بچے |
یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بچوں کی کئی قسمیں ہیں مثلاً بلی کے بچے، فاختہ کے بچے وغیرہ۔
مگر
میری مراد صرف انسان کے بچوں سے ہے، جن کی ظاہرا تو کئی قسمیں ہیں، کوئی پیارا بچہ
ہے اور کوئی ننھا سا بچہ ہے۔ کوئی پھول سا بچہ ہے اور کوئی چاند سا بچہ ہے۔ لیکن یہ
سب اس وقت تک کی باتیں ہیں۔ جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا پڑا ہے۔ جہاں بیدار
ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگے، بچے نے ان سب خطابات سے بےنیاز ہو کر
ایک الارم کلاک کی شکل اختیار کرلی۔
یہ جو میں نے اوپر لکھا ہے کہ بیدار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگتے ہیں یہ میں نے اور حکماء کے تجربات کی بنا پر لکھا ہے ورنہ حاشا وکلاء میں اس بات کا قائل نہیں۔ کہتے ہیں بچہ سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے لیکن مجھے آج تک سوائے اس کی قوت ناطقہ کے اور کسی قوت کا ثبوت نہیں ملا۔ کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوا ہے کہ روتا ہوا بچہ میرے حوالے کردیا گیا ہے کہ ذرا اسے چپ کرانا، میں نے جناب اس بچے کے سامنے گانے گائے ہیں، شعر پڑھے ہیں، ناچ ناچے ہیں، تالیاں بجائی ہیں، گٹھنوں کے بل چل کر گھوڑے کی نقلیں اتاری ہیں، بھیٹر بکری کی سی آوازیں نکالی ہیں، سر کے بل کھڑے ہو کر ہوا میں بائیسکل چلانے کے نمونے پیش کئے ہیں۔ لیکن کیا مجال جو اس بچے کی یکسوئی میں ذرا بھی فرق آیا ہو یا جس سُر پر اس نے شروع کیا تھا اس سے ذرا بھی نیچے اُترا ہو اور خدا جانے ایسا بچہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے تو کس وقت؟ بچے کی زندگی کا شاید ہی کوئی لمحہ ایسا گزرتا ہو جب اس کے لئے کسی نہ کسی قسم کا شور ضروری نہ ہو۔ اکثر اوقات تو وہ خود ہی سامعہ نوازی کرتے رہتے ہیں ورنہ یہ فرض ان کے لواحقین پر عائد ہوتا ہے۔ ان کو سلانا ہو تو لوری دیجئے۔ ہنسانا ہو تو مہمل سے فقرے بےمعنی سے بےمعنی منہ بنا کربلند سے بلند آواز میں ان کے سامنے دہرائیے اور کچھ نہ ہو تو شغل بےکاری کے طور پر ان کے ہاتھ میں ایک جھنجھنا دیدیجئے۔ یہ جھنجھنا بھی کم بخت کسی بےکار کی ایسی ایجاد ہے کہ کیا عرض کروں یعنی ذرا سا آپ ہلا دیجئے لڑھکتا چلا جاتا ہے او رجب تک دم میں دم ہے اس میں سے ایک ایسی بےسری، کرخت آواز متواتر نکلتی رہتی ہے کہ دنیا میں شاید اس کی مثال محال ہے اور جو آپ نے مامتا یا ”باپتا“ کے جوش میں آکر برخوردار کو ایک عدد وہ ربڑ کی گڑیا منگوا دی جس میں ایک بہت ہی تیز آواز کی سیٹی لگی ہوتی ہے تو بس پھر خدا حافظ۔ اس سے بڑھ کر میری صحت کے لئے مضر چیز دنیا میں اور کوئی نہیں۔ سوائے شاید اس ربڑ کے تھیلے کے جس کے منہ پر ایک سیٹی دار نالی لگی ہوتی ہے اور جس میں منہ سے ہوا بھری جاتی ہے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو والدین کہلاتے ہیں۔ بدقسمت ہیں تو وہ بےچارے جو قدرت کی طرف سے اس ڈیوٹی پر مقرر ہوئے ہیں کہ جب کسی عزیز یا دوست کے بچے کو دیکھیں تو ایسے موقع پر ان کے ذاتی جذبات کچھ ہی کیوں نہ ہوں وہ یہ ضرور کہیں کہ کیا پیارا بچہ ہے۔ میرے ساتھ کے گھر ایک مرزا صاحب رہتے ہیں۔ خدا کے فضل سے چھ بچوں کے والد ہیں۔ بڑے بچے کی عمر نو سال ہے۔ بہت شریف آدمی ہیں۔ ان کے بچے بھی بےچارے بہت ہی بےزبان ہیں۔ جب ان میں سے ایک روتا ہے تو باقی کے سب چپکے بیٹھے سنتے رہتے ہیں۔ جب وہ روتے روتے تھک جاتا ہے تو ان کا دوسرا برخوردار شروع ہوجاتا ہے۔ وہ ہار جاتا ہے تو تیسرے کی باری آتی ہے، رات کی دیوٹی والے بچے الگ ہیں۔ ان کا سُر ذرا باریک ہے۔ آپ انگلیاں چٹخوا کر، سر کی کھال میں تیل جھسوا کر، کانوں میں روئی دے کر، لحاف میں سر لپیٹ کر سوئیے، ایک لمحے کے اندر آپ کو جگا کے اُٹھا کے بٹھا نہ دیں تو میرا ذمہ۔ ان ہی مرزا صاحب کے گھر پہ جب میں جاتا ہوں تو ایک ایک بچہ کو بلا کر پیار کرتا ہوں۔ اب آپ ہی بتائیے میں کیا کروں۔ کئی دفعہ دل میں آیا مرزا صاحب سے کہوں حضرت آپ کی ان نغمہ سرائیوں نے میری زندگی حرام کر دی ہے، نہ دن کو کام کرسکتا ہوں نہ رات کو سوسکتا ہوں۔ لیکن یہ میں کہنے ہی کو ہوتا ہوں کہ ان کا ایک بچہ کمرے میں آجاتا ہے اور مرزا صاحب ایک والدانہ تبسم سے کہتے ہیں۔ اختر بیٹا!ان کو سلام کرو، سلام کرو بیٹا، ان کا نام اختر ہے۔ صاحب بڑا اچھا بیٹا ہے۔ کبھی ضد نہیں کرتا، کبھی نہیں روتا، کبھی ماں کو دق نہیں کرتا۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ وہی نالائق ہے جو رات کو دو بجے گلا پھاڑ پھاڑ کے روتا ہے۔ مرزا صاحب قبلہ تو شاید اپنے خراٹوں کے زور شور میں کچھ نہیں سنتے، بدبختی ہماری ہوتی ہے لیکن کہتا یہی ہوں کہ ”یہاں آؤ بیٹا“ گٹھنے پر بٹھا کر اس کا منہ بھی چومتا ہوں۔ خدا جانے آج کل کے بچے کس قسم کے بچے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہم بقرعید کو تھوڑا سا رولیا کرتے تھے او رکبھی کبھار کوئی مہمان آنکلا تو نمونے کے طور پر تھوڑی سی ضد کرلی، کیونکہ ایسے موقعہ پر ضد کارآمد ہوا کرتی تھی۔ لیکن یہ کہ چوبیس گھنٹے متواتر روتے رہیں۔ ایسی مشق ہم نے کبھی بہم نہ پہنچائی تھی۔ * * * |
اب اور تب |
|
جب مرض بہت پرانا ہوجائے اور صحت یابی کی کوئی امید باقی نہ رہے تو زندگی کی
تمام مسرتیں محدود ہو کر بس یہیں تک رہ جاتی ہیں کہ چارپائی کے سرہانے میز پر جو
انگور کا خوشا رکھا ہے اس کے چند دانے کھا لئے، مہینے دو مہینے کے بعد کوٹھے پر غسل
کر لیا یا گاہے گاہے ناخن ترشوا لئے۔
مجھے کالج کا مرض لاحق ہوئے اب کئی برس ہو چکے ہیں۔ شباب کا رنگین زمانہ امتحانوں میں جوابات لکھتے لکھتے گزر گیا۔ اور اب زندگی کے جو دو چار دن باقی ہیں وہ سوالات مرتب کرتے کرتے گزر جائیں گے۔ ایم اے کا امتحان گویا مرض کا بحران تھا۔ یقین تھا کہ اس کے بعد یا مرض نہ رہے گا یا ہم نہ رہیں گے۔ سو مرض تو بدستور باقی ہے اور ہم…ہر چند کہیں کہ ہیں…نہیں ہیں۔ طالب علمی کا زمانہ بےفکری کا زمانہ تھا۔ نرم نرم گدیلوں پر گزرا ،گویا بستر عیش پر دراز تھا۔ اب تو صاحبِ فراش ہوں۔ اب عیش صرف اس قدر نصیب ہے کہ انگور کھا لیا۔ غسل کرلیا۔ ناخن ترشوا لئے۔ تمام تگ ودو لائبریری کے ایک کمرے اور اسٹاف کے ایک ڈربے تک محدود ہے اور دونوں کے عین درمیان کا ہر موڑ ایک کمین گاہ معلوم ہوتا ہے۔ کبھی رادی سے بہت دلچسپی تھی۔ روزانہ علی الصباح اس کی تلاوت کیا کرتا تھا اب اس کے ایڈیٹر صاحب سے ملتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ کہیں نہ کہیں سلام روستائی کھینچ ماریں گے۔ ہال میں سے گزرنا قیامت ہے۔ وہم کا یہ حال ہے کہ ہر ستون کے پیچھے ایک ایڈیٹر چھپا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کالج کے جلسوں میں اپنی دریدہ دہنی سے بہت ہنگامہ آرائیاں کیں۔ صدر جلسہ بننے سے ہمیشہ گھبرایا کرتا ہوں کہ یہ ”دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ“ والا معاملہ ہے۔ اب جب کبھی جلسہ کا سن پاتا ہوں ایک خنک سا ضعف بدن پر طاری ہوجاتا ہے۔ جانتا ہوں کہ کرسیٴِ صدارت کی سولی پر چڑھنا ہوگا اور سولی بھی ایسی کہ انا الحق کا نعرہ نہیں لگا سکتا۔ قاضی صاحب قبلہ نے اگلے دن کالج میں ایک مشاعرہ کیا۔ مجھ سے بدگمانی اتنی کہ مجھے اپنے عین مقابل ایک نمایاں اور بلند مقام پر بٹھا دیا اور میری ہر حرکت پر نگاہ رکھی۔ میرےاردگرد محفل گرم تھی اور میں اس میں کنچن چنگا کرطرح اپنی بلندی پر جما بیٹھا تھا۔ جس دن کالج میں تعطیل ہوا کرتی مجھ پر اداسی سی چھا جاتی۔ جانتا کہ آج کے دن تہمد پوش، تولیہ بردار، صابن نواز ہستیاں دن کے بارہ ایک بجے تک نظر آتی رہیں گی۔ دن بھر لوگ گنے چوس چوس کر جا بجا پھوگ کے ڈھیر لگا دیں گے۔ جو رفتہ رفتہ آثار صنا دید کا سا مٹیالہ رنگ اختیار کرلیں گے۔ جہاں کسی کو ایک کرسی اور اسٹول میسر آگیا وہیں کھانا منگوا لے گا اور کھانا کھا چکنے پر کوؤں اور چیلوں کی ایک بستی آباد کرتا جائے گا تاکہ دنیا میں نام برقرار رہے۔ اب یہ حال ہے کہ مہینوں سے چھٹی کی تاک میں رہتا ہوں۔ جانتا ہوں کہ اگر اس چھٹی کے دن بال نہ کٹوائے تو پھر بات گرمی تعطیلات پر جا پڑے گی۔ مرزا صاحب سے اپنی کتاب واپس نہ لایا تو وہ بلا تکلف ہضم کرجائیں گے۔ مچھلی کے شکار کو نہ گیا تو پھر عمر بھر زندہ مچھلی دیکھنی نصیب نہ ہوگی۔ اب تو دلچسپی کے لئے صرف یہ باتیں رہ گئی ہیں کہ فورتھ ائیر کی حاضری لگانے لگتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اس دروزے کے پاس جو نوجوان سیاہ ٹوپی پہنے بیٹھے ہیں اور اس دروازے کے پاس جو نوجوان سفید پگڑی پہنے بیٹھے ہیں۔ حاضری ختم ہونے تک یہ دونوں جادو کی کرامات سے غائب ہوجائیں گے اور پھر ان میں سے ایک صاحب تو ہال میں نمودار ہوں گے اور دوسرے بھگت کی دکان میں دودھ پیتے دکھائی دیں گے۔ آج کل کے زمانے میں ایسی نظر بندی کا کھیل کم دیکھنے میں آتا ہے۔ یا صاحبِ کمال کے کرتب کا تماشا کرتا ہوں جو عین لیکچر کے دوران میں کھانستا کھانستا یک لخت اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور بیماروں کی طرح دروازے تک چل کر وہاں سے پھر ایسا بھاگتا ہے کہ پھر ہفتوں سراغ نہیں ملتا۔ یا ان اہل فن کی داد دیتا ہوں جو روزانہ دیر سے آتے ہیں اور یہ کہہ کر اپنی حاضری لگوا لیتے ہیں کہ صاحب غریب خانہ بہت دور ہے۔ جانتا ہوں کہ دولت خانہ ہاسٹل کی پہلی منزل پر ہے لیکن منہ سے کچھ نہیں کہتا۔ میری بات پر یقین انہیں بھلا کیسے آئے گا اور کبھی ایک دو منٹ کو فرصت نصیب ہو تو دل بہلانے کے لئے یہ سوال کافی ہے کہ ہال کی گھڑی مینار کی گھڑی سے تین منٹ پیچھے ہے۔ دفتر کی گھڑی ہال کی گھڑی سے سات منٹ آگے ہے۔ چپڑاسی نے صبح دوسری گھنٹی مینار کے گھڑیال سے پانچ منٹ پہلے بجائی اور تیسری گھنٹی ہال کی گھڑی سے نو منٹ پہلے تو مرکب سود کے قاعدے سے حساب لگا کر بتاؤ کہ کس کا سر پھوڑا جائے۔ وہی میں نے کہا نا کہ انگور کھا لیا، غسل کرلیا، ناخن ترشوالئے۔ دل نے دنیا نئی بنا ڈالی اور ۔۔ ہمیں آج تک خبر نہ ہوئی پطرس * * * |
ہمارے زمانے کا اردو ادیب |
تحریر: مظفر علی سید پطرس مرحوم نے یہ مقالہ ۱۹۴۵ء میں پی ای این کے سالانہ اجلاس منعقدہ جے پور میں
پڑھا تھا۔ اس میں انہوں نے اردو ادب کے جدید دور یعنی اقبال کے فوراً بعد کے زمانے
کو موضوع بنایا تھا۔ اور اپنے مخصوص چبھتے ہوئے انداز میں اس پر رائے زنی کی تھی۔
اس مضمون کی اصل خوبی تو ان کی انگریزی انشاء پردازی ہے جس کا اردو ترجمہ وہ خود ہی
کرتے تو کرتے۔ زیر نظر ترجمہ محض اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ لوگ بھی جو انگریزی سے
زیادہ واقف نہیں، ان کے اندازِ نظر اور جدید اردو ادب کے بارے میں ان کے نقطہٴ خیال
سے واقف ہوجائیں۔ * * * |
سرمحمد اقبال |
|
"وہ انسان جس نے اردو شاعری کو مردانہ پن بخشا"۔
اقبال کی وفات سے ہندستان ایک جلیل القدر شاعر سے کہیں زیادہ باعظمت ہستی سے محروم ہوگیا۔ وہ بطور ایک عالم متجر اور تاریخ، فلسفہ اور مذہب کے سرگرم طالب علم بھی ان لوگوں کے لئے جو اپنی محدود قابلیت کے سبب اس کی اعلیٰ شاعری تک رسائی سے قاصر تھے، منبع فیض وجود تھا۔ بطور شاعر اگرچہ اس کا مقام نہایت بلند تھا لیکن ادبی اور عمرانی دنیا میں اثر ونفوذ کے لحاظ سے اس کا مقام اس سے بھی بلند تر تھا۔ اس کی وفات سے جہاں مسلمانوں سے ایک فصیح اللسان پیغامبر اور ان کی تہذیب کا ایک بہت بڑا شارح چھن گیا ہے وہاں اردو شاعری سے خدا معلوم کتنی درازمدت کے لئے اہمیت اور منزلِ مقصود چھن گئی۔ کم وبیش چالیس سال گزرے جب اقبال کی شاعرانہ زندگی کا آغاز ہوا۔ اس وقت اردو شاعری اگرچہ لوگوں میں مقبول تھی او رہرکس وناکس اس سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ اس کا مقصد خود زندگی نہیں بلکہ محض زندگی کے حاشیہ کی تزئین سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ مقبول عام فن تھا مگر یہ فن محض فن کی خاطر اختیار کیا جاتا تھا۔ اس وقت شاعری کیا تھی؟ محض جذبات انگیز عیاشی، نرم ونازک، دل خوش کن، مزاحیہ یا ہجویہ، لیکن سراسر بےربط۔ اسی لئے اس کے اختیار کرنے میں سنجیدگی او رمتانت سے کام لینے کی ضرورت نہ سمجھی جاتی۔ لیکن مسلمانوں کے دلوں میں ایک نیا احساس کروٹیں لے رہا تھا۔ اور لوگوں کی زبان پر تعمیرات ملت اور ترقی کے الفاظ آنے شروع ہوگئے تھے۔ ان میں جو زیادہ ذکی الحس واقع ہوئے تھے۔ انہوں نے آرٹ کو پھر ڈھونڈ نکالا کہ یہ بھی انسان کے زیادہ اہم مشاغل میں سے ایک ہے اور اس کو اعلیٰ سنجیدگی اور مقصد ومدعا سے معمور کرنے کی کوشش کی گئی۔ چنانچہ حالی ایسا غزل گو عہد ِ شباب کی ہوس کاریوں سے تائب ہوکر مشہور زمانہ مسدّس کا مصنف بن گیا۔ جس نے خوابِ غفلت کے متوالے ہندوستانی مسلمانوں کو اس طرح جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگایا کہ کوئی ایک نظم نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد ایسا کرسکی۔ ان ہی حالات میں اقبال جس نے اسی فرسودہ ڈگر پر اپنی شاعری شروع کی تھی، محسوس کرنے لگا کہ اس کا دل مسلمانوں کے احیا اور ان کی نئی زندگی کے خواب سے مضطرب اور بےقرار ہے۔ ہندوستان ہمارا: اقبال کی ابتدائی نظموں سے ہی جو اس رجحان کے ماتحت لکھی گئیں۔ اس کے ولولہٴ عمل سے بےتاب دل اور اپنے وطن کے لئے جذباتِ محبت کا پتہ لگتا ہے اس کی نظم: ”سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے“ اب تک فرقہ وارانہ اتحاد کی سب سے زیادہ پُراثر اپیل ہے جو کسی محب وطن کے قلم
سے نکلی ہو۔ اور اس کا شہرہ آفاق گیت ”ہندوستان ہمارا“ میرے خیال میں بہترین قومی
گیت ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا اور جس سے بہتر گیت کی شاید مدت مدید تک
بننے کی امید نہیں ہوسکتی۔ لیکن مذہب اسلام کے غائر مطالعہ نے جو اقبال نے اپنی
زندگی کے آخری ایام تک مسلسل جاری رکھا۔ اس کے افق خیال کو وسعت بخشی۔ وطن اور ملک
کی نسبت سے قوموں کا تصور اس کی فطرت کے خلاف تھا۔ اپنی شاعری اور اپنی گفتگو میں
وہ ہمیشہ یورپ کی مثال دے کر انسانوں کو ملکوں اور وطنوں کے تنگ دائروں میں تقسیم
کرنے کی بیہودگی ثابت کیا کرتا۔ وہ ایک ایسے تمدنی نصب العین کا قائل تھا جو انسانوں
کو وطنوں اور قوموں کے اختلافات کی سطح سے بلند کر دے اور جو زندگی کو ایک مقصود
مدعا بخشے کیونکہ اس کے نزدیک آرٹ کا بامقصد ہونا محض زندگی کے اصول علت العلل کا
جزو لایئنفک تھا۔ اسی قسم کی ہمہ گیری اور بامقصدیت انہیں نظر آئی تو اسلام میں یا
چند جرمن فلسفیوں کی تعلیمات میں جن سے وہ بےدریغ اپنی شاعری میں استفادہ کرتا رہا۔ (پطرس کے انگریزی مضمون کا ترجمہ از صوفی ریاض حسین) * * * |
کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں |
|
عصمت چغتائی کے افسانہ میں ایک لڑکی دوسری کے متعلق کہتی ہے کہ ”سعیدہ موٹی تھی
تو کیا، کمزور تو حد سے زیادہ تھی بےچاری۔ لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے جی
کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے“۔ جب میں نے عصمت کی کلیاں اور چوٹیں دونوں مجموعے ختم کر
لئے اور جو چند دیباچے اور مضامین ان کے مداحین اور معترضین نے ان پر ازرہ تنقید
وتعارف لکھے ہیں ان سے بہرہ یاب ہوچکا تو استعارے کے رنگ میں یہ فقرہ پھر یاد آیا۔
”لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ جی کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے“۔
اس فقرے کے معانی کو کھینچ تان کر پھیلا لیجئے، اور اس پر تھوڑا سا فلسفیانہ رنگ پھیر لیجئے تو عصمت کے بعض کمالات اور نقادوں کی بعض کوتاہیوں کو بیان کرنے کا اچھا خاص بہانہ ہاتھ آجاتا ہے جو حال فربہی کا ہے وہی حال کئی او رمعروف اور متدا دل اور لیبلوں کا ہے جو مستعمل الفاظ اور عادات مستمرہ کی شکل میں قسم قسم کی اشیاء پر چپکے نظر آتے ہیں۔ ذہنی کسالت اور خوف اور بزدلی کے مارے ہم اکثر فیصلے لیبلوں ہی کو دیکھ کر صادر کر دیتے ہیں۔ ان سے آگے نکل کر اصل چیز کو جانچنے اور تولنے کی ہمت اپنے آپ میں نہیں پاتے۔ مامتا اور عشق پر دل گدازی کا لیبل مدت سے لگا ہوا ہے اس لئے جہاں ان کا ذکر آئے کہنے اور سننے والے دونوں ایک علّو اور ایک پاکیزہ رقت کے لئے پہلے ہی سے تیار ہو بیٹھتے ہیں۔ جنسی مشاغل تحقیق کہ پستی کی طرف لے جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کا بیان بغیر کراہت یا اخلاقی غیظ کے ہو تو لوگ برہم ہوجاتے ہیں۔ بہن بھائیوں کا سا پیار جاننا چاہئے کہ پاک محبت کا سب سے اونچا درجہ ہے لہٰذا بہن بھائی کے درمیان بجز اس جذبہٴ عالیہ کے کسی اور تعلق کی گنجائش ناممکن یا کم از کم نامناسب ضرور سمجھی جاتی ہے۔ عصمت چغتائی کے رہنما بھی اندھا دھند ایسے ہی کلیئے ہوتے تو ادب ان کی بہترین انشا سے محروم رہ جاتا لیکن ان کی بصیرت اس سے کہیں زیادہ دوررس ہے۔ وہ لیبلوں کے فریب میں نہیں آتیں اور جسم اور دل اور دماغ کی کئی کنیتیں ایسی ہیں جن سے وہ اکیلے میں دوچار ہوتے نہیں گھبراتیں۔ ایسے انشا پرداز کا بغیر حوصلہ مشاہدہ، وقت نظر اور جرأت بیان کے گزارہ نہیں۔ اور یہ ادیب کی خوش قسمتی ہے کہ عصمت کو یہ تینوں نعمتیں میسر ہیں۔ برخلاف اس کے احساس محرومی کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس جرأت اور وقت نظر میں سے عصمت کے نقادوں کو حصہ وافر نہیں ملا۔ فی الحال ان کا ذکر جانے دیجئے جن کو عصمت کی تحریروں میں اپنے اخلاق اور ادب دونوں کی تباہی نظر آتی ہے وہ تو ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیبل گوند سے چپکے ہوئے نہیں میخوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے ذہنوں میں ایک موٹی موٹی لکیروں والی جدول بنا رکھی ہے کہ ان چیزوں کا ذکر حلال ہے ان کا حرام ہے نامحرم کا ذکر ہم مقرر کر چکے ہیں کہ فحش ہے۔ محرم کا ذکر معاملہ بندی ہے یعنی جائز ہے۔ حرام کا بچہ فطرت کو منظور ہے تو ہوا کرے، ہمارے ادب کو منظور نہیں۔ اور یہ فطرت کا مطالعہ؟ محض ایک ڈھونگ! آوارہ مزاجوں کا عذر آوارگی! ہمیں بچپن میں مطالعہ پر کوئی مجبور نہ کرسکا تو اب کسی کی کیا مجال ہے؟ ہم جب بھی کھلونے سے دل بہلاتے تھے اب بھی کھلونوں سے دل بہلائیں گے… ایسے لوگوں سے اس وقت بحث نہیں کیونکہ وہ وہاں ہیں جہاں سے ان کو بھی شکایت ان سے ہے اور اپنوں کی شکایت ہے، بیگانوں کی سی نہیں۔ جو عصمت چغتائی کے قدر
دان اور مداح ہیں ان لیبلوں کے مضامین کو پڑھ کر روح میں ایک بالیدگی محسوس کرتے
ہیں جس سے دل میں امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور نئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ گلہ ہے کہ وہ
بھی ہر پھر کر لیبلوں ہی کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ افسوس کہ عصمت مرد نہیں اور
افسوس کہ لیبلوں میں سے سب سے بڑا اور گمراہ کن لیبل عورت ہے۔ مرد ذات کے قرنوں کے
خرابوں اور محرومیوں سے چپکا ہوا۔ عورت دلفریب ہے، مکار ہے، صنف نازک ہے، ایک معمہ
ہے، کمزور ہے، کم عقل ہے، مجموعہٴ اضداد ہے۔ جہاں آپ نے عورت کا نام لیا، ان میں سے
دو چارگھڑے گھڑائے معنی ذہن اُگل کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ چنانچہ اسی فریب میں آکر ہونہار
اور ذہین دیباچہ نویس فرماتے ہیں: (ساقی دہلی، فروری ۴۵ء) * * * |
|
جس کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو |
(آغا بابر) جس قلم سے آج یہ چند منتشر خیالات خراج عقیدت کے طور پر پروفیسر بخاری مرحوم کی نذر کررہا ہوں، یہ قلم چلانا انہوں نے ہی سکھایا تھا۔ وہ میرے استاد تھے۔ مشفق تھے۔ زندگی کی جنگ لڑنے کا اعتماد، حوصلہ نہ ہارنے کا جذبہ سب کچھ انہیں کی تہذیب وتربیت کا نتیجہ تھا۔ ان کی ناگہانی موت سے خیالات اس طرح پریشان ہیں کہ کیا لکھوں کیا نہ لکھوں کا رشتہ ترتیب قلم کے قابو سے باہر ہے۔ دماغ میں جو کچھ آرہا ہے جس ترتیب سے آرہا ہے اسی طرح پیش کر رہا ہوں:
خاطر مسلسل است پریشاں چوں زلفِ یار
گورنمنٹ کالج لاہور ہندوستان میں سب سے بڑی اور سب سے پرانی درسگاہ تھی۔ اس کی
تعلیم کا ڈھنگ، علمی وادبی صحبتیں اور پروفیسروں کی قابلیت کا شہرہ دور دور تھا۔
لڑکے اس درسگاہ سے منجھ کر نکلتے۔ انہیں بھی فخر ہوتا اور پروفیسروں کو بھی۔ جب
فرسٹ
ائیر میں یہاں داخل ہوا تو پروفیسر بخاری انٹرویو بورڈ میں تھے بلکہ بورڈ میں انہیں
کی رائے چلتی تھی۔ گردن میں آپریشن ہونے کی وجہ سے ایک گڑھا سا پڑتا تھا۔ جس کی وجہ
سے نسیں کھنچی رہتیں۔ شکل وصورت ایرانیوں کی سی تھی۔ ان دنوں مسٹر گیرٹ پرنسپل تھے۔
پروفیسر بخاری کی وضع قطع، باتیں کرنے کا ڈھنگ، لباس اور اطوار سے یورپینی انداز
ٹپکتا۔ کسی پروفیسر کی کیا مجال کی گیرٹ کے کمرے میں سگریٹ پیتے ہوئے گھس جائے۔ مگر
پروفیسر بخاری جب پرنسپل کے کمرے میں جاتے تو ہم 'کی ہول' (Key Hole) میں سے دیکھتے۔
گیرٹ کے سامنے وہ کھڑے سگریٹ پیتے۔ دھواں نتھنوں سے نکلتا۔ کبھی کش لیتے تو دھواں
منہ سے نکلتا نہ نتھنوں سے۔ باتیں کر رہے ہیں دھواں غائب اتنی دیر میں دھواں نتھنوں
سے نکلتا پھر منہ سے۔ یہ تماشا سرکس میں دیکھا تھا۔ گورنمنٹ کالج کے چوٹی کے
پروفیسر کا یہ انداز اپنے اندر عجیب وقار، حسن، اور کشش لئے ہوئے تھا۔ پروفیسر
بخاری بی اے کو ڈرامہ پڑھاتے تھے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ میں ان کی باتیں سنوں۔ ان
کی صحبت میں بیٹھوں۔ ”ادہر مت دیکھو میرے قلم کو نظر لگ رہی ہے“۔
پروفیسر بخاری نے مسکرا کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
ہم اگلی بنچوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ دو سال ہوئے میں نے اپنے افسانوں کا تازہ مجموعہ
”لب گویا“ ن۔م۔راشد کے ہاتھ بخاری صاحب کو نیویارک بھیجا۔ میں نے اس پر لکھا۔۔
اپنے نالائق شاگرد کی طرف سے یہ کتاب قبول فرمائیے جو اگلی بنچوں پر اس لئے بیٹھا
کرتا تھا کہ آپ پچھلی بنچوں پر بیٹھنے والوں سے سوال پوچھا کرتے تھے“۔۔ بخاری صاحب
مسکرا کرکتاب دیکھنے لگے اور اگلے روز نئے سال کا کارڈ مجھے روانہ کیا جو اس وقت
میرے سامنے موجود ہے، ہملٹ کا وہ نسخہ بھی جو پروفیسر بخاری ہمیں پڑھایا کرتے تھے
میرے پاس موجود ہے۔ حقیقت میں تو ہمارے پاس ان کے وہ تحفے ہیں جن کو ہم نے زندگی بھر
اپنائے رکھا ہے۔ یہ لکھنے کا روگ جو ہم طالب علمی کے زمانے سے پال رہے ہیں انہیں کی
بخشش ہے۔ ڈرامے کا شوق بلکہ چسکا انہیں کا دیا ہوا ہے۔ جذبات کی یہ آگ جس نے
استخواں تک کو جلا دیا ہے اور ابھی ”آرزوئے سوختن باقیت“ انہیں کا کرشمہ ہے انہوں
نے ن۔م۔راشد کی حوصلہ افزائی کی۔ فیض کی کمر ٹھونکی۔ آغا عبدالحمید (سی ایس پی)
بشیر قریشی (سی ایس پی) علی اصغر (سی ایس پی) رشید احمد (ڈپٹی ڈائریکٹر ریڈیو
پاکستان) اور مظہر علی خاں (سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز) پروفیسر بخاری کے وہ شاگرد
ہیں جن کی علمی استعداد اور ادبی تہذیب وتربیت بخاری صاحب کی شخصیت کا پر تو ہیں۔
وہ روشنی کا چراغ جس سے ہزاروں چراغ جلے۔ سینکڑوں نے اکتساب نور کیا۔ آج اپنی لو
ختم کر چکا۔۔
پرانے وقت تابڑ توڑ ذہن پر وارد ہورہے ہیں جن سے اپنے استاد کی تعظیم وتکریم میں
اضافہ ہو رہا ہے اور اس عظیم انسان کا وقار فضیلت بڑھ رہا ہے مرحوم کی شخصیت کا ایک
پیارا پہلو یاد آیا۔ اصغر حسین قلعہ گوجر سنگھ میں رہتا تھا۔ پروفیسر صوفی تبسم نے کہا ”تم میکلوڈ روڈ
سے گزرتے ہوئے بخاری صاحب کے ہاں چلے جانا اور ان سے کہنا کہ آج شام کو چھ بجے اردو
مجلس کی میٹنگ ان کے مکان پر ہوگی“۔
اصغر نے عطر چند کپور بلڈنگ کے ساتھ بائیسکل رکھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر پہنچا۔
دروازہ اندر سے بند۔ بجلی کی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے انگلی رکھ
کر بٹن کو زیادہ زور سے دبایا۔ پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ اب وہ انگلی رکھ کر دباتا
ہی چلا گیا۔
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں موت کا فرشتہ دہلیز پر آکر بیٹھ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا اگر تم چاہو تو میں حاضر ہوں۔ رات تمہارے پاس ٹھہرتا ہوں۔ صبح چلا جاؤں گا۔ پروفیسر بخاری نے کہا ”نہیں، نرس جو میرے پاس موجود ہے۔“ ڈاکٹر نے مذاق سے کہا ”اچھا سویٹ پرنس شب بخیر“۔ مگر یہ رات اس کی آخرت رات تھی۔ موت کے فرشتہ نے دہلیز الانگ لی۔ بچے باپوں سے پوچھتے ہیں آج کون مرگیا، آپ اداس جو ہیں کون بتائے نئی پود کو آج وہ مرگیا جس نے کہا تھا۔ بچوں کو بہلانا سہل ہے بڑوں |