سرمحمد اقبال |
|
"وہ انسان جس نے اردو شاعری کو مردانہ پن بخشا"۔
اقبال کی وفات سے ہندستان ایک جلیل القدر شاعر سے کہیں زیادہ باعظمت ہستی سے محروم ہوگیا۔ وہ بطور ایک عالم متجر اور تاریخ، فلسفہ اور مذہب کے سرگرم طالب علم بھی ان لوگوں کے لئے جو اپنی محدود قابلیت کے سبب اس کی اعلیٰ شاعری تک رسائی سے قاصر تھے، منبع فیض وجود تھا۔ بطور شاعر اگرچہ اس کا مقام نہایت بلند تھا لیکن ادبی اور عمرانی دنیا میں اثر ونفوذ کے لحاظ سے اس کا مقام اس سے بھی بلند تر تھا۔ اس کی وفات سے جہاں مسلمانوں سے ایک فصیح اللسان پیغامبر اور ان کی تہذیب کا ایک بہت بڑا شارح چھن گیا ہے وہاں اردو شاعری سے خدا معلوم کتنی درازمدت کے لئے اہمیت اور منزلِ مقصود چھن گئی۔ کم وبیش چالیس سال گزرے جب اقبال کی شاعرانہ زندگی کا آغاز ہوا۔ اس وقت اردو شاعری اگرچہ لوگوں میں مقبول تھی او رہرکس وناکس اس سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ اس کا مقصد خود زندگی نہیں بلکہ محض زندگی کے حاشیہ کی تزئین سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ مقبول عام فن تھا مگر یہ فن محض فن کی خاطر اختیار کیا جاتا تھا۔ اس وقت شاعری کیا تھی؟ محض جذبات انگیز عیاشی، نرم ونازک، دل خوش کن، مزاحیہ یا ہجویہ، لیکن سراسر بےربط۔ اسی لئے اس کے اختیار کرنے میں سنجیدگی او رمتانت سے کام لینے کی ضرورت نہ سمجھی جاتی۔ لیکن مسلمانوں کے دلوں میں ایک نیا احساس کروٹیں لے رہا تھا۔ اور لوگوں کی زبان پر تعمیرات ملت اور ترقی کے الفاظ آنے شروع ہوگئے تھے۔ ان میں جو زیادہ ذکی الحس واقع ہوئے تھے۔ انہوں نے آرٹ کو پھر ڈھونڈ نکالا کہ یہ بھی انسان کے زیادہ اہم مشاغل میں سے ایک ہے اور اس کو اعلیٰ سنجیدگی اور مقصد ومدعا سے معمور کرنے کی کوشش کی گئی۔ چنانچہ حالی ایسا غزل گو عہد ِ شباب کی ہوس کاریوں سے تائب ہوکر مشہور زمانہ مسدّس کا مصنف بن گیا۔ جس نے خوابِ غفلت کے متوالے ہندوستانی مسلمانوں کو اس طرح جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگایا کہ کوئی ایک نظم نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد ایسا کرسکی۔ ان ہی حالات میں اقبال جس نے اسی فرسودہ ڈگر پر اپنی شاعری شروع کی تھی، محسوس کرنے لگا کہ اس کا دل مسلمانوں کے احیا اور ان کی نئی زندگی کے خواب سے مضطرب اور بےقرار ہے۔ ہندوستان ہمارا: اقبال کی ابتدائی نظموں سے ہی جو اس رجحان کے ماتحت لکھی گئیں۔ اس کے ولولہٴ عمل سے بےتاب دل اور اپنے وطن کے لئے جذباتِ محبت کا پتہ لگتا ہے اس کی نظم: ”سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے“ اب تک فرقہ وارانہ اتحاد کی سب سے زیادہ پُراثر اپیل ہے جو کسی محب وطن کے قلم
سے نکلی ہو۔ اور اس کا شہرہ آفاق گیت ”ہندوستان ہمارا“ میرے خیال میں بہترین قومی
گیت ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا اور جس سے بہتر گیت کی شاید مدت مدید تک
بننے کی امید نہیں ہوسکتی۔ لیکن مذہب اسلام کے غائر مطالعہ نے جو اقبال نے اپنی
زندگی کے آخری ایام تک مسلسل جاری رکھا۔ اس کے افق خیال کو وسعت بخشی۔ وطن اور ملک
کی نسبت سے قوموں کا تصور اس کی فطرت کے خلاف تھا۔ اپنی شاعری اور اپنی گفتگو میں
وہ ہمیشہ یورپ کی مثال دے کر انسانوں کو ملکوں اور وطنوں کے تنگ دائروں میں تقسیم
کرنے کی بیہودگی ثابت کیا کرتا۔ وہ ایک ایسے تمدنی نصب العین کا قائل تھا جو انسانوں
کو وطنوں اور قوموں کے اختلافات کی سطح سے بلند کر دے اور جو زندگی کو ایک مقصود
مدعا بخشے کیونکہ اس کے نزدیک آرٹ کا بامقصد ہونا محض زندگی کے اصول علت العلل کا
جزو لایئنفک تھا۔ اسی قسم کی ہمہ گیری اور بامقصدیت انہیں نظر آئی تو اسلام میں یا
چند جرمن فلسفیوں کی تعلیمات میں جن سے وہ بےدریغ اپنی شاعری میں استفادہ کرتا رہا۔ (پطرس کے انگریزی مضمون کا ترجمہ از صوفی ریاض حسین) * * * |
کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں |
|
عصمت چغتائی کے افسانہ میں ایک لڑکی دوسری کے متعلق کہتی ہے کہ ”سعیدہ موٹی تھی
تو کیا، کمزور تو حد سے زیادہ تھی بےچاری۔ لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے جی
کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے“۔ جب میں نے عصمت کی کلیاں اور چوٹیں دونوں مجموعے ختم کر
لئے اور جو چند دیباچے اور مضامین ان کے مداحین اور معترضین نے ان پر ازرہ تنقید
وتعارف لکھے ہیں ان سے بہرہ یاب ہوچکا تو استعارے کے رنگ میں یہ فقرہ پھر یاد آیا۔
”لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ جی کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے“۔
اس فقرے کے معانی کو کھینچ تان کر پھیلا لیجئے، اور اس پر تھوڑا سا فلسفیانہ رنگ پھیر لیجئے تو عصمت کے بعض کمالات اور نقادوں کی بعض کوتاہیوں کو بیان کرنے کا اچھا خاص بہانہ ہاتھ آجاتا ہے جو حال فربہی کا ہے وہی حال کئی او رمعروف اور متدا دل اور لیبلوں کا ہے جو مستعمل الفاظ اور عادات مستمرہ کی شکل میں قسم قسم کی اشیاء پر چپکے نظر آتے ہیں۔ ذہنی کسالت اور خوف اور بزدلی کے مارے ہم اکثر فیصلے لیبلوں ہی کو دیکھ کر صادر کر دیتے ہیں۔ ان سے آگے نکل کر اصل چیز کو جانچنے اور تولنے کی ہمت اپنے آپ میں نہیں پاتے۔ مامتا اور عشق پر دل گدازی کا لیبل مدت سے لگا ہوا ہے اس لئے جہاں ان کا ذکر آئے کہنے اور سننے والے دونوں ایک علّو اور ایک پاکیزہ رقت کے لئے پہلے ہی سے تیار ہو بیٹھتے ہیں۔ جنسی مشاغل تحقیق کہ پستی کی طرف لے جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کا بیان بغیر کراہت یا اخلاقی غیظ کے ہو تو لوگ برہم ہوجاتے ہیں۔ بہن بھائیوں کا سا پیار جاننا چاہئے کہ پاک محبت کا سب سے اونچا درجہ ہے لہٰذا بہن بھائی کے درمیان بجز اس جذبہٴ عالیہ کے کسی اور تعلق کی گنجائش ناممکن یا کم از کم نامناسب ضرور سمجھی جاتی ہے۔ عصمت چغتائی کے رہنما بھی اندھا دھند ایسے ہی کلیئے ہوتے تو ادب ان کی بہترین انشا سے محروم رہ جاتا لیکن ان کی بصیرت اس سے کہیں زیادہ دوررس ہے۔ وہ لیبلوں کے فریب میں نہیں آتیں اور جسم اور دل اور دماغ کی کئی کنیتیں ایسی ہیں جن سے وہ اکیلے میں دوچار ہوتے نہیں گھبراتیں۔ ایسے انشا پرداز کا بغیر حوصلہ مشاہدہ، وقت نظر اور جرأت بیان کے گزارہ نہیں۔ اور یہ ادیب کی خوش قسمتی ہے کہ عصمت کو یہ تینوں نعمتیں میسر ہیں۔ برخلاف اس کے احساس محرومی کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس جرأت اور وقت نظر میں سے عصمت کے نقادوں کو حصہ وافر نہیں ملا۔ فی الحال ان کا ذکر جانے دیجئے جن کو عصمت کی تحریروں میں اپنے اخلاق اور ادب دونوں کی تباہی نظر آتی ہے وہ تو ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیبل گوند سے چپکے ہوئے نہیں میخوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے ذہنوں میں ایک موٹی موٹی لکیروں والی جدول بنا رکھی ہے کہ ان چیزوں کا ذکر حلال ہے ان کا حرام ہے نامحرم کا ذکر ہم مقرر کر چکے ہیں کہ فحش ہے۔ محرم کا ذکر معاملہ بندی ہے یعنی جائز ہے۔ حرام کا بچہ فطرت کو منظور ہے تو ہوا کرے، ہمارے ادب کو منظور نہیں۔ اور یہ فطرت کا مطالعہ؟ محض ایک ڈھونگ! آوارہ مزاجوں کا عذر آوارگی! ہمیں بچپن میں مطالعہ پر کوئی مجبور نہ کرسکا تو اب کسی کی کیا مجال ہے؟ ہم جب بھی کھلونے سے دل بہلاتے تھے اب بھی کھلونوں سے دل بہلائیں گے… ایسے لوگوں سے اس وقت بحث نہیں کیونکہ وہ وہاں ہیں جہاں سے ان کو بھی شکایت ان سے ہے اور اپنوں کی شکایت ہے، بیگانوں کی سی نہیں۔ جو عصمت چغتائی کے قدر
دان اور مداح ہیں ان لیبلوں کے مضامین کو پڑھ کر روح میں ایک بالیدگی محسوس کرتے
ہیں جس سے دل میں امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور نئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ گلہ ہے کہ وہ
بھی ہر پھر کر لیبلوں ہی کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ افسوس کہ عصمت مرد نہیں اور
افسوس کہ لیبلوں میں سے سب سے بڑا اور گمراہ کن لیبل عورت ہے۔ مرد ذات کے قرنوں کے
خرابوں اور محرومیوں سے چپکا ہوا۔ عورت دلفریب ہے، مکار ہے، صنف نازک ہے، ایک معمہ
ہے، کمزور ہے، کم عقل ہے، مجموعہٴ اضداد ہے۔ جہاں آپ نے عورت کا نام لیا، ان میں سے
دو چارگھڑے گھڑائے معنی ذہن اُگل کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ چنانچہ اسی فریب میں آکر ہونہار
اور ذہین دیباچہ نویس فرماتے ہیں: (ساقی دہلی، فروری ۴۵ء) * * * |
|
جس کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو |
(آغا بابر) جس قلم سے آج یہ چند منتشر خیالات خراج عقیدت کے طور پر پروفیسر بخاری مرحوم کی نذر کررہا ہوں، یہ قلم چلانا انہوں نے ہی سکھایا تھا۔ وہ میرے استاد تھے۔ مشفق تھے۔ زندگی کی جنگ لڑنے کا اعتماد، حوصلہ نہ ہارنے کا جذبہ سب کچھ انہیں کی تہذیب وتربیت کا نتیجہ تھا۔ ان کی ناگہانی موت سے خیالات اس طرح پریشان ہیں کہ کیا لکھوں کیا نہ لکھوں کا رشتہ ترتیب قلم کے قابو سے باہر ہے۔ دماغ میں جو کچھ آرہا ہے جس ترتیب سے آرہا ہے اسی طرح پیش کر رہا ہوں:
خاطر مسلسل است پریشاں چوں زلفِ یار
گورنمنٹ کالج لاہور ہندوستان میں سب سے بڑی اور سب سے پرانی درسگاہ تھی۔ اس کی
تعلیم کا ڈھنگ، علمی وادبی صحبتیں اور پروفیسروں کی قابلیت کا شہرہ دور دور تھا۔
لڑکے اس درسگاہ سے منجھ کر نکلتے۔ انہیں بھی فخر ہوتا اور پروفیسروں کو بھی۔ جب
فرسٹ
ائیر میں یہاں داخل ہوا تو پروفیسر بخاری انٹرویو بورڈ میں تھے بلکہ بورڈ میں انہیں
کی رائے چلتی تھی۔ گردن میں آپریشن ہونے کی وجہ سے ایک گڑھا سا پڑتا تھا۔ جس کی وجہ
سے نسیں کھنچی رہتیں۔ شکل وصورت ایرانیوں کی سی تھی۔ ان دنوں مسٹر گیرٹ پرنسپل تھے۔
پروفیسر بخاری کی وضع قطع، باتیں کرنے کا ڈھنگ، لباس اور اطوار سے یورپینی انداز
ٹپکتا۔ کسی پروفیسر کی کیا مجال کی گیرٹ کے کمرے میں سگریٹ پیتے ہوئے گھس جائے۔ مگر
پروفیسر بخاری جب پرنسپل کے کمرے میں جاتے تو ہم 'کی ہول' (Key Hole) میں سے دیکھتے۔
گیرٹ کے سامنے وہ کھڑے سگریٹ پیتے۔ دھواں نتھنوں سے نکلتا۔ کبھی کش لیتے تو دھواں
منہ سے نکلتا نہ نتھنوں سے۔ باتیں کر رہے ہیں دھواں غائب اتنی دیر میں دھواں نتھنوں
سے نکلتا پھر منہ سے۔ یہ تماشا سرکس میں دیکھا تھا۔ گورنمنٹ کالج کے چوٹی کے
پروفیسر کا یہ انداز اپنے اندر عجیب وقار، حسن، اور کشش لئے ہوئے تھا۔ پروفیسر
بخاری بی اے کو ڈرامہ پڑھاتے تھے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ میں ان کی باتیں سنوں۔ ان
کی صحبت میں بیٹھوں۔ ”ادہر مت دیکھو میرے قلم کو نظر لگ رہی ہے“۔
پروفیسر بخاری نے مسکرا کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
ہم اگلی بنچوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ دو سال ہوئے میں نے اپنے افسانوں کا تازہ مجموعہ
”لب گویا“ ن۔م۔راشد کے ہاتھ بخاری صاحب کو نیویارک بھیجا۔ میں نے اس پر لکھا۔۔
اپنے نالائق شاگرد کی طرف سے یہ کتاب قبول فرمائیے جو اگلی بنچوں پر اس لئے بیٹھا
کرتا تھا کہ آپ پچھلی بنچوں پر بیٹھنے والوں سے سوال پوچھا کرتے تھے“۔۔ بخاری صاحب
مسکرا کرکتاب دیکھنے لگے اور اگلے روز نئے سال کا کارڈ مجھے روانہ کیا جو اس وقت
میرے سامنے موجود ہے، ہملٹ کا وہ نسخہ بھی جو پروفیسر بخاری ہمیں پڑھایا کرتے تھے
میرے پاس موجود ہے۔ حقیقت میں تو ہمارے پاس ان کے وہ تحفے ہیں جن کو ہم نے زندگی بھر
اپنائے رکھا ہے۔ یہ لکھنے کا روگ جو ہم طالب علمی کے زمانے سے پال رہے ہیں انہیں کی
بخشش ہے۔ ڈرامے کا شوق بلکہ چسکا انہیں کا دیا ہوا ہے۔ جذبات کی یہ آگ جس نے
استخواں تک کو جلا دیا ہے اور ابھی ”آرزوئے سوختن باقیت“ انہیں کا کرشمہ ہے انہوں
نے ن۔م۔راشد کی حوصلہ افزائی کی۔ فیض کی کمر ٹھونکی۔ آغا عبدالحمید (سی ایس پی)
بشیر قریشی (سی ایس پی) علی اصغر (سی ایس پی) رشید احمد (ڈپٹی ڈائریکٹر ریڈیو
پاکستان) اور مظہر علی خاں (سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز) پروفیسر بخاری کے وہ شاگرد
ہیں جن کی علمی استعداد اور ادبی تہذیب وتربیت بخاری صاحب کی شخصیت کا پر تو ہیں۔
وہ روشنی کا چراغ جس سے ہزاروں چراغ جلے۔ سینکڑوں نے اکتساب نور کیا۔ آج اپنی لو
ختم کر چکا۔۔
پرانے وقت تابڑ توڑ ذہن پر وارد ہورہے ہیں جن سے اپنے استاد کی تعظیم وتکریم میں
اضافہ ہو رہا ہے اور اس عظیم انسان کا وقار فضیلت بڑھ رہا ہے مرحوم کی شخصیت کا ایک
پیارا پہلو یاد آیا۔ اصغر حسین قلعہ گوجر سنگھ میں رہتا تھا۔ پروفیسر صوفی تبسم نے کہا ”تم میکلوڈ روڈ
سے گزرتے ہوئے بخاری صاحب کے ہاں چلے جانا اور ان سے کہنا کہ آج شام کو چھ بجے اردو
مجلس کی میٹنگ ان کے مکان پر ہوگی“۔
اصغر نے عطر چند کپور بلڈنگ کے ساتھ بائیسکل رکھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر پہنچا۔
دروازہ اندر سے بند۔ بجلی کی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے انگلی رکھ
کر بٹن کو زیادہ زور سے دبایا۔ پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ اب وہ انگلی رکھ کر دباتا
ہی چلا گیا۔
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
موت کا فرشتہ دہلیز پر آکر بیٹھ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا اگر تم چاہو تو میں حاضر
ہوں۔ رات تمہارے پاس ٹھہرتا ہوں۔ صبح چلا جاؤں گا۔ پروفیسر بخاری نے کہا ”نہیں، نرس
جو میرے پاس موجود ہے۔“
ڈاکٹر نے مذاق سے کہا ”اچھا سویٹ پرنس شب بخیر“۔
مگر یہ رات اس کی آخرت رات تھی۔ موت کے فرشتہ نے دہلیز الانگ لی۔
بچے باپوں سے پوچھتے ہیں آج کون مرگیا، آپ اداس جو ہیں کون بتائے نئی پود کو آج وہ
مرگیا جس نے کہا تھا۔ بچوں کو بہلانا سہل ہے بڑوں کا بہلانا سہل نہیں۔
نمی دانم حدیث نامہ چوں است * * * |
|
اقوام متحدہ میں پروفیسر بخاری سے ملاقات |
(ڈاکٹر محمد عبدالله چغتائی)
مغربی اور مشرقی فن میں اصولی فرق میرے نزدیک ایک یہ بھی ہے کہ مغربی فن کی تصویر
کو دور سے دیکھنے سے جو اس کی خوبیاں نظر آتی ہیں، وہ نزدیک سے دھبے دکھائی دیتے ہیں۔
یعنی اس کی صحیح نمائش دور سے ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مشرقی فن کی تصویر کے صحیح
خط وخال اور خوبیاں اس کو جس قدر بھی قریب سے دیکھا جائے گا زیادہ نظر آئیں گی ورنہ
دور سے ایک مدہم مدہم یکساں رنگ کی دھندلی سی سطح معلوم ہوگی۔ چنانچہ ہم مرحوم احمد
شاہ بخاری کو جب کبھی دور سے دیکھتے تو صحیح معنوں میں کسی یورپی یونیورسٹی کے ایک
سجے سجائے مکمل پروفیسر نظر آتے۔ مگر جب کبھی ان کے پاس بیٹھ کر گفتگو سننے کا موقع
ملتا تو ان کے برجستہ مسکراہٹ لئے ہوئے مادری زبان میں بےساختہ جملے ظاہر کرتے کہ
ان کا نہایت مکمل ظاہری مغربی لباس ان کی مشرقیت پر ایک ملمع ہے ۔ اور ان کی مشرقیت
کے جوہر آہستہ آہستہ گفتگو کے مدارج طے کرتے کرتے واضح ہوتے چلے جاتے بلکہ ان کی
تمام انگریزی اور انگریزیت ان کی مشرقیت کے طابع نظر آنے لگتی۔ * * * |
|
ضابطہ، بے ضابطہ |
(عشرت رحمانی)
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں،
بات ۱۹۳۴ء کی ہے۔ دہلی میں آل انڈیا ریڈیو کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ محکمہ کے
کنٹرولر ذہین وطباع انگریز مسٹر لائنیل فلیڈن، اسٹیشن ڈائریکٹر مسٹر اسٹپلٹن اور
پروگرام ڈائریکٹر سید ذوالفقار علی بخاری (ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل)
تھے۔ ان کے علاوہ آغا محمد اشرف (بنیرہٴ آزاد) اور سجاد سرور نیازی جیسے اہل فن
حضرات بھی عملہ کے رکن تھے۔ مسٹر فیلڈن خود ایک ماہر اہل قلم ہونے کے ساتھ نشریات
کے رموز سے بھی کما حقہ واقف تھے جو ارباب ہنر انہوں نے جمع کئے تھے ان کے لئے ایسے
سرگروہ کی تلاش تھی جو ان کی صحیح قیادت کی اہلیت رکھتا ہو اور ملک کے لئے نشریات
کا موزوں لائحہ عمل مرتب کرکے ان کو مناسب طریقے پر چلا سکے۔ چنانچہ مسٹر فیلڈن نے
برصغیر کی تمام یونیورسٹیوں کو مراسلے بھیجے کہ وہ اپنے اداروں سے ایسے لائق اہل
علم وہنر چن کر اس کام کے لئے بھیجیں جن کے تعاون سے وہ اپنے دست وبازو مضبوط کرکے
باضابطہ کام چلا سکیں چنانچہ کئی اداروں کے اربابِ اختیار نے چند اہم شخصیتوں کو
منتخب کرکے مسٹر فیلڈن سے ملاقات کے لئے بھیج دیا۔ ان میں دو نام خاص تھے۔ ایک مسلم
یونیورسٹی علی گڑھ کے پروفیسر رشید احمد صدیقی اور دوسرے گورنمنٹ کالج لاہور کے
پروفیسر سید احمد شاہ بخاری پطرس۔ یہ حسنِ اتفاق تھا یا حسنِ انتخاب کہ یہ دونوں
حضرات اردو کے مشہور مزاح نگار اور بلند پایہ ادیب بھی تھے اور ادب انگریزی کے
پروفیسر بھی۔ |