر میں ایک پروگرام اسسٹنٹ کی حیثیت سے داخل ہوا تھا۔ لیکن بخاری صاحب نے میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی حسب سابق تپاک سے ہاتھ ملایا اور بیٹھ کر چند ضابطہ کی ہدایات شروع کر دیں کیونکہ میں اس محکمہ میں نووارد تھا اور وہ ایک مخلص مہربان افسر اعلیٰ۔
    بعد ازاں میں نے اصل معاملہ پیش کیا۔ اور اپنی لکھنوٴ کی تقرری کے احکام کی تبدیلی اور دہلی میں رہنے کی خواہش ظاہر کی۔ بخاری صاحب نے نہایت سنجیدگی سے کہا ”عشرت صاحب! آپ کا تقرر لکھنوٴ کے لئے محض اتفاقیہ نہیں بلکہ دانستہ ہے۔ آپ عرصہ دراز سے دہلی میں مقیم ہیں آپ کے تعلقات یہاں کے ادبی اور تعلیمی حلقوں میں وسیع ہیں آپ کا تقرر دہلی ریڈیو کے کسی شعبہ میں ہو تو آپ کی جان ضیق میں ہوجائے گی۔ لوگ آپ کو شک وشبہ کی نظروں سے دیکھنے لگیں گے۔ آپ پر کسی حلقے کی بےجا طرفداری اور کسی کی بےجا مخالفت کے الزام لگائے جائیں گے جس محکمہ کا پبلک سے قریبی واسطہ ہو وہ عوام اور خواص ہر طبقہ کی نظروں میں رہتا ہے۔ ریڈیو کے محکمے کا بھی یہی حال ہے اس لئے ریڈیو اسٹیشن کے ذمہ دار اور کسی حد تک بھی بااختیار اہلکار کا اس اسٹیشن (مقام) پر تعینات ہونا خود اس کے اور محکمہ دونوں کے حق میں مفید نہیں۔ آپ خاص مکتب خیال سے تعلق رکھتے ہیں خود ادیب ہیں شاعر ہیں آپ کے دوست بھی ادیب اور شاعر ہیں اور دشمن بھی۔ ان میں سے بعض آپ کے ہم خیال ہوں گے اور بعض مخالف۔ آپ کس کس کو خوش رکھ سکیں گے۔ اپنے متعلقہ شعبہ میں آپ سارے شہر کے ادیبوں اور شاعروں کو پروگرام نہیں دے سکیں گے اس لئے بہت جلد مظعون ہو جائیں گے اور ضابطہ بےضابطہ ہر طرح سے آپ کی کڑی نگرانی ہونے لگے گی اور نتیجہ آپ کے حق میں مضر ہوگا۔
    بخاری صاحب کی یہ مشفقانہ نصیحت اور مجرب گر دل کو لگے لیکن دہلی کی مفارقت کا خیال ستا رہا تھا۔ میں نے پھر بھی عرض کیا۔ آپ نے جو فرمایا بجا ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ابھی کچھ عرصہ دہلی میں اور رہ لیتا اس کے بعد کہیں بھی بھیج دیا جاتا۔ بخاری صاحب ذرا سر اونچا کرکے گردن ہلاتے ہوئے حسب عادت مسکرائے اور بولے،  آپ سمجھ رہے ہیں میں ٹالنے کے لئے آپ کو بہلا رہا ہوں بات معمولی ہے آپ کو کچھ عرصہ کے لئے نہیں مستقلاً دہلی میں رکھا جا سکتا ہے مگر بات اب کی ہے ابھی آپ کا قیام دہلی میں آپ کے لئے مناسب نہیں۔ ابتدائی ایام میں دہلی کی ادبی مجالس راس نہ آئیں گی ان سے دور دلجمعی سے کام کرنے کا موقعہ ملے گا او رپھر یہ جدائی عارضی ہے ”یار زندہ صحبت باقی“ اطمینان سے روانہ ہو جائیے اور لکھنوٴ پہنچ کر کام میں دل لگائیے۔ اچھا! خدا حافظ“ اور کرسی سے اُٹھتے ہوئے ہاتھ بڑھا دیا۔ میں بھی اُٹھ کھڑا ہوا اور ہاتھ بڑھاتے ہوئے بخاری صاحب کے سنجیدہ متبسم چہرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے بعد سلام رخصت ہوا۔ میرے مخلص احباب میں سے ایک محترم بزرگ اکبر حیدری مرحوم تھے۔ میں نے ان سے بخاری کی گفتگو کا حال بتایا انہوں نے بخاری صاحب کی رائے کی حرف بحرف تائید کی اور کہا ”بخاری صاحب نے نہایت معقول فیصلہ کیا ہے۔ دہلی کے ادبی حلقوں میں اس قسم کی چہ میگوئیاں ابھی سے شروع ہوگئی ہیں۔ بعض ادیب احباب کو پروگراموں کی امید ہے بعض اس انتظار میں ہیں کہ اگر تم دہلی اسٹیشن پر تعینات ہوجاؤ تو تمہارے خلاف جا بےجا شکایتوں کا محاذ کھڑا کر دیں۔ بات ختم ہوئی میں لکھنوٴ چلا گیا اور بس!
    جیسا کہ بخاری صاحب نے فرمایا تھا۔ یہ واقعی معمولی بات تھی اور ایک ادنیٰ ماتحت کے ساتھ (جو اس محکمہ میں ہنوز قدم رکھنے آیا تھا) اس قدر تفصیلی گفتگو کی چنداں ضرورت بھی نہ تھی۔ وہ حسب ضابطہ یہ کہہ کر بات ختم کرسکتے تھے کہ جس اسٹیشن پر تعیناتی ہوئی ہے وہی مناسب ہے اس حکم پر کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ لیکن بخاری صاحب کا ضابطہ اس کا خوگر نہ تھا۔ انہوں نے ابتدا ہی سے مجھے اپنی ناصحانہ گفتگو سے اس محکمہ میں کام کرنے کے ضوابط اور نشیب وفراز سمجھا دیئے جن سے میں نے بہت سیکھا اور اپنی ملازمت کے دوران ان پر کاربند رہ کر اپنی ذات اور محکمہ کے لئے مفید ثابت ہوتا رہا۔ نیز انہوں نے حاکمانہ انداز اختیار کرکے سرسری طور پر میری درخواست رد کرنے کے بجائے بے ضابطہ طور پر ضابطہ کو اس خلوص اور محبت سے سمجھایا کہ میں قائل ہونے کے ساتھ ہی مطمئن واپس آیا۔
    اس واقعہ کی عمومیت یہاں تفصیل طلب تھی تاکہ بخاری صاحب کے ضابطہ کی خصوصیت واضح ہو سکے۔ ایک اعلیٰ افسر ہونے کی حیثیت سے انہوں نے محکمہ کے نظم ونسق کو اسی طرح منضبط کیا تھا ان کے ہر قول وفعل اور فیصلہ میں ہمیشہ خوداعتمادی، نکتہ رسی، دور اندیشی اور قطعیت ہوا کرتی اور لطف یہ کہ کسی کے خلاف فیصلہ کی صورت میں اس کی دل آزادی کا اظہار تک نہ ہوتا۔ وہ ضابطہ کے ہر معاملہ میں معمولی بات کو خاص اہمیت دیئے بغیر نہ ٹالتے اور اہم بات کو عام انداز میں اس طرح طے کر ڈالتے جیسے نہایت معمولی ہو۔ یہ وہ دور تھا جب کہ ایک پروگرام اسسٹنٹ کا وقار اور اختیار بھی خاصہ دقیع ووسیع ہوتا۔ اسٹیشن ڈائریکٹر اور پروگرام ڈائریکٹر کے فیصلوں کی بنیاد زیادہ تر پروگرام اسسٹنٹ کی تجویز ورائے پر ہوا کرتی۔ کانگریس ومسلم لیگ اور ہندو مسلم مناقشات کا زمانہ تھا۔ مسلم لیگ کے پیش نظر مسلمانوں کا مفاد اور ان کی آزادی کا حصول تھا کانگریس ہندو گردی پر اڑی ہوئی تھی۔ لکھنوٴ یو پی کا مرکز ہی نہیں سارے صوبے کی سیاسیات کا مرکز تھا۔ ایک بار ایک بڑے ہندو مہاشے کی تقریر نشر ہونا تھی۔میں نے تقریر کا مسودہ پڑھ کر مہاشے جی سے چند تبدیلیوں کے لئے کہا کیونکہ وہ باتیں پالیسی کے خلاف اور مناقشات کو بڑھانے والی تھیں۔ مہاشے جی نہ مانے۔ معاملہ اسٹیشن ڈائریکٹر تک پہنچا انہوں نے میری تجویز کے مطابق فیصلہ کیا۔ مہاشے جی بگڑ کر چلے گئے اور تقریر نشر کرنے سے انکار کر دیا۔ دوسرے روز مہاشے جی کی خفگی اور ریڈیو اسٹیشن کی کارروائی ضابطہ تمام اخباروں کی سرخیاں بن گئیں۔ ریڈیو کو موردِ الزام قرار دے کر خوب خوب لے دے کی گئی۔ کانگریسی اخبارات نے ریڈیو کے محکمے اور مرکزی حکومت کو ہلا ڈالنے کا اعلان کر دیا۔ میری موقوفی کا مطالبہ کیا گیا۔
    غیر معمولی ہنگامہ تھا۔ ڈائریکٹر جنرل (بخاری صاحب) کو دہلی سے بہ نفس نفیس تحقیقات کے لئے آنا پڑا۔ بخاری صاحب نے تقریر کا سودہ پڑھا۔ صورتحال کا جائزہ لیا او رپھر خود مہاشے جی سے ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔ کوئی گھنٹہ بھر بعد بخاری صاحب ریڈیو اسٹیشن واپس آئے مہاشے جی ان کے ہمراہ تھے۔ بخاری صاحب مسکرا رہے تھے اور مہاشے جی خاموش تھے۔ اسٹیشن ڈائریکٹر کے کمرے میں میری طلبی ہوئی۔ سامنے پہنچتے ہی مہاشے جی نے بڑی خندہ پیشانی سے ہاتھ ملایا اور بولے ”میری غلط فہمی بھی تھی مگر آپ کا انداز ناخوشگوار تھا“۔ بخاری صاحب نے مسکراتے ہوئے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور بولے ”آپ بزرگ ہیں لیکن ان لوگوں کی مجبوریاں احتیاط کی متقاضی ہیں“ معلوم نہیں بخاری صاحب کی حکمت عملی اور شگفتہ بیانی نے مہاشے جی پر کیا جادو کیا کہ وہ اپنی ساری منطق بھول کر اسی رات مجوزہ تقریر نشر کرنے پر آمادہ ہوگئے اور انہوں نے خود ہی اخبارات کے منہ بند کر دیئے اور ہماری دوستی کا دم بھرنے لگے۔
    حقیقت یہ ہ