بچے

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

بچے

    یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بچوں کی کئی قسمیں ہیں مثلاً بلی کے بچے، فاختہ کے بچے وغیرہ۔ مگر میری مراد صرف انسان کے بچوں سے ہے، جن کی ظاہرا تو کئی قسمیں ہیں، کوئی پیارا بچہ ہے اور کوئی ننھا سا بچہ ہے۔ کوئی پھول سا بچہ ہے اور کوئی چاند سا بچہ ہے۔ لیکن یہ سب اس وقت تک کی باتیں ہیں۔ جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا پڑا ہے۔ جہاں بیدار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگے، بچے نے ان سب خطابات سے بےنیاز ہو کر ایک الارم کلاک کی شکل اختیار کرلی۔
    یہ جو میں نے اوپر لکھا ہے کہ بیدار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگتے ہیں یہ میں نے اور حکماء کے تجربات کی بنا پر لکھا ہے ورنہ حاشا وکلاء میں اس بات کا قائل نہیں۔ کہتے ہیں بچہ سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے لیکن مجھے آج تک سوائے اس کی قوت ناطقہ کے اور کسی قوت کا ثبوت نہیں ملا۔ کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوا ہے کہ روتا ہوا بچہ میرے حوالے کردیا گیا ہے کہ ذرا اسے چپ کرانا، میں نے جناب اس بچے کے سامنے گانے گائے ہیں، شعر پڑھے ہیں، ناچ ناچے ہیں، تالیاں بجائی ہیں، گٹھنوں کے بل چل کر گھوڑے کی نقلیں اتاری ہیں، بھیٹر بکری کی سی آوازیں نکالی ہیں، سر کے بل کھڑے ہو کر ہوا میں بائیسکل چلانے کے نمونے پیش کئے ہیں۔ لیکن کیا مجال جو اس بچے کی یکسوئی میں ذرا بھی فرق آیا ہو یا جس سُر پر اس نے شروع کیا تھا اس سے ذرا بھی نیچے اُترا ہو اور خدا جانے ایسا بچہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے تو کس وقت؟
    بچے کی زندگی کا شاید ہی کوئی لمحہ ایسا گزرتا ہو جب اس کے لئے کسی نہ کسی قسم کا شور ضروری نہ ہو۔ اکثر اوقات تو وہ خود ہی سامعہ نوازی کرتے رہتے ہیں ورنہ یہ فرض ان کے لواحقین پر عائد ہوتا ہے۔ ان کو سلانا ہو تو لوری دیجئے۔ ہنسانا ہو تو مہمل سے فقرے بےمعنی سے بےمعنی منہ بنا کربلند سے بلند آواز میں ان کے سامنے دہرائیے اور کچھ نہ ہو تو شغل بےکاری کے طور پر ان کے ہاتھ میں ایک جھنجھنا دیدیجئے۔ یہ جھنجھنا بھی کم بخت کسی بےکار کی ایسی ایجاد ہے کہ کیا عرض کروں یعنی ذرا سا آپ ہلا دیجئے لڑھکتا چلا جاتا ہے او رجب تک دم میں دم ہے اس میں سے ایک ایسی بےسری، کرخت آواز متواتر نکلتی رہتی ہے کہ دنیا میں شاید اس کی مثال محال ہے اور جو آپ نے مامتا یا ”باپتا“ کے جوش میں آکر برخوردار کو ایک عدد وہ ربڑ کی گڑیا منگوا دی جس میں ایک بہت ہی تیز آواز کی سیٹی لگی ہوتی ہے تو بس پھر خدا حافظ۔ اس سے بڑھ کر میری صحت کے لئے مضر چیز دنیا میں اور کوئی نہیں۔ سوائے شاید اس ربڑ کے تھیلے کے جس کے منہ پر ایک سیٹی دار نالی لگی ہوتی ہے اور جس میں منہ سے ہوا بھری جاتی ہے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو والدین کہلاتے ہیں۔ بدقسمت ہیں تو وہ بےچارے جو قدرت کی طرف سے اس ڈیوٹی پر مقرر ہوئے ہیں کہ جب کسی عزیز یا دوست کے بچے کو دیکھیں تو ایسے موقع پر ان کے ذاتی جذبات کچھ ہی کیوں نہ ہوں وہ یہ ضرور کہیں کہ کیا پیارا بچہ ہے۔
    میرے ساتھ کے گھر ایک مرزا صاحب رہتے ہیں۔ خدا کے فضل سے چھ بچوں کے والد ہیں۔ بڑے بچے کی عمر  نو سال ہے۔ بہت شریف آدمی ہیں۔ ان کے بچے بھی بےچارے بہت ہی بےزبان ہیں۔ جب ان میں سے ایک روتا ہے تو باقی کے سب چپکے بیٹھے سنتے رہتے ہیں۔ جب وہ روتے روتے تھک جاتا ہے تو ان کا دوسرا برخوردار شروع ہوجاتا ہے۔ وہ ہار جاتا ہے تو تیسرے کی باری آتی ہے، رات کی دیوٹی والے بچے الگ ہیں۔ ان کا سُر ذرا باریک ہے۔ آپ انگلیاں چٹخوا کر، سر کی کھال میں تیل جھسوا کر، کانوں میں روئی دے کر، لحاف میں سر لپیٹ کر سوئیے، ایک لمحے کے اندر آپ کو جگا کے اُٹھا کے بٹھا نہ دیں تو میرا ذمہ۔
    ان ہی مرزا صاحب کے گھر پہ جب میں جاتا ہوں تو ایک ایک بچہ کو بلا کر پیار کرتا ہوں۔ اب آپ ہی بتائیے میں کیا کروں۔ کئی دفعہ دل میں آیا مرزا صاحب سے کہوں حضرت آپ کی ان نغمہ سرائیوں نے میری زندگی حرام کر دی ہے، نہ دن کو کام کرسکتا ہوں نہ رات کو سوسکتا ہوں۔ لیکن یہ میں کہنے ہی کو ہوتا ہوں کہ ان کا ایک بچہ کمرے میں آجاتا ہے اور مرزا صاحب ایک والدانہ تبسم سے کہتے ہیں۔ اختر بیٹا!ان کو سلام کرو، سلام کرو بیٹا، ان کا نام اختر ہے۔ صاحب بڑا اچھا بیٹا ہے۔ کبھی ضد نہیں کرتا، کبھی نہیں روتا، کبھی ماں کو دق نہیں کرتا۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ وہی نالائق ہے جو رات کو دو بجے گلا پھاڑ پھاڑ کے روتا ہے۔ مرزا صاحب قبلہ تو شاید اپنے خراٹوں کے زور شور میں کچھ نہیں سنتے، بدبختی ہماری ہوتی ہے لیکن کہتا یہی ہوں کہ ”یہاں آؤ بیٹا“ گٹھنے پر بٹھا کر اس کا منہ بھی چومتا ہوں۔
    خدا جانے آج کل کے بچے کس قسم کے بچے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہم بقرعید کو تھوڑا سا رولیا کرتے تھے او رکبھی کبھار کوئی مہمان آنکلا تو نمونے کے طور پر تھوڑی سی ضد کرلی، کیونکہ ایسے موقعہ پر ضد کارآمد ہوا کرتی تھی۔ لیکن یہ کہ چوبیس گھنٹے متواتر روتے رہیں۔ ایسی مشق ہم نے کبھی بہم نہ پہنچائی تھی۔

* * *

اب اور تب

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

اب اور تب

 
    جب مرض بہت پرانا ہوجائے اور صحت یابی کی کوئی امید باقی نہ رہے تو زندگی کی تمام مسرتیں محدود ہو کر بس یہیں تک رہ جاتی ہیں کہ چارپائی کے سرہانے میز پر جو انگور کا خوشا رکھا ہے اس کے چند دانے کھا لئے، مہینے دو مہینے کے بعد کوٹھے پر غسل کر لیا یا گاہے گاہے ناخن ترشوا لئے۔
مجھے کالج کا مرض لاحق ہوئے اب کئی برس ہو چکے ہیں۔ شباب کا رنگین زمانہ امتحانوں میں جوابات لکھتے لکھتے گزر گیا۔ اور اب زندگی کے جو دو چار دن باقی ہیں وہ سوالات مرتب کرتے کرتے گزر جائیں گے۔ ایم اے کا امتحان گویا مرض کا بحران تھا۔ یقین تھا کہ اس کے بعد یا مرض نہ رہے گا یا ہم نہ رہیں گے۔ سو مرض تو بدستور باقی ہے اور ہم…ہر چند کہیں کہ ہیں…نہیں ہیں۔ طالب علمی کا زمانہ بےفکری کا زمانہ تھا۔ نرم نرم گدیلوں پر گزرا ،گویا بستر عیش پر دراز تھا۔ اب تو صاحبِ فراش ہوں۔ اب عیش صرف اس قدر نصیب ہے کہ انگور کھا لیا۔ غسل کرلیا۔ ناخن ترشوا لئے۔
    تمام تگ ودو لائبریری کے ایک کمرے اور اسٹاف کے ایک ڈربے تک محدود ہے اور دونوں کے عین درمیان کا ہر موڑ ایک کمین گاہ معلوم ہوتا ہے۔
کبھی رادی سے بہت دلچسپی تھی۔ روزانہ علی الصباح اس کی تلاوت کیا کرتا تھا اب اس کے ایڈیٹر صاحب سے ملتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ کہیں نہ کہیں سلام روستائی کھینچ ماریں گے۔ ہال میں سے گزرنا قیامت ہے۔ وہم کا یہ حال ہے کہ ہر ستون کے پیچھے ایک ایڈیٹر چھپا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کالج کے جلسوں میں اپنی دریدہ دہنی سے بہت ہنگامہ آرائیاں کیں۔ صدر جلسہ بننے سے ہمیشہ گھبرایا کرتا ہوں کہ یہ ”دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ“ والا معاملہ ہے۔ اب جب کبھی جلسہ کا سن پاتا ہوں ایک خنک سا ضعف بدن پر طاری ہوجاتا ہے۔ جانتا ہوں کہ کرسیٴِ صدارت کی سولی پر چڑھنا ہوگا اور سولی بھی ایسی کہ انا الحق کا نعرہ نہیں لگا سکتا۔
    قاضی صاحب قبلہ نے اگلے دن کالج میں ایک مشاعرہ کیا۔ مجھ سے بدگمانی اتنی کہ مجھے اپنے عین مقابل ایک نمایاں اور بلند مقام پر بٹھا دیا اور میری ہر حرکت پر نگاہ رکھی۔ میرےاردگرد محفل گرم تھی اور میں اس میں کنچن چنگا کرطرح اپنی بلندی پر جما بیٹھا تھا۔ جس دن کالج میں تعطیل ہوا کرتی مجھ پر اداسی سی چھا جاتی۔ جانتا کہ آج کے دن تہمد پوش، تولیہ بردار، صابن نواز ہستیاں دن کے بارہ ایک بجے تک نظر آتی رہیں گی۔ دن بھر لوگ گنے چوس چوس کر جا بجا پھوگ کے ڈھیر لگا دیں گے۔ جو رفتہ رفتہ آثار صنا دید کا سا مٹیالہ رنگ اختیار کرلیں گے۔ جہاں کسی کو ایک کرسی اور اسٹول میسر آگیا وہیں کھانا منگوا لے گا اور کھانا کھا چکنے پر کوؤں اور چیلوں کی ایک بستی آباد کرتا جائے گا تاکہ دنیا میں نام برقرار رہے۔ اب یہ حال ہے کہ مہینوں سے چھٹی کی تاک میں رہتا ہوں۔ جانتا ہوں کہ اگر اس چھٹی کے دن بال نہ کٹوائے تو پھر بات گرمی تعطیلات پر جا پڑے گی۔ مرزا صاحب سے اپنی کتاب واپس نہ لایا تو وہ بلا تکلف ہضم کرجائیں گے۔ مچھلی کے شکار کو نہ گیا تو پھر عمر بھر زندہ مچھلی دیکھنی نصیب نہ ہوگی۔
    اب تو دلچسپی کے لئے صرف یہ باتیں رہ گئی ہیں کہ فورتھ ائیر کی حاضری لگانے لگتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اس دروزے کے پاس جو نوجوان سیاہ ٹوپی پہنے بیٹھے ہیں اور اس دروازے کے پاس جو نوجوان سفید پگڑی پہنے بیٹھے ہیں۔ حاضری ختم ہونے تک یہ دونوں جادو کی کرامات سے غائب ہوجائیں گے اور پھر ان میں سے ایک صاحب تو ہال میں  نمودار ہوں گے اور دوسرے بھگت کی دکان میں دودھ پیتے دکھائی دیں گے۔ آج کل کے زمانے میں ایسی نظر بندی کا کھیل کم دیکھنے میں آتا ہے۔ یا صاحبِ کمال کے کرتب کا تماشا کرتا ہوں جو عین لیکچر کے دوران میں کھانستا کھانستا یک لخت اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور بیماروں کی طرح دروازے تک چل کر وہاں سے پھر ایسا بھاگتا ہے کہ پھر ہفتوں سراغ نہیں ملتا۔ یا ان اہل فن کی داد دیتا ہوں جو روزانہ دیر سے آتے ہیں اور یہ کہہ کر اپنی حاضری لگوا لیتے ہیں کہ صاحب غریب خانہ بہت دور ہے۔ جانتا ہوں کہ دولت خانہ ہاسٹل کی پہلی منزل پر ہے لیکن منہ سے کچھ نہیں کہتا۔ میری بات پر یقین انہیں بھلا کیسے آئے گا اور کبھی ایک دو منٹ کو فرصت نصیب ہو تو دل بہلانے کے لئے یہ سوال کافی ہے کہ ہال کی گھڑی مینار کی گھڑی سے تین منٹ پیچھے ہے۔ دفتر کی گھڑی ہال کی گھڑی سے سات منٹ آگے ہے۔ چپڑاسی نے صبح دوسری گھنٹی مینار کے گھڑیال سے پانچ منٹ پہلے بجائی اور تیسری گھنٹی ہال کی گھڑی سے نو منٹ پہلے تو مرکب سود کے قاعدے سے حساب لگا کر بتاؤ کہ کس کا سر پھوڑا جائے۔
    وہی میں نے کہا نا کہ انگور کھا لیا، غسل کرلیا، ناخن ترشوالئے۔

دل نے دنیا نئی بنا ڈالی  اور ۔۔ ہمیں آج تک خبر نہ ہوئی

پطرس
(راوی ۱۹۲۹ء)

* * *

ہمارے زمانے کا اردو ادیب

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

ہمارے زمانے کا اردو ادیب

تحریر: مظفر علی سید

    پطرس مرحوم نے یہ مقالہ ۱۹۴۵ء میں پی ای این کے سالانہ اجلاس منعقدہ جے پور میں پڑھا تھا۔ اس میں انہوں نے اردو ادب کے جدید دور یعنی اقبال کے فوراً بعد کے زمانے کو موضوع بنایا تھا۔ اور اپنے مخصوص چبھتے ہوئے انداز میں اس پر رائے زنی کی تھی۔ اس مضمون کی اصل خوبی تو ان کی انگریزی انشاء پردازی ہے جس کا اردو ترجمہ وہ خود ہی کرتے تو کرتے۔ زیر نظر ترجمہ محض اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ لوگ بھی جو انگریزی سے زیادہ واقف نہیں، ان کے اندازِ نظر اور جدید اردو ادب کے بارے میں ان کے نقطہٴ خیال سے واقف ہوجائیں۔
    چونکہ پطرس مرحوم کا اپنا تعلق اس دور کے ادب سے دو گونہ تھا۔ نئے ادیب کی حیثیت سے اور اس سے بھی زیادہ نئے ادیبوں کے استاد کی حیثیت سے، اس لئے اس مقالے کی ”معروضیت“ اور ”بےلاگ مطالعہ“شاید عجیب معلوم ہو۔ پطرس نے اپنے نوجوان ساتھیوں کو ایک پہاڑی پہ چڑھ کے دیکھنے کی کوشش کی ہے (یہ الگ بات کہ دو ایک عزیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں) اور اُن پر ہلکی ہلکی کنکریاں بھی پھینکی ہیں۔ ممکن ہے آپ اس مضمون کو محض تبرک سمجھیں مگر واقعہ یہ ہے کہ چند ایک ٹکڑے اس میں ہرلحاظ سے اچھے ہیں۔ گیارہ سال پہلے، جب اقبال اپنے اسلاف سے عالم بالا میں جا کر ملے تو دور ونزدیک کے زمانوں سے کئی ایک دوست ان کے گرد اکھٹے ہوئے۔ غالب اور میر، حالی،شبلی اور گرامی، حتیٰ کہ نظیری، رومی اور حافظ بھی۔ چنانچہ گفتگو روانی سے ہونے لگی۔ کچھ لمحے گومگو کی حالت میں بھی گزرے۔ مثلاً جب خودی کے مسئلے پر ایک عالمانہ بحث رومی اور اقبال کے درمیان شروع ہوئی تو باقی لوگ اونگھنے لگے اور ”تقدیر اُمم“ پر اقبال کی تنہا کلامی کے دوران میں تو غالب کے خراٹے بھی سنائی دیئے۔ مگر مجموعی طور پر یہ صحبت بےحد ساز گار رہی۔ جانے پہچانے اقتباسات، کتابوں سے یا حافظے سے بآواز بلند پڑھے گئے اور شب وروز کی بےزماں لہروں پر حکمت اور ظرافت کا ملاپ ہوتا رہا۔ بہت سے قضیے سامنے آئے اور ان میں سے کئی ایک حل نہ ہوسکے اس کے باوجود فہم وبصیرت کے تازہ اور فرح بخش نقش ونگار دریافت ہوئے۔ اقبال قدماء میں سے نہ تھے پھر بھی قدماء کے لئے اجنبی نہ تھے بس ذرا نئے نئے اور بھرپور سے لگتے تھے۔
    آج کا نوجوان اُردو ادیب، اگر اس کو اس سفر پہ وقت سے پہلے روانہ ہونا پڑے، اس محفل میں کیسا لگے گا؟ مجھے یقین ہے کہ اس کا استقبال مروت اور شفقت سے کیا جائے گا مگر یہ خوف بھی ہے کہ وہ ذرا کھویا کھویا سا لگے گا۔ قدماء سے اظہار خیال اس کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ نیا مسافر، اپنے اور اپنے پیشرؤں کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل پائے گا جسے پاٹنے کے لئے اس کو کتب خانہ فردوس میں طویل نشستوں کا پروگرام بنانا پڑے گا۔ وہ حالات کی مجبوری سے اپنے اجداد کا جائز ورثہ وصول نہ کرسکا۔ الا ماشاء الله۔ راشد اور فیض، فراق اور فرحت الله بیگ، جوش اور حفیظ، ماضی کے ساتھ ان سب کے مراسم اچھے ہیں اگرچہ انہوں نے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ، اپنے آپ کو حال یا مستقبل کے ساتھ وابستہ کررکھا ہے۔ مگر وہ پیہم کم ہوتی ہوئی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں اور سلف کی ایسی یادگار ہیں جو نجانے پھر کب پیدا ہو۔ ہمارے لکھنے والوں کی اکثریت اپنے آپ روایت سے دور ہوتی جارہی ہے۔ مولوی نذیر احمد جو آج سے پچاس برس پہلے کے ناول نگار تھے، انبیاء کے اقوال کو احترام کے ساتھ اور شعراء کے اقوال کو کراہت کے ساتھ نقل کرتے تھے۔ ان کا ویلن انبیاء کو کراہت اور شعراء کو لذت کے ساتھ نقل کرتا تھا۔ مگر بات یہ ہے کہ مصنف اور اس کے کردار دونوں میں حوالہ دینے کی اہلیت تھی۔ دونوں نے ادب کی ایک مشترک دولت ورثے میں پائی تھی جو اس دور کے ذہنوں میں صاف ترتیب کے ساتھ موجود تھی۔ آج کے اردو ناول نگار میں اور اس کے ہیرو میں کوئی بات مشترک ہے تو یہ ہے کہ دونوں کوئی قول نقل نہیں کرسکتے۔ یہ نہیں کہ وہ پڑھتا نہیں۔ وہ بلا نوش قسم کا قاری ہے مگر ولایتی ناشروں کی چھاپی ہوئی ”بہار کی فہرستیں، خزاں کی فہرستیں“ اور ”سمندر پار کے ایڈیشن“ کچھ ایسے تسلسل کے ساتھ چلے آتے ہیں کہ نہ چننے اور چھاپنے کی فرصت رہ جاتی ہے، نہ کسی چیز کو دوبارہ پڑھنے کی۔ ہمارے دور کا نصاب بھی الجھا ہوا ہے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے کی تو تحریک ہی پیدا نہیں ہوتی۔ ہمارے زمانے کے اردو ادیب کا مستقبل ہو تو ہو، ماضی کوئی نہیں۔
    اس قطع تعلق کی وجوہات گوناگوں اور پیچیدہ ہیں۔ اوپری نظر سے دیکھیں تو یہ خیال ہوتا ہے کہ ہمارے ادیب نے جس نظام تعلیم کے تحت نشوونما پائی ہے۔ یہ سب اسی کا قصور ہے۔ رسمی تعلیم پچھلے پچاس ایک سال میں، شرافت اور (یا تقدس کے اس قدیم تصور سے دور ہٹ گئی ہے جو طالب علم کو اس دنیا اور) یا اس دنیا کے لئے انبیاء وشعراء کی مناسب مقدار کی مدد سے تیار کرتا تھا۔ پرانے مسلمات غائب ہوچکے ہیں اور اس کے ساتھ انبیاء وشعراء بھی۔ یہی ایک کارنامہ ہے جو ہمارے نظام تعلیم نے سرانجام دیا ہے۔ باقی اس عرصے میں، ہماری تعلیم ایک نئے تصور کی تلاش میں جو پرانے تصور کی جگہ لے سکے) تجربوں یا ٹامک ٹوئیوں کا ایک سلسلہ ہے اور یہ ٹامک ٹوئیاں اب بھی جاری ہیں۔
    مگر یہ خیال پوری طرح صحیح نہیں۔ بنیادی وجوہ اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ دنیا بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اور لکھنے والا بھی نئی نسل کی طرح اس بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو محسوس کرتا ہے۔ اس نصف صدی میں بہت سے بند اور پشتے ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں۔ روایتی اقدار جو معاشرے کو بقا اور استحکام بخشتی تھیں، اسی وقت تک کار آمد تھیں جب تک معاشرے کا ناک نقشہ درست تھا۔ ناک نقشہ پھیل پھیل کر یوں متزلزل ہوگیا ہے جیسے پانی کی سطح پر تیل کے لہریے۔ قدیم معاشرے سے اس کا کوئی ربط نہیں کیونکہ قدیم معاشرہ باقی نہیں رہا۔ وہ اپنے آپ کو ایک نئے اور ہر لحظہ بدلتے ہوئے معاشرے میں گھرا ہوا دیکھتا ہے جس سے مربوط ہونا اس کے لئے لازم ہے۔ اگر وہ بالکل ہی کٹ کے رہ جانا نہیں چاہتا۔ وہ پوری طرح اس کا شعور نہیں رکھتا مگر یہ بات اس کو معلوم ہوچکی ہے کہ پچھلی نسل نے اس کو کچھ نہیں دیا۔ نئی دنیا میں کوئی مناسب مقام اس کو حاصل کرنا ہے۔ ماضی کی کئی چیزیں اس کو ایسا کرنے سے روکتی ہیں اور وہ ماضی مردہ باد کا نعرہ لگاتا ہے۔ اس لئے نئی پود کا سب سے بڑا تقاضا بغاوت ہے۔ رسم ورواج کے خلاف، قوت اور اختیار کے خلاف، والدین اور پولیس کے خلاف، وہ قدیم انبیاء اور شعراء دونوں سے دور بھاگتا ہے بلکہ ہر اس چیز سے جو اسے ماضی کی یاد دلائے۔ یہ جنگ کبھی کبھار دھندلی اور غیر واضح سی ہوجاتی ہے اور پرکار کے نقطے آپس میں گڈمڈ ہوجاتے ہیں مگر خیر ایسا تو ہر جنگ میں ہوتا ہے۔
    اردو ادیب کو اپنے ماضی سے قطع تعلق کرکے کم سے کم ایک بڑی قربانی تو دینی پڑی ہے۔ وہ بیک جنبش قلم الفاظ وتلمیحات اور حکایات وعلائم کے ذخیرے سے، جو فن کار مصنف کو نازک اور کار آمد ترین آلات اظہار بخشتا ہے، محروم ہوگیا ہے۔ لفظ محض چند آوازوں او رلکیروں کا نام نہیں جو مٹ جانے کے بعدپھر پیدا کی جا سکیں۔ ان میں ہمارے پیشرؤں کی جذباتی وارداتیں اور نفسیاتی مشاہدات مضمر ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک انسانی تجربے کی طیف میں ایک خط کا حکم رکھتا ہے۔ اگر طیف کا ایک خط گم ہوجائے تو ہم اس کی جگہ دوسرا خط نہیں کھینچ سکتے۔ اُسی پہلے خط کو پھر سے دریافت کرنا پڑے گا۔ آج کے لکھنے والے کو اس وجہ سے نئی چیزوں کو نئے نام دینے ہیں۔ اسے ان چیزوں کو جو پہلے معلوم ومحسوس تھیں پھر سے جاننا اور پہچاننا ہے۔ ماضی سے دست بردار ہو کر اس نے اپنی تخلیقی شخصیت پہ ایک بوجھ ڈال دیا ہے جس سے اس کی فنی مشکلات دو چند ہوگئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس کو بیک وقت نازک اور اکھڑ، واضح اور دھندلا، گومگو میں گرفتار اور ہزاروں معنوں میں مضطرب دیکھتے ہیں۔ لفظ جن سے اس نے پہلو تہی برتی تھی۔ اب اس سے پہلو چراتے ہیں۔ (سر) ڈینی سن روس نے، جو اس بات سے واقف تھے کہ زندہ زبانوں میں تلمیحات اور حوالوں کا ایک ذخیرہ مخفی ہوتا ہے جسے تعلیم یافتہ افراد اپنا کر اپنی تحریر وتقدیر میں رنگ اور زور پیدا کرتے ہیں، چند سال پہلے ایک کتاب کی صورت میں انگریزی زبان کے پس منظر کا نقشہ کھینچا تھا۔ ادبی حوالوں کے زیرعنوان انہوں نے بائبل کے مستند ترجمے کا، شکسپیئر کا اور بچوں کے گیتوں کا تذکرہ کیا تھا اور ”انگریزی روایت“ کے تحت قومی تہوار معروف شخصیتوں کے القاب وخطابات اور مشہور اشتہارات گنائے تھے حتیٰ کہ ایک جُز ”گھسے پٹے جملوں“ پر بھی لکھاتھا۔ آج سے پچاس برس پہلے، اسی انداز سے، اردو کا ناک نقشہ کتنی آسانی سے بیان ہوسکتا تھا! اور آج یہ کام کتنا مشکل ہے!
    اردو ادیب کو یہی ایک مشکل درپیش نہیں۔ وہ دو زبانیں پڑھتا اور بولتا ہے اور جب یہ دو زبانیں اردو اور انگریزی کا سا وسیع اختلاف رکھتی ہوں تو یہ خوبی کتنی بڑی خرابی بن جاتی ہے۔ علماء اور ماہرین تعلیم، تاریخ اور تجربے کی مدد سے کئی ایک ناقابل تردید دلائل پیش کرکے ارشادکریں گے کہ دو زبانوں کی مہارت بہت بڑی نعمت ہے۔ بین الاقوامیت کے قائل یہ کہیں گے کہ ہر بیرونی زبان دوگونہ رحمت ہے، اس ملک کے لئے جس کی وہ زبان ہے۔ اور اس کے لئے بھی جس نے اُسے اختیار کیا۔ان کا ارشاد بجا ہے کیونکہ ہر نئی زبان ذہن میں ایک نیا دریچہ کھول دیتی ہے اور کون ہے جو روشنی کو پسند نہیں کرتا۔ انسانوں کی اکثریت کے لئے اس کے اثرات خوشگوار ہوں گے مگر افسوس کہ لکھنے والے کو اپنا دماغ ہی روشن نہیں کرنا، کچھ کام بھی کرنا ہے۔ اظہار خیال اس کا فرض ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ایک وقت میں ایک ہی زبان کے ذریعے۔ چاہے کتنی زبانوں سے اس نے ذہنی غذا حاصل کی ہو۔ ذہن تو اس کے پاس ایک ہی ہے۔ ایک دریچہ سبز ہے تو دوسرا سرخ مگر ذہن میں یہ دونوں رنگ آرام سے ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو اور ایک دوسرے سے جدا نہیں رہ سکتے۔ وہ آپس میں گھل مل کر ایک تیسرے رنگ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں جو ایک دریچے کے پاس ذرا زیادہ سبز ہے اور دوسرے کے پاس ذرا زیادہ سرخ۔ مگر نہ تو کہیں پوری طرح سبز ہے اور نہ پوری طرح سرخ۔ یہ لطیف او رپراسرار روشنی اس کے لئے باعث نشاط بھی ہو سکتی ہے اور باعث فخر بھی۔ مگر اس ملی جلی روشنی کو سبز یا سرخ فلٹر میں سے اپنےاصلی رنگ میں گزارنا کتنا مشکل ہوگا۔ ایک لحاظ سے یہ کہنا درست ہے کہ دو زبانی ادیب اپنے دل کی بات آپ سے نہیں کہہ سکتا۔ جب تک کہ دونوں زبانیں استعمال نہ کرے۔ مگر اس صورت میں بھی ایک دقّت ہے۔ اس کا ذہن کسی واضح شکل میں ہمارے سامنے نہیں آتا بلکہ ذہن کی دو لہریں یکے بعد دیگرے پیہم ابھرتی ڈوبتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر اس کو ایک زبان کا پابند کر دیا جائے او رپوری بات کہنے کی مجبوری بھی ہو تو نیم واضح اور بے ربط و مہمل قسم کی گفتگو سننے میں آئے گی۔ اس کی تحریر کی بُنت میں آپ کو عجیب قسم کے خم وپیچ نظر آئیں گے۔ اور ابہام واشکال کی کئی صورتیں ملیں گی اور سب سے بڑھ کر، انگریزی ساخت کے جملے بے ڈھنگی اردو میں ملبوس دکھائی دیں گے جن کو دونوں زبانوں کے ماہرین ہی سمجھ سکیں گے۔ زبان ایک نازک اور لطیف آلہٴ اظہار ہے جسے فن کار بڑی مہارت سے برتتا ہے مگر یہ دوغلی زبان معنی کے گرد طواف کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتی اور گونگے کے اشاروں سے زیادہ قابل فہم نہیں ہوتی۔ لفظ اپنے معنوں کو ساتھ لے کے نہیں چلتے بلکہ محض دور سے ان کی طرف اشارہ کرکے رہ جاتے ہیں جب احساسِ شکست قوی ہوجاتا ہے تو اردو کا ادیب اردو کو چھوڑ کر انگریزی میں لکھنے لگ جاتا ہے مگر فلٹر سبز ہو یا سرخ، مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔
    ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ہمارا ادیب اپنے آپ کو ایک نئے معاشرے میں گھرا ہوا دیکھتا ہے۔ یہ معاشرہ اس کے فہم وبصیرت کی حدوں سے بڑھ کر وسیع او رپیچیدہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایسا معاشرہ اس کے اسلاف کے تجربے اور مشاہدے سے ماورا ہے۔ اور اسی وسیع وعریض حقیقت سے اس کو موافقت پیدا کرنا ہے تاکہ تکمیل اور استحکام حاصل ہو۔ جب تک یہ موافقت پوری نہیں ہوتی۔ وہ بڑے پُرجوش اضطراب کے ساتھ کسی نہ کسی طرز کی محفل بنا کے بیٹھ جائے۔ اسی اضطراب کی وجہ سے اس زمانے کے اکثر ادیب ایک نہ ایک انجمن یا حلقے سے وابستہ ہوگئے ہیں اور ایک دوسرے کے تصانیف پر دیباچے اور پیش لفظ لکھتے رہتے ہیں۔ آج سے پہلے شاید ہی کبھی ہمارے ادیبوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنے، محفلیں، انجمنیں اور حلقے بنانے کی ضرورت محسوس کی ہو۔ یہ ادارے کتنی ہی سنجیدگی اور خلوص سے کیوں نہ وجود میں آئے ہوں، معاشرہ سازی کی جعلی اور مجنونانہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اور ادیب کو ان آوارگیوں اور سیاحتوں کی قیمت اپنے تخلیقی جوہر سے ادا کرنی پڑتی ہے۔ ان غیر واضح قسم کی حرکتوں سے اس کا مدعا یہ ہے کہ زندگی کے ”کل“ کو پالے اور چونکہ برونِ خانہ سے اس کا ربط قائم نہیں ہوا ، اس کو درون خانہ میں تلاش وتجسس سے کام لینا پڑتا ہے۔ مگر اس تلاش کے دوران میں زندگی کا کاروبار ملتوی ہوتا رہتا ہے اور جب تک کوئی زرخیز زمین ملے۔ زندگی کا رس خشک ہوجاتا ہے۔
    پی۔ ای۔ این کی سترھویں سالانہ مجلس میں تقریر کرتے ہوئے آرتھرکیسٹلر نے بتایا تھا کہ تورگنیف کیسے لکھتا تھا۔ اپنے پیروں کو گرم پانی کی بالٹی میں ڈالے ہوئے وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھتا رہتا تھا۔ یہ گرم پانی کی بالٹی، کیسٹلر کے نزدیک الہام یا تخلیقی سرچشمے سے عبارت تھی او رکھلی کھڑکی سے مراد باہر کی دنیا تھی۔ جو فن کار کے لئے خام مواد کا کام دیتی ہے۔ کیسٹلر نے یہ بھی کہا تھا کہ باہر کی دنیا ادیب کے دل میں ایک زبردست خواہش کو جنم دیتی ہے۔ یعنی یہ کہ وہ کھڑکی بند کرکے بیٹھ جائے اور اپنے تخلیقی سرچشمے پر اکتفا کر لے مگر اس کے علاوہ بھی ایک خواہش پیدا ہوسکتی ہے۔ باہر کی ہوا، دباؤ ڈالنے کی بجائے اس کو باہر بھی کھینچ سکتی ہے تاکہ وہ گرم پانی سے اپنے پیر نکال کر کھڑکی پر جھک جائے۔
    ہمارے اردو ادیب کو بازار کے واقعات سمجھنے یعنی مشاہدہ اور مرکزیت پیدا کرنے کی ضرورت کچھ اس شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ اس کو اکثر وبیشتر کھڑکی پر جھکا دیکھ کر ہمیں حیرانی نہیں ہونی چاہیئے۔ باہر منظر اس کے لئے اتنا دلفریب ہوتا ہے کہ وہ چیخنے چلانے سے بھی باز نہیں رہ سکتا۔ وہ لکھنے کی میز پر واپس نہیں آتا اور اور گرم پانی پڑا پڑا ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ اس کے سامنے ایک نئی دنیا اُبھر آئی ہے۔ دیکھنے اور سمجھنے کے لئے بےشمار چیزیں ہیں اور چھانٹنے کے لئے بےپناہ مسالہ ہے۔ اس حالت میں اس سے عظیم فن پاروں کی توقع بےجا ہے اور یہ امید بھی عبث ہے کہ وہ اپنے پیر گرم پانی میں ڈالے رکھے گا اور گلیوں بازاروں کے ہجوم میں شامل نہیں ہوگا۔ آنے والے فنکار ساتھیوں کو اس کے یہاں مقصد کی سنجیدگی ملے گی۔اور آگے بڑھ کر دیکھنے اور مستقبل کو تلاش کرنے کی ہمت، چاہے اسلاف کی دعائیں اس کے ساتھ ہوں یا نہ ہوں۔ اس کی تیز نظری، اضطراب، آگاہی اور بےجگری، نئی راہوں پر چلنے کا عزم اور کچھ کھونے پانے سے اس کی بےنیازی یادگار رہے گی۔ ہم اس سے بڑا خراج تحسین اس کو نہیں دے سکتے کہ اس کی مشکلات اور مجبوریوں، تکلیفوں اورتعزیروں کو سمجھیں تاکہ اس کی جدوجہد اور اس کے کارنامے کی بیش از پیش قدر کرسکیں۔ میں نے اس جگہ یہی کرنے کی کوشش کی ہے۔

* * *

سر محمد اقبال

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

سرمحمد اقبال

 
    "وہ انسان جس نے اردو شاعری کو مردانہ پن بخشا"۔
    اقبال کی وفات سے ہندستان ایک جلیل القدر شاعر سے کہیں زیادہ باعظمت ہستی سے محروم ہوگیا۔ وہ بطور ایک عالم متجر اور تاریخ، فلسفہ اور مذہب کے سرگرم طالب علم بھی ان لوگوں کے لئے جو اپنی محدود قابلیت کے سبب اس کی اعلیٰ شاعری تک رسائی سے قاصر تھے، منبع فیض وجود تھا۔ بطور شاعر اگرچہ اس کا مقام نہایت بلند تھا لیکن ادبی اور عمرانی دنیا میں اثر ونفوذ کے لحاظ سے اس کا مقام اس سے بھی بلند تر تھا۔ اس کی وفات سے جہاں مسلمانوں سے ایک فصیح اللسان پیغامبر اور ان کی تہذیب کا ایک بہت بڑا شارح چھن گیا ہے وہاں اردو شاعری سے خدا معلوم کتنی درازمدت کے لئے اہمیت اور منزلِ مقصود چھن گئی۔
    کم وبیش چالیس سال گزرے جب اقبال کی شاعرانہ زندگی کا آغاز ہوا۔ اس وقت اردو شاعری اگرچہ لوگوں میں مقبول تھی او رہرکس وناکس اس سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ اس کا مقصد خود زندگی نہیں بلکہ محض زندگی کے حاشیہ کی تزئین سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ مقبول عام فن تھا مگر یہ فن محض فن  کی خاطر اختیار کیا جاتا تھا۔ اس وقت شاعری کیا تھی؟ محض جذبات انگیز عیاشی، نرم ونازک، دل خوش کن، مزاحیہ یا ہجویہ، لیکن سراسر بےربط۔ اسی لئے اس کے اختیار کرنے میں سنجیدگی او رمتانت سے کام لینے کی ضرورت نہ سمجھی جاتی۔
    لیکن مسلمانوں کے دلوں میں ایک نیا احساس کروٹیں لے رہا تھا۔ اور لوگوں کی زبان پر تعمیرات ملت اور ترقی کے الفاظ آنے شروع ہوگئے تھے۔ ان میں جو زیادہ ذکی الحس واقع ہوئے تھے۔ انہوں نے آرٹ کو پھر ڈھونڈ نکالا کہ یہ بھی انسان کے زیادہ اہم مشاغل میں سے ایک ہے اور اس کو اعلیٰ سنجیدگی اور مقصد ومدعا سے معمور کرنے کی کوشش کی گئی۔ چنانچہ حالی ایسا غزل گو عہد ِ شباب کی ہوس کاریوں سے تائب ہوکر مشہور زمانہ مسدّس کا مصنف بن گیا۔ جس نے خوابِ غفلت کے متوالے ہندوستانی مسلمانوں کو اس طرح جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگایا کہ کوئی ایک نظم نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد ایسا کرسکی۔ ان ہی حالات میں اقبال جس نے اسی فرسودہ ڈگر پر اپنی شاعری شروع کی تھی، محسوس کرنے لگا کہ اس کا دل مسلمانوں کے احیا اور ان کی نئی زندگی کے خواب سے مضطرب اور بےقرار ہے۔
    ہندوستان ہمارا:
    اقبال کی ابتدائی نظموں سے ہی جو اس رجحان کے ماتحت لکھی گئیں۔ اس کے ولولہٴ عمل سے بےتاب دل اور اپنے وطن کے لئے جذباتِ محبت کا پتہ لگتا ہے اس کی نظم:

”سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے“

اب تک فرقہ وارانہ اتحاد کی سب سے زیادہ پُراثر اپیل ہے جو کسی محب وطن کے قلم سے نکلی ہو۔ اور اس کا شہرہ آفاق گیت ”ہندوستان ہمارا“ میرے خیال میں بہترین قومی گیت ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا اور جس سے بہتر گیت کی شاید مدت مدید تک بننے کی امید نہیں ہوسکتی۔ لیکن مذہب اسلام کے غائر مطالعہ نے جو اقبال نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک مسلسل جاری رکھا۔ اس کے افق خیال کو وسعت بخشی۔ وطن اور ملک کی نسبت سے قوموں کا تصور اس کی فطرت کے خلاف تھا۔ اپنی شاعری اور اپنی گفتگو میں وہ ہمیشہ یورپ کی مثال دے کر انسانوں کو ملکوں اور وطنوں کے تنگ دائروں میں تقسیم کرنے کی بیہودگی ثابت کیا کرتا۔ وہ ایک ایسے تمدنی نصب العین کا قائل تھا جو انسانوں کو وطنوں اور قوموں کے اختلافات کی سطح سے بلند کر دے اور جو زندگی کو ایک مقصود مدعا بخشے کیونکہ اس کے نزدیک آرٹ کا بامقصد ہونا محض زندگی کے اصول علت العلل کا جزو لایئنفک تھا۔ اسی قسم کی ہمہ گیری اور بامقصدیت انہیں نظر آئی تو اسلام میں یا چند جرمن فلسفیوں کی تعلیمات میں جن سے وہ بےدریغ اپنی شاعری میں استفادہ کرتا رہا۔
    حجازی خیالی دنیا:
    جس دور سے ہم ہندوستان میں گزر رہے ہیں اگرچہ اس میں بڑے بڑے امکانات پوشیدہ ہیں تاہم اس میں ایک خاص غم ناک کیفیت موجود ہے۔ ہم میں شاید ہی کوئی فن کار ایسا ہو جس کے فن میں گھر کے لئے اداسی بطور مرض کے موجود ہو۔ ہم دور دراز خیالی دنیاؤں کے آرزومند ہیں۔ اور خواہ وہ دنیائیں خیالی ہوں یا حقیقی۔ ان کی زمانی یا مکانی دوری ہی ان کے اندر ایک بےپناہ دلکشی پیدا کردیتی ہے۔ اقبال نے اسلام کے ابتدائی زمانے پر پُرشوق نظر ڈالی۔ اس کی آرزو تھی کہ وہ اس عہد کے مسلمانوں کی سادگی، بلند ہمتی، ایمان اور عزم واستقلال کو دوبارہ پیدا کر سکے۔ ایک عالمگیر تمدن کے لئے اس کی دلی خواہش انسان کی تقدیر میں اس کا زبردست ایمان، انسان کے ارتقا میں اس کا پختہ یقین کہ وہ مقصد کی بلندیوں کو منزل بمنزل طے کرتا ہوا کمال کی چوٹیوں پر پہنچ سکتا ہے ان شرائط کے مطابق جو مسلم گھرانے میں پیدائش کے سبب اور اسلامی تعلیمات اس کے ذہن نشین ہوچکی تھیں۔ ان سب باتوں نے اس کی شاعری کو اسلامی رنگ دے دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں اس کے بعض قدر دان اس سے چھن گئے۔
    کسی شاعر کے کلام کی قدر اور اس کے اعتقاد کے باہمی تعلق کی بحث پرانی چیز ہے اور میں اس کے متعلق یہاں کچھ نہ کہوں گا۔ مگر اس میں شک نہیں کہ کچھ نہ کچھ ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جو صرف اس لئے ملٹن کی شاعری سے لطف اندوز نہ ہوں کہ وہ اس کے مذہبی عقائد سے متفق نہیں یا جو شیکسپیئر کا کلام محض اس لئے پڑھنا گوارا نہ کریں کہ وہ اس کی شاہ پرستانہ خیالات کو پسند نہیں کرتے۔ لیکن دوسرے لوگوں کے لئے جو کولرج کے لفظوں میں کسی شاعر کے کلام کا مطالعہ کرتے وقت ”انکار کو عمداً معطل کر دیتے ہیں“ اقبال رہتی دنیا تک مشرق کا سب سے زیادہ ولولہ خیز شاعر رہے گا۔
    فارسی اور اردو:
    اس کے بعض ہم وطنوں کی بدقسمتی ہے کہ اقبال کے بہترین کلام کا زیادہ تر حصہ فارسی میں ہے اور اس کی صرف ایک طویل نظم اسرارِ خودی کا ترجمہ جو پروفیسر نکلسن نے کیا ہے، انگریزی زبان میں ملتا ہے۔ تاہم اس کا ابتدائی کلام جو اردو میں ہے وہی اس کی ہندوستانی شاعروں میں ایک بلند مقام دینے کے لئے کافی ہے۔ لیکن خواہ اس نے اپنی نظمیں اردو میں لکھی، خواہ فارسی میں، اس کا اردو شاعری پر گہرا اور مسلسل اثر پڑتا رہا۔ پیدائش کے لحاظ سے وہ پنجابی تھا (اصل میں اقبال کشمیری اور ذات کا سپرو تھا) اسی لئے اس کے یوپی کے نکتہ چیں اس کو ہمیشہ یہ حقیقت ایسے لفظوں میں یاد دلاتے رہے جن میں انصاف کم اور تلخی زیادہ ہوتی تھی اور اس کی شاعری کی زبان کو ٹکسال باہر ہونے کا طعنہ دیتے رہتے۔ او ریہ باوجود اس حقیقت کے کہ وہ داغ کا معنوی فرزند تھا۔ جو اردو زبان کا مسلمہ بادشاہ ہوا ہے لیکن اس کی غیرمعمولی قابلیت نے اس کے نکتہ چینوں کو جلدی خاموش کر دیا۔ اور اس کی طرز شاعری کے بےشمار پہلو ملک کے طول وعرض میں پیدا ہوگئے۔ اگر افرد کی وسیع اثرات کا تذکرہ کرنا اندیشناک نہ ہو تو اس ضمن میں تین ہستیوں کا نام لیا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنے اپنے رنگ میں اردو ادب کو نئی اور مختار صورت بخشی ہے۔ مولانا ظفر علی خان نے زمیندار کے ابتدائی ایام میں اس میں مضمون لکھ لکھ کے اردو صحافت کو ایک ایسی زور دار اور لچکیلی زبان سے مالامال کیا جس سے وہ پہلے قطعاً ناواقف تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اردو نثر کو وہ شوکت، فراوانی اور شیرنی بخشی جس کا راز انہوں نے عربی زبان کے مطالعہ کرتے وقت پالیا تھا لیکن چٹپٹے مضامین یا پُراثر وعظوں کی نسبت شاعری لوگوں کے دلوں میں زیادہ دیرپا اثر رکھتی ہے اور شاعر زبان پر زیادہ گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ جدید اردو کے بنانے والوں میں اقبال (اور اسی طرح اس کا پیش رو غالب) ابھی تک سب سے نمایاں اور زبردست اثر ڈال رہا ہے۔ ہزاروں ترکیبیں اور الفاظ جو ان دونوں استادان فن نے گڑھے یا اپنے فارسی کے پیشرو استادوں سے مستعار لئے آج بھی اردو تحریر اور تقریر میں ان کی گونج سنائی دے رہی ہے۔

(پطرس کے انگریزی مضمون کا ترجمہ از صوفی ریاض حسین)

* * *

کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں

 
    عصمت چغتائی کے افسانہ میں ایک لڑکی دوسری کے متعلق کہتی ہے کہ ”سعیدہ موٹی تھی تو کیا، کمزور تو حد سے زیادہ تھی بےچاری۔ لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے جی کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے“۔ جب میں نے عصمت کی کلیاں اور چوٹیں دونوں مجموعے ختم کر لئے اور جو چند دیباچے اور مضامین ان کے مداحین اور معترضین نے ان پر ازرہ تنقید وتعارف لکھے ہیں ان سے بہرہ یاب ہوچکا تو استعارے کے رنگ میں یہ فقرہ پھر یاد آیا۔ ”لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ جی کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے“۔
    اس فقرے کے معانی کو کھینچ تان کر پھیلا لیجئے، اور اس پر تھوڑا سا فلسفیانہ رنگ پھیر لیجئے تو عصمت کے بعض کمالات اور نقادوں کی بعض کوتاہیوں کو بیان کرنے کا اچھا خاص بہانہ ہاتھ آجاتا ہے جو حال فربہی کا ہے وہی حال کئی او رمعروف اور متدا دل اور لیبلوں کا ہے جو مستعمل الفاظ اور عادات مستمرہ کی شکل میں قسم قسم کی اشیاء پر چپکے نظر آتے ہیں۔ ذہنی کسالت اور خوف اور بزدلی کے مارے ہم اکثر فیصلے لیبلوں ہی کو دیکھ کر صادر کر دیتے ہیں۔ ان سے آگے نکل کر اصل چیز کو جانچنے اور تولنے کی ہمت اپنے آپ میں نہیں پاتے۔ مامتا اور عشق پر دل گدازی کا لیبل مدت سے لگا ہوا ہے اس لئے جہاں ان کا ذکر آئے کہنے اور سننے والے دونوں ایک علّو اور ایک پاکیزہ رقت کے لئے پہلے ہی سے تیار ہو بیٹھتے ہیں۔ جنسی مشاغل تحقیق کہ پستی کی طرف لے جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کا بیان بغیر کراہت یا اخلاقی غیظ کے ہو تو لوگ برہم ہوجاتے ہیں۔ بہن بھائیوں کا سا پیار جاننا چاہئے کہ پاک محبت کا سب سے اونچا درجہ ہے لہٰذا بہن بھائی کے درمیان بجز اس جذبہٴ عالیہ کے کسی اور تعلق کی گنجائش ناممکن یا کم از کم نامناسب ضرور سمجھی جاتی ہے۔ عصمت چغتائی کے رہنما بھی اندھا دھند ایسے ہی کلیئے ہوتے تو ادب ان کی بہترین انشا سے محروم رہ جاتا لیکن ان کی بصیرت اس سے کہیں زیادہ دوررس ہے۔ وہ لیبلوں کے فریب میں نہیں آتیں اور جسم اور دل اور دماغ کی کئی کنیتیں ایسی ہیں جن سے وہ اکیلے میں دوچار ہوتے نہیں گھبراتیں۔ ایسے انشا پرداز کا بغیر حوصلہ مشاہدہ، وقت نظر اور جرأت بیان کے گزارہ نہیں۔ اور یہ ادیب کی خوش قسمتی ہے کہ عصمت کو یہ تینوں نعمتیں میسر ہیں۔
    برخلاف اس کے احساس محرومی کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس جرأت اور وقت نظر میں سے عصمت کے نقادوں کو حصہ وافر نہیں ملا۔ فی الحال ان کا ذکر جانے دیجئے جن کو عصمت کی تحریروں میں اپنے اخلاق اور ادب دونوں کی تباہی نظر آتی ہے وہ تو ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیبل گوند سے چپکے ہوئے نہیں میخوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے ذہنوں میں ایک موٹی موٹی لکیروں والی جدول بنا رکھی ہے کہ ان چیزوں کا ذکر حلال ہے ان کا حرام ہے نامحرم کا ذکر ہم مقرر کر چکے ہیں کہ فحش ہے۔ محرم کا ذکر معاملہ بندی ہے یعنی جائز ہے۔ حرام کا بچہ فطرت کو منظور ہے تو ہوا کرے، ہمارے ادب کو منظور نہیں۔ اور یہ فطرت کا مطالعہ؟ محض ایک ڈھونگ! آوارہ مزاجوں کا عذر آوارگی! ہمیں بچپن میں مطالعہ پر کوئی مجبور نہ کرسکا تو اب کسی کی کیا مجال ہے؟ ہم جب بھی کھلونے سے دل بہلاتے تھے اب بھی کھلونوں سے دل بہلائیں گے… ایسے لوگوں سے اس وقت بحث نہیں کیونکہ

وہ وہاں ہیں جہاں سے ان کو بھی
کوئی  ان  کی  خبر  نہیں  آتی

شکایت ان سے ہے اور اپنوں کی شکایت ہے، بیگانوں کی سی نہیں۔ جو عصمت چغتائی کے قدر دان اور مداح ہیں ان لیبلوں کے مضامین کو پڑھ کر روح میں ایک بالیدگی محسوس کرتے ہیں جس سے دل میں امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور نئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ گلہ ہے کہ وہ بھی ہر پھر کر لیبلوں ہی کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ افسوس کہ عصمت مرد نہیں اور افسوس کہ لیبلوں میں سے سب سے بڑا اور گمراہ کن لیبل عورت ہے۔ مرد ذات کے قرنوں کے خرابوں اور محرومیوں سے چپکا ہوا۔ عورت دلفریب ہے، مکار ہے، صنف نازک ہے، ایک معمہ ہے، کمزور ہے، کم عقل ہے، مجموعہٴ اضداد ہے۔ جہاں آپ نے عورت کا نام لیا، ان میں سے دو چارگھڑے گھڑائے معنی ذہن اُگل کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ چنانچہ اسی فریب میں آکر ہونہار اور ذہین دیباچہ نویس فرماتے ہیں:
    ”عصمت کے افسانے گویا عورت کے دل کی طرح پُر پیچ اور دشوارگزار نظر آتے ہیں۔ میں شاعری نہیں کررہا اور اگر اس بات میں شاعری ہے تو اسی حد تک جہاں تک شاعری کو سچی بات میں دخل ہوتا ہے۔ مجھے یہ افسانے اس جوہر سے متشابہ معلوم ہوتے ہیں جو عورت میں ہے۔ اس کی روح میں ہے۔ اس کے دل میں ہے۔ اس کے ظاہر میں ہے۔ اس کے باطن میں ہے۔“
    اب نہ معلوم اس نوجوان نقاد کے تصور نے عورت کا لیبل کس قسم کی چیزوں پر لگا رکھا ہے۔ یہ معلوم ہوتا تو وہ جوہر بھی کھلتا جو بہ قول ان کے عصمت کے افسانوں میں ہے لیکن ان کے رنگین تصورات ومفروضات کے خلوت کدہ میں ہمیں کیونکر باریابی ہوسکتی ہے اور کوئی ایسی ڈکشنری بھی نہیں جس میں عورت کے وہ معنی مل جائیں جو اس تنقید کی تہہ میں کام کر رہے ہیں۔ دیباچے کا مقطع ہے:
    ”عصمت کا نام آتے ہی مرد افسانہ نگار کو دورے پڑنے لگتے ہیں۔ شرمندہ ہو رہے ہیں آپ ہی آپ خفیف ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ دیباچہ بھی اسی خفت کو مٹانے کا ایک نتیجہ ہے۔“ لیجئے۔ عورت کے ایک دوسرے تصور سے پھر میرے عزیز کی ناقدرانہ نظر بہک گئی۔ دکھانے تو چلے تھے عصمت کے افسانوں کا جوہر لیکن آخر کہہ گئے کہ یہ عورت ناقص العقل جانور ہے ڈاکٹر جانسن کے کتے کی طرح کہ دو ٹانگوں کے بل کھڑا ہو جائے تو تعجب وتحسین ہی کا نہیں بلکہ ہم انسانوں (یعنی مردوں) کے لئے شرم و ندامت کا موجب ہے۔ ایک اور مقتدر و پختہ کار دیباچہ نویس نے بھی معلوم ہوتا ہے انشا پردازوں کے ریوڑ میں نر اور مادہ الگ الگ کر رکھے ہیں۔ عصمت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ”اپنی جنس کے اعتبار سے اردو میں کم و بیش انہیں وہی مرتبہ حاصل ہے جو ایک زمانہ میں اردو ادب میں جارج ایلیٹ کو نصیب ہوا“۔ گویا ادب بھی کوئی ٹینس کا ٹورنامنٹ ہے جس میں عورت اور مردوں کے میچ علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔ جارج ایلٹ کا رتبہ مسلم۔ لیکن یوں اس کا نام لے دینے سے تک ہی ملا اور بوجھوں تو کوئی کیا مرے گا۔ اب یہ امر ایک علیحدہ بحث کا محتاج ہے کہ کیا کوئی مابہ الامتیاز ایسا ہے۔ خارجی اور ہنگامی اور اتفاقی نہیں بلکہ داخلی اور جبلّی اور بنیادی جو انشا پرداز عورتوں کے ادب کو انشا پرداز مردوں کے ادب سے ممیز کرتا ہے اور اگر ہے تو وہ کیا ہے؟ ان سوالوں کا جواب کچھ بھی ہو، بہرحال اس نوع کا ہرگز نہیں کہ اس کی بنا پر مصنفین کو ”جنس کے اعتبار سے“ الگ الگ دو قطاروں میں کھڑا کر دیا جائے۔
    اسی طرح جہاں کسی افسانے میں خاندان، گھر بار، اعزا واقربا کا ذکر آگیا۔ یا کسی متمول لڑکے نے کسی مفلس لڑکی پر ہاتھ ڈالا، جوشیلے اور دردمند دل رکھنے والے نقادوں نے مسرت کا نعرہ لگایا اور بغلیں بجائیں کہ سماج کی خبر لی جا رہی ہے۔ اب غور سے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ عصمت کے اچھے افسانوں میں ماحول محض اس لئے شامل فسانہ ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ کردار کہیں تو رہیں گے۔ کسی سے تو ملیں گے افسانہ کا جو ڈھانچہ ہے اس کا کوئی گوشت پوست تو ہوگا پھر اس کے بغیر بھی چارہ نہیں کہ وہ ماحول ایک نہ ایک معروف طبقے کا ماحول ہو۔ بودوباش کا کوئی نہ کوئی ڈھنگ تو پیش نظر رکھنا ہی پڑے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ ماحول جن معاشی اصولوں کی وجہ سے پیدا ہوا خود وہ اصول جانچے اور پرکھے جا رہے ہیں۔
    عصمت کے بعض مضامین ایسے بھی ہیں جن پر شبہ ہوتا ہے کہ سماج کو سامنے رکھ کر لکھے گئے ہیں۔ لیکن انہوں نے جہاں بھی سماج کو اپنا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے ان کا ہاتھ جھوٹا ہی پڑا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سماج کی جن باتوں سے عصمت کا جی برا ہوتا ہے ان پر عصمت نے غور ضرور کیا ہوگا۔ لیکن تلخی کام ودہن ابھی ان کے رگ وپے تک نہیں پہنچی اور جب تک یہ نصیب نہ ہو سماجی کمزوریوں پر اخباروں میں مضمون لکھ لینے چاہیں۔ ان کو فن کی لپیٹ میں لانے کا خیال چھوڑ دینا چاہئے۔ عصمت کو فی الحقیقت شغف سماج سے نہیں شخصیتوں بلکہ اشخاص سے ہے۔ ان کے جوش اور ہوس سے۔ ان کی تھرتھراہٹ اور کپکپی سے، ان کی باہمی کشمکش اور عداوت اور فریب کاری سے، غرض ان تمام کیفیتوں سے جو انسان پر جب طاری ہوتی ہیں تو جسم پھڑکنے لگتا ہے اور دوران خون تیز ہوجاتا ہے یا اعصاب میں الجھاؤ اور طبیعت میں تناؤ پیدا ہوجاتا ہے اگر عصمت اور سماج کا باہم ذکر اس نقطہٴ نظر سے کیا جائے کہ ان کی سی انشاء ان کا سارا رجحان اور ان کا سااسلوب انتخاب ایک خاص زمانے اور خاصی سماجی کشمکش کی پیدوار ہیں تو یہ بحث مناسب ہی نہیں بلکہ نتیجہ خیز بھی ہوگی۔ یہ کون نہیں جانتا کہ اردو میں عصمت جیسے ادیب اس صدی کے اوائل میں بھی منفقود تھے۔ اور اس سے پہلے کا ذکر ہی کیا۔ یہ ایک امر واقعہ ہے اور اس میں کئی دلچسپ نکتے مضمر ہیں۔ جن کی توضیع یقیناً خیال انگیز ہوگی۔ لیکن حالات سے اثر پذیر ہونا اور حالات کا مفسر ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اس بات کا مطالعہ کرنا ہوکہ بعض سماجی حالات نے کیونکر عصمت جیسی انشا پرداز کو پیدا کیا تو شوق سے کیجئے لیکن اس شوق میں خواہ مخواہ سماج کی نباضی عصمت کے سر نہ منڈھ دیجئے۔ سیب درخت سے گرا تو یقیناً کششِ ثقل ہی کی وجہ سے گرا۔ لیکن اس  کارگزاری کے صلہ میں سیب کا نام نیوٹن نہیں رکھا جا سکتا۔ نہ سیب کو سیب سمجھنے میں کچھ اس کی ہیٹی ہوتی ہے۔
    عصمت کے دونوں مجموعوں میں ڈرامے، افسانے اور اسکیچ تینوں قسم کی چیزیں شامل ہیں۔ ان میں ڈرامے سب سے کمزور ہیں اور اس کی کئی وجوہ ہیں اول تو یہ کہ ڈرامے کی ٹیکنیک عصمت کے قابو میں نہیں آئی یا یہ کہیے کہ ابھی تک ان کو اس پر قدرت حاصل نہیں ہوئی۔ پلاٹ کو مناظر میں تقسیم کرتی ہے تو ناپ کی قینچی سے نہیں کترتیں۔ یونہی دانتوں سے چیر پھاڑ کر چیتھڑے بنا ڈالتی ہیں چنانچہ پھوسڑ جا بجا دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی سین جب پھیلتا ہے تو سمٹے بغیر ہی ختم ہو جاتا ہے جیسے گاڑی دو اسٹیشنوں کے درمیان کہیں بھی رک جائے۔ خیر اس قدر نازک مزاجی سے کیا حاصل؟ کھیر نہ سہی دلیا ہی سہی پیٹ بھر جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ ڈرامے کو ڈرامہ نہ سمجھے۔ کہانی سمجھ کر پڑھیئے اور فرض کر لیجئے کہ کہانی نے ڈرامے کا لباس کسی ضرورت سے نہیں بلکہ محض تنوع کی خاطر پہن رکھا ہے۔ لیکن افسوس کہ رواداری سے بھی مشکل حل نہیں ہوتی۔ کہانی کو ڈرامے کی شکل دی جائے تو ایک جبر اپنے اوپر ضرور کرنا پڑتا ہے اور وہ یہ کہ قصہ اول سے آخر تک مع اپنے نشیب وفراز کے تمام تر افراد قصہ ہی کے اقوال وافعال کے ذریعے بیان کرنا پڑتا ہے مصنف سے یہ آزادی پھر چھن جاتی ہے کہ ساتھ کرداروں کے جذبات، خیالات کو اپنی زبان سے واضح کرتا جائے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پابندی عصمت کے بس کا روگ نہیں۔ افسانہ ہو تو عصمت کو کسی انوٹ یا تیور کے واضح کرنے میں دقّت پیش نہیں آتی۔ انہیں افسانہ نویس کے اس حق سے فائدہ اُٹھانا خوب آتا ہے کہ جب چاہا کیریکٹر سے کچھ کہلوالیا۔ جب چاہا خود کچھ کہہ لیا۔ لیکن جب اپنی زبان بند ہو اور سب کھیل کیریکٹروں ہی کو کھیلنا ہو تو عصمت قاصر رہ جاتی ہے۔ اور ان مجبوریوں میں گھر کر ان کا مطلب اکثر فوت ہوجاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مکالمے بھی پھسپھسے ہوجاتے ہیں اور ان میں اس کردار پن کا نام ونشان تک نظر نہیں آتا۔ جو ان کے افسانوں کے مکالوں میں اکثر پایا جاتا ہے۔ (پردے کے پیچھے میں کس قدر چستی اور پھرتیلا پن ہے) بعض اوقات تو مکالمہ کچھ ایسا بےجوڑ ہوجاتا ہے کہ یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا واقعہ کیا پیش آیا۔ چنانچہ ان کا ڈرامہ ”انتخاب“ کے واقعات پیشتر اس کے کہ سمجھ میں آسکیں بہت کچھ وضاحت کے محتاج ہیں۔ (یہ نقص ان کے افسانہ ”تاریکی“ میں بھی رہ گیا ہے) ڈرامہ نویس کو تو اجازت نہیں کہ وہ سیدھے منہ ہم سے بات کرے۔ باقی رہے کیریکٹر سو وہ آپس میں الجھی سلجھی گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ (ڈرامہ جو ٹھہرا) مگر ہمارے پلے کچھ نہیں پڑنے دیتے۔ ڈرامہ نویس عدم تعاون پر مجبور ہیں اور کیریکٹروں کو تعاون کا سلیقہ نہیں۔ ان حالات میں ڈرامہ کامیاب ہو تو کیونکر؟ پھر ان ڈراموں میں (جہاں تک میری سمجھ میں آئے) عصمت کی کوشش یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ چند اشخاص نہیں چند ٹائپ پیش کریں۔ یعنی ہر شخص ایک طبقہ کا نمائندہ بن کر سامنے آئے۔ مگر اس کے لئے اشخاص کا اداراک نہیں گروہ کا احساس چاہئے اور عصمت اور گروہ میں وہ انہماک نہیں جو اشخاص میں ہے تو پھر نہ معلوم انہیں یہ مصیبت کیوں مول لی؟
    علاوہ ان سب باتوں کے ان ڈراموں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان میں عصمت نے جس قسم کے لوگوں کا نقشہ کھینچنا چاہا ہے، ان سے وہ طبعاً گھل مل نہیں سکتیں یعنی وہ مرفہ الحال لوگ جو کہلاتے تعلیم یافتہ ہیں مگر جن کی ترکیب میں تعلیم کم اور بےیافتہ زیادہ ہوتی ہیں۔ جو خوش حالی، بےحسی، انحطاط اور اپنے رنگ وروغن کے بل پر اپنے مشاغل اور اپنی گفتگو میں بےفکراپن اور چمک پیدا کرلیتے ہیں جس کی بدولت وہ ”سمارٹ سیٹ“ کہلاتے ہیں۔ اور کم نصیب لوگ کچھ ان سے نفرت کچھ ان پر شک کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے اس طبقے کی بعض حماقتوں اور خود فربیبیوں پر عصمت کو غصہ آتا ہے جس کو وہ بیان کرنا چاہتی ہیں۔ اور اس کی عشرتوں پر تھوڑا سا رشک جس کو وہ خود بھی نہیں جانتیں لیکن یہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس چمکیلے طبقہ کو انہوں نے دور ہی سے دیکھا ہے۔ قریب آنے کا موقع نہیں ملا کہ اس کے نقوش اور خدوخال واضح دکھائی دیتے اور اس کے خوب وزشت اور ظاہر وباطن کا وہ اچھی طرح موازنہ کرسکتیں۔ چنانچہ جب عصمت اس قسم کے کیریکٹروں یا ان کے ماحول کی تصویر کھینچتی ہیں تو نوک پلک کبھی درست نہیں ہوتی۔ چھری، کانٹے، ”ارغنوں“ (یعنی چہ؟) ٹینس، ڈرائنگ روم، ڈنر سیٹ، الم غلم اس قسم کی اصلی اور خیالی چیزیں جمع کرکے ایک کباڑ خانہ سا بنا لیتی ہیں۔ گو ان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس سازو سامان سے امیرانہ ٹھاٹھ باندھا جائے اور کچھ اس یقین کے ساتھ اسباب چنتی جاتی ہیں کہ ان کی سادگی پر رشک آتا ہے۔
    کیریکٹروں کی گفتگو اور حرکتیں بھی اس قسم کی ہوتی ہیں کہ جب مصنف ہنسائے تو رونا آتا ہے اور رلائے تو ہنسی آتی ہے۔ ایک تصنع تو ان میں وہ ہے جس کا مصنف کو علم ہے لیکن ایک تصنع ان میں ایسا بھی آجاتا ہے جس سے مصنف خود بےخبر ہے، اور جو دراصل اس کے اپنے تصنع کا عکس ہے یعنی کیریکٹروں کی سطیحت کو تو بے نقاب کرنا ہی تھا اپنی سطحیت بھی ساتھ بے نقاب ہو رہی ہے۔ ایکٹروں سے پہلے کیریکٹر خود ایکٹ کرتے ہیں۔ بات بات پر اپنی زندگی میں تھیٹر کی سی سچوایشن (situation) پیدا کر لیتے ہیں اور کچھ اس طرح بنتے ہیں کہ ان کے تو خیر خود ڈرامہ نویس کے حسن مذاق پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ ”سانپ“ میں عصمت نے چند ایسی عورتیں دکھانے کی کوشش کی ہے جو بزعم مصنف ”شکاری عورتیں“ ہیں یعنی وہ رنگین تریا چلتر ہے مردوں کے جذبات کے ساتھ کھیلتی ہیں۔ جیسے بلّی چوہے سے کھیلتی ہے۔ لیکن ان کی تھکی ہوئی باتیں سنئے اور ان کی اکتا دینے والی خوش فعلیوں کا تماشا کیجئے تو اس نتیجے پر پہنچے گا کہ کسی چوہے کا شکار تو یہ شاید کرلیں لیکن اس سے زیادہ کی امید بےچاریوں سے خام خیالی ہے۔ معلوم ہوتا ہے چند کم عقل چھوکریاں ہیں۔ جنہوں نے کوئی ارزاں قسم کا خوش پوش امریکن فلم دیکھ لیا ہے۔ اور گھر میں دو ایک جگہ صوفے، کرسیاں بچھا کر نقل اتارنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قیاس اس امکان کو بھی ردنہیں کرتا کہ وہ فلم خود مصنف ہی نے دیکھا ہو اور اس کی ارزانی کا احساس اس کو نہ ہوا ہو۔ ایک مکالمہ تو اس ڈرامے میں ایسا ہے کہ اپنے بےساختہ میلوڈرامیٹک اسلوب کی وجہ سے کشتِ زعفران سے کم نہیں۔ رفیعہ کی منگنی غفار سے ہو چکی ہے لیکن اب وہ اس سے نہیں ظفر سے شادی کرے گی۔ غفار کو اس سانحہٴ جانکاہ کا علم یوں ہوتا ہے:
رفیعہ۔ نہیں میں تمہاری زندگی برباد نہیں کروں گی۔
غفار۔ (جوش سے) برباد نہیں۔ تم میری زندگی آباد کرو گی۔
رفیعہ۔ نہیں، میں تمہیں نگل جاؤں گی۔ سانپ جو ٹھہری۔
غفار۔ (شدت جوش سے کانپ کر) کیسی باتیں کرتی ہو، تم مجھے نگل بھی جاؤ، تو میرے لئے عین راحت ہوگی۔
خالدہ۔ (رفیعہ کی سہیلی) مگر اب تو رفیعہ نے فیصلہ کرلیا۔
غفار۔ (چونک کر) کیا فیصلہ کرلیا؟
خالدہ۔  یہی کہ وہ تمہیں نہ نگلے گی۔
رفیعہ۔ ہاں اب تو میں ظفر کو نگلوں گی۔
(ظفر پریشان ہو کر مسکراتا ہے)
غفار۔ (سمجھ کر) تو… تمہارا یہ مطلب ہے کہ تم مجھے ٹھکرا رہی ہو!
رفیہ۔ اُونہہ۔ اب تم نے بھی غلیظ شاعری شروع کر دی۔
غفار۔ (پریشانی سے انگلیاں چٹخا کر) اور ظفر تم مجھے دھوکا دیتے رہے۔
ظفر۔ غفار، بچہ نہ بنو، یہ فتنہ تمہارے بس کا نہ تھا۔ شکر کرو کہ میرے ہی اوپر بیتی اور تم بچ گئے۔ تم دیکھنا میری وہ گت بنائے گی کہ توبہ ہی بھلی۔
غفار۔ کاش میری ہی وہ درگت بن جاتی۔
خالدہ۔ مگر غفار سوچو تو…
غفار۔ ایک عرصہ دراز سے بزرگوں نے یہ بات طے کر دی تھی۔
خالدہ۔ یہ ٹھیک ہے کہ آبائی حق تو تمہارا ہے پر یہاں تو رفیعہ کا معاملہ آن پڑا ہے۔ وہ ایک ضدی ہے!
غفار۔ (اندوہ گیں ہو کر) میں ۔۔جا رہا ہوں (نہایت اداسی سے) رفیعہ! خدا کرےتم خوش رہو۔
    عصمت اس سین کو کامک سین سمجھ کر لکھتیں تو شاید ڈرامہ نویس میں ان کا نام رہ جاتا۔ لیکن افسوس کہ ان کے ہونٹوں پر مجھے مسکراہٹ نظر نہیں آئی۔ اور جب مصنف نے ہنسانے والی باتیں لکھیں اور خود سے ہنسی کی کوئی بات نظر نہ آئے تو افسوس ہوتا ہے۔ کچھ ایسا ہی بے تکا پن ڈراموں کے علاوہ ان افسانوں میں بھی پایا جاتا ہے جن میں عصمت نے ان جدید نما چمکیلے لوگوں کو اپنانے کی کوشش کی ہے۔ ایسے افسانوں میں نہ پلاٹ کی چولیں ہی ٹھیک بیٹھی ہیں نہ کیریکٹر کا ناک نقشہ ہی درست ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انگریزی میں سے کہانیوں کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر جوڑ لئے ہیں۔ اور پیشہ ور افسانہ نویسوں کی طرح رسمی رومان کا رنگ دے کر جھوٹ موٹ ایک بات بنا لی ہے۔ ”پنکچر“ اور ”شادی“ پڑھ کر دل پر یہی اثر ہوتا ہے اور ”میرا بچہ“ میں تو برنارڈ شا کے“‘ آرمز اینڈ دی مین“ کے پہلے سین پر کچھ اس طرح سے ہاتھ صاف کیا ہے کہ شبہ کی گنجائش نہیں۔
    یہ سیلیا اور نیلی اور ”ارغنوں“ اور پارٹیوں کی دنیا عصمت کی دنیا نہیں۔ اس میں وہ اجنبی رہتی ہیں اس کی تہہ کو وہ جب پہنچیں گی۔ تب دیکھا جائے گا۔ فی الحال تو ان کی دنیا وہی ہے جو ان کے بہتر افسانوں یعنی جوانی، ڈائن، نیرا، بھول بھلیاں ، ساس، بیمار اور تل میں پائی جاتی ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جس میں عورتیں پردے کے پیچھے سے فقرے چست کرتی ہیں جس میں زینوں پر اور دیواروں کی آڑ میں آنکھ مچولی کھیلی جاتی ہے۔ جس میں نوا ڑ کی پلنگڑیوں پر پٹاریاں رکھی ہیں۔ مہترانیوں کی جوان بہوئیں کمر لچکا کر چلتی ہیں۔ اکھڑلڑکیاں گوبر بنتی پھرتی ہیں اور تلیا میں ڈبکیاں لگاتی ہیں جس میں گلگلے بچے ماں کے پیٹ سے چھپکلی کی طرح چپکے ہوئے چپڑ چپڑ منہ مارتے ہیں اس کے گردو پیش میں وہ اس بے تکلفی اور احساس ہم آہنگی کے ساتھ گھومتی پھرتی ہیں کہ اسی کا ایک جزو معلوم ہوتی ہیں چنانچہ وہ کس سہولت کے ساتھ دوہی چار خط کھینچ کر اس دنیا کو کاغذ پر لے آتی ہیں۔ عصمت کے بہترین افسانوں میں آپ کو فضا اور ماحول کے لمبے لمبے پُرتکلف ڈسکرپشن (Description) کہیں نہ ملیں گے۔ لیکن جو بات ہے وہ ایسے پتے کی ہے کہ اختصار سے تشنگی اور خلاء کی شکل پیدا نہیں ہوتی۔ ”ساس“ کے شروع کے فقرے ہیں:
    ”سورج کچھ ایسے زاویئے پر پہنچ گیا کہ معلوم ہوتا تھا چھ سات سورج ہیں جو تاک تاک کر بڑھیا کے گھر میں ہی روشنی پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ تین دفعہ کھٹولی دھوپ کے رخ سے گھسیٹی اور اے لو پھر پیروں پر دھوپ اور جو ذرا اونگھنے کی کوشش کی تو دھمادہم ٹھٹوں کی آواز چھت پر سے آئی۔ ”خدا غارت کرے پیاری بیٹیوں کو“۔ ساس نے بےحیا بہو کو کوسا جو محلے کے چھوکروں کے سنگ چھت پر آنکھ مچولی اور کبڈی اڑا رہی تھی“۔ دنیا میں ایسی بہوئیں ہوں تو کوئی کاہے کو جئے۔ اے لو دوپہر ہوئی اور لاڈو چڑھ گئیں کوٹھے پر ذرا ذرا سے چھوکرےاور چھوکریوں کا دل آپہنچا پھر کیا مجال ہے جو کوئی آنکھ جھپکا سکے“۔
    اتنے تھوڑی سے الفاظ میں اس سے زیادہ کوئی کیا رنگ بھرے گا اور رنگ بھی ایسے کہ نہ ضرورت سے زیادہ شوخ نہ ضرورت سے زیادہ مدہم۔ یہی حال ”نیرا“ میں کے ایک ٹکڑے کا ہے:
    ”چھوٹے تال سے گزر کر پلیا پر سے ہوتے ہوئے دونوں ننھے منے بیوپاری شہر کی سڑک پر چلنے لگے۔ یہ کم بخت جاڑا تو اب کے ایسا دانت پیس کر پیچھے پڑا تھا کہ نرم ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ گرمی تو جیسے تیسے کٹ جاتی ہے چاہو جتنا نہاؤ، پیاؤ پر سے ٹھنڈا پانی جتنا چاہو پی لو۔ نہ کپڑے کی ضرورت نہ کچھ۔ رمو کو تو دھوتی کا بھی مرہون منت نہ ہونا پڑتا تھا۔ سیاہ سوت کا ڈورا جو اس کے کچری جیسے پیٹ پر ے پھسل کر کولہے کی ہڈیوں پر مزے سے ٹک جاتا تھا۔ ضرورت سے زیادہ تھا۔ مزے سے تلّیا میں ڈبکی لگائی، کناروں پر اکڑوں بیٹھ گئے او رلُو کے چھپاکوں سے سوکھ گئے“۔
    اور اس سے بھی مختصر یہ کہ:
    ”اندھیری سنسان راتیں جیسے تیسے کٹنے لگیں۔ بیجھڑ کی روٹیاں اور لوٹا بھر مٹھا حاصل کرنے کے لئے سارے گھر کو دن بھر تیرے میرے کھیت میں جتے جتے گزر جاتی۔ نیرا گھاس چھیل لاتی، بھینسوں کو بھی دن لگے اور دودھ چرانا شروع کر دیا۔ کون دیکھتا بھالتا۔ کانجی ہاؤس میں ہی ایک توضبط ہوگئی دوسری بیاہنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ بھینس جب بوڑھی ہوجاتی ہے تو پتہ بھی نہیں چلتا۔ نہ اس کی کمر جھکے نہ بال کھچڑی ہوں“۔
    ان اقتباسات میں پانچ پانچ چھ چھ فقرے ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ اس لئے ان کو یہاں نقل بھی کر لیا۔ ورنہ اسی قسم کے ایک ایک دو دو فقروں کے کنائے تو کئی جگہ ہیں۔
    یہ دنیا بیشتر مفلسوں اور اکھڑوں کی دنیا ہے۔ بہرحال! امیروں، نفاست پسندوں اور تراشیدہ لوگوں کی دنیا نہیں۔ اس میں فاقے ہیں غلاظتیں ہیں (اور غلاظتوں کا حال عصمت کتنی برہم ہو کر اور برہمی کے مزے لے لے کر بیان کرتی ہیں)جہالتیں ہیں، بدزبانیاں ہیں، ہاتھا پائیاں ہیں، بیماریاں ہیں، ڈھیروں بچے ہیں، لیکن پھر بھی ان میں زندگی کا ایک خط ہے جو دبائے نہیں دبتا، امنگیں اُبھرتی ہیں، جوانی اپنے کرشمے دکھاتی ہے۔ ذہن میں شرارتیں چٹکیاں لیتی ہیں اور نفس انسانی کا پہلو ان زور آزمائی کرتا ہے جن افسانوں کو میں نے بحث کے لئے منتخب کیا ہے۔ ان میں آپ کو بہت بڑی بلندی یا بہت پُر معنی گہرائی نظرنہ آئے گی۔ عمیق امن، خاموش آسودگی یا مسرت عالیہ کہیں نہ ملے گی۔ نہ وہ حزن وملال ہی ملے گا جو کہر کی طرح دل پر جم جاتا ہے اس میں ٹریجیڈی کی کوشش ہے نہ کامیڈی کی۔ لیکن انسانی خون آپ کو رگوں میں دوڑتا نظر آئے گا اس طرح دوڑتا ہوا جیسے پہاڑی ندی کا پانی دوڑتا ہے۔ لبالب اور ابلتا ہوا اور ٹکراتا ہوا اور رستہ چیرتا ہوا۔
    ان افسانوں کا موضوع کیا ہے۔ اگلے وقتوں کے لوگ ان افسانوں کو (اگر ایسے افسانے انہیں ہاتھ آتے تو) عشقیہ افسانے یا ”عشقیہ افسانے ہی سمجھ“ کہتے۔ لیکن عشق کے معنی اس قدر پھیل چکے ہیں کہ عشقیہ سے یہاں کام نہ چلے گا۔ لیلیٰ مجنوں کا عشق، صوفیوں کا عشق، غزلوں کا عشق، فلموں کا عشق، امرد پرستوں کا عشق، سبھی طرح کے عشق ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں اور ہر ایک کا مزاج جدا ہے۔ اس لئے عشق کے لفظ سے نہ جانے کہنے والے کا مفہوم کیا ہو۔ اور سننے والے کیا سمجھ بیٹھیں۔ ”جنسی بھوک“ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن محض اس سے بات بھی نہیں بنتی۔ کیونکہ جنسی بھوک تو اتنے بی ایڑس سے لے کر کتے کتیا تک سبھی کو لگتی ہے۔ عصمت کے افسانوں میں جو جذبہ مرد عورت کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتا ہے اس کی کسی قدر اور تخصیص کرنی چاہئے۔ ایک بات تو ظاہر ہے اور وہ یہ کہ اس جذبے میں شاعرانہ لطافتوں کی رنگینی نہیں پائی جاتی۔ اس کا رومان سے کوئی تعلق نہیں۔ عصمت کے کسی افسانے میں مرد یا عورت کے حسن کا کبھی ذکر نہیں آتا۔ کیونکہ جو جذبہ ان کے پیش نظر ہے اس کی تحریک کے ليےحسن کی ضرورت نہیں۔ یہ محض خون کی تاریک حرارت اور جسم کی جھلسا دینے والی گرمی سے پیدا ہوتا ہے اور جب انسان کے جسم میں یہ آگ لگتی ہے تو وہ کبھی اس کو سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ اس آگ سے کوئی پیچیدہ نفسیاتی معمے پیدا نہیں ہوتے۔ صرف تند وتیز شراب کا سا نشہ روئیں روئیں میں سرایت کر جاتا ہے۔ دل کی کیفیتں جسم ہی سے رنگ پکڑتی ہیں۔ اور جو کرب یا تسکین بھی نصیب ہوتی ہے اس کا مظہر اول سے آخر تک جسم ہی رہتا ہے عصمت ہی کے فقرے ہیں کہ ”شہر کے تندرست لوگوں کا گھرسڑی بُسی چمرخ بیویوں سے اُجڑ جاتا ہے“۔ اور ”جب تک بدن چست ہے اور گال چکنے ہیں سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں“ اور پھر ”وہ بیمار تھا تو کیا، دل تو مردہ نہ ہوا تھا پھر اس میں بیوی کا کیا قصور۔ وہ نوجوان تھی اور رگوں میں خون دوڑ رہا تھا۔ مگر وہ کبھی جھوٹ موٹ کو ہی اس سے کچھ کہتا تو وہ اینٹھ جاتی۔“ مطلب یہ کہ جسم مردہ ہو تو یہاں دل کی زندگی سے کام نہیں چلتا۔ جسم کا شعور عصمت کے افسانوں میں اس قدر نمایاں ہے کہ پڑھنے والا جسم کے متواتر ذکر سے خود مصنف کی طرح ہیبت زدہ اور مسحور ہو جاتا ہے۔ صلّو دبلا پتلا آئے دن کا مریض تھا۔ اور پھر جب جوانی آئی تو خون کی حدت سے اس کا چہرہ سانولا ہوگیا۔ اور پتلے سوکھے زرد ہاتھ سخت گٹھلی دار مضبوط شاخوں کی طرح جھلسے ہوئے بادلوں سے ڈھک گئے۔ بیگم جان کے اوپر کے ہونٹ پر ہلکی ہلکی مونچھیں تھیں اور پنڈلیاں سفید اور چکنی۔ دبّو کا گٹھا ہوا ٹھوس جسم اور کسی ہوئی چھوٹی سی توند اور بڑے بڑے پھولے ہونٹ جو ہمیشہ نمی میں ڈوبے رہتے ہیں۔ بیمار کا موٹا پڑوسی سرخ چقندر بڑی گھن دار مونچھوں والا جس کے جسم سے موڑھا بھرجاتا ہے۔ اور جس کے جبڑے چکی کی طرح چلتے ہیں۔ رانی کے چکنے چکنے سیاہ گال اور وہ دیسی جگہ کا تل۔ شبراتی کے سینے پر کتنے بال تھے، گھنے پسینے میں ڈوبے ہوئے اور اس کے کسے ہوئے ڈنرملوں اور رانوں کی مچھلیاں کیسے اچھلتی تھیں۔ اور وہ اس کی چھوٹی چھوٹی مونچھیں اور پھکنی جیسی موٹی انگلیاں۔ بہادر کے بڑے بڑے بالوں دار ہاتھ اور اس کا کافوری سینہ۔ جنّو کی کھونٹے جیسی ناک۔ غرض جسم سے کہیں چھٹکارا نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ دل لبھانے والا جسم یا آراستہ جسم اپنے تناسب میں رعنائیاں لئے ہوئے یا پاکیزگی اور نفاست کے لئے داد طلب نہیں، بلکہ محض جسم، اپنی گرمی سے پُرنم اور مقناطیسی خون کی حرارت سے سنسناتا ہوا یہ جسم بھی ایک آفت ہے۔ یہ ہم پھر اپنی خواہشوں کے ساتھ اندھے مشٹنڈے کی طرح یا بقول عصمت کے ”جوان جاٹنی“ کی طرح سوار ہے جب خواہشیں پھنکارتی ہیں اور جسم جسم کو پکارتا ہے تو ان افسانوں کے کیریکٹر آہیں نہیں بھرتے۔ غزلیں نہیں گاتے، شعر نہیں لکھتے، بلکہ بغیرچوں وچرا کے اس پر اسرار آواز کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ اور وہ جدہر لے جائے بغیر سوچے بوجھے اسی طرف چل دیتے ہیں۔ مائیں گھڑکتی ہیں، ساسیں الجھتی ہیں، بے پروا لوگ غچا دے جاتے ہیں۔ افلاس کی سڑاند سے دم گھنٹا ہے لیکن اس کے قدم نہیں رکتے یا عصمت کے الفاظ میں یوں کہئے کہ ”جوانی غربت کو نہیں دیکھتی بن بلائے ٹوٹ پڑتی ہے او ربے کہے چل دیتی ہے۔ پیٹ بھر روٹی نہ ملی تو کیا، سہانے خواب تو کوئی روک نہ سکا۔ جمپر اور شلو کے نہیں جڑے تو کیا جسم نے پیر روک لئے۔ وہ تو بڑھتا ہی گیا۔“ اور یہاں غربت اور شلوکوں کی جگہ کچھ ہی رکھ لیجئے جسم کے پیر نہیں رکھتے۔
    اور جب اس جسم میں طوفان آتا ہے ”اور پیٹھ پر کن کھجورے رینگنے لگتے ہیں“۔ اور دل ودماغ پر اندھی کیفیتیں طاری ہو جاتی ہیں تو یہ عجیب عجیب بیر باندھ لیتا ہے لیکن جسم اپنا بدلہ جسم ہی سے لیتا ہے چنانچہ اس کشمکش کے زیر اثر حلم اور گداز اور ملائمت نہیں پیدا ہوتی۔ کیریکٹر تخیل کے ریشم میں لپٹ کر غنودہ نہیں ہو جاتے بلکہ ان میں کرخت قسم کی اکھڑ، الھٹرپن اور درشت قسم کی شرارتیں بیدار ہوجاتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو چھیڑتے ہیں، دق کرتے ہیں،کچلچا کر کھٹولیوں پر پٹخ دیتے ہیں۔ ننگے جسم پر بدھیاں ڈال دیتے ہیں۔ ہونٹوں کو چٹکیوں سے مسل دیتے ہیں۔ پیر سے پیر دباتے ہیں۔ تھپڑ رسید کرتے ہیں بال پکڑ کر جھٹکے دیتے ہیں۔ دھولیں مارتے ہیں جھاپر کس کس کر لگاتے ہیں، گھسیٹتے ہیں، چچوڑتے ہیں، یعنی دل پر کچھ ہی گزرے جسم کی گرفت کبھی ڈھیلی ہونے نہیں پاتی۔ اور یہ جذبہ شروع سے آخر تک اپنے کھردرے پن اور بدویت کی شان کو نہیں چھوڑتا۔ تو پھر عصمت کے افسانوں کا موضوع جسم ہے؟ نہیں یہ کہنا تو درست نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ افسانے بلاشبہ ادب کے دائرے میں شامل ہیں۔ اور ادب (یا کسی بھی آرٹ) کا موضوع جسم نہیں ہوسکتا۔ یعنی وہ جسم جو علم الاعضا کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ نہ جسم نہ چاند تارے نہ پھول نہ صحرا۔ آرٹ کو ذہنی کیفیات سے سروکار ہے کیونکہ آرٹ کا منصب ذہنی ارادات کا بیان اور بالآخر ان کیفیات کی تربیت ہے۔ یہ سب چیزیں تو محض محرکات ہیں۔ ان میں نہ سہی دوسری سہی۔ اس سے گزر جائیے کہ کس چیز کا نام لیا ہے۔ یہ دیکھئے کہ ذکر کیا ہو رہا ہے۔ اگر ذہنی کیفیات کا دخل نہ ہو تو مصور مصور نہیں ایک کیمرا ہے۔ ادیب ادیب نہیں نقل نویس ہے۔ اور جسم کا وقامع نگار علم الاعضا کا ماہر اورشارح تو بن سکتا ہے ادب پیدا نہیں کرسکتا۔
    جو کچھ میں اوپر بیان کر چکا ہوں اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ عصمت کی جنسی کشش کی ماہیت واضح کر دی جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ اس کے محرکات اور مظاہر کیا ہیں۔ لیکن بحیثیت آرٹسٹ کے عصمت کو پرکھنے کے لئے بالآخر یہ دیکھنا پڑے گا کہ جنسی بھوک سے پیدا ہونے والے جذبات واحساسات کو انہوں نے کس سطح پر ابھارا ہے اپنی مخلوق کو ان سی جو رنگینی بخشی ہے وہ کس رتبے کی ہے اور روح کے لیل ونہار میں ان کا کیا مقام ہے۔ ان سوالوں کا جواب میں مجملاً اوپر ایک دو جگہ دے چکا ہوں اس سے زیادہ تفصیل شاید سودمند نہ ہو ایسی باتوں کو جہاں تک ہوسکے بحث سے مخلصی دلا کر مذاق کے سپرد کر دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔لیکن ایک بات ظاہر ہے کہ جو آرٹسٹ عصمت کی طرح اپنی مخلوق کو یوں حیوانات کے کنارے تک لے جاتا ہے وہ تلوار کی دھار پر چلتا ہے۔ چنانچہ ان کے مشہور افسانہ ”لحاف“ میں، میں سمجھتا ہوں ان کا قدم آخر اکھڑ ہی گیا ان کی لغزش یہ نہیں کہ اس میں انہوں نے بعض سماجی ممنوعات کا ذکر کیا ہے سماج اور ادیب کی شریعتیں کب ایک دوسرے کے متوازی ہوئی ہیں۔ میلے کے ڈھیر سے لے کر کہکشاں تک سب ہی چیزیں احساسات کی محرک ہوسکتی ہیں اور جو چیز محرک ہوسکتی ہے وہ ادب کے املاک میں شامل ہے آپ جس زمین سے چاہیں شعر کہہ لیں۔ اس سے کیا غرض کہ زمین کون سی ہے غرض تو اس سے ہے کہ شعر کیسا ہے اس لئے اس پر معترض ہونے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے دیسی باتوں کا ذکر کیوں کیا۔ لیکن اس کہانی کی قیمت گھٹ یوں جاتی ہے کہ اس کا مرکز ثقل (یا عسکری صاحب کی اصطلاح میں اس کا ”تاکیدی نقطہ“) کوئی دل کا معاملہ نہیں۔ بلکہ ایک جسمانی حرکت ہے۔ شروع میں یہ خیال ہوتا ہے کہ بیگم جان کی نفسیات کو بے نقاب کریں گے۔ پھر امید بندھتی ہے کہ جس لڑکی کی زبانی یہ کہانی سنائی جا رہی ہے اس کے جذبات میں دلچسپی ہوگی۔ لیکن ان دونوں سے ہٹ کر کہانی آخر میں ایک اور ہی سمت اختیار کر لیتی ہے۔ اور اپنی نظریں امنڈتے ہوئے لحاف پر گاڑ دیتی ہے۔ چنانچہ پڑھنے والا بےچارہ اپنے آپ کو اس قسم کے لوگوں میں شامل پاتا ہے جو مثلاً جانوروں کے معاشقے کا تماشا کرنے کے لئے سڑک کے کنارے اکڑوں بیٹھ جاتے ہیں۔
    عصمت نے کچھ تھوڑے سے اسکیچ بھی لکھے ہیں جن میں سے ایک بھی دلچسپی، دّقت نظر اور عصمت کی مخصوص کنایہ بازی سے خالی نہیں۔ لیکن پھر بھی ان میں کوئی ”دوزخی“ کے رتبے کو نہیں پہنچتا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اردو ادب میں اس اسلوب نظر کی مثال نہیں ملتی۔ جو عصمت نے اس اسکیچ میں اختیار کیا ہے۔ ان چند صفحات میں عصمت کچھ اس طرح اپنے پروں کو پھیلا کر اڑتی ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے اپنے بلند ترین مقام پر پہنچ جاتی ہیں۔ ”میں ایک بہن کی حیثیت سے نہیں عورت بن کر… میں بہن ہو کر نہیں انسان ہو کر کہتی ہوں“۔ انہیں اس عذرخواہی کی ضرورت بھی یوں پیش آئی کہ اپنی دیانت پر تو ایمان تھا پڑھنے والوں کی دیانت پر ایمان نہیں تھا لیکن چند فقروں میں وہ اپنے خلوص اور اپنی جرأت سے پڑھنے والوں کی ہمت بلند کر دیتی ہیں۔ آرٹسٹ کسی کا بھائی نہیں ہوتا۔ کسی کی بہن نہیں ہوتی۔ احساسات اور اقدار کی دنیا میں ایسے رشتے تو محض اتفاقات کا نام ہیں۔ چند لیبل جو نہ معلوم کن چیزوں پر لگے ہوئے ہیں۔ لیبل ہٹا کر دیکھئے تو نیتوں اور وہموں کا امتحان ہوگا۔ اور ذہن جلا پائے گا۔ عصمت نے کس خود اعتماد ی کے ساتھ لیبلوں کو ہٹا کر پھینک دیا ہے اور جو زندگی میں بھی لاش تھا اس کی لاش کو بھی زندہ کر دکھایا ہے۔
    مضمون ختم کرنے سے پہلے دو ایک باتیں عصمت کی زبان کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کے لغوی مذاق میں بھی ہمارے لئے ایک ہدایت ہے۔ عصمت کی انشا پر فارسی اور عربی کا اثر بہ نسبت اردو ادیبوں کے بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ او ریہ بےنیازی الفاظ تک ہی محدود نہیں بلکہ ترکیبوں اور فقروں کی ساخت میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ان کی تحریر بجز ایک آدھ لاحاصل سی نقالی کی انگریزی تراکیب اور انگریزی اسالیب خیال سے بھی پاک ہے۔ اس زمانہ کے اکثر انشاپردازوں کو بہ وجہ اپنی تعلیم یا ماحول کے اس سے مضر نہیں کہ ان کے کلام میں وقتاً فوقتاً انگریزی کے سر بھی سنائی دے جائیں۔ اردو میں مغربی تلمیحات روز بروز بڑھتی جاتی ہیں۔ چنانچہ عام مصنفوں میں بھی اور کچھ نہیں تو ترجمہ شدہ ترکیبوں کی گٹھلیاں تو اکثر مل جاتی ہیں۔ عصمت انگریزی کے خیر وشر دونوں سے مبرا ہیں۔ یہ تو بتانا ناممکن ہے کہ وہ کیا لطف ہے جو ان کو تحریر میں پیدا ہوجاتا اور اس پاکدامنی کی وجہ سے نہ پیدا ہوا۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس کی بدولت وہ ٹھیٹھ اردو کے بہت سے ایسے الفاظ کام میں لے آئی ہیں جو آج تک پردے سے باہر نہ نکلے تھے۔ اور جن کو اب انہوں نے نئے نئے مطالب کے اظہار کے قابل بنا دیا ہے۔ گویا ادھر اردو انشا کو ایک نئی جوانی نصیب ہوئی۔ ادھر خانہ نشین الفاظ کو تازہ ہوا میں سانس لینے کا موقع ملا۔ عصمت کے فقروں میں بول چال کی سی لطافت اور روانی ہے۔ اور جملوں کا زیرو بم روز مرہ کا سا پھرتیلا زیر وبم ہے۔ اس لئے ان کے فقروں کا سانس کبھی نہیں پھولتا۔ اور ان میں منیشانہ ثقالت اور تکلف نہیں آنے پاتے۔ مختصر یہ کہ الفاظ کے انتخاب اور فقروں کی ساخت ان دونوں رستوں سے وہ انشا کی زبان کو زندگی کے قریب تر لے آئی ہیں جس کے لئے ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہئے۔ اس نیک کام میں عصمت کے علاوہ چند اور قابل قدر اہل زبان انشا پرداز بھی شریک ہیں۔ (اور سچ تو یہ ہے کہ یہ کام اہل زبان کے سوا کسی دوسرے کے لئے کچھ ایسا آسان بھی نہیں) لیکن عصمت کے احسان کا بوجھ کچھ اس وجہ سے ہلکا نہیں ہوجاتا۔
    عصمت کوئی قدآور ادیب نہیں۔ اردو ادب میں جو امتیاز ان کو حاصل ہے اس سے منکر ہونا کج بینی اور بخل سے کم نہ ہوگا۔ اور یہ مضمون بذات خود اس امتیاز کا اعتراف ہے لیکن بھول نہ جانا چاہئے کہ ہمارا افسانہ ابھی سن رشد یاسنِ بلوغ کو نہیں پہنچا۔ آج کل جب کہ نظروں کو وسعت نصیب ہورہی ہے اور دنیا بھر کا ادب کتاب کی طرح ہمارے سامنے کھلا پڑا ہے۔ اردو ادب کے قدر دانوں میں یہ حوصلہ پیدا ہونا چاہئے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے ادب کا دنیا کے بہترین ادب سے مقابلہ کرتے رہیں۔ تاکہ تناسب کا احساس کند نہ ہونے پائے۔ مقامی تعصبات کی حقیقت واضح ہوتی رہے اور دل میں امنگ پیدا ہو۔ ہمارے ادب جدید کے پات ضرور چکنے چکنے ہیں لیکن اس میں ابھی بھی بڑے بڑے پھول نہیں لگے۔ اتنی حد بندی کرلینے کے بعد ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے میں ذرا بھی تامل نہ ہونا چاہئے کہ عصمت کی شخصیت اردو ادب کے لئے باعث فخر ہے۔ انہوں نے بعض ایسی پرانی فصیلوں میں رخنے ڈال دیئے ہیں کہ جب تک وہ کھڑی تھیں کئی رستے آنکھوں سے اوجھل تھے اس کارنامہ کے لئے اردو خوانوں ہی کو نہیں بلکہ اردو کے ادیبوں کو بھی ان کا ممنون ہونا چاہئے۔

(ساقی دہلی، فروری ۴۵ء)

* * *

جس کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

جس کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو

(آغا بابر)

    جس قلم سے آج یہ چند منتشر خیالات خراج عقیدت کے طور پر پروفیسر بخاری مرحوم کی نذر کررہا ہوں، یہ قلم چلانا انہوں نے ہی سکھایا تھا۔ وہ میرے استاد تھے۔ مشفق تھے۔ زندگی کی جنگ لڑنے کا اعتماد، حوصلہ نہ ہارنے کا جذبہ سب کچھ انہیں کی تہذیب وتربیت کا نتیجہ تھا۔ ان کی ناگہانی موت سے خیالات اس طرح پریشان ہیں کہ کیا لکھوں کیا نہ لکھوں کا رشتہ ترتیب قلم کے قابو سے باہر ہے۔ دماغ میں جو کچھ آرہا ہے جس ترتیب سے آرہا ہے اسی طرح پیش کر رہا ہوں:

خاطر مسلسل است پریشاں چوں زلفِ یار
عیبم مکن کہ در شب ہجراں نوشتہ ام

    گورنمنٹ کالج لاہور ہندوستان میں سب سے بڑی اور سب سے پرانی درسگاہ تھی۔ اس کی تعلیم کا ڈھنگ، علمی وادبی صحبتیں اور پروفیسروں کی قابلیت کا شہرہ دور دور تھا۔ لڑکے اس درسگاہ سے منجھ کر نکلتے۔ انہیں بھی فخر ہوتا اور پروفیسروں کو بھی۔ جب فرسٹ ائیر میں یہاں داخل ہوا تو پروفیسر بخاری انٹرویو بورڈ میں تھے بلکہ بورڈ میں انہیں کی رائے چلتی تھی۔ گردن میں آپریشن ہونے کی وجہ سے ایک گڑھا سا پڑتا تھا۔ جس کی وجہ سے نسیں کھنچی رہتیں۔ شکل وصورت ایرانیوں کی سی تھی۔ ان دنوں مسٹر گیرٹ پرنسپل تھے۔ پروفیسر بخاری کی وضع قطع، باتیں کرنے کا ڈھنگ، لباس اور اطوار سے یورپینی انداز ٹپکتا۔ کسی پروفیسر کی کیا مجال کی گیرٹ کے کمرے میں سگریٹ پیتے ہوئے گھس جائے۔ مگر پروفیسر بخاری جب پرنسپل کے کمرے میں جاتے تو ہم 'کی ہول' (Key Hole) میں سے دیکھتے۔ گیرٹ کے سامنے وہ کھڑے سگریٹ پیتے۔ دھواں نتھنوں سے نکلتا۔ کبھی کش لیتے تو دھواں منہ سے نکلتا نہ نتھنوں سے۔ باتیں کر رہے ہیں دھواں غائب اتنی دیر میں دھواں نتھنوں سے نکلتا پھر منہ سے۔ یہ تماشا سرکس میں دیکھا تھا۔ گورنمنٹ کالج کے چوٹی کے پروفیسر کا یہ انداز اپنے اندر عجیب وقار، حسن، اور کشش لئے ہوئے تھا۔ پروفیسر بخاری بی اے کو ڈرامہ پڑھاتے تھے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ میں ان کی باتیں سنوں۔ ان کی صحبت میں بیٹھوں۔
    اردو مجلس کے وہ صدر تھے۔ اجلاس ان کے مکان پر ہوتے تھے۔ وہ ان دنوں میکلوڈ روڈ پر عطر چند کپور بلڈنگ میں رہتے تھے۔ پہلی دفعہ مجھے وہیں پروفیسر بخاری کی باتیں سننے کا اتفاق ہوا۔ فلیٹ کے برآمدے کی آرائش اور ڈرائنگ روم کی سجاوٹ ہر شے میں مغربی انداز جلوہ گر تھا۔ اس مغربی ماحول میں اردو مجلس کی میٹنگ پھر گفتگو کا انداز اتنا بےتکلف، سب کے ساتھ خلوص آمیز میل ملاپ۔ اس مجلس میں سید امتیاز علی تاج اور سالک صاحب بھی موجود تھے۔ ان سے بخاری گفتگو کرتے تو بات بات کے ٹکراؤ سے عجب پھلجھڑیاں اور شرارے پھوٹتے۔ تین گھنٹے کی مجلس رہی، مگر وقت گزرنے کا پتہ نہ چلا۔
    ان کی ذات میں مشرق ومغرب کا جو لطیف امتزاج موجود تھا پہلی صحبت ہی میں آدمی اس سے متاثر ہوتا۔ کمال تو یہ تھا کہ وہ بڑے سے بڑے اہم اور سنجیدہ مسئلے پر بحث کرتے ہوئے کس طرح مزاح وظرافت سے اسے حل کرکے رکھ دیتے تھے۔ ان کے مزاج کی آراستگی ساری محفل کو گرما دیتی۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی گرفت تھی کہ خواہ مخواہ طبعتیں کھنچی چلی آتیں۔وہ ان دنوں گورنمنٹ کالج کی تہذیبی سرگرمیوں کے روح رواں تھے۔ گھر پر اردو مجلس کی کھیتی کو سینچ رہے تھے۔ راشد اور فیض کو جدید شاعری کے گل بوٹے سجانے پر شاباشیاں مل رہی تھیں۔ شام کو انگریزی ڈرامے 'دی مین ہو ایٹ دی پوپو میک' (The Man Who Ate The Popomack) کا ریہرسل کرا رہے ہیں۔ انگریزی مباحثوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ادب اور فلسفہ پر لیکچر تیار کررہے ہیں۔ پھر آستینیں چڑھی ہوئی ہیں، ہاتھ گرد آلود، ڈرامے کی سیٹنگ کا ٹھونکا ٹھانکی ہورہی ہے۔ وقت کے ایک ایک لمحے سے اس کا اس طرح رس نچوڑ رہے ہیں کہ وقت اپنی تہی دامنی پر نادم ہے۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ اتنا خوش آئند ہوتا کہ دیکھنے والوں میں بھی تکمیل کار کا ایک ولولہ جاگ اُٹھتا۔ جو لوگ ڈرامے کا ریہرسل دیکھنے آتے وہیں کے ہو رہتے۔ وہ لڑکوں کو یونیورسٹی ڈی بیٹ کے لئے تیاری کراتے تو لڑکوں کا یہی جی چاہتا کہ وہ بس ڈی بیٹ ہی کو زندگی کا مسلک بنا لیں۔ یہ بخاری صاحب کے خلوص کار کے کرشمے تھے۔
    صوفی تبسم اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ : ”بخاری کا مقولہ ہے کہ کسی کام کی صحیح تکمیل کے لئے انسان میں محض شوق نہیں بلکہ چسکا ہونا چاہئے چنانچہ وہ جب بھی کسی کام کو کرتے ہیں تو ایسے ذوق وشوق سے کرتے ہیں، گویا انہیں اس کام کا چسکا ہے“۔ ان کا اپنے شاگردوں سے بڑا مشفقانہ برتاؤ ہوتا تھا، کلاس میں بھی اور کلاس سے باہر بھی۔ اس کے باوجود ان سے جی ڈرتا۔ وہ اس لئے کہ جہاں کوئی اصول کی بات آجاتی وہ معاف نہ کرتے، ڈانٹ پڑجاتی۔ میں نے بی اے میں ان سے ڈرامہ پڑھا، شیکسپیئر کے وہ عاشق تھے۔ ”ہملٹ“ ہمارے نصاب میں تھا۔ جہاں پلونیئس لی آرٹینر کو تقریر کرتے ہوئے عقل ودانش کی باتیں سمجھاتا ہے جو انسانی زندگی اور دنیوی تجربوں کا نچوڑ ہیں۔ اس مقام پر شیکسپیئر نے جو باتیں سمجھائی ہیں ان کے متعلق پروفیسر بخاری ہمیں نوٹس لکھوانا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنا اپنا قلم سنبھالا۔ اصغر (اب کمانڈ کنٹرولر راولپنڈی) میرے دائیں ہاتھ بیٹھتا تھا۔ اس نے موٹا سا پیلے رنگ کا قلم نکالا۔ نوٹ بک پر اس روز کی تاریخ لکھی۔ اور میری نوٹ بک کی طرف دیکھنے لگا میں نے اپنے قلم سے تاریخ لکھنی چاہی تو قلم نے لکھنے سے انکار کر دیا۔ میں نے اصغر کی طرف دیکھا پھر قلم کو انگلی سے ذرا ٹھونک کر لکھنا چاہا۔ قلم نے نہ لکھا۔ میں نے اصغر کو زور سے کہنی ماری اور کہا۔

”ادہر مت دیکھو میرے قلم کو نظر لگ رہی ہے“۔

    پروفیسر بخاری نے مسکرا کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ہم اگلی بنچوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ دو سال ہوئے میں نے اپنے افسانوں کا تازہ مجموعہ ”لب گویا“ ن۔م۔راشد کے ہاتھ بخاری صاحب کو نیویارک بھیجا۔ میں نے اس پر لکھا۔۔ اپنے نالائق شاگرد کی طرف سے یہ کتاب قبول فرمائیے جو اگلی بنچوں پر اس لئے بیٹھا کرتا تھا کہ آپ پچھلی بنچوں پر بیٹھنے والوں سے سوال پوچھا کرتے تھے“۔۔ بخاری صاحب مسکرا کرکتاب دیکھنے لگے اور اگلے روز نئے سال کا کارڈ مجھے روانہ کیا جو اس وقت میرے سامنے موجود ہے، ہملٹ کا وہ نسخہ بھی جو پروفیسر بخاری ہمیں پڑھایا کرتے تھے میرے پاس موجود ہے۔ حقیقت میں تو ہمارے پاس ان کے وہ تحفے ہیں جن کو ہم نے زندگی بھر اپنائے رکھا ہے۔ یہ لکھنے کا روگ جو ہم طالب علمی کے زمانے سے پال رہے ہیں انہیں کی بخشش ہے۔ ڈرامے کا شوق بلکہ چسکا انہیں کا دیا ہوا ہے۔ جذبات کی یہ آگ جس نے استخواں تک کو جلا دیا ہے اور ابھی ”آرزوئے سوختن باقیت“ انہیں کا کرشمہ ہے انہوں نے ن۔م۔راشد کی حوصلہ افزائی کی۔ فیض کی کمر ٹھونکی۔ آغا عبدالحمید (سی ایس پی) بشیر قریشی (سی ایس پی) علی اصغر (سی ایس پی) رشید احمد (ڈپٹی ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان) اور مظہر علی خاں (سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز) پروفیسر بخاری کے وہ شاگرد ہیں جن کی علمی استعداد اور ادبی تہذیب وتربیت بخاری صاحب کی شخصیت کا پر تو ہیں۔ وہ روشنی کا چراغ جس سے ہزاروں چراغ جلے۔ سینکڑوں نے اکتساب نور کیا۔ آج اپنی لو ختم کر چکا۔۔ پرانے وقت تابڑ توڑ ذہن پر وارد ہورہے ہیں جن سے اپنے استاد کی تعظیم وتکریم میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس عظیم انسان کا وقار فضیلت بڑھ رہا ہے مرحوم کی شخصیت کا ایک پیارا پہلو یاد آیا۔  اصغر حسین قلعہ گوجر سنگھ میں رہتا تھا۔ پروفیسر صوفی تبسم نے کہا ”تم میکلوڈ روڈ سے گزرتے ہوئے بخاری صاحب کے ہاں چلے جانا اور ان سے کہنا کہ آج شام کو چھ بجے اردو مجلس کی میٹنگ ان کے مکان پر ہوگی“۔ اصغر نے عطر چند کپور بلڈنگ کے ساتھ بائیسکل رکھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر پہنچا۔ دروازہ اندر سے بند۔ بجلی کی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے انگلی رکھ کر بٹن کو زیادہ زور سے دبایا۔ پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ اب وہ انگلی رکھ کر دباتا ہی چلا گیا۔
بخاری صاحب ڈریسنگ گاؤن پہنے ہوئے آئے۔ دروازہ کھول کر بولے ”جو گھنٹی کے بٹن کے اوپر لکھا ہے تم نے پڑھا۔“ وہاں لکھا ہوا تھا ”Be Brief And Patient“ اصغر کچھ نہ بولا۔ انہوں نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا ”No Mistake in Future“ اور چلے گئے۔ اصغر حیران کہ اچھا پیغام دینے آئے کہ الٹی ڈانٹ کھا لی اور اس مرد خدا نے پوچھا تک نہیں کہ کیوں آئے کیا بات ہے؟ اصغر نے گھنٹی کو زور سے بجایا۔ سیڑھیاں اترا۔ بائیسکل لیا اور بھاگ گیا۔ اگلے دن پروفیسر بخاری کے پیریڈ میں اصغر کا دل دھڑک رہا تھا کہ وہ حاضری لے رہے تھے جب نمبر ۱۵۶ بولا تو رک گئے۔ اصغر کا برا حال، بخاری نے رجسٹر سے نظر اٹھائی۔ اصغر کی طرف دیکھا۔ ذرا سا ڈرمائی وقفہ دے کر بولے۔ ”I Liked It“
اور حاضری لینے لگے۔ اسی زمانے کی بات ہے۔ یونیورسٹی سے کہہ سن کر پروفیسر نے کالجوں میں پراکٹوریل سسٹم رائج کرایا۔ طلباء کو شناختی کارڈ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ نو بجے سے اوپر بغیر اجازت نامہ کے طالب علم گھر سے باہر نہیں رہ سکتا تھا۔ میں ایک دن پکڑا گیا۔ میں اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی کے ساتھ ایک کھانے پر مدعو تھا۔ انہوں نے مجھےگنڈیریاں لینے بھیج دیا۔ میں گوالمنڈی کے چوک میں گنڈیریاں تُلوا رہا تھا کہ ایک کار آکر رکی۔ بخاری صاحب بولے۔ ”اجازت نامہ؟“ میں نے کہا ”میں تو…“ بولے ”کل صبح“ اور چلے گئے۔ میں نے عاشق صاحب سے اجازت نامہ لیا کہ میری اجازت سے باہر گیا تھا۔ مگر بخاری صاحب نے دس روپے جرمانہ کر دیا۔ بولے ”اس وقت تمہارے پاس اجازت نامہ کیوں نہیں تھا؟ تم نے اصول توڑا ہے“۔ آج جب ہم اپنے بچوں سے اصول برتتے ہیں تو انہیں کیا معلوم کہ اس میں ہمارے پروفیسر کی تربیت بول رہی ہے ہم نے جو کچھ استاد سے سیکھا اگلی پود کو وہی کچھ دے رہے ہیں۔
    گذشتہ جنوری میں وہ ڈھائی برس کے بعد رخصت لے کر امریکہ سے پاکستان آئے۔ راولپنڈی میں اپنے بڑے لڑکے ہارون کے پاس چند دن رہے۔ میں ملنے گیا۔ وہی پرانی گرم جوشی اور بزرگانہ شفقت، پوچھنے لگے ”سنا ہے تم نے پنڈی میں ڈرامے اسٹیج کئے ہیں“۔ میں نے کہا ”آپ کی لگائی ہوئی آگ ابھی تک نہیں بجھی“یہ سن کر مسکرائے۔ میں نے کہا ”لٹل تھیٹر گروپ آپ کو چائے کی پیالی پلانے کا خواہشمند ہے۔ بولے ”میں ان تکلفات (Formalities) سے بڑا تھک گیا ہوں۔ تم بلاؤ تو آجاؤں گا۔ کراچی اور لاہور میں، میں نے کسی ادارے کی دعوت قبول نہیں کی۔ میں نے کہا ”لٹل تھیٹر کو کوئی پیغام ہی دے دیں“۔ بولے ”پیغام تو بڑے آدمی دیا کرتے ہیں“۔ راولپنڈی میں انہوں نے اپنے شاگردوں اور مداحوں کے ساتھ ایک شام بسر کی۔ عابد علی کے ہاں تین گھنٹے محفل جمی اور گفتگو کے بادشاہ کو ہم نے پھر بلندیوں پر اُڑتے دیکھا۔ دل خوش ہوا کہ دل کے دوروں نے ابھی تک اس عظیم شخصیت کا کچھ نہیں بگاڑا۔ وقت سے زندگی کا پورا رس نچوڑ لینے والا یہ انسان ابھی زندہ رہے گا۔
    وہ اپنے قیام کے دوران اپنے شاگردوں اور دوستوں سے پہلا سوال یہی کرتے رہے۔ کیا تم مطمئن ہونا؟“ اس سوال کو اولیت دینے کی وجہ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ہر شخص شاکی نظر آتا ہے۔ میں یہاں ایک عام فرسٹریشن دیکھ رہا ہوں بے دلی، بے اطمنانی اور محرومی کا احساس چاروں طرف دکھائی دے رہا ہے۔ لوگوں کی اپنی ذات میں دلچسپی انتہائی طور پر بڑھ گئی ہے۔ سب قوموں میں، میں نے یہ دیکھا ہے کہ ان کی قوم کا کوئی فرد امریکہ میں آئے تو وہ اس کی بےحد تعریف کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں یہ ہمارے ملک کا ممتاز اور قابل ترین فرد ہے۔ واحدپاکستانی ایسا شخص ہے جسے میں نے کبھی اپنے ملک کے فرد کی تعریف کرتے نہیں سنا۔ وہ تو دراصل یہ کہنا چاہتا ہے کہ ”سب سے ممتاز اور قابل ترین فرد تو میں ہوں“ یہ تو بس ایسوں میں سے ہی ہے۔ اگر کسی کو کوئی اچھا عہدہ مل جائے۔ کسی منصب پر کوئی جا پہنچے اور کسی پاکستانی سے کہا جائے کیوں بھئی وہ اچھے عہدے پر جاپہنچا؟ تو پتہ ہے وہ کیا جواب دیتا ہے۔۔ اوچھڈو جی… یہاں پھرا کرتا تھا!“ پھر میری طرف دیکھ کر بولے۔ کوئی اگر یہ کہے کہ بابر نے بڑا اچھا ڈرامہ اسٹیج کیا تو کہیں گے۔ اوچھڈو جی۔۔ کل ایتھے لگا پھرداسی۔
    اس چھڈو جی میں ہماری کم ہمتی، محرومیوں اور اہلیتوں کی بہت بڑی جھلک موجود ہے۔ پاکستان چھوٹا سا ملک ہے آخر یہاں ہی کے لوگ اچھے عہدوں پر متمکن ہوں گے مگر اس پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔ پاکستانی خود کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسرا اگر کچھ کرے اور اسے نیک نامی حاصل ہوجائے تو عام ردِ عمل یہی ہوتا ہے ”اوچھڈو جی“۔ کہنے لگے امریکہ میں ایک بین الاقوامی تقریب پر چوہدری سرظفر الله خاں کسی سے تنبورے کا ذکر کر رہے تھے۔ کسی غیر ملکی نے پوچھا تنبورے اور تان پورے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ کہنے لگے ”چلو بخاری سے پوچھیں وہ آل انڈیا ریڈیو کا ڈائریکٹرجنرل رہ چکا ہے“۔ میں نے کہا ”آل انڈیا ریڈیو کا ڈائریکٹر جنرل رہنا تبنورے اور تان پورے پر کوئی اتھارٹی نہیں ہوسکتا۔ آپ کی عمر کتنی ہوگی؟“ بولے ”پینسٹھ سال“ میں نے کہا ”جہاں آپ نے پینسٹھ سال تان پورے اور تنبورے کا فرق معلوم کئے بغیر گزار دیئے ہیں دو چار سال اور بھی گزار دیجئے۔
    پروفیسر صوفی تبسم کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پروفیسر بخاری کے رفیقوں میں سے ایک یونیورسٹی کے کسی رکن کی غلط کاریوں پر چیں بہ جبیں ہو رہے تھے۔ بخاری کہنے لگے ”بھائی صاحب میری دو باتیں یاد رکھو۔ زندگی میں کسی سے الجھنا ہو تو کسی بڑے مسئلے پر الجھنا چاہئے اور اپنے سے بڑے آدمی کے ساتھ الجھنا چاہئے ورنہ مزا نہیں آتا۔ انسان کی قوتیں اور کوششیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ کمزور آدمی کو دبانے میں کوئی شان نہیں۔ بڑے آدمی سے تصادم ہو تو انسان کی استعداد کار اور بھی چمکتی ہے۔ مجھے دیکھو میں نے ریڈیو کی ملازمت کے دوران ہمیشہ بڑے آدمیوں سے ٹکر لی ہے اور خدا کے فضل وکرم سے کامیاب رہا ہوں۔“
    جب علامہ اقبال کے کلام کے سلسلے میں یوپی کے بعض اہل قلم کی طرف سے اعتراضات اُٹھنے لگے تو ”زندہ دلان“ پنجاب نے ان سے جو جنگ لڑی تھی بخاری اس میں پیش پیش تھے۔ ٹکراؤ اور پھر استعداد کا حرکت میں آنا، یہ بات ان کے ڈرامے سے غایت درجہ شغف رکھنے کا ایک طبعی باعث قرار دی جا سکتی ہے اس طرح الجھنے اور ٹکرانے میں جو رکاوٹیں پیدا ہوتیں ان سے عہدہ برآمد ہونے کے لئے وہ کبھی تھکن محسوس نہ کرتے۔ میں نے انہیں ۱۹۵۳ء میں ہملٹ کا پارٹ ادا کرتے دیکھا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پروفیسر بخاری واقعی پرنس ہملٹ ہے۔ ڈرامائی ٹکراؤ، واقعاتی الجھاؤ، کرداری رکاوٹیں ہملٹ کا راستہ روکے کھڑی تھیں۔ اور وہ کس کس طرح ان سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ ہملٹ کے کردار کی جیتی جاگتی تصویر ہمارے سامنے آگئی۔
    نیویارک کے جس ڈاکٹر کے وہ زیر علاج رہے وہ بھی شیکسپیئر کا بڑا دلدادہ تھا۔ مریض اور ڈاکٹر دیر تک اسی موضوع پر باتیں کرتے رہتے۔ عارضہٴ قلب میں مبتلا ہونے کے بعد پروفیسر بخاری جب بھی ڈاکٹر سے طبی مشورہ کرتے تو مسکرا کر پُرمعنی انداز میں ضرور پوچھتے۔ کب ڈاکٹر؟ بتاؤ تو سہی کب؟“ نیویارک میں ملک ملک کے چوٹی کے اخباری نمائندے مقیم ہیں۔ وہ بخاری کی صحبت میں بیٹھنے کو بہت بڑا پُرمسرت اعزاز سمجھتے۔ ہر شخض ان کا مداح تھا۔ پروفیسر بخاری نے ایک بےچین اور مضطرب طبیعت پائی تھی۔ اس سیماب صفت انسان کا دماغ اس کے جسم سے اور اس کا جسم اس کے دماغ سے زیادہ تیز کام کرتا:

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز وساز رومی کبھی پیچ وتاب رازی

    موت کا فرشتہ دہلیز پر آکر بیٹھ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا اگر تم چاہو تو میں حاضر ہوں۔ رات تمہارے پاس ٹھہرتا ہوں۔ صبح چلا جاؤں گا۔ پروفیسر بخاری نے کہا ”نہیں، نرس جو میرے پاس موجود ہے۔“ ڈاکٹر نے مذاق سے کہا ”اچھا سویٹ پرنس شب بخیر“۔ مگر یہ رات اس کی آخرت رات تھی۔ موت کے فرشتہ نے دہلیز الانگ لی۔ بچے باپوں سے پوچھتے ہیں آج کون مرگیا، آپ اداس جو ہیں کون بتائے نئی پود کو آج وہ مرگیا جس نے کہا تھا۔ بچوں کو بہلانا سہل ہے بڑوں