کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں |
|
عصمت چغتائی کے افسانہ میں ایک لڑکی دوسری کے متعلق کہتی ہے کہ ”سعیدہ موٹی تھی
تو کیا، کمزور تو حد سے زیادہ تھی بےچاری۔ لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے جی
کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے“۔ جب میں نے عصمت کی کلیاں اور چوٹیں دونوں مجموعے ختم کر
لئے اور جو چند دیباچے اور مضامین ان کے مداحین اور معترضین نے ان پر ازرہ تنقید
وتعارف لکھے ہیں ان سے بہرہ یاب ہوچکا تو استعارے کے رنگ میں یہ فقرہ پھر یاد آیا۔
”لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ جی کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے“۔
اس فقرے کے معانی کو کھینچ تان کر پھیلا لیجئے، اور اس پر تھوڑا سا فلسفیانہ رنگ پھیر لیجئے تو عصمت کے بعض کمالات اور نقادوں کی بعض کوتاہیوں کو بیان کرنے کا اچھا خاص بہانہ ہاتھ آجاتا ہے جو حال فربہی کا ہے وہی حال کئی او رمعروف اور متدا دل اور لیبلوں کا ہے جو مستعمل الفاظ اور عادات مستمرہ کی شکل میں قسم قسم کی اشیاء پر چپکے نظر آتے ہیں۔ ذہنی کسالت اور خوف اور بزدلی کے مارے ہم اکثر فیصلے لیبلوں ہی کو دیکھ کر صادر کر دیتے ہیں۔ ان سے آگے نکل کر اصل چیز کو جانچنے اور تولنے کی ہمت اپنے آپ میں نہیں پاتے۔ مامتا اور عشق پر دل گدازی کا لیبل مدت سے لگا ہوا ہے اس لئے جہاں ان کا ذکر آئے کہنے اور سننے والے دونوں ایک علّو اور ایک پاکیزہ رقت کے لئے پہلے ہی سے تیار ہو بیٹھتے ہیں۔ جنسی مشاغل تحقیق کہ پستی کی طرف لے جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کا بیان بغیر کراہت یا اخلاقی غیظ کے ہو تو لوگ برہم ہوجاتے ہیں۔ بہن بھائیوں کا سا پیار جاننا چاہئے کہ پاک محبت کا سب سے اونچا درجہ ہے لہٰذا بہن بھائی کے درمیان بجز اس جذبہٴ عالیہ کے کسی اور تعلق کی گنجائش ناممکن یا کم از کم نامناسب ضرور سمجھی جاتی ہے۔ عصمت چغتائی کے رہنما بھی اندھا دھند ایسے ہی کلیئے ہوتے تو ادب ان کی بہترین انشا سے محروم رہ جاتا لیکن ان کی بصیرت اس سے کہیں زیادہ دوررس ہے۔ وہ لیبلوں کے فریب میں نہیں آتیں اور جسم اور دل اور دماغ کی کئی کنیتیں ایسی ہیں جن سے وہ اکیلے میں دوچار ہوتے نہیں گھبراتیں۔ ایسے انشا پرداز کا بغیر حوصلہ مشاہدہ، وقت نظر اور جرأت بیان کے گزارہ نہیں۔ اور یہ ادیب کی خوش قسمتی ہے کہ عصمت کو یہ تینوں نعمتیں میسر ہیں۔ برخلاف اس کے احساس محرومی کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس جرأت اور وقت نظر میں سے عصمت کے نقادوں کو حصہ وافر نہیں ملا۔ فی الحال ان کا ذکر جانے دیجئے جن کو عصمت کی تحریروں میں اپنے اخلاق اور ادب دونوں کی تباہی نظر آتی ہے وہ تو ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیبل گوند سے چپکے ہوئے نہیں میخوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے ذہنوں میں ایک موٹی موٹی لکیروں والی جدول بنا رکھی ہے کہ ان چیزوں کا ذکر حلال ہے ان کا حرام ہے نامحرم کا ذکر ہم مقرر کر چکے ہیں کہ فحش ہے۔ محرم کا ذکر معاملہ بندی ہے یعنی جائز ہے۔ حرام کا بچہ فطرت کو منظور ہے تو ہوا کرے، ہمارے ادب کو منظور نہیں۔ اور یہ فطرت کا مطالعہ؟ محض ایک ڈھونگ! آوارہ مزاجوں کا عذر آوارگی! ہمیں بچپن میں مطالعہ پر کوئی مجبور نہ کرسکا تو اب کسی کی کیا مجال ہے؟ ہم جب بھی کھلونے سے دل بہلاتے تھے اب بھی کھلونوں سے دل بہلائیں گے… ایسے لوگوں سے اس وقت بحث نہیں کیونکہ وہ وہاں ہیں جہاں سے ان کو بھی شکایت ان سے ہے اور اپنوں کی شکایت ہے، بیگانوں کی سی نہیں۔ جو عصمت چغتائی کے قدر
دان اور مداح ہیں ان لیبلوں کے مضامین کو پڑھ کر روح میں ایک بالیدگی محسوس کرتے
ہیں جس سے دل میں امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور نئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ گلہ ہے کہ وہ
بھی ہر پھر کر لیبلوں ہی کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ افسوس کہ عصمت مرد نہیں اور
افسوس کہ لیبلوں میں سے سب سے بڑا اور گمراہ کن لیبل عورت ہے۔ مرد ذات کے قرنوں کے
خرابوں اور محرومیوں سے چپکا ہوا۔ عورت دلفریب ہے، مکار ہے، صنف نازک ہے، ایک معمہ
ہے، کمزور ہے، کم عقل ہے، مجموعہٴ اضداد ہے۔ جہاں آپ نے عورت کا نام لیا، ان میں سے
دو چارگھڑے گھڑائے معنی ذہن اُگل کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ چنانچہ اسی فریب میں آکر ہونہار
اور ذہین دیباچہ نویس فرماتے ہیں: (ساقی دہلی، فروری ۴۵ء) * * * |
|
جس کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو |
(آغا بابر) جس قلم سے آج یہ چند منتشر خیالات خراج عقیدت کے طور پر پروفیسر بخاری مرحوم کی نذر کررہا ہوں، یہ قلم چلانا انہوں نے ہی سکھایا تھا۔ وہ میرے استاد تھے۔ مشفق تھے۔ زندگی کی جنگ لڑنے کا اعتماد، حوصلہ نہ ہارنے کا جذبہ سب کچھ انہیں کی تہذیب وتربیت کا نتیجہ تھا۔ ان کی ناگہانی موت سے خیالات اس طرح پریشان ہیں کہ کیا لکھوں کیا نہ لکھوں کا رشتہ ترتیب قلم کے قابو سے باہر ہے۔ دماغ میں جو کچھ آرہا ہے جس ترتیب سے آرہا ہے اسی طرح پیش کر رہا ہوں:
خاطر مسلسل است پریشاں چوں زلفِ یار
گورنمنٹ کالج لاہور ہندوستان میں سب سے بڑی اور سب سے پرانی درسگاہ تھی۔ اس کی
تعلیم کا ڈھنگ، علمی وادبی صحبتیں اور پروفیسروں کی قابلیت کا شہرہ دور دور تھا۔
لڑکے اس درسگاہ سے منجھ کر نکلتے۔ انہیں بھی فخر ہوتا اور پروفیسروں کو بھی۔ جب
فرسٹ
ائیر میں یہاں داخل ہوا تو پروفیسر بخاری انٹرویو بورڈ میں تھے بلکہ بورڈ میں انہیں
کی رائے چلتی تھی۔ گردن میں آپریشن ہونے کی وجہ سے ایک گڑھا سا پڑتا تھا۔ جس کی وجہ
سے نسیں کھنچی رہتیں۔ شکل وصورت ایرانیوں کی سی تھی۔ ان دنوں مسٹر گیرٹ پرنسپل تھے۔
پروفیسر بخاری کی وضع قطع، باتیں کرنے کا ڈھنگ، لباس اور اطوار سے یورپینی انداز
ٹپکتا۔ کسی پروفیسر کی کیا مجال کی گیرٹ کے کمرے میں سگریٹ پیتے ہوئے گھس جائے۔ مگر
پروفیسر بخاری جب پرنسپل کے کمرے میں جاتے تو ہم 'کی ہول' (Key Hole) میں سے دیکھتے۔
گیرٹ کے سامنے وہ کھڑے سگریٹ پیتے۔ دھواں نتھنوں سے نکلتا۔ کبھی کش لیتے تو دھواں
منہ سے نکلتا نہ نتھنوں سے۔ باتیں کر رہے ہیں دھواں غائب اتنی دیر میں دھواں نتھنوں
سے نکلتا پھر منہ سے۔ یہ تماشا سرکس میں دیکھا تھا۔ گورنمنٹ کالج کے چوٹی کے
پروفیسر کا یہ انداز اپنے اندر عجیب وقار، حسن، اور کشش لئے ہوئے تھا۔ پروفیسر
بخاری بی اے کو ڈرامہ پڑھاتے تھے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ میں ان کی باتیں سنوں۔ ان
کی صحبت میں بیٹھوں۔ ”ادہر مت دیکھو میرے قلم کو نظر لگ رہی ہے“۔
پروفیسر بخاری نے مسکرا کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
ہم اگلی بنچوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ دو سال ہوئے میں نے اپنے افسانوں کا تازہ مجموعہ
”لب گویا“ ن۔م۔راشد کے ہاتھ بخاری صاحب کو نیویارک بھیجا۔ میں نے اس پر لکھا۔۔
اپنے نالائق شاگرد کی طرف سے یہ کتاب قبول فرمائیے جو اگلی بنچوں پر اس لئے بیٹھا
کرتا تھا کہ آپ پچھلی بنچوں پر بیٹھنے والوں سے سوال پوچھا کرتے تھے“۔۔ بخاری صاحب
مسکرا کرکتاب دیکھنے لگے اور اگلے روز نئے سال کا کارڈ مجھے روانہ کیا جو اس وقت
میرے سامنے موجود ہے، ہملٹ کا وہ نسخہ بھی جو پروفیسر بخاری ہمیں پڑھایا کرتے تھے
میرے پاس موجود ہے۔ حقیقت میں تو ہمارے پاس ان کے وہ تحفے ہیں جن کو ہم نے زندگی بھر
اپنائے رکھا ہے۔ یہ لکھنے کا روگ جو ہم طالب علمی کے زمانے سے پال رہے ہیں انہیں کی
بخشش ہے۔ ڈرامے کا شوق بلکہ چسکا انہیں کا دیا ہوا ہے۔ جذبات کی یہ آگ جس نے
استخواں تک کو جلا دیا ہے اور ابھی ”آرزوئے سوختن باقیت“ انہیں کا کرشمہ ہے انہوں
نے ن۔م۔راشد کی حوصلہ افزائی کی۔ فیض کی کمر ٹھونکی۔ آغا عبدالحمید (سی ایس پی)
بشیر قریشی (سی ایس پی) علی اصغر (سی ایس پی) رشید احمد (ڈپٹی ڈائریکٹر ریڈیو
پاکستان) اور مظہر علی خاں (سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز) پروفیسر بخاری کے وہ شاگرد
ہیں جن کی علمی استعداد اور ادبی تہذیب وتربیت بخاری صاحب کی شخصیت کا پر تو ہیں۔
وہ روشنی کا چراغ جس سے ہزاروں چراغ جلے۔ سینکڑوں نے اکتساب نور کیا۔ آج اپنی لو
ختم کر چکا۔۔
پرانے وقت تابڑ توڑ ذہن پر وارد ہورہے ہیں جن سے اپنے استاد کی تعظیم وتکریم میں
اضافہ ہو رہا ہے اور اس عظیم انسان کا وقار فضیلت بڑھ رہا ہے مرحوم کی شخصیت کا ایک
پیارا پہلو یاد آیا۔ اصغر حسین قلعہ گوجر سنگھ میں رہتا تھا۔ پروفیسر صوفی تبسم نے کہا ”تم میکلوڈ روڈ
سے گزرتے ہوئے بخاری صاحب کے ہاں چلے جانا اور ان سے کہنا کہ آج شام کو چھ بجے اردو
مجلس کی میٹنگ ان کے مکان پر ہوگی“۔
اصغر نے عطر چند کپور بلڈنگ کے ساتھ بائیسکل رکھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر پہنچا۔
دروازہ اندر سے بند۔ بجلی کی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے انگلی رکھ
کر بٹن کو زیادہ زور سے دبایا۔ پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ اب وہ انگلی رکھ کر دباتا
ہی چلا گیا۔
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
موت کا فرشتہ دہلیز پر آکر بیٹھ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا اگر تم چاہو تو میں حاضر
ہوں۔ رات تمہارے پاس ٹھہرتا ہوں۔ صبح چلا جاؤں گا۔ پروفیسر بخاری نے کہا ”نہیں، نرس
جو میرے پاس موجود ہے۔“
ڈاکٹر نے مذاق سے کہا ”اچھا سویٹ پرنس شب بخیر“۔
مگر یہ رات اس کی آخرت رات تھی۔ موت کے فرشتہ نے دہلیز الانگ لی۔
بچے باپوں سے پوچھتے ہیں آج کون مرگیا، آپ اداس جو ہیں کون بتائے نئی پود کو آج وہ
مرگیا جس نے کہا تھا۔ بچوں کو بہلانا سہل ہے بڑوں کا بہلانا سہل نہیں۔
نمی دانم حدیث نامہ چوں است * * * |
|
اقوام متحدہ میں پروفیسر بخاری سے ملاقات |
(ڈاکٹر محمد عبدالله چغتائی)
مغربی اور مشرقی فن میں اصولی فرق میرے نزدیک ایک یہ بھی ہے کہ مغربی فن کی تصویر
کو دور سے دیکھنے سے جو اس کی خوبیاں نظر آتی ہیں، وہ نزدیک سے دھبے دکھائی دیتے ہیں۔
یعنی اس کی صحیح نمائش دور سے ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مشرقی فن کی تصویر کے صحیح
خط وخال اور خوبیاں اس کو جس قدر بھی قریب سے دیکھا جائے گا زیادہ نظر آئیں گی ورنہ
دور سے ایک مدہم مدہم یکساں رنگ کی دھندلی سی سطح معلوم ہوگی۔ چنانچہ ہم مرحوم احمد
شاہ بخاری کو جب کبھی دور سے دیکھتے تو صحیح معنوں میں کسی یورپی یونیورسٹی کے ایک
سجے سجائے مکمل پروفیسر نظر آتے۔ مگر جب کبھی ان کے پاس بیٹھ کر گفتگو سننے کا موقع
ملتا تو ان کے برجستہ مسکراہٹ لئے ہوئے مادری زبان میں بےساختہ جملے ظاہر کرتے کہ
ان کا نہایت مکمل ظاہری مغربی لباس ان کی مشرقیت پر ایک ملمع ہے ۔ اور ان کی مشرقیت
کے جوہر آہستہ آہستہ گفتگو کے مدارج طے کرتے کرتے واضح ہوتے چلے جاتے بلکہ ان کی
تمام انگریزی اور انگریزیت ان کی مشرقیت کے طابع نظر آنے لگتی۔ * * * |
|
ضابطہ، بے ضابطہ |
(عشرت رحمانی)
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں،
بات ۱۹۳۴ء کی ہے۔ دہلی میں آل انڈیا ریڈیو کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ محکمہ کے
کنٹرولر ذہین وطباع انگریز مسٹر لائنیل فلیڈن، اسٹیشن ڈائریکٹر مسٹر اسٹپلٹن اور
پروگرام ڈائریکٹر سید ذوالفقار علی بخاری (ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل)
تھے۔ ان کے علاوہ آغا محمد اشرف (بنیرہٴ آزاد) اور سجاد سرور نیازی جیسے اہل فن
حضرات بھی عملہ کے رکن تھے۔ مسٹر فیلڈن خود ایک ماہر اہل قلم ہونے کے ساتھ نشریات
کے رموز سے بھی کما حقہ واقف تھے جو ارباب ہنر انہوں نے جمع کئے تھے ان کے لئے ایسے
سرگروہ کی تلاش تھی جو ان کی صحیح قیادت کی اہلیت رکھتا ہو اور ملک کے لئے نشریات
کا موزوں لائحہ عمل مرتب کرکے ان کو مناسب طریقے پر چلا سکے۔ چنانچہ مسٹر فیلڈن نے
برصغیر کی تمام یونیورسٹیوں کو مراسلے بھیجے کہ وہ اپنے اداروں سے ایسے لائق اہل
علم وہنر چن کر اس کام کے لئے بھیجیں جن کے تعاون سے وہ اپنے دست وبازو مضبوط کرکے
باضابطہ کام چلا سکیں چنانچہ کئی اداروں کے اربابِ اختیار نے چند اہم شخصیتوں کو
منتخب کرکے مسٹر فیلڈن سے ملاقات کے لئے بھیج دیا۔ ان میں دو نام خاص تھے۔ ایک مسلم
یونیورسٹی علی گڑھ کے پروفیسر رشید احمد صدیقی اور دوسرے گورنمنٹ کالج لاہور کے
پروفیسر سید احمد شاہ بخاری پطرس۔ یہ حسنِ اتفاق تھا یا حسنِ انتخاب کہ یہ دونوں
حضرات اردو کے مشہور مزاح نگار اور بلند پایہ ادیب بھی تھے اور ادب انگریزی کے
پروفیسر بھی۔ |