|
جس کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو |
(آغا بابر) جس قلم سے آج یہ چند منتشر خیالات خراج عقیدت کے طور پر پروفیسر بخاری مرحوم کی نذر کررہا ہوں، یہ قلم چلانا انہوں نے ہی سکھایا تھا۔ وہ میرے استاد تھے۔ مشفق تھے۔ زندگی کی جنگ لڑنے کا اعتماد، حوصلہ نہ ہارنے کا جذبہ سب کچھ انہیں کی تہذیب وتربیت کا نتیجہ تھا۔ ان کی ناگہانی موت سے خیالات اس طرح پریشان ہیں کہ کیا لکھوں کیا نہ لکھوں کا رشتہ ترتیب قلم کے قابو سے باہر ہے۔ دماغ میں جو کچھ آرہا ہے جس ترتیب سے آرہا ہے اسی طرح پیش کر رہا ہوں:
خاطر مسلسل است پریشاں چوں زلفِ یار
گورنمنٹ کالج لاہور ہندوستان میں سب سے بڑی اور سب سے پرانی درسگاہ تھی۔ اس کی
تعلیم کا ڈھنگ، علمی وادبی صحبتیں اور پروفیسروں کی قابلیت کا شہرہ دور دور تھا۔
لڑکے اس درسگاہ سے منجھ کر نکلتے۔ انہیں بھی فخر ہوتا اور پروفیسروں کو بھی۔ جب
فرسٹ
ائیر میں یہاں داخل ہوا تو پروفیسر بخاری انٹرویو بورڈ میں تھے بلکہ بورڈ میں انہیں
کی رائے چلتی تھی۔ گردن میں آپریشن ہونے کی وجہ سے ایک گڑھا سا پڑتا تھا۔ جس کی وجہ
سے نسیں کھنچی رہتیں۔ شکل وصورت ایرانیوں کی سی تھی۔ ان دنوں مسٹر گیرٹ پرنسپل تھے۔
پروفیسر بخاری کی وضع قطع، باتیں کرنے کا ڈھنگ، لباس اور اطوار سے یورپینی انداز
ٹپکتا۔ کسی پروفیسر کی کیا مجال کی گیرٹ کے کمرے میں سگریٹ پیتے ہوئے گھس جائے۔ مگر
پروفیسر بخاری جب پرنسپل کے کمرے میں جاتے تو ہم 'کی ہول' (Key Hole) میں سے دیکھتے۔
گیرٹ کے سامنے وہ کھڑے سگریٹ پیتے۔ دھواں نتھنوں سے نکلتا۔ کبھی کش لیتے تو دھواں
منہ سے نکلتا نہ نتھنوں سے۔ باتیں کر رہے ہیں دھواں غائب اتنی دیر میں دھواں نتھنوں
سے نکلتا پھر منہ سے۔ یہ تماشا سرکس میں دیکھا تھا۔ گورنمنٹ کالج کے چوٹی کے
پروفیسر کا یہ انداز اپنے اندر عجیب وقار، حسن، اور کشش لئے ہوئے تھا۔ پروفیسر
بخاری بی اے کو ڈرامہ پڑھاتے تھے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ میں ان کی باتیں سنوں۔ ان
کی صحبت میں بیٹھوں۔ ”ادہر مت دیکھو میرے قلم کو نظر لگ رہی ہے“۔
پروفیسر بخاری نے مسکرا کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
ہم اگلی بنچوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ دو سال ہوئے میں نے اپنے افسانوں کا تازہ مجموعہ
”لب گویا“ ن۔م۔راشد کے ہاتھ بخاری صاحب کو نیویارک بھیجا۔ میں نے اس پر لکھا۔۔
اپنے نالائق شاگرد کی طرف سے یہ کتاب قبول فرمائیے جو اگلی بنچوں پر اس لئے بیٹھا
کرتا تھا کہ آپ پچھلی بنچوں پر بیٹھنے والوں سے سوال پوچھا کرتے تھے“۔۔ بخاری صاحب
مسکرا کرکتاب دیکھنے لگے اور اگلے روز نئے سال کا کارڈ مجھے روانہ کیا جو اس وقت
میرے سامنے موجود ہے، ہملٹ کا وہ نسخہ بھی جو پروفیسر بخاری ہمیں پڑھایا کرتے تھے
میرے پاس موجود ہے۔ حقیقت میں تو ہمارے پاس ان کے وہ تحفے ہیں جن کو ہم نے زندگی بھر
اپنائے رکھا ہے۔ یہ لکھنے کا روگ جو ہم طالب علمی کے زمانے سے پال رہے ہیں انہیں کی
بخشش ہے۔ ڈرامے کا شوق بلکہ چسکا انہیں کا دیا ہوا ہے۔ جذبات کی یہ آگ جس نے
استخواں تک کو جلا دیا ہے اور ابھی ”آرزوئے سوختن باقیت“ انہیں کا کرشمہ ہے انہوں
نے ن۔م۔راشد کی حوصلہ افزائی کی۔ فیض کی کمر ٹھونکی۔ آغا عبدالحمید (سی ایس پی)
بشیر قریشی (سی ایس پی) علی اصغر (سی ایس پی) رشید احمد (ڈپٹی ڈائریکٹر ریڈیو
پاکستان) اور مظہر علی خاں (سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز) پروفیسر بخاری کے وہ شاگرد
ہیں جن کی علمی استعداد اور ادبی تہذیب وتربیت بخاری صاحب کی شخصیت کا پر تو ہیں۔
وہ روشنی کا چراغ جس سے ہزاروں چراغ جلے۔ سینکڑوں نے اکتساب نور کیا۔ آج اپنی لو
ختم کر چکا۔۔
پرانے وقت تابڑ توڑ ذہن پر وارد ہورہے ہیں جن سے اپنے استاد کی تعظیم وتکریم میں
اضافہ ہو رہا ہے اور اس عظیم انسان کا وقار فضیلت بڑھ رہا ہے مرحوم کی شخصیت کا ایک
پیارا پہلو یاد آیا۔ اصغر حسین قلعہ گوجر سنگھ میں رہتا تھا۔ پروفیسر صوفی تبسم نے کہا ”تم میکلوڈ روڈ
سے گزرتے ہوئے بخاری صاحب کے ہاں چلے جانا اور ان سے کہنا کہ آج شام کو چھ بجے اردو
مجلس کی میٹنگ ان کے مکان پر ہوگی“۔
اصغر نے عطر چند کپور بلڈنگ کے ساتھ بائیسکل رکھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر پہنچا۔
دروازہ اندر سے بند۔ بجلی کی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے انگلی رکھ
کر بٹن کو زیادہ زور سے دبایا۔ پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ اب وہ انگلی رکھ کر دباتا
ہی چلا گیا۔
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
موت کا فرشتہ دہلیز پر آکر بیٹھ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا اگر تم چاہو تو میں حاضر
ہوں۔ رات تمہارے پاس ٹھہرتا ہوں۔ صبح چلا جاؤں گا۔ پروفیسر بخاری نے کہا ”نہیں، نرس
جو میرے پاس موجود ہے۔“
ڈاکٹر نے مذاق سے کہا ”اچھا سویٹ پرنس شب بخیر“۔
مگر یہ رات اس کی آخرت رات تھی۔ موت کے فرشتہ نے دہلیز الانگ لی۔
بچے باپوں سے پوچھتے ہیں آج کون مرگیا، آپ اداس جو ہیں کون بتائے نئی پود کو آج وہ
مرگیا جس نے کہا تھا۔ بچوں کو بہلانا سہل ہے بڑوں کا بہلانا سہل نہیں۔
نمی دانم حدیث نامہ چوں است * * * |
|
اقوام متحدہ میں پروفیسر بخاری سے ملاقات |
(ڈاکٹر محمد عبدالله چغتائی)
مغربی اور مشرقی فن میں اصولی فرق میرے نزدیک ایک یہ بھی ہے کہ مغربی فن کی تصویر
کو دور سے دیکھنے سے جو اس کی خوبیاں نظر آتی ہیں، وہ نزدیک سے دھبے دکھائی دیتے ہیں۔
یعنی اس کی صحیح نمائش دور سے ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مشرقی فن کی تصویر کے صحیح
خط وخال اور خوبیاں اس کو جس قدر بھی قریب سے دیکھا جائے گا زیادہ نظر آئیں گی ورنہ
دور سے ایک مدہم مدہم یکساں رنگ کی دھندلی سی سطح معلوم ہوگی۔ چنانچہ ہم مرحوم احمد
شاہ بخاری کو جب کبھی دور سے دیکھتے تو صحیح معنوں میں کسی یورپی یونیورسٹی کے ایک
سجے سجائے مکمل پروفیسر نظر آتے۔ مگر جب کبھی ان کے پاس بیٹھ کر گفتگو سننے کا موقع
ملتا تو ان کے برجستہ مسکراہٹ لئے ہوئے مادری زبان میں بےساختہ جملے ظاہر کرتے کہ
ان کا نہایت مکمل ظاہری مغربی لباس ان کی مشرقیت پر ایک ملمع ہے ۔ اور ان کی مشرقیت
کے جوہر آہستہ آہستہ گفتگو کے مدارج طے کرتے کرتے واضح ہوتے چلے جاتے بلکہ ان کی
تمام انگریزی اور انگریزیت ان کی مشرقیت کے طابع نظر آنے لگتی۔ * * * |
|
ضابطہ، بے ضابطہ |
(عشرت رحمانی)
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں،
بات ۱۹۳۴ء کی ہے۔ دہلی میں آل انڈیا ریڈیو کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ محکمہ کے
کنٹرولر ذہین وطباع انگریز مسٹر لائنیل فلیڈن، اسٹیشن ڈائریکٹر مسٹر اسٹپلٹن اور
پروگرام ڈائریکٹر سید ذوالفقار علی بخاری (ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل)
تھے۔ ان کے علاوہ آغا محمد اشرف (بنیرہٴ آزاد) اور سجاد سرور نیازی جیسے اہل فن
حضرات بھی عملہ کے رکن تھے۔ مسٹر فیلڈن خود ایک ماہر اہل قلم ہونے کے ساتھ نشریات
کے رموز سے بھی کما حقہ واقف تھے جو ارباب ہنر انہوں نے جمع کئے تھے ان کے لئے ایسے
سرگروہ کی تلاش تھی جو ان کی صحیح قیادت کی اہلیت رکھتا ہو اور ملک کے لئے نشریات
کا موزوں لائحہ عمل مرتب کرکے ان کو مناسب طریقے پر چلا سکے۔ چنانچہ مسٹر فیلڈن نے
برصغیر کی تمام یونیورسٹیوں کو مراسلے بھیجے کہ وہ اپنے اداروں سے ایسے لائق اہل
علم وہنر چن کر اس کام کے لئے بھیجیں جن کے تعاون سے وہ اپنے دست وبازو مضبوط کرکے
باضابطہ کام چلا سکیں چنانچہ کئی اداروں کے اربابِ اختیار نے چند اہم شخصیتوں کو
منتخب کرکے مسٹر فیلڈن سے ملاقات کے لئے بھیج دیا۔ ان میں دو نام خاص تھے۔ ایک مسلم
یونیورسٹی علی گڑھ کے پروفیسر رشید احمد صدیقی اور دوسرے گورنمنٹ کالج لاہور کے
پروفیسر سید احمد شاہ بخاری پطرس۔ یہ حسنِ اتفاق تھا یا حسنِ انتخاب کہ یہ دونوں
حضرات اردو کے مشہور مزاح نگار اور بلند پایہ ادیب بھی تھے اور ادب انگریزی کے
پروفیسر بھی۔ بضاعتِ سخن آخر شدو سخن باقیست * * * |
|
میرا شہرہ آفاق استاد |
(ڈاکٹر حمید الدین)
میں سمجھتا ہوں کہ مجھے سینکڑوں نہیں تو بیسیوں ایسے احباب سے معذرت طلب کرنی چاہئے
جو مجھ سے کہیں زیادہ پروفیسر بخاری سے واقفیت کا دم بھرتے ہیں۔ میں پروفیسر بخاری
کی روح سے بھی معذرت خواہ ہوں کیونکہ ہو سکتا ہے میں اپنے بیان میں بعض ایسی باتیں
کہہ جاؤں جو موصوف کی شخصیت کے بارے میں سوفیصدی درست نہ ہوں۔ (ترجمہ) * * * |
|
پطرس |
(حکیم یوسف حسن)
جینئس بننے یاکہلانے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی کی پشت پر بہت سی تصنیفات لدی
ہوں یا اس کے سینے پر بہت سی تعلیمی ڈگریوں کے طلائی تمغے جھلملا رہے ہوں۔ جینئس
پیدائشی ہوتا ہے، اکتسابی نہیں ہوتا اس کی غیر معمولی ذہانت ہی اسے اس رتبہ پر
پہنچا دیتی ہے۔اس ربع صدی کے نامور اور ذہین ادباء ایک نظر ڈالی جائے تو زیادہ سے زیادہ ایک
درجن ناموں پر نگاہ رکتی ہے اور اس نظریہ کے ثبوت میں کہ غیرمعمولی ذہانت کا
ڈگریوں سے کوئی تعلق نہیں ہمیں تاثیر وپطرس کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔
تاثیر میرا دوست، میرا ساتھ اور نیرنگ خیال کا مدیر معاون تھا اس لحاظ سے تاثیر
مرحوم کے مجھ پر بہت سے حق حقوق ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب تاثیر کیمبرج میں داخلے
کے لئے پہنچے تو انہوں نے بی اے میں داخلہ لیا۔ اور پطرس نے بھی بی اے ہی میں داخلہ
لیا۔ لیکن تاثیر نے انگریزی ادب کے متعلق اتنا کچھ پڑھا ہوا تھا کہ اگر میں کہہ دوں
کہ وہ کئی لائبریریوں کو نگل چکا تھا تو اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے، کیمبرج کے
پروفیسر سے تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا۔ وہ تاثیر کی عظیم واقفیت سے بےحد متاثر
ہوئے اور انہوں نے اسے براہِ راست ایم اے میں داخلے کی اجازت دے دی او رپھر ایم اے
میں اس کی قابلیت کے جوہر جو کھلے تو کیمبرج کے مروجہ دستور کے علی الرغم انہیں پی
ایچ ڈی میں بیٹھنے کی اجازت کیمبرج کونسل کے ایک اسپیشل اجلاس میں دے دی گئی۔ تاثیر
کو پی ایچ ڈی کے لئے قرون وسطیٰ کی انگریزی نظم میں تصوف کے رجحانات پر تحقیقی مقالہ
تیار کرنا تھا۔ عنوان ہی سے اس کی سنگ لاخی ظاہر ہے مگر تاثیر نے کیمبرج سے پی ایچ
ڈی نمایاں حیثیت سے حاصل کر لی۔ شاید تاثیر پہلے ہندوستانی تھے جنہیں یہ فضیلت
حاصل ہوئی تھی۔ تاثیر مرحوم نے اس واقعہ کی تفصیل اپنے ایک خط میں دی ہے جو نیرنگ
خیال میں شائع ہوچکا ہے۔ ہر چہ بہ قامت کہتر یہ قیمت بہتر
اس کے مصداق یہ چند مضامین ہی پطرس کی عالمگیر شہرت اور ناموری کا باعث بن گئے۔ اگر
میں یہ کہہ دوں کہ ہندو پاکستان کی تمام مزاحیہ کتابوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں
ڈالا جائے اور پطرس کے مضامین دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں تو پطرس کے مضامین بھاری
رہیں گے۔
پطرس کے مضامین کے بعض حصے نیرنگ خیال میں بھی شائع ہوچکے ہیں اور پطرس کی یہ
مزاحیہ تصنیف تو قریباً ہر پڑھے لکھے آدمی کی نظر سے گذری ہوگی لیکن پطرس نے ان
مزاحیہ مضامین کے علاوہ اور بھی بہت کچھ لکھا ہے جس کا مجموعہ نقوش کے اس خاص نمبر
میں آپ کے ملاحظہ سے گزرے گا اور جس سے معلوم ہوگا کہ پطرس نے ادب اور زندگی کے ہر
شعبہ میں بہت سی کارآمد باتیں لکھی ہیں۔ * * * |