جس کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

جس کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو

(آغا بابر)

    جس قلم سے آج یہ چند منتشر خیالات خراج عقیدت کے طور پر پروفیسر بخاری مرحوم کی نذر کررہا ہوں، یہ قلم چلانا انہوں نے ہی سکھایا تھا۔ وہ میرے استاد تھے۔ مشفق تھے۔ زندگی کی جنگ لڑنے کا اعتماد، حوصلہ نہ ہارنے کا جذبہ سب کچھ انہیں کی تہذیب وتربیت کا نتیجہ تھا۔ ان کی ناگہانی موت سے خیالات اس طرح پریشان ہیں کہ کیا لکھوں کیا نہ لکھوں کا رشتہ ترتیب قلم کے قابو سے باہر ہے۔ دماغ میں جو کچھ آرہا ہے جس ترتیب سے آرہا ہے اسی طرح پیش کر رہا ہوں:

خاطر مسلسل است پریشاں چوں زلفِ یار
عیبم مکن کہ در شب ہجراں نوشتہ ام

    گورنمنٹ کالج لاہور ہندوستان میں سب سے بڑی اور سب سے پرانی درسگاہ تھی۔ اس کی تعلیم کا ڈھنگ، علمی وادبی صحبتیں اور پروفیسروں کی قابلیت کا شہرہ دور دور تھا۔ لڑکے اس درسگاہ سے منجھ کر نکلتے۔ انہیں بھی فخر ہوتا اور پروفیسروں کو بھی۔ جب فرسٹ ائیر میں یہاں داخل ہوا تو پروفیسر بخاری انٹرویو بورڈ میں تھے بلکہ بورڈ میں انہیں کی رائے چلتی تھی۔ گردن میں آپریشن ہونے کی وجہ سے ایک گڑھا سا پڑتا تھا۔ جس کی وجہ سے نسیں کھنچی رہتیں۔ شکل وصورت ایرانیوں کی سی تھی۔ ان دنوں مسٹر گیرٹ پرنسپل تھے۔ پروفیسر بخاری کی وضع قطع، باتیں کرنے کا ڈھنگ، لباس اور اطوار سے یورپینی انداز ٹپکتا۔ کسی پروفیسر کی کیا مجال کی گیرٹ کے کمرے میں سگریٹ پیتے ہوئے گھس جائے۔ مگر پروفیسر بخاری جب پرنسپل کے کمرے میں جاتے تو ہم 'کی ہول' (Key Hole) میں سے دیکھتے۔ گیرٹ کے سامنے وہ کھڑے سگریٹ پیتے۔ دھواں نتھنوں سے نکلتا۔ کبھی کش لیتے تو دھواں منہ سے نکلتا نہ نتھنوں سے۔ باتیں کر رہے ہیں دھواں غائب اتنی دیر میں دھواں نتھنوں سے نکلتا پھر منہ سے۔ یہ تماشا سرکس میں دیکھا تھا۔ گورنمنٹ کالج کے چوٹی کے پروفیسر کا یہ انداز اپنے اندر عجیب وقار، حسن، اور کشش لئے ہوئے تھا۔ پروفیسر بخاری بی اے کو ڈرامہ پڑھاتے تھے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ میں ان کی باتیں سنوں۔ ان کی صحبت میں بیٹھوں۔
    اردو مجلس کے وہ صدر تھے۔ اجلاس ان کے مکان پر ہوتے تھے۔ وہ ان دنوں میکلوڈ روڈ پر عطر چند کپور بلڈنگ میں رہتے تھے۔ پہلی دفعہ مجھے وہیں پروفیسر بخاری کی باتیں سننے کا اتفاق ہوا۔ فلیٹ کے برآمدے کی آرائش اور ڈرائنگ روم کی سجاوٹ ہر شے میں مغربی انداز جلوہ گر تھا۔ اس مغربی ماحول میں اردو مجلس کی میٹنگ پھر گفتگو کا انداز اتنا بےتکلف، سب کے ساتھ خلوص آمیز میل ملاپ۔ اس مجلس میں سید امتیاز علی تاج اور سالک صاحب بھی موجود تھے۔ ان سے بخاری گفتگو کرتے تو بات بات کے ٹکراؤ سے عجب پھلجھڑیاں اور شرارے پھوٹتے۔ تین گھنٹے کی مجلس رہی، مگر وقت گزرنے کا پتہ نہ چلا۔
    ان کی ذات میں مشرق ومغرب کا جو لطیف امتزاج موجود تھا پہلی صحبت ہی میں آدمی اس سے متاثر ہوتا۔ کمال تو یہ تھا کہ وہ بڑے سے بڑے اہم اور سنجیدہ مسئلے پر بحث کرتے ہوئے کس طرح مزاح وظرافت سے اسے حل کرکے رکھ دیتے تھے۔ ان کے مزاج کی آراستگی ساری محفل کو گرما دیتی۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی گرفت تھی کہ خواہ مخواہ طبعتیں کھنچی چلی آتیں۔وہ ان دنوں گورنمنٹ کالج کی تہذیبی سرگرمیوں کے روح رواں تھے۔ گھر پر اردو مجلس کی کھیتی کو سینچ رہے تھے۔ راشد اور فیض کو جدید شاعری کے گل بوٹے سجانے پر شاباشیاں مل رہی تھیں۔ شام کو انگریزی ڈرامے 'دی مین ہو ایٹ دی پوپو میک' (The Man Who Ate The Popomack) کا ریہرسل کرا رہے ہیں۔ انگریزی مباحثوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ادب اور فلسفہ پر لیکچر تیار کررہے ہیں۔ پھر آستینیں چڑھی ہوئی ہیں، ہاتھ گرد آلود، ڈرامے کی سیٹنگ کا ٹھونکا ٹھانکی ہورہی ہے۔ وقت کے ایک ایک لمحے سے اس کا اس طرح رس نچوڑ رہے ہیں کہ وقت اپنی تہی دامنی پر نادم ہے۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ اتنا خوش آئند ہوتا کہ دیکھنے والوں میں بھی تکمیل کار کا ایک ولولہ جاگ اُٹھتا۔ جو لوگ ڈرامے کا ریہرسل دیکھنے آتے وہیں کے ہو رہتے۔ وہ لڑکوں کو یونیورسٹی ڈی بیٹ کے لئے تیاری کراتے تو لڑکوں کا یہی جی چاہتا کہ وہ بس ڈی بیٹ ہی کو زندگی کا مسلک بنا لیں۔ یہ بخاری صاحب کے خلوص کار کے کرشمے تھے۔
    صوفی تبسم اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ : ”بخاری کا مقولہ ہے کہ کسی کام کی صحیح تکمیل کے لئے انسان میں محض شوق نہیں بلکہ چسکا ہونا چاہئے چنانچہ وہ جب بھی کسی کام کو کرتے ہیں تو ایسے ذوق وشوق سے کرتے ہیں، گویا انہیں اس کام کا چسکا ہے“۔ ان کا اپنے شاگردوں سے بڑا مشفقانہ برتاؤ ہوتا تھا، کلاس میں بھی اور کلاس سے باہر بھی۔ اس کے باوجود ان سے جی ڈرتا۔ وہ اس لئے کہ جہاں کوئی اصول کی بات آجاتی وہ معاف نہ کرتے، ڈانٹ پڑجاتی۔ میں نے بی اے میں ان سے ڈرامہ پڑھا، شیکسپیئر کے وہ عاشق تھے۔ ”ہملٹ“ ہمارے نصاب میں تھا۔ جہاں پلونیئس لی آرٹینر کو تقریر کرتے ہوئے عقل ودانش کی باتیں سمجھاتا ہے جو انسانی زندگی اور دنیوی تجربوں کا نچوڑ ہیں۔ اس مقام پر شیکسپیئر نے جو باتیں سمجھائی ہیں ان کے متعلق پروفیسر بخاری ہمیں نوٹس لکھوانا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنا اپنا قلم سنبھالا۔ اصغر (اب کمانڈ کنٹرولر راولپنڈی) میرے دائیں ہاتھ بیٹھتا تھا۔ اس نے موٹا سا پیلے رنگ کا قلم نکالا۔ نوٹ بک پر اس روز کی تاریخ لکھی۔ اور میری نوٹ بک کی طرف دیکھنے لگا میں نے اپنے قلم سے تاریخ لکھنی چاہی تو قلم نے لکھنے سے انکار کر دیا۔ میں نے اصغر کی طرف دیکھا پھر قلم کو انگلی سے ذرا ٹھونک کر لکھنا چاہا۔ قلم نے نہ لکھا۔ میں نے اصغر کو زور سے کہنی ماری اور کہا۔

”ادہر مت دیکھو میرے قلم کو نظر لگ رہی ہے“۔

    پروفیسر بخاری نے مسکرا کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ہم اگلی بنچوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ دو سال ہوئے میں نے اپنے افسانوں کا تازہ مجموعہ ”لب گویا“ ن۔م۔راشد کے ہاتھ بخاری صاحب کو نیویارک بھیجا۔ میں نے اس پر لکھا۔۔ اپنے نالائق شاگرد کی طرف سے یہ کتاب قبول فرمائیے جو اگلی بنچوں پر اس لئے بیٹھا کرتا تھا کہ آپ پچھلی بنچوں پر بیٹھنے والوں سے سوال پوچھا کرتے تھے“۔۔ بخاری صاحب مسکرا کرکتاب دیکھنے لگے اور اگلے روز نئے سال کا کارڈ مجھے روانہ کیا جو اس وقت میرے سامنے موجود ہے، ہملٹ کا وہ نسخہ بھی جو پروفیسر بخاری ہمیں پڑھایا کرتے تھے میرے پاس موجود ہے۔ حقیقت میں تو ہمارے پاس ان کے وہ تحفے ہیں جن کو ہم نے زندگی بھر اپنائے رکھا ہے۔ یہ لکھنے کا روگ جو ہم طالب علمی کے زمانے سے پال رہے ہیں انہیں کی بخشش ہے۔ ڈرامے کا شوق بلکہ چسکا انہیں کا دیا ہوا ہے۔ جذبات کی یہ آگ جس نے استخواں تک کو جلا دیا ہے اور ابھی ”آرزوئے سوختن باقیت“ انہیں کا کرشمہ ہے انہوں نے ن۔م۔راشد کی حوصلہ افزائی کی۔ فیض کی کمر ٹھونکی۔ آغا عبدالحمید (سی ایس پی) بشیر قریشی (سی ایس پی) علی اصغر (سی ایس پی) رشید احمد (ڈپٹی ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان) اور مظہر علی خاں (سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز) پروفیسر بخاری کے وہ شاگرد ہیں جن کی علمی استعداد اور ادبی تہذیب وتربیت بخاری صاحب کی شخصیت کا پر تو ہیں۔ وہ روشنی کا چراغ جس سے ہزاروں چراغ جلے۔ سینکڑوں نے اکتساب نور کیا۔ آج اپنی لو ختم کر چکا۔۔ پرانے وقت تابڑ توڑ ذہن پر وارد ہورہے ہیں جن سے اپنے استاد کی تعظیم وتکریم میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس عظیم انسان کا وقار فضیلت بڑھ رہا ہے مرحوم کی شخصیت کا ایک پیارا پہلو یاد آیا۔  اصغر حسین قلعہ گوجر سنگھ میں رہتا تھا۔ پروفیسر صوفی تبسم نے کہا ”تم میکلوڈ روڈ سے گزرتے ہوئے بخاری صاحب کے ہاں چلے جانا اور ان سے کہنا کہ آج شام کو چھ بجے اردو مجلس کی میٹنگ ان کے مکان پر ہوگی“۔ اصغر نے عطر چند کپور بلڈنگ کے ساتھ بائیسکل رکھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر پہنچا۔ دروازہ اندر سے بند۔ بجلی کی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے انگلی رکھ کر بٹن کو زیادہ زور سے دبایا۔ پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ اب وہ انگلی رکھ کر دباتا ہی چلا گیا۔
بخاری صاحب ڈریسنگ گاؤن پہنے ہوئے آئے۔ دروازہ کھول کر بولے ”جو گھنٹی کے بٹن کے اوپر لکھا ہے تم نے پڑھا۔“ وہاں لکھا ہوا تھا ”Be Brief And Patient“ اصغر کچھ نہ بولا۔ انہوں نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا ”No Mistake in Future“ اور چلے گئے۔ اصغر حیران کہ اچھا پیغام دینے آئے کہ الٹی ڈانٹ کھا لی اور اس مرد خدا نے پوچھا تک نہیں کہ کیوں آئے کیا بات ہے؟ اصغر نے گھنٹی کو زور سے بجایا۔ سیڑھیاں اترا۔ بائیسکل لیا اور بھاگ گیا۔ اگلے دن پروفیسر بخاری کے پیریڈ میں اصغر کا دل دھڑک رہا تھا کہ وہ حاضری لے رہے تھے جب نمبر ۱۵۶ بولا تو رک گئے۔ اصغر کا برا حال، بخاری نے رجسٹر سے نظر اٹھائی۔ اصغر کی طرف دیکھا۔ ذرا سا ڈرمائی وقفہ دے کر بولے۔ ”I Liked It“
اور حاضری لینے لگے۔ اسی زمانے کی بات ہے۔ یونیورسٹی سے کہہ سن کر پروفیسر نے کالجوں میں پراکٹوریل سسٹم رائج کرایا۔ طلباء کو شناختی کارڈ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ نو بجے سے اوپر بغیر اجازت نامہ کے طالب علم گھر سے باہر نہیں رہ سکتا تھا۔ میں ایک دن پکڑا گیا۔ میں اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی کے ساتھ ایک کھانے پر مدعو تھا۔ انہوں نے مجھےگنڈیریاں لینے بھیج دیا۔ میں گوالمنڈی کے چوک میں گنڈیریاں تُلوا رہا تھا کہ ایک کار آکر رکی۔ بخاری صاحب بولے۔ ”اجازت نامہ؟“ میں نے کہا ”میں تو…“ بولے ”کل صبح“ اور چلے گئے۔ میں نے عاشق صاحب سے اجازت نامہ لیا کہ میری اجازت سے باہر گیا تھا۔ مگر بخاری صاحب نے دس روپے جرمانہ کر دیا۔ بولے ”اس وقت تمہارے پاس اجازت نامہ کیوں نہیں تھا؟ تم نے اصول توڑا ہے“۔ آج جب ہم اپنے بچوں سے اصول برتتے ہیں تو انہیں کیا معلوم کہ اس میں ہمارے پروفیسر کی تربیت بول رہی ہے ہم نے جو کچھ استاد سے سیکھا اگلی پود کو وہی کچھ دے رہے ہیں۔
    گذشتہ جنوری میں وہ ڈھائی برس کے بعد رخصت لے کر امریکہ سے پاکستان آئے۔ راولپنڈی میں اپنے بڑے لڑکے ہارون کے پاس چند دن رہے۔ میں ملنے گیا۔ وہی پرانی گرم جوشی اور بزرگانہ شفقت، پوچھنے لگے ”سنا ہے تم نے پنڈی میں ڈرامے اسٹیج کئے ہیں“۔ میں نے کہا ”آپ کی لگائی ہوئی آگ ابھی تک نہیں بجھی“یہ سن کر مسکرائے۔ میں نے کہا ”لٹل تھیٹر گروپ آپ کو چائے کی پیالی پلانے کا خواہشمند ہے۔ بولے ”میں ان تکلفات (Formalities) سے بڑا تھک گیا ہوں۔ تم بلاؤ تو آجاؤں گا۔ کراچی اور لاہور میں، میں نے کسی ادارے کی دعوت قبول نہیں کی۔ میں نے کہا ”لٹل تھیٹر کو کوئی پیغام ہی دے دیں“۔ بولے ”پیغام تو بڑے آدمی دیا کرتے ہیں“۔ راولپنڈی میں انہوں نے اپنے شاگردوں اور مداحوں کے ساتھ ایک شام بسر کی۔ عابد علی کے ہاں تین گھنٹے محفل جمی اور گفتگو کے بادشاہ کو ہم نے پھر بلندیوں پر اُڑتے دیکھا۔ دل خوش ہوا کہ دل کے دوروں نے ابھی تک اس عظیم شخصیت کا کچھ نہیں بگاڑا۔ وقت سے زندگی کا پورا رس نچوڑ لینے والا یہ انسان ابھی زندہ رہے گا۔
    وہ اپنے قیام کے دوران اپنے شاگردوں اور دوستوں سے پہلا سوال یہی کرتے رہے۔ کیا تم مطمئن ہونا؟“ اس سوال کو اولیت دینے کی وجہ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ہر شخص شاکی نظر آتا ہے۔ میں یہاں ایک عام فرسٹریشن دیکھ رہا ہوں بے دلی، بے اطمنانی اور محرومی کا احساس چاروں طرف دکھائی دے رہا ہے۔ لوگوں کی اپنی ذات میں دلچسپی انتہائی طور پر بڑھ گئی ہے۔ سب قوموں میں، میں نے یہ دیکھا ہے کہ ان کی قوم کا کوئی فرد امریکہ میں آئے تو وہ اس کی بےحد تعریف کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں یہ ہمارے ملک کا ممتاز اور قابل ترین فرد ہے۔ واحدپاکستانی ایسا شخص ہے جسے میں نے کبھی اپنے ملک کے فرد کی تعریف کرتے نہیں سنا۔ وہ تو دراصل یہ کہنا چاہتا ہے کہ ”سب سے ممتاز اور قابل ترین فرد تو میں ہوں“ یہ تو بس ایسوں میں سے ہی ہے۔ اگر کسی کو کوئی اچھا عہدہ مل جائے۔ کسی منصب پر کوئی جا پہنچے اور کسی پاکستانی سے کہا جائے کیوں بھئی وہ اچھے عہدے پر جاپہنچا؟ تو پتہ ہے وہ کیا جواب دیتا ہے۔۔ اوچھڈو جی… یہاں پھرا کرتا تھا!“ پھر میری طرف دیکھ کر بولے۔ کوئی اگر یہ کہے کہ بابر نے بڑا اچھا ڈرامہ اسٹیج کیا تو کہیں گے۔ اوچھڈو جی۔۔ کل ایتھے لگا پھرداسی۔
    اس چھڈو جی میں ہماری کم ہمتی، محرومیوں اور اہلیتوں کی بہت بڑی جھلک موجود ہے۔ پاکستان چھوٹا سا ملک ہے آخر یہاں ہی کے لوگ اچھے عہدوں پر متمکن ہوں گے مگر اس پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔ پاکستانی خود کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسرا اگر کچھ کرے اور اسے نیک نامی حاصل ہوجائے تو عام ردِ عمل یہی ہوتا ہے ”اوچھڈو جی“۔ کہنے لگے امریکہ میں ایک بین الاقوامی تقریب پر چوہدری سرظفر الله خاں کسی سے تنبورے کا ذکر کر رہے تھے۔ کسی غیر ملکی نے پوچھا تنبورے اور تان پورے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ کہنے لگے ”چلو بخاری سے پوچھیں وہ آل انڈیا ریڈیو کا ڈائریکٹرجنرل رہ چکا ہے“۔ میں نے کہا ”آل انڈیا ریڈیو کا ڈائریکٹر جنرل رہنا تبنورے اور تان پورے پر کوئی اتھارٹی نہیں ہوسکتا۔ آپ کی عمر کتنی ہوگی؟“ بولے ”پینسٹھ سال“ میں نے کہا ”جہاں آپ نے پینسٹھ سال تان پورے اور تنبورے کا فرق معلوم کئے بغیر گزار دیئے ہیں دو چار سال اور بھی گزار دیجئے۔
    پروفیسر صوفی تبسم کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پروفیسر بخاری کے رفیقوں میں سے ایک یونیورسٹی کے کسی رکن کی غلط کاریوں پر چیں بہ جبیں ہو رہے تھے۔ بخاری کہنے لگے ”بھائی صاحب میری دو باتیں یاد رکھو۔ زندگی میں کسی سے الجھنا ہو تو کسی بڑے مسئلے پر الجھنا چاہئے اور اپنے سے بڑے آدمی کے ساتھ الجھنا چاہئے ورنہ مزا نہیں آتا۔ انسان کی قوتیں اور کوششیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ کمزور آدمی کو دبانے میں کوئی شان نہیں۔ بڑے آدمی سے تصادم ہو تو انسان کی استعداد کار اور بھی چمکتی ہے۔ مجھے دیکھو میں نے ریڈیو کی ملازمت کے دوران ہمیشہ بڑے آدمیوں سے ٹکر لی ہے اور خدا کے فضل وکرم سے کامیاب رہا ہوں۔“
    جب علامہ اقبال کے کلام کے سلسلے میں یوپی کے بعض اہل قلم کی طرف سے اعتراضات اُٹھنے لگے تو ”زندہ دلان“ پنجاب نے ان سے جو جنگ لڑی تھی بخاری اس میں پیش پیش تھے۔ ٹکراؤ اور پھر استعداد کا حرکت میں آنا، یہ بات ان کے ڈرامے سے غایت درجہ شغف رکھنے کا ایک طبعی باعث قرار دی جا سکتی ہے اس طرح الجھنے اور ٹکرانے میں جو رکاوٹیں پیدا ہوتیں ان سے عہدہ برآمد ہونے کے لئے وہ کبھی تھکن محسوس نہ کرتے۔ میں نے انہیں ۱۹۵۳ء میں ہملٹ کا پارٹ ادا کرتے دیکھا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پروفیسر بخاری واقعی پرنس ہملٹ ہے۔ ڈرامائی ٹکراؤ، واقعاتی الجھاؤ، کرداری رکاوٹیں ہملٹ کا راستہ روکے کھڑی تھیں۔ اور وہ کس کس طرح ان سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ ہملٹ کے کردار کی جیتی جاگتی تصویر ہمارے سامنے آگئی۔
    نیویارک کے جس ڈاکٹر کے وہ زیر علاج رہے وہ بھی شیکسپیئر کا بڑا دلدادہ تھا۔ مریض اور ڈاکٹر دیر تک اسی موضوع پر باتیں کرتے رہتے۔ عارضہٴ قلب میں مبتلا ہونے کے بعد پروفیسر بخاری جب بھی ڈاکٹر سے طبی مشورہ کرتے تو مسکرا کر پُرمعنی انداز میں ضرور پوچھتے۔ کب ڈاکٹر؟ بتاؤ تو سہی کب؟“ نیویارک میں ملک ملک کے چوٹی کے اخباری نمائندے مقیم ہیں۔ وہ بخاری کی صحبت میں بیٹھنے کو بہت بڑا پُرمسرت اعزاز سمجھتے۔ ہر شخض ان کا مداح تھا۔ پروفیسر بخاری نے ایک بےچین اور مضطرب طبیعت پائی تھی۔ اس سیماب صفت انسان کا دماغ اس کے جسم سے اور اس کا جسم اس کے دماغ سے زیادہ تیز کام کرتا:

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز وساز رومی کبھی پیچ وتاب رازی

    موت کا فرشتہ دہلیز پر آکر بیٹھ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا اگر تم چاہو تو میں حاضر ہوں۔ رات تمہارے پاس ٹھہرتا ہوں۔ صبح چلا جاؤں گا۔ پروفیسر بخاری نے کہا ”نہیں، نرس جو میرے پاس موجود ہے۔“ ڈاکٹر نے مذاق سے کہا ”اچھا سویٹ پرنس شب بخیر“۔ مگر یہ رات اس کی آخرت رات تھی۔ موت کے فرشتہ نے دہلیز الانگ لی۔ بچے باپوں سے پوچھتے ہیں آج کون مرگیا، آپ اداس جو ہیں کون بتائے نئی پود کو آج وہ مرگیا جس نے کہا تھا۔ بچوں کو بہلانا سہل ہے بڑوں کا بہلانا سہل نہیں۔
    پروفیسر بخاری کی شخصیت کی عظمت کا بہت پیارا پہلو یہ تھا کہ عام عالموں کی طرح علم کے اظہار وبیان کو وہ بوریت اور یبوست کی کوئی چیز نہ بننے دیتے۔ بلکہ اپنی فطانت اور ظرافت کے امتزاج سے اسے اتنا پُرمعنی اور پُرکشش بنا دیتے تھے کہ سننے والے کی سوچ کو تحریک بھی ہوتی اور ساتھ ہی ساتھ پھلجھڑیاں بھی بہار دکھاتی رہتیں۔ آج وہ اہل فکروہ دانشور ہم میں نہیں۔ جو فصحا میں بیٹھا تو فصاحت وبلاغت کے دریا بہاتا، لکھتا تو موتی پروتا، بولتا تو زندگی کی چاندنی اور شگفتگی بلائیں لینے آکھڑی ہوتی۔ بچوں سے باتیں کرتا تو سخت مزاج والدین منہ تکنے لگتے۔ جذبات کی باریکیوں کو سمجھنے والا یہ حقیقت پسند، حقیقت نگار انسان، زندگی کو زندوں کی طرح گزارنے والا خوش ذوق وسخن سنج ادیب، پاکستان کا شہری نہیں دنیا کا شہری اپنی سرزمین سے دور جا لیٹا۔ جس کی فطانت، طباعی اور تحریر وبیان کے دلداد گان ملک ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ شہزادہ علی خان نے اس کی میت پر آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ بخاری کی موت ے اقوام متحدہ کی لابیاں سنسان ہوگئی ہیں۔۔۔ ہائے ان آنکھوں میں کون جھانکےگا جو اس کی میت سے دور آنسو بہا رہی ہیں اور ان دلوں کا حال کون جانے گا جو یہاں ویران اور سنسان ہیں۔

نمی دانم حدیث نامہ چوں است
ہمیں بینم کہ عنو انش بخوں است

* * *

اقوام متحدہ میں پروفیسر بخاری سے ملاقات

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

اقوام متحدہ میں پروفیسر بخاری سے ملاقات

(ڈاکٹر محمد عبدالله چغتائی)

    مغربی اور مشرقی فن میں اصولی فرق میرے نزدیک ایک یہ بھی ہے کہ مغربی فن کی تصویر کو دور سے دیکھنے سے جو اس کی خوبیاں نظر آتی ہیں، وہ نزدیک سے دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی اس کی صحیح نمائش دور سے ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مشرقی فن کی تصویر کے صحیح خط وخال اور خوبیاں اس کو جس قدر بھی قریب سے دیکھا جائے گا زیادہ نظر آئیں گی ورنہ دور سے ایک مدہم مدہم یکساں رنگ کی دھندلی سی سطح معلوم ہوگی۔ چنانچہ ہم مرحوم احمد شاہ بخاری کو جب کبھی دور سے دیکھتے تو صحیح معنوں میں کسی یورپی یونیورسٹی کے ایک سجے سجائے مکمل پروفیسر نظر آتے۔ مگر جب کبھی ان کے پاس بیٹھ کر گفتگو سننے کا موقع ملتا تو ان کے برجستہ مسکراہٹ لئے ہوئے مادری زبان میں بےساختہ جملے ظاہر کرتے کہ ان کا نہایت مکمل ظاہری مغربی لباس ان کی مشرقیت پر ایک ملمع ہے ۔ اور ان کی مشرقیت کے جوہر آہستہ آہستہ گفتگو کے مدارج طے کرتے کرتے واضح ہوتے چلے جاتے بلکہ ان کی تمام انگریزی اور انگریزیت ان کی مشرقیت کے طابع نظر آنے لگتی۔
    میں مرحوم کو ایک طرح دور سے اسی زمانے سے جانتا تھا جب کہ وہ ہنوز طالب علمی کے ابتدائی مدارج لاہور میں طے کر رہے تھے کیونکہ وہ ہمارے محلے کے قریب ہی تکیہ سادہواں میں ڈاکٹر محمد دین ناظر مرحوم کے بڑے لڑکے محمد امین مرحوم کے ہم زلف تھے۔ جن کے ہاں وہ اکثر رہائش رکھتے اور محمد امین کے بھائی ڈاکٹر محمد سعید (سعدی) سے بخاری کی خاصی بےتکلفی تھی۔ ان کی اور مولوی بشیر الدین مرحوم (بن مولوی احمد دین وکیل مرحوم)کی وجہ سے کبھی کبھی ان کی گفتگو میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملتا جس کے بعد وہ ایم اے کا امتحان انگریزی میں پاس کرکے اپنی خاص طبع روشن اور بعض اچھوتی تحریروں کی وجہ سے لاہور کی زندگی میں نمایاں طور پر رچ مچ گئے۔ یوں کہئے کہ ہر علمی محفل میں وہ جزولاینفک ہونے لگے۔
    میں نے ان کو اس وقت سے زیادہ دیکھاہے جب وہ لاہور میں سنٹرل ٹریننگ کالج میں مسٹر وائٹ پرنسپل کے ماتحت ایک معلم، پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کے معتمد اور گورنمنٹ کالج لاہور میں بہ حیثیت استاد انگریزی متعین تھے مگر ان کی شہرت آل انڈیا ریڈیو کے ذریعے زیادہ وسیع ہوئی جہاں وہ کئی سال تک ناظم اعلیٰ رہے۔
    ابھی پاکستان بننے کے آثار نمودار ہو رہے تھے کہ اکتوبر ۱۹۴۶ء میں ڈاکٹر ذاکر حسین خاں صاحب مدظلہ العالی ٰنے جامعہ ملیہ دہلی کی جوبلی رچائی۔ جس میں دور دور سے علمی حضرات نے شرکت کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مرکز میں ایک عبوری حکومت قائم ہو چکی تھی۔ راقم کو بھی دکن کالج پونہ سے اسی ضمن میں نمائش کی ترتیب کے لئے مدعو کیا گیا تھا، یہ ایک بہت پُر رونق علمی میلہ تھا جس میں ہر طرح کے پڑھے لکھے حضرات نے حصہ لیا۔ جب میں نے بالکل غیر متوقع طور پر یہاں تاثیر اور بخاری کو دیکھا اور ان سے قریب دس سال بعد ملنے کا اتفاق ہوا تو وہ مجھے فوراً اپنے الگ کیمپ میں لے گئے جس میں وہ دونوں فردکش تھے۔ اس وقت وہ دونوں حکومت ہند کے شعبہ نشرواشاعت میں تھے۔ دونوں علوم جدیدہ اور قدیمہ سے سرشار نہایت روشن ضمیر اور بڑے پائے کے ناقد تھے مگر مجھے یہاں غیرمعمولی بات یہ نظر آئی کہ یہ دونوں علمی دوست شمشیر برہنہ ایک ہی نیام میں سمٹے ہوئے تھے۔ ان کو ایک ہی کیمپ میں نہایت محبت وخلوص سے مل کر اپنے فرائض انجام دیتے دیکھ کر یقین ہوگیا کہ واقعی علوم کی غائت کمال یہی ہے خواہ جس قدر بھی متضاد عنصر ہو ایک جا پُر امن طریق پر جمع ہوسکتا ہے۔
    مجھے وہ سماں ہرگز نہیں بھولتا جب ایک روز بعد دوپہر ایک ہی پلیٹ فارم پر محمد علی جناح قائد اعظم، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، لیاقت علی خان، راج گوپال اچاریہ، دلبھ بھائی پٹیل، راجہ غضنفر علی وغیرہ کو دیکھا۔ تاثیر اور بخاری اپنے رنگ میں مقررین کے بعض جملوں پر خوب ظریفانہ تبصرہ کرتے تھے۔ ایک روز یہاں مرحوم سرشیخ عبدالقادر نے کنووکیشن ایڈریس بھی دیا تھا جو پہلے چھپ چکا تھا اس کی ان پنجابی فاضل دوستوں نے نہایت عمدگی سے بےلوث تعریفب کی اور ڈاکٹر ذاکر صاحب کو داد دی کہ انہوں نے اس طرح پروگرام مرتب کیا۔ غرض یہ کہ اس جوبلی کی عملی کارروائی کو جس قدر بھی پریس میں اور ریڈیو پر نشر کیا گیا وہ تاثیر اور بخاری کا حصہ تھا جس کا لوگوں کو کم علم ہے۔
    جب پاکستان قائم ہوا تو بخاری لاہور تشریف لائے اس کے ابتدائی دور میں بعض بکھری ہوئی لائبریریوں کو یکجا کیا، کچھ پریشان کن چشم دید حالات جو مہاجرین کے ساتھ پیش آئے بغیر نام کے لکھے مگر عوام کو زیادہ تر یہی علم ہے کہ وہ آتے ہی گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ہوگئے، ۱۹۴۹ء میں وہ انڈیا آفس لائبریری کی تقسیم کے ضمن میں لندن گئے جس کے بعد ۱۹۵۰ء میں وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے بنائے گئے جہاں اپنی ذاتی قابلیت سے انہوں نے دنیا کے قابل ترین حضرات کو اس قدر مرعوب اور مطمئن کیا کہ ان کو آخر وہیں ۱۹۵۴ء سے شعبہ اطلاعات میں ڈپٹی سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا اس جگہ مرتے دم تک (۵ دسمبر ۱۹۵۸ء) نہایت معزز طریق پر فائز رہے اور اسی ادار ہ اقوام متحدہ میں راقم نے ۲۴ اپریل ۱۹۵۷ء کو ان سے آخری ملاقات کی تھی۔ جس کی مختصر سی کیفیت جو مجھے یاد ہے ذیل میں پیش کرتا ہوں۔
    اقوام متحدہ کا ادارہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے عظیم ترین شہر نیویارک کے مشرقی جانب دریائے ایسٹ کے کنارے ۴۲۔۴۸ سٹریٹ پر اول ایونیو میں واقع ہے۔ اس کے شمالی طرف سے داخل ہوتے ہی بہت بڑے ہال میں زائرین کو ایک باوجاہت خاتون سے سابقہ پڑتا ہے جس سے باقاعدہ تمام ہدایات حاصل ہوتی ہیں اور کوئی دیر نہیں لگتی۔ اسمبلی کے ہال پر گنبد ہے جس میں کل نشستیں ۲۱۵۰ ہیں جو مندوبین، ناظرین، اخباری نمائندوں اور پبلک پر مشتمل ہیں۔ اس کے جنوب کی طرف اصل سیکریٹریٹ ۳۹ منزلہ عمارت تمام آبی رنگ کی اینٹوں کی کھڑی ہے جس میں بخاری صاحب غالباً دسویں منزل پر کمرہ نمبر ۱۰۲۷ میں بیٹھتے تھے اگر صحیح اندازہ لگایا جائے تو اس عظیم الشان ادارہ کی عمارت کا سلسلہ قریب قریب ۵۰۰ فٹ لمبائی سے کم نہیں ہے۔ زائرین اس پرشکوہ عمارت کے اول ہال ملاقات میں ایک بلند نمایاں چبوترے پر یونانی دیوتا غالباً جیوپٹر کا قد آدم مجسمہ سیاہ دھات کا بنا ہوا مادرزاد برہنہ کھڑا ہوا مشاہدہ کرتے ہیں جو بادی النظر میں کافی بےحیائی کا منظر پیش کرتا ہے۔
    میں یہاں دو تین بار گیا۔ اسمبلی کی میٹنگ روم نمبر۲ میں کچھ وقت بیٹھا اور کارروائی دیکھی۔ رسالے بھی خرید کئے اور سیکریٹریٹ کے ملاقات ہال میں آکر بخاری صاحب سے ملاقات کی کوشش کی مگر انہوں نے فون پر کارکن خاتون کے ذریعے ۲۴، اپریل کی تاریخ ایک بجے کا وقت طے کیا۔ چنانچہ اس تاریخ کو میں صبح صبح گھر سے نکلا اور گھومتے گھومتے ادارہ اقوام متحدہ پہنچا۔ بخاری صاحب سے ملنے کی خواہش کی تو خاتون نے ان سے فون پر اجازت حاصل کرکے مجھے ایک مطبوعہ چٹ پر وہاں کے دستور کے مطابق تاریخ، میرا نام، جس سے ملنا ہے اس کا نام (پروفیسر بخاری) اور کمرہ نمبر وغیرہ لکھ کر میرے حوالے کی اور اشارہ کیا کہ وہاں لفٹ کے آگے کھڑے ہوجائیے، ابھی کمرہ کھلے گا اور آپ اوپر چلے جانا۔ چنانچہ جب میں اوپر پہنچا تو مجھے فوراً ان تک ایک اور خاتون جو ان کی مددگار تھی لے گئی۔ بخاری مجھے دیکھ کر کہنے لگے میں گیارہ بجے سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں کیونکہ یہی وقت میں نے دیا تھا محض اخلاقاً انتطار کرتا رہا ورنہ چلا گیا ہوتا۔ میں نے معذرت کی کہ مجھے یہی وقت دیا گیا تھا مگر انہوں نے مجھے اپنی میز کی ڈائری دکھائی جس پر گیارہ بجے کا وقت لکھا تھا خیر یہ مغالطہ تھا جو غالباً سمجھنے میں یا سننے میں ہوا۔ بہرحال میں نے بہت معذرت کے بعد خیریت پوچھی۔
    آپ نے اول امریکہ میں آنے کی وجہ دریافت فرمائی۔ میں نے کہا میں لیڈر پروگرام کے تحت یہاں آیا ہوں اورآپ سے ملے بغیر چلے جانا کوئی اچھا معلوم نہیں ہوتا تھا جس پر آپ نے فرمایا کہ میں بھی اسی لئے گیارہ بجے سے اس وقت تک (ایک بجے) بیٹھا رہا کہ ملاقات ضرور کرنی ہے حالانکہ مجھے اور اہم کام بھی اس وقت تھا۔ آپ نے لاہور کے احباب مولانا سالک، مسٹر فیض اور بعض دیگر احباب کی خیریت دریافت فرمائی۔ میں نے کہا کہ لاہور میں نیا علمی رسالہ لیل ونہار فیض صاحب نے جاری کیا ہے جو ہفتہ میں ایک بار طبع ہوتا ہے آپ کے پاس ضرور آیا ہوگا۔ فرمانے لگے اگر آیا بھی ہوگا تو کہیں نہر سویز پر آکر اٹکا ہوگا (جو دراصل ۱۹۵۶ء کے واقعات سویز کی طرف اشارہ تھا) میں مسکرایا پھر میں نے کہا آپ لوگوں نے ہی تو لڑائی بند کرائی تھی ورنہ دنیا میں کیا سے کیا ہوجاتا جس پر انہوں نے چند جملوں میں وہ تمام واقعہ سنایا کہ کس طرح مسٹر ڈاک ہیمر شوالڈ نے اپنے دفتر میں بیٹھے بیٹھے فوراً طے کیا کہ یہ ہنگامہ یکلخت بند ہوجانا چاہئے اور کسی طرح انہوں نے دنیا کے اخبار نویسوں کو نیچے پریس برانچ میں جمع کیا پھر یہاں سے لفٹ میں نیچے گئے تمام کمرہ بھرچکا تھا اور ابھی تک کسی شخص کو علم نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے جب انہوں نے ترک جنگ کا اعلان کیا تو دنیا حیران رہ گئی۔
    اس کے بعد فرمایا کہ آج رات پاکستان ہاؤس میں میراایک لیکچر اقبال پر ہے۔ میں نے کہا میں ضرور سننے آؤں گا۔ ویسے لیکچر تو آپ نے خوب عمدگی سے لکھ لیا ہوگا فرمانے لگے کہ کچھ کیا ہی ہے جس پر میں نے کہا کہ حال ہی میں میں نے یونسکو کے مجلہ کوریر Courier میں ایک مضمون بہ عنوان ”دنیا کے بہت زیادہ ترجمہ شدہ مصنفین ۱۹۴۷ء ۔ ۱۹۵۵ء“ فروری ۱۹۵۷ء کے شمارے میں دیکھا ہے جس میں اقبال کو بھی شامل ہونا جاہئے تھا کیونکہ اگر آج ہم صحیح جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اقبال کا کلام چین وجاپان کے سوا قریب قریب سب ملکوں نے اپنے ہاں ترجمہ کیا ہے۔ میرے خیال میں یہاں بین الاقوامی شہر نیویارک میں سامعین وحاضرین جلسہ کو بتانا چاہئے اگر آپ کے مضمون میں اس امر کی طرف اشارہ نہیں ہے تو ضرور آنا چاہئے چنانچہ انہوں نے اس مشورہ کو مفید خیال کیا اور کچھ نوٹ بھی کیا۔ فرمانے لگے کہ لاہور کے ماجے ساجے یعنی لاہور کی زندگی کا کیا حال ہے؟ جس پر میں نے مسکرا کر کہا۔ آپ کو لاہور کی اس قسم کی گہماگہمی کا بڑا خیال رہتا ہے تو مسکرا کر فرمانے لگے کہ یہی تو ایک شہر ہے جو ہماری تمام جدوجہد کا آئینہ ہے۔ میں نے کہا توبہ قول آپ کے لاہور سب شہروں سے افضل ہے۔ جس شہر میں علامہ اقبال دنیا کا بہترین شاعر وفلسفی، گاماں پہلوان رستم زماں، آغا حشر کاشمیری، بہترین اردو ڈرامہ نویس عبدالرحمن چغتائی، بہترین مشرقی مصور حاجی دین محمد کاتب، مولانا ظفر علی خان جیسا اخبار نویس اور پطرس جیسا مزاح نگار ہو اس کی خوش نصیبی کی تو قسم کھانی چاہئے۔ دراصل میں نے ان کے کبھی کے کہے ہوئے ان جملوں کا اعادہ کیا ہے کہ یہ ان کا تصور ایمان کی حد تک تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ پنجاب کو زندگی کا آئینہ تصور کرتے تھے۔ بات کاٹ کر فرمانے لگے کہ بھائی کی تصویریں بھی یہاں دیکھی ہیں؟ میں نے کہا ہاں دیکھی ہیں۔
    دراصل نچلے ہال میں ایک نمائش کا حصہ ہے جس میں تین تصاویر عبدالرحمن چغتائی کی لگی ہوئی ہیں جن کو غالباً اسی سال پاکستان گورنمنٹ نے اقوام متحدہ کو ہدیہ کیا تھا اور اس میں بھی بخاری صاحب کا انتخاب اور جدوجہد شامل ہے ورنہ یہ کام نہ ہوتا۔ واقعی یہ بہت بڑا اعزاز ہے، کئی ہزار کی تعداد میں زائرین روزانہ دیکھتے ہیں۔
    میں نے تجویز کیا کہ بعض لوگوں کو یہ گمان ہے کہ کسی قدیم مصور کی تصاویر ہیں اس کو رفع کرنے کے لئے ان پر مصور کے نام کے آگے محض تاریخ پیدائش لکھ کر چھوڑ دینا چاہئے تاکہ معلوم ہو کہ آرٹسٹ زندہ ہے اور آج کل یہ طرز مصوری اس ملک کی خصویت ہے جسے آپ نے قبول فرمایا۔ یہ علم نہیں کہ اس پر عمل ہوا یا نہیں۔ ابھی تک کسی دوسرے ملک کے آرٹسٹ کو یہ موقع نہیں ملا تھا۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ بتاؤ اس ادارہٴ اقوام متحدہ کو کیسا پایا جس پر میں نے مسکرا کر بطور ظرافت جواب میں پنجابی کا محاورہ ”گھر دے بھاگ بُوئے تے“ پیش کیا یعنی یہاں جو آدمی اول مرتبہ شمالی دروازے سے ملاقات کے ہال میں داخل ہوتا ہے تو اس کی نظر فوراً مشرقی جانب مادرزاد سیاہ فام ننگے یونانی دیوتا جیوپٹر کے قد آور بلند نشست مجسمہ پر پڑتی ہے تو وہ متحیر ہوتا ہے۔ ایسے شائستہ عالمی ادارہ میں اس طرح کی عریانی اس کے لئے ایک مسئلہ بن جاتی ہے خواہ اس مجسمہ میں بہت وسیع الخیال فلسفہ اور حقیقت ہی کیوں نہ ہو۔ جب وہ نووارد اس تمام ادارے کی سیر کرتا ہے اور واپسی پر پھر ایک بار اس جیوپٹر کے بت پر نظر کرتا ہے تو اس کا ذہن اس طرف ضرور منتقل ہوتا ہے کہ یہ مقام بطور تفریح گاہ تمام دنیا کی زندہ اقوام کی نمائندوں کا مختلف رنگوں اور لباسوں میں ایک عجائب گھر یا چڑیا گھر ضرور ہے مگر اس ادارے سے اقوام کی داد رسی ہرگز متوقع نہیں کیونکہ یہ ننگا بت جو یہاں کی علامتی نشان Symbol قرار دیا گیا ہے، اس امر کی دلیل ہے کہ یہاں کچھ نہیں رکھا ”جامہ ندارم دامن از کجا آرم“ بخاری صاحب نے اس مزاح کو سن کر حسب عادت ایک قہقہہ لگایا اور اُٹھ کر فرمایا کہ اب رات کو پاکستان ہاؤس میں اقبال کے لیکچر میں ملاقات ہوگی۔
    چنانچہ ہم اپنے ہوٹل وڈسٹاک نیویارک ٹائمز چوک سے پروفیسر اجینی احمد جیو گرافی ڈھاکہ یونیورسٹی اور ایک اور صاحب جو کراچی سے تھے، مل کر نکلے اور قریب نو بجے وہاں پہنچ گئے، لیکچر ہمارے جانے کے بعد شروع ہوا۔ تمام پاکستان ہاؤس بھرا ہوا تھا۔ یہ کافی وسیع عمارت تھی۔ اس جلسہ کی صدارت ڈاکٹر جلال عبدہ ایران کے مستقل نمائندہ اقوام متحدہ نے کی تھی، ابتدا میں انہوں نے بخاری مرحوم کی علمی قابلیت کی نہایت تعریف کرتے ہوئے تعارف کروایا اور اعزاز صدارت کا شکریہ ادا کیا۔ بخاری صاحب نے اپنا مقالہ قریب ۴۵ منٹ میں ختم کیا اور لوگوں نے دل کھول کر داد دی۔ موضوع یہ تھا کہ اقبال نے شاعری کو اپنے افکار کے اظہار کے لئے ایک موزوں ذریعہ قرار دے کر کیا کیا علمی خدمات انجام دیں۔ بعد میں اس پر کوئی سوال جواب نہیں ہوئے۔ صدر ڈاکٹر جلال عبدہ نے فارسی شاعری میں اقبال کے مقام پر کچھ مزید روشنی ڈالی۔ جلسہ کے اختتام پر میں نے پروفیسر بخاری کی معرفت ڈاکٹر جلال عبدہ سے تعارف حاصل کیا۔
    دو روز بعد میں نے پھر ان کے دفتر ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ کی باسٹھ ویں منزل پر جاکر ان سے ایک تعارف نامہ بنام ڈاکٹر سید مصطفویٰ ناظم محکمہ آثار قدیمہ ایران حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ تعارف نامہ انہوں نے بطیب خاطر فارسی زبان میں لکھ کر عنایت کیا۔ نیویارک میں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ یک صد منزل سے زیادہ کی ہے اور بلند ترین عمارت ہے۔ حسنِ اتفاق سے جب میں ان کے کمرہ میں بیٹھا ان سے باتیں کر رہا تھا تو ہوائی جہاز گزرا، میں نے ظرافتہً کہا کہ دیکھو ہوائی جہاز آپ سے نیچے اُڑ رہا ہے یہ محض اس عمارت کی بلندی کی خصوصیت کی طرف ایک اشارہ تھا۔
    میں نے امریکہ سے روانہ ہوتے وقت جون کے نصف میں بخاری سے پھر ملنے کا ارادہ کیا مگر وہ ۱۴ تاریخ کو جنیوا جاچکے تھے اس کا علم مجھے ان کے مددگار آغا اشرف سے ہوا۔
    میں اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں سمجھتا کہ پروفیسر بخاری مرحوم کی علمی کارناموں پر کوئی تبصرہ کروں مگر یہ ضرور عرض کروں گا کہ ان کا ایک خاص انداز تھا یعنی روزانہ کے حالات اور تجربات زندگی ان کو موضوع بخشتے تھے اور وہ اپنی تحریر کو اس قدر نفسیاتی طور پر بلند لے جاتے تھے کہ ہر مطالعہ کرنے والا اس پر خود گھومتا نظر آتا تھا اور اس سے اس قدر لطف اندوز ہوتا تھا کہ ختم کرنے کے بعد محسوس کرتا تھا کہ وہ واقعی اسی ماحول میں چلا گیا ہے چنانچہ ۱۹۵۷ء میں جب میں طہران پہنچا اور ایک شب مسٹر رحمان پاکستان کے ادارہ سفارت کے ہاں دعوت پر ایک اور سیکریٹری مسٹر صدیقی سے مذاکرہ ہوا تو بخاری کا ذکر آگیا پھر کیا تھا ان کے بعض خاص خاص موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی معلوم ہوا کہ ان کو بخاری کا مضمون ”بائیسکل“ ایک طرح زبانی یاد ہے انہوں نے اس مضمون کے بعض حصے اس طرح سنائے کہ تمام محفل پُرلطف ہوگئی جو آج تک نہیں بھولتی۔

* * *

ضابطہ، بے ضابطہ

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

ضابطہ، بے ضابطہ

(عشرت رحمانی)

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں،
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

    بات ۱۹۳۴ء کی ہے۔ دہلی میں آل انڈیا ریڈیو کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ محکمہ کے کنٹرولر ذہین وطباع انگریز مسٹر لائنیل فلیڈن، اسٹیشن ڈائریکٹر مسٹر اسٹپلٹن اور پروگرام ڈائریکٹر سید ذوالفقار علی بخاری (ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل) تھے۔ ان کے علاوہ آغا محمد اشرف (بنیرہٴ آزاد) اور سجاد سرور نیازی جیسے اہل فن حضرات بھی عملہ کے رکن تھے۔ مسٹر فیلڈن خود ایک ماہر اہل قلم ہونے کے ساتھ نشریات کے رموز سے بھی کما حقہ واقف تھے جو ارباب ہنر انہوں نے جمع کئے تھے ان کے لئے ایسے سرگروہ کی تلاش تھی جو ان کی صحیح قیادت کی اہلیت رکھتا ہو اور ملک کے لئے نشریات کا موزوں لائحہ عمل مرتب کرکے ان کو مناسب طریقے پر چلا سکے۔ چنانچہ مسٹر فیلڈن نے برصغیر کی تمام یونیورسٹیوں کو مراسلے بھیجے کہ وہ اپنے اداروں سے ایسے لائق اہل علم وہنر چن کر اس کام کے لئے بھیجیں جن کے تعاون سے وہ اپنے دست وبازو مضبوط کرکے باضابطہ کام چلا سکیں چنانچہ کئی اداروں کے اربابِ اختیار نے چند اہم شخصیتوں کو منتخب کرکے مسٹر فیلڈن سے ملاقات کے لئے بھیج دیا۔ ان میں دو نام خاص تھے۔ ایک مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے پروفیسر رشید احمد صدیقی اور دوسرے گورنمنٹ کالج لاہور کے پروفیسر سید احمد شاہ بخاری پطرس۔ یہ حسنِ اتفاق تھا یا حسنِ انتخاب کہ یہ دونوں حضرات اردو کے مشہور مزاح نگار اور بلند پایہ ادیب بھی تھے اور ادب انگریزی کے پروفیسر بھی۔
    فیلڈن صاحب نے تمام منتخب حضرات کا ملاقات کے دوران میں ضابطہ بے ضابطہ جائزہ لیا اور سید احمد شاہ بخاری کو اپنا دستِ راست منتخب کر لیا۔ مسٹر فیلڈن نے برصغیر کے قیام کے دوران میں آغا محمد اشرف سے اردو پڑھی تھی لیکن یہ استعداد معمولی تھی۔ وہ بخاری صاحب کی اردو ادیب کی حیثیت سے بےمثال خوبیوں کا اندازہ تو نہ کرسکتے تھے لیکن ابتدائی ملاقاتوں میں ان کی شخصیت وکمال کا بخوبی جائزہ لے کر اس حقیقت کے معترف ہوچکے تھے کہ پطرس بخاری انگریزی زبان وادب کی مہارت میں اس برصغیر کی منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔ اور اپنی طباعی، غیر معمولی ذہانت اور مختلف علوم وفنون میں واقفیت رکھنے کے سبب ان کی متنوع شخصیت گوناگوں کمالات کی حامل ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہ تھی باخبر حضرات اس حقیقت سے اچھی طرح آشنا تھے اور ہیں کہ پطرس بخاری کی شگفتہ مزاجی، بزلہ سنجی اور ہمہ گیر لیاقت وذہانت ہر اعلیٰ وادنیٰ محفل میں ان کی ذات کو ممتاز بنائے رہتی اور بڑی سے بڑی مجلس میں ان کی صفات غالب ونمایاں نظر آتیں۔ بیک وقت ان کو متعدد زبانوں اردو، انگریزی، فارسی، پشتو اور فرانسیسی وغیرہ پر قدرت حاصل تھی۔ چونکہ میرے پیش نظر بخاری صاحب کے ادبی ولسانی کمالات سے بحث کرنا نہیں بلکہ ان کی باضابطہ شخصیت کی چند یادوں کا بےضابطہ تذکرہ مقصود ہے اس لئے ان تفصیلات سے گریز مناسب ہوگا، مختصر یہ ہے کہ آل انڈیا ریڈیو دہلی کے اسٹیشن پر پروفیسر سید احمد شاہ بخاری اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے اور دہلی کی علمی ادبی مجالس میں پطرس کے چرچے ہونے لگے۔
    زیادہ عرصہ نہ گزرنے پایا تھا کہ پطرس بخاری نے محکمہ میں اپنی قابلیت کا سکہ جما لیا لیکن اس وقت ریڈیو اسٹیشن پر دو بخاری تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے انداز فکر ونظر کے لحاظ سے اس برصغیر میں نشریات کی تاریخ کی تدوین کا آغاز کر دیا اور متحدہ طور پر مستحکم تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ اب نشری دنیا میں یہ دو شخصیتیں، بڑے بخاری اور چھوٹے بخاری کے نام سے مشہور ہوگئیں۔ کچھ عرصہ ”بڑے بخاری“ اسٹیشن ڈائریکٹر اور ”چھوٹے بخاری“ اسسٹنٹ اسٹیشن ڈائریکٹر رہے لیکن پھر بڑے بخاری ڈپٹی کنٹرولر مقرر ہوگئے اور چھوٹے بخاری اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے فیلڈن صاحب کنٹرولر رہے مگر انہوں نے بڑے بخاری صاحب کو ان کی ذہانت وقابلیت کے بھروسے پر محکمہ کے سیاہ وسفید کا مالک بنا دیا۔
    ڈپٹی کنٹرولر بخاری نے برصغیر میں نشریات کا جال بچھانا شروع کیا۔ نئے نئے اسٹیشن کھولے۔ ضروری قواعد منضبط کئے اور گوشے گوشے میں ہونہار شخصیتوں کو کھینچ کر کسی نہ کسی حیثیت سے محکمہ نشریات میں لاشامل کیا۔ تعلیمی اور ادبی حلقوں سے متعدد نامور حضرات آکر مختلف اسٹیشنوں پر جمع ہوگئے۔ پروفیسر رشید احمد (حال ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان) سومناتھ چب (حال سیکریٹری ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ، ہند) ن۔ م۔ راشد (حال ڈپٹی ڈائریکٹر اقوام متحدہ امریکہ متعینہ کراچی) محمود نظامی (حال ڈائریکٹر محکمہ تعلقات عامہ، مغربی پنجاب) الطاف گوہر (حال کنٹرولر محکمہ درآمد وبرآمد حکومت پاکستان) اعجاز بٹالوی (بیرسٹر)سید انصار ناصری (حال ریجنل ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان) ملک حسیب احمد (حال پبلک ریلیشن آفیسر این ڈبیلو آر) رفیع پیرزادہ (میوزک ڈائریکٹر) راقم الحروف اور متعدد اصحاب تھے جو بڑے بخاری صاحب کے عہد میں ان کے اشارے یا تحریک پر نشریات میں ”داخل دفتر“ ہوئے ان میں سے بعض حضرات نے بعد میں اپنے لئے کوئی نہ کوئی نیا میدان تلاش کر لیا اور بعض اب تک ریڈیو پاکستان میں موجود ہیں لیکن بخاری صاحب کی نظرِ انتخاب نے جن لوگوں کو قابل اہلکار تصور کیا تھا وہ اب خواہ کسی میدان میں بھی ہوں سرمیدان ہی نظر آتے ہیں۔
    ڈپٹی کنٹرولرہونے کے زمانے میں بخاری صاحب فیلڈن صاحب ہی کی نظر میں نہیں بلکہ اعلیٰ انگریز حکام اور اقتدار اعلیٰ کی نگاہوں میں بھی معتمد الیہ تصور کئے جانے لگے ان کا ضابطہ تحریر وتقریر دونوں حیثیت سے ناقابل تسخیر تھا۔ جو تجویز یا تحریک ہوتی، معقول اور مدّلل، جو بات کرتے پختہ اور مناسب، اس لئے کوئی وجہ نہ تھی کہ افسران بالا سے منوا کر نہ چھوڑتے۔
    بخاری صاحب کی بےضابطہ شخصیت کے رموزو نکات اور ادبی کمالات سے تو ہر عام وخاص بخوبی واقف ہے اور پطرس کی حیثیت سے جاننے والے ان کے طنز ومزاح کی بے مثال خوبیوں کے دلی مدّاح ہیں۔ لیکن باضابطہ سرکاری افسر اعلیٰ کی حیثیت سے صرف وہی لوگ ان کی نکتہ رس شخصیت سے آگاہ ہیں جنہوں نے ان کے ماتحت براہِ راست یا بالواسطہ محکمہ نشریات میں کام کیا ہے۔ بخاری صاحب ڈپٹی کنٹرولر ہی تھے کہ میں ان کے ایما سے اسی محکمہ میں پروگرام اسسٹنٹ کی حیثیت سے داخل ہوا۔ ۱۹۳۹ء کا زمانہ تھا اور میں اس وقت دہلی کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ادارے سے منسلک تھا۔ میرے ڈرامے اور تقریریں دہلی کے ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہوا کرتی تھیں۔ دہلی میں رہتے سات آٹھ سال گزرے تھے۔ میں اور چھوٹے بخاری دہلی کی بزم احباب کے قدیم رکن تھے۔ بڑے بخاری صاحب سے مجھے نیازمندی کا شرف حاصل تھا۔ ایک مجلس میں نشریات پر بات ہو رہی تھی۔ بحث کے دوران میں بڑے بخاری صاحب نے بڑی شفقت سے حاضرین سے چند اصحاب کو مخاطب کرکے مشورہ دیا بلکہ ڈانٹا کہ آپ لوگوں کو ریڈیو کے محکمے میں باضابطہ داخل ہو کر کام کرنا چاہئے تاکہ آپ اپنے رجحان کے مطابق کچھ مفید کام کر سکیں۔ علمی، ادبی دلچسپیوں کا مرکز اب محکمہ نشریات کو بننا چاہئے۔ اسی سلسلے میں ایک مشہور ادیب کا نام لے کر فرمایا ”…صاحب، لکھنوٴ سے مجھے ملنے آئے تھے۔ آج کل جو آسامیاں پروگرام اسسٹنٹ کی ہمارے یہاں خالی ہیں ان کے لئے پُرزور اصرار کرتے تھے۔ میرے خیال میں وہ اس جگہ کے لئے موزوں نہیں، ضابطہ کی پابندی ہر ادیب کے بس کی نہیں!“ چونکہ میں ان صاحب سے واقف تھا۔ بخاری صاحب نے میری طرف دیکھ کر فرمایا ”کیا خیال ہے؟“ میں سمجھا کہ بخاری صاحب ان کی نسبت مجھ سے دریافت کر رہے ہیں میں نے کہا ”بجا ارشاد ہے“ بخاری صاحب نے مخصوص انداز سے زیرلب تبسم فرما کر کہا ”بھئی میں… صاحب کے بارے میں آپ کا خیال نہیں پوچھ رہا میں کسی کے بارے میں یونہی رائے قائم نہیں کرتا نہ اپنی رائے پر ووٹ حاصل کرنے کا پیشہ اختیار کیا ہے۔ میں تو اس آسامی کے لئے آپ سے دریافت کر رہا ہوں اگر آنے کا خیال ہے تو درخواست دے ڈالئے۔ ہو جائے مقابلہ“ میں پہلے تو کچھ نادم ہوا پھر سوچ میں پڑ گیا کہ جواب کیا دوں۔ بخاری صاحب نے میرے تذبذب کو تاڑ لیا فرمایا ”سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لو جلدی نہیں مقابلہ ذرا سخت ہے۔ انتخابی بورڈ میں دس بارہ ممبر ہوتے ہیں۔ فیلڈن صاحب صدر ہیں۔ میں تو دانستہ بورڈ میں شامل نہیں ہوتا۔ سفارشوں کے طومار کون بھگتے، پھر ضابطہ کرے تو معقولیت ضبط، بے ضابطہ کارروائی اپنے بس کی نہیں۔ پھر ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ مجلس برخواست ہوئی چلتے ہوئے بخاری صاحب نے فرمایا مجھے ”پھر درخواست آتی ہے؟“ میں نے عرض کیا ”سوچ رہا ہوں“ بولے صرف یہ سوچو کہ اگر انتخاب میں آگئے اور داخل دفتر ہوگئے تو یکسوئی ملتی ہے، منتشر خیالات میں کچھ بات نہیں بنتی“۔
    میں نے چند احباب واعزا سے مشورہ کیا۔ درخواست بھی دی۔ منتخب بھی ہوگیا۔ پروگرام اسسٹنٹ کے عہدہ پر تقرر ہوا اور لکھنوٴ اسٹیشن کی تعیناتی ملی۔ میرے لئے دہلی چھوڑنا سخت تکلیف دہ تھا۔ بارہ خواجاؤں کی چوکھٹ، ادیبوں، شاعروں اور سب سے بڑھ کر عزیز دوستوں کی جدائی بڑی شاق تھی۔ احباب کی رائے ہوئی کہ بخاری صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر لکھنوٴ کی تعیناتی کی جگہ دہلی اسٹیشن کی تقرری منظور کرالوں۔ یہ معاملہ قطعی بخاری صاحب کے اختیار میں تھا۔ میں نے ٹیلی فون کے ذریعے بخاری صاحب سے حاضری کی اجازت لی۔ اب میں ڈپٹی کنٹرولر نشریات کے دفتر میں ایک پروگرام اسسٹنٹ کی حیثیت سے داخل ہوا تھا۔ لیکن بخاری صاحب نے میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی حسب سابق تپاک سے ہاتھ ملایا اور بیٹھ کر چند ضابطہ کی ہدایات شروع کر دیں کیونکہ میں اس محکمہ میں نووارد تھا اور وہ ایک مخلص مہربان افسر اعلیٰ۔
    بعد ازاں میں نے اصل معاملہ پیش کیا۔ اور اپنی لکھنوٴ کی تقرری کے احکام کی تبدیلی اور دہلی میں رہنے کی خواہش ظاہر کی۔ بخاری صاحب نے نہایت سنجیدگی سے کہا ”عشرت صاحب! آپ کا تقرر لکھنوٴ کے لئے محض اتفاقیہ نہیں بلکہ دانستہ ہے۔ آپ عرصہ دراز سے دہلی میں مقیم ہیں آپ کے تعلقات یہاں کے ادبی اور تعلیمی حلقوں میں وسیع ہیں آپ کا تقرر دہلی ریڈیو کے کسی شعبہ میں ہو تو آپ کی جان ضیق میں ہوجائے گی۔ لوگ آپ کو شک وشبہ کی نظروں سے دیکھنے لگیں گے۔ آپ پر کسی حلقے کی بےجا طرفداری اور کسی کی بےجا مخالفت کے الزام لگائے جائیں گے جس محکمہ کا پبلک سے قریبی واسطہ ہو وہ عوام اور خواص ہر طبقہ کی نظروں میں رہتا ہے۔ ریڈیو کے محکمے کا بھی یہی حال ہے اس لئے ریڈیو اسٹیشن کے ذمہ دار اور کسی حد تک بھی بااختیار اہلکار کا اس اسٹیشن (مقام) پر تعینات ہونا خود اس کے اور محکمہ دونوں کے حق میں مفید نہیں۔ آپ خاص مکتب خیال سے تعلق رکھتے ہیں خود ادیب ہیں شاعر ہیں آپ کے دوست بھی ادیب اور شاعر ہیں اور دشمن بھی۔ ان میں سے بعض آپ کے ہم خیال ہوں گے اور بعض مخالف۔ آپ کس کس کو خوش رکھ سکیں گے۔ اپنے متعلقہ شعبہ میں آپ سارے شہر کے ادیبوں اور شاعروں کو پروگرام نہیں دے سکیں گے اس لئے بہت جلد مظعون ہو جائیں گے اور ضابطہ بےضابطہ ہر طرح سے آپ کی کڑی نگرانی ہونے لگے گی اور نتیجہ آپ کے حق میں مضر ہوگا۔
    بخاری صاحب کی یہ مشفقانہ نصیحت اور مجرب گر دل کو لگے لیکن دہلی کی مفارقت کا خیال ستا رہا تھا۔ میں نے پھر بھی عرض کیا۔ آپ نے جو فرمایا بجا ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ابھی کچھ عرصہ دہلی میں اور رہ لیتا اس کے بعد کہیں بھی بھیج دیا جاتا۔ بخاری صاحب ذرا سر اونچا کرکے گردن ہلاتے ہوئے حسب عادت مسکرائے اور بولے،  آپ سمجھ رہے ہیں میں ٹالنے کے لئے آپ کو بہلا رہا ہوں بات معمولی ہے آپ کو کچھ عرصہ کے لئے نہیں مستقلاً دہلی میں رکھا جا سکتا ہے مگر بات اب کی ہے ابھی آپ کا قیام دہلی میں آپ کے لئے مناسب نہیں۔ ابتدائی ایام میں دہلی کی ادبی مجالس راس نہ آئیں گی ان سے دور دلجمعی سے کام کرنے کا موقعہ ملے گا او رپھر یہ جدائی عارضی ہے ”یار زندہ صحبت باقی“ اطمینان سے روانہ ہو جائیے اور لکھنوٴ پہنچ کر کام میں دل لگائیے۔ اچھا! خدا حافظ“ اور کرسی سے اُٹھتے ہوئے ہاتھ بڑھا دیا۔ میں بھی اُٹھ کھڑا ہوا اور ہاتھ بڑھاتے ہوئے بخاری صاحب کے سنجیدہ متبسم چہرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے بعد سلام رخصت ہوا۔ میرے مخلص احباب میں سے ایک محترم بزرگ اکبر حیدری مرحوم تھے۔ میں نے ان سے بخاری کی گفتگو کا حال بتایا انہوں نے بخاری صاحب کی رائے کی حرف بحرف تائید کی اور کہا ”بخاری صاحب نے نہایت معقول فیصلہ کیا ہے۔ دہلی کے ادبی حلقوں میں اس قسم کی چہ میگوئیاں ابھی سے شروع ہوگئی ہیں۔ بعض ادیب احباب کو پروگراموں کی امید ہے بعض اس انتظار میں ہیں کہ اگر تم دہلی اسٹیشن پر تعینات ہوجاؤ تو تمہارے خلاف جا بےجا شکایتوں کا محاذ کھڑا کر دیں۔ بات ختم ہوئی میں لکھنوٴ چلا گیا اور بس!
    جیسا کہ بخاری صاحب نے فرمایا تھا۔ یہ واقعی معمولی بات تھی اور ایک ادنیٰ ماتحت کے ساتھ (جو اس محکمہ میں ہنوز قدم رکھنے آیا تھا) اس قدر تفصیلی گفتگو کی چنداں ضرورت بھی نہ تھی۔ وہ حسب ضابطہ یہ کہہ کر بات ختم کرسکتے تھے کہ جس اسٹیشن پر تعیناتی ہوئی ہے وہی مناسب ہے اس حکم پر کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ لیکن بخاری صاحب کا ضابطہ اس کا خوگر نہ تھا۔ انہوں نے ابتدا ہی سے مجھے اپنی ناصحانہ گفتگو سے اس محکمہ میں کام کرنے کے ضوابط اور نشیب وفراز سمجھا دیئے جن سے میں نے بہت سیکھا اور اپنی ملازمت کے دوران ان پر کاربند رہ کر اپنی ذات اور محکمہ کے لئے مفید ثابت ہوتا رہا۔ نیز انہوں نے حاکمانہ انداز اختیار کرکے سرسری طور پر میری درخواست رد کرنے کے بجائے بے ضابطہ طور پر ضابطہ کو اس خلوص اور محبت سے سمجھایا کہ میں قائل ہونے کے ساتھ ہی مطمئن واپس آیا۔
    اس واقعہ کی عمومیت یہاں تفصیل طلب تھی تاکہ بخاری صاحب کے ضابطہ کی خصوصیت واضح ہو سکے۔ ایک اعلیٰ افسر ہونے کی حیثیت سے انہوں نے محکمہ کے نظم ونسق کو اسی طرح منضبط کیا تھا ان کے ہر قول وفعل اور فیصلہ میں ہمیشہ خوداعتمادی، نکتہ رسی، دور اندیشی اور قطعیت ہوا کرتی اور لطف یہ کہ کسی کے خلاف فیصلہ کی صورت میں اس کی دل آزادی کا اظہار تک نہ ہوتا۔ وہ ضابطہ کے ہر معاملہ میں معمولی بات کو خاص اہمیت دیئے بغیر نہ ٹالتے اور اہم بات کو عام انداز میں اس طرح طے کر ڈالتے جیسے نہایت معمولی ہو۔ یہ وہ دور تھا جب کہ ایک پروگرام اسسٹنٹ کا وقار اور اختیار بھی خاصہ دقیع ووسیع ہوتا۔ اسٹیشن ڈائریکٹر اور پروگرام ڈائریکٹر کے فیصلوں کی بنیاد زیادہ تر پروگرام اسسٹنٹ کی تجویز ورائے پر ہوا کرتی۔ کانگریس ومسلم لیگ اور ہندو مسلم مناقشات کا زمانہ تھا۔ مسلم لیگ کے پیش نظر مسلمانوں کا مفاد اور ان کی آزادی کا حصول تھا کانگریس ہندو گردی پر اڑی ہوئی تھی۔ لکھنوٴ یو پی کا مرکز ہی نہیں سارے صوبے کی سیاسیات کا مرکز تھا۔ ایک بار ایک بڑے ہندو مہاشے کی تقریر نشر ہونا تھی۔میں نے تقریر کا مسودہ پڑھ کر مہاشے جی سے چند تبدیلیوں کے لئے کہا کیونکہ وہ باتیں پالیسی کے خلاف اور مناقشات کو بڑھانے والی تھیں۔ مہاشے جی نہ مانے۔ معاملہ اسٹیشن ڈائریکٹر تک پہنچا انہوں نے میری تجویز کے مطابق فیصلہ کیا۔ مہاشے جی بگڑ کر چلے گئے اور تقریر نشر کرنے سے انکار کر دیا۔ دوسرے روز مہاشے جی کی خفگی اور ریڈیو اسٹیشن کی کارروائی ضابطہ تمام اخباروں کی سرخیاں بن گئیں۔ ریڈیو کو موردِ الزام قرار دے کر خوب خوب لے دے کی گئی۔ کانگریسی اخبارات نے ریڈیو کے محکمے اور مرکزی حکومت کو ہلا ڈالنے کا اعلان کر دیا۔ میری موقوفی کا مطالبہ کیا گیا۔
    غیر معمولی ہنگامہ تھا۔ ڈائریکٹر جنرل (بخاری صاحب) کو دہلی سے بہ نفس نفیس تحقیقات کے لئے آنا پڑا۔ بخاری صاحب نے تقریر کا سودہ پڑھا۔ صورتحال کا جائزہ لیا او رپھر خود مہاشے جی سے ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔ کوئی گھنٹہ بھر بعد بخاری صاحب ریڈیو اسٹیشن واپس آئے مہاشے جی ان کے ہمراہ تھے۔ بخاری صاحب مسکرا رہے تھے اور مہاشے جی خاموش تھے۔ اسٹیشن ڈائریکٹر کے کمرے میں میری طلبی ہوئی۔ سامنے پہنچتے ہی مہاشے جی نے بڑی خندہ پیشانی سے ہاتھ ملایا اور بولے ”میری غلط فہمی بھی تھی مگر آپ کا انداز ناخوشگوار تھا“۔ بخاری صاحب نے مسکراتے ہوئے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور بولے ”آپ بزرگ ہیں لیکن ان لوگوں کی مجبوریاں احتیاط کی متقاضی ہیں“ معلوم نہیں بخاری صاحب کی حکمت عملی اور شگفتہ بیانی نے مہاشے جی پر کیا جادو کیا کہ وہ اپنی ساری منطق بھول کر اسی رات مجوزہ تقریر نشر کرنے پر آمادہ ہوگئے اور انہوں نے خود ہی اخبارات کے منہ بند کر دیئے اور ہماری دوستی کا دم بھرنے لگے۔
    حقیقت یہ ہے کہ یہ بخاری صاحب کے علم وفضل اور حسنِ گفتار وکردار کی خوبی تھی جس نے آل انڈیا ریڈیو کے محکمہ کو ایسے طوفانی زمانے میں فرقہ وارانہ تفرقوں سے محفوظ رکھا۔ عملے کے ادنیٰ واعلیٰ اراکین میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی سب فرقوں کے خواتین وحضرات شامل تھے۔ لیکن باستثائے چند ہر اسٹیشن پر اتحاد ویگانگت کے روابط قائم تھے۔ ہندو مہاسبھا نے بار بار اس قسم کی تفرقہ اندازی کی کوشش کی۔ خصوصاً اردو زبان کو مٹا کر ہندی رائج کرنے کی بڑی جدوجہد کی۔ مگر مہاسبھائی جوڑ توڑ بخاری صاحب کے تدبر وحکمت نے توڑ پھوڑ کر رکھ دیئے۔ نام بدل کر ہندوستانی ہوا مگر زبان کی سلامت اور رچاؤ بدلنے نہ پایا۔ اور جب ایک وقت آیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ”زبان“ اور مسلمان دونوں کے گلے پر چھری چلائیں تو انہوں نے کھلم کھلا انکار کرکے اس عہدہٴ جلیلہ سے سبکدوشی اختیار کر لی۔
    جب کانگریس کی حکومت برصغیر پاک وہند میں قائم ہوئی۔ اس وقت سردار پٹیل جو کٹر مہاسبھائی ذہنیت کے مالک تھے محکمہ اطلاعات ونشریات کے وزیر مقرر ہوئے۔ مسٹر پٹیل نے کرسی وزارت پر متمکن ہوتے ہی محکمہ نشریات میں ہندو گردی کا آغاز کر دیا۔ زبان ہندی، پروگراموں کی ترتیب ہندی اور موسیقی کے لئے احکام نافذ کئے گئے کہ تمام پیشہ ور موسیقار خواتین گانے کے پروگرام سے یک قلم خارج کر دی جائیں۔ ظاہر ہے کہ شوقیہ گانے والی خواتین سے مراد صرف غیر مسلم خواتین تھیں۔ بیک وقت مسلم دشمنی اور ہندو نوازی کی پالیسی مرتب ہوگئی، اردو زبان کی جگہ کھلم کھلا ہندی کا رواج تجویز ہوا۔ ڈائریکٹر جنرل (مسٹر بخاری) نے پہلے تو وزیر پٹیل کو سمجھایا بجھایا کہ اس انداز سے پروگرام بےجان ہوجائیں گے ہمیں زبان اور آرٹسٹ دونوں کے مسئلہ کو مناسب اور موزوں طریقے سے حل کرنا چاہئے اور ایک متوازن وخوشگوار تناسب قائم رکھنا چاہئے لیکن مسٹر پٹیل کا منشا ہی کچھ اور تھا وہاں تناسب کی جگہ تناسخ کا مسئلہ زیرنظر تھا۔ چنانچہ ذی ہوش، صاحب خردوحوصلہ مند بخاری نے اس بےبسی اور بےاختیاری کے تحت اس اعلیٰ عہدے کو قبول کرنا اپنی کسر شان اور موجودہ پالیسی کو اختیار کرنا اپنی دیانت وبسالت کے منافی تصور کیا۔ بخاری صاحب گورنمنٹ کالج لاہور واپس آئے اور آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل ایک ہندو مہاشے (مجوزہ اسکیم کے مطابق) مقرر ہوگئے۔ بخاری صاحب نے اپنے اصول اور ایمان وایقان کی قربانی گوارا کی نہ جاہ ومنصب کی طلب میں سرتسلیم خم کیا۔
    بخاری صاحب ضابطہ وقاعدہ کے سختی سے پابند ہونے کے باوجود ہر معاملے کو چٹکی بجاتے باتوں باتوں میں طے کر دیتے تھے مشکل سے مشکل مسئلہ کو نہایت خندہ پیشانی سے بآسانی حل کرنا ان کے ضابطہ کا خاصہ تھا۔ ان کی ضابطہ کی زندگی کے بے شمار واقعات ومطائبات مشہور ہیں جن کا بیان اس مختصر مضمون میں دشوار ہے وہ اپنے تمام ماتحت اہلکاروں سے ایک اعلیٰ افسر سے زیادہ ایک ناصح مشفق کا سلوک اختیار کرتے ہر شخص کی ذہنی صلاحیت اور قابلیت کو بخوبی پرکھ لیتے۔ اس کے ساتھ اسی انداز سے ہم کلام ہوتے اور اس کے عین مطابق برتاؤ کرتے۔ شگفتہ بیانی ان کا خاص کمال تھا۔ اور ہر شخص کے ساتھ گفتگو کے دوران میں اس کا دل موہ لینا اور بڑی سے بڑی شخصیت پر چھا جانا ان کا ادنیٰ کرشمہ تھا۔ ان کے حلقہٴ احباب میں سیاسی لیڈر، سرکاری افسران اعلیٰ، پروفیسر، عالم فاضل اور ادیب وشاعر سب ہی تھے لیکن سب ہی کو ان کی لیاقت اور حسنِ گفتار کا معترف پایا۔ ان احباب میں سے اکثر ان کے ضابطہ کے کاموں میں سفارشیں بھی کرتے لیکن وہ تمام معاملات میں وہی فیصلہ کرتے جو حق ودیانت کے مطابق ہوتا۔ لطف یہ ہے کہ خلافِ فیصلہ کی صورت میں بھی کسی کو شکایت کا موقع نہ دیتے اور بڑے اطمینان وسکون سے اس طرح سمجھا کر ٹال دیتے کہ صاحبِ معاملہ مطمئن ہونے پر مجبور ہوجاتا۔
    بخاری صاحب کا حاکمانہ برتاؤ اپنے ماتحت افسران ہی کے ساتھ مشفقانہ نہیں تھا بلکہ تمام درجوں کے ملازمین کے ساتھ بھی پسندیدہ تھا۔ ہر اہل کاران کے حسنِ سلوک اور اخلاقِ حمیدہ کا گرویدہ اور معترف تھا۔ ماتحت عملہ میں جو ادیب، شاعر اور ان کے دوست احباب شامل تھے ان کے ساتھ دفتر میں نہایت باضابطہ اور باقاعدہ ڈائریکٹر جنرل نظر آتے لیکن نجی صحبتوں میں اسی انداز کی بےتکلفی برتتے، جس حیثیت کے تعلقات ہوتے۔ ضابطہ کی پابندی کا یہ حال تھا کہ ایک بار اسٹوڈیو کے محافظ نے ان کو حسبِ ضابطہ بغیر پرمٹ دروازے کے اندر داخل ہونے سے روک دیا ۔نئی دہلی پارلیمنٹ اسٹریٹ کے براڈ کاسٹنگ ہاؤس میں بالائی منزل پر ڈائریکٹر جنرل کے دفاتر تھے۔ اور زیریں منزل میں دہلی اسٹیشن کے دفاتر اور اسٹوڈیوز واقع تھے۔ واقعہ یوں ہوا کہ ایک دن بخاری صاحب اپنے دفتر سے اُٹھ کر بغرض معائنہ اسٹوڈیوز کی عمارت میں جانے لگے۔ اسٹوڈیوز کے دروازے پر محافظ موجود تھا جس کا پہلا فرض یہ تھا کہ وہ اندر جانے والے ہر شخص کو ٹوکے اور داخلے کا پرمٹ دیکھ کر دروازہ کھولے ورنہ باہر ہی روک دے بخاری صاحب کا حکم تھا کہ اس ضابطہ کی سختی سے پابندی کی جائے اور وہ خود پرمٹ کارڈ اپنے لئے بھی ساتھ رکھتے تھے۔ اس وقت اتفاق سے پرمٹ ساتھ لے جانا بھول گئے۔ محافظ نے حسبِ صابطہ ادب سے سلام کیا۔ اور عرض کیا۔ ”حضور پرمٹ!“ ڈائریکٹر جنرل بخاری نے جیب میں ہاتھ ڈالا پرمٹ کارڈ نہ پایا، خاموشی سے مسکرائے اور واپس اپنے دفتر چلے گئے تھوڑی دیر بعد چپراسی آیا اور محافظ کی طلبی کا حکم سنایا۔ ”ڈائریکٹر جنرل کو اس طرح بےباکی سے روک دیا۔ اب خیریت نہیں“۔ محافظ بے چارہ تھرتھر کانپنے لگا۔ باضابطہ پیشی ہوئے اور محافظ جو ڈرتا ہانپتا حاضر ہوا تھا خوش خوش اکڑتا ہوا اپنی ڈیوٹی پر واپس گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے اس کی فرض شناسی اور مستعدی کی تعریف کرکے اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اور کئی روز تک اس محافظ کے چرچے براڈ کاسٹنگ ہاؤس میں ہوتے رہے۔
    عام طور پر حکومت انگریزی کے زمانہ میں جب افسران بالا اپنے ماتحت دفاتر میں معائنہ کی غرض سے جاتے تو عملہ کی جانب سے شاندار ضیافتیں ہوا کرتیں لیکن بخاری صاحب جب کسی شہر میں ریڈیو اسٹیشن کے معائنہ کو جاتے اور دستور کے مطابق ان کو اسٹاف کی جانب سے دعوت دی جاتی تو وہ منظور کرنے کے بعد یہ شرط طے کرتے کہ دعوت کے مصارف ان کے ذمے ہوں گے وہ صاف طور پر کہہ ہدیتے کہ آپ لوگوں کا مقصد مجھ سے ملاقات کرنا ہے۔ مجھے آپ سب کے ساتھ مل بیٹھنے سے مسرت ہوگی لیکن آپ کو جو خوشی ہوگی اس کی قیمت آپ کی جیبوں سے ادا کرا کے بارِ خاطر نہیں بننا چاہتا وہ ان دعوتوں میں تمام اہل کاروں سے نہایت بےتکلفی اور خندہ پیشانی سے ملتے اور بے ضابطہ طور پر ان کی مشکلات کا حال دریافت کرکے ان کے حل بتاتے رہتے۔ آل انڈیا ریڈیو کی تعمیروتنظیم بخاری صاحب کی دانش وتدبر کی رہین منت تھی۔ نئی دہلی کی براڈ کاسٹنگ ہاؤس کی تعمیر، پروگراموں کی ترتیب، برصغیر کے تمام بڑے شہروں میں نشری مرکزوں کا قیام اور ان کا استحکام ان ہی کے ہاتھوں انجام پایا۔ ہندوستان میں نشریات کی توسیع کا جو کام ۱۹۴۷ء اور اس کے بعد عمل میں آیا اس کا خاکہ بخاری صاحب نے کئی سال قبل مکمل کر لیا تھا یعنی چپہ چپہ پر نشریات کا ملک گیر جال بچھانے کا دستور العمل انہوں نے تیار کر دیا تھا جس پر بعد میں عمل درآمد ہوا۔ اس عالی دماغ واہل علم وبصیرت نے نشری دنیا میں اپنے تدبر وحکمت اور فن کارانہ صلاحیتوں کے غیر معمولی جوہر دکھائے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے درمیان محکمہ نشریات کے سامان کی تقسیم کے لئے جو کمیٹی  بنائی گئی، اس کے صدر اور مشیر اعلیٰ بخاری صاحب ہوئے۔ اس طرح ریڈیو پاکستان کی بنیاد بھی ان ہی کے لائق ہاتھوں سے پڑی اور ان کے دستِ راست برادر عزیز سید ذوالفقار علی بخاری ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے (جو حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں)۔
    پطرس بخاری نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کی حیثیت سے اہم خدمات انجام دیں۔ اور ملک وقوم کا پرچم بلند کیا اقوام متحدہ کے محکمہٴ نشریات اور اطلاعات کے شعبوں کی تنظیم کی مہم بھی بخاری صاحب نے انجام دی خصوصاً اقوام متحدہ سے اردو نشریات کے سلسلے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔
    بخاری صاحب کی نغزگوئی بیدار مغزی اور شگفتہ بیانی اقوام عالم کے سربرآور دہ نمائندگان میں ضرب المثل ہوچکی ہے اور انہوں نے اپنے حسنِ گفتار اور دانش وحکمت کا دنیا بھر میں لوہا منوا لیا۔ لیکن اس بین الاقوامی شہرت اور عزو افتخار کے مالک ہونے کے باوجود ان کا دل وطن اور احبابِ وطن کے لئے ہمیشہ بےچین رہا۔ افسوس کہ ان کی آخری حسرت بر نہ آئی اور وہ سرزمین وطن ویارانِ وطن سے دور دیارِ غیر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سوگئے۔ یارانِ وطن ان کے دیدار سے محروم رہے۔ اور انہوں نے بین الاقوامی شہرت کے دامن میں دائمی آرام گاہ بنائی۔ ہم ان کے نام، کام اور گفتار وکردار کی یادگار پر عقیدت کے پھول چڑھاتے رہیں گے۔

بضاعتِ سخن آخر شدو سخن باقیست

* * *

میرا شہرہ آفاق استاد

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

میرا شہرہ آفاق استاد

(ڈاکٹر حمید الدین)

    میں سمجھتا ہوں کہ مجھے سینکڑوں نہیں تو بیسیوں ایسے احباب سے معذرت طلب کرنی چاہئے جو مجھ سے کہیں زیادہ پروفیسر بخاری سے واقفیت کا دم بھرتے ہیں۔ میں پروفیسر بخاری کی روح سے بھی معذرت خواہ ہوں کیونکہ ہو سکتا ہے میں اپنے بیان میں بعض ایسی باتیں کہہ جاؤں جو موصوف کی شخصیت کے بارے میں سوفیصدی درست نہ ہوں۔
    جب مجھے پروفیسر بخاری کا خیال آتا ہے۔ تو میرا ذہن دوسری دہائی کے آخری برسوں اور تیسری دہائی کے آغاز کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اُن دنوں میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کا طالب علم تھا اور وہ کیمبرج سے تازہ تازہ واپس آئے تھے۔ جہاں انہوں نے انگریزی ادب میں وہ امتیاز حاصل کیا تھا جو اُن سے پہلے کسی ہندوستانی کو نصیب نہ ہوا تھا۔ کیمبرج میں کئی ہندوستانیوں نے داخلہ یا مگر دو تین کے سوا کسی کو ان جیسی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔
    دراز قد، خوبرو، عالمانہ پیشانی، تیز دلکش آنکھیں رکھنے کے باعث پروفیسر بخاری دور کھڑےبھی دیگر پروفیسروں سے الگ پہچانے جاتے اور ممتاز نظر آتے تھے۔ پروفیسروں کی اس جماعت میں دبلے پتلے، لمبے تڑنگے مونچھوں والے پروفیسر لینگ ہارن، مدن گوپال سنگھ جیسے محنتی اور پروفیسر فرتھ جیسے سراپا حرکت لوگ شامل تھے۔ اس سے پہلے پروفیسر مرزا سعید شاید کسی ڈگری کالج کے پرنسپل ہو کر باہر جاچکے تھے اور ایک دو سال بعد پروفیسر ڈکنسن بھی علی گڑھ سے یہاں آگئے تھے۔
    مجھے پروفیسر بخاری سے پہلی بار واسطہ اس وقت پڑا۔ جب میں تیسرے یا چوتھے سال میں تھا۔ وہ ہمیں مختصر افسانہ پڑھاتے تھے۔ ہماری جماعت اُس کمرے میں بیٹھتی تھی۔ جسے توڑ کر آج کل پرنسپل اور کالج کے دفاتر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ جماعت صبح کے وقت ہوتی تھی۔ وہ ہمیں سٹیونسن کی مارخائیم پڑھا رہے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے پہلے لیکچر کے بعد ہمارے تاثرات کچھ زیادہ اچھے نہ تھے۔ ان کے پڑھانے کا طریقہ خاص طور پر مختصر افسانہ اس طریقے سے مختلف تھا جس کے ہم عادی تھی۔ انہوں نے دو تین لیکچر دیئے جس کا مطلب یہ تھا کہ پورا ایک ہفتہ زیادہ تر یہ بتانے پر صرف کیا کہ انہوں نے لندن میں ایک عام آدمی کو کس حال میں دیکھا۔ انہوں نے مصنف اور اس کی کہانی کے متعلق ہمیں کچھ نہیں بتایا۔ اگرچہ بعد میں ایسا ہو اکہ لندن کے عام آدمی کے بارے میں انہوں نے جو کچھ بتایا تھا۔ ان کا ڈنڈا مارخائیم سے خود بخود مل گیا اور ہم اس فیصلے پر پہنچے کہ پروفیسر بخاری دوسروں سے خواہ کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں خواہ مخواہ ہمارا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اگر کوئی ان سے سوال پوچھتا یا ان پر نقطہ چینی کرتا تو وہ اس سے زیادہ بڑھ چڑھ کر باتیں کر سکتے تھے۔
    اس کے بعد پروفیسر بخاری کی ذات کا جائزہ ہمارا موضوع بن گیا۔ ہم سیدھے سادے انداز میں ان کے قیامِ لندن کے ظاہری اثرات معلوم کرنا چاہتے تھے مگر مجھے اعتراف کرنا چاہئے کہ ہم ان کی ظاہری دلچسپیوں سے ان کا سراغ لگانے میں قطعاً ناکام رہے۔ ان کے جیکٹ کے سخت کالر کے سوا جو ایک خوش پوش آدمی کا نشان ہے، اُن میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے دیکھ کر آدمی کہہ سکے کہ وہ دوسروں کو لاشعوری طور پر مرعوب کرنے کے لئے استعمال کی گئی ہے۔ اُن سردیوں میں وہ روزانہ ہلکے بادامی رنگ کے ٹریڈ کی جیکٹ اور شاید ویسی ہی فلالین کی سلیٹی رنگ کی پتلون پہنتے رہے۔ ان میں شک نہیں کہ ان کا کوٹ پتلون نہایت صفائی سے استری کیا ہوا ہوتا تھا۔ تاہم ٹائی کے انتخاب میں مجھے ان میں کبھی نمایاں نازک مزجی کا ثبوت نہ ملا۔ دھاری دار کپڑے پہننے کی کمزوری تو ان میں شروع سے آخر تک پائی گئی۔ وہ خانے دار قمیض کا استعمال اسی قسم کے ہلکے لیکن نمایاں چیک کوٹ کے ساتھ ہرگز معیوب نہ سمجھتے تھے۔ البتہ انہیں بوٹائی لگانے کا شوق ہمیشہ رہا۔
    اس طرح قریب سے جانچ پڑتال کرنے کے باوجود ہم ان کی وضع قطع کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جان سکتے۔ ہم جہاں تھے وہیں رہے اور ابھی تک یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اُن میں ایسی کون سی بات تھی جس کی وجہ سے نقطہ دہی واحد پروفیسر تھے جنہیں تنگ نہیں کیا جاتا تھا۔ گورنمنٹ کالج میں کوئی استاد ایسا نہ تھا جو دوسرے سے پانچویں سال کے طلبہ کی شرارتوں کا تختہٴ مشق نہ رہا ہو۔ پانی کی طرح رواں اور غلطی سے پاک انگریزی شاذونادر ہی نوواردوں کے کام آتی تھی۔ دراصل ایسا استاد جتنا تیز بولتا اور جتنا زیادہ رعب جمانے کی کوشش کرتا۔ اتنا ہی زیادہ وہ بےنقاب ہوجاتا لیکن پروفیسر بخاری ایسی تمام شرارتوں سے بچے رہے۔
    جذبہٴ خلوص ہی ایک ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر تمام دنیا کے شاگرد اپنے استادوں کی قدر کرتے ہیں۔ پروفیسر بخاری میں ایک استاد کی حیثیت سے یہ وصف نمایاں تھا۔ ان کے شاگرد شروع ہی سے جان گئے تھے کہ پروفیسر بخاری کی اہمیت ایک استاد سے اگر زیادہ نہیں تو کسی صورت کم بھی نہیں۔
    پروفیسر بخاری کے نزدیک ادب پڑھانے کا مطلب صرف یہی نہیں تھا کہ مشکل الفاظ کے معنی بتا دیئے یا محاوروں کی تشریح کر دی یا کسی شاہکار کی ہیئت اور ساخت کا تجزیہ کر دیا یا کسی عظیم مصنف کے فن ٹیکنیک اور پُرکاری پر روشنی ڈال دی یہ سب کچھ کرنے کے علاوہ بہت کچھ اور بھی تھا۔ وہ اول تو اپنے آپ کو کسی شاہکار میں کھو دیتے تھے۔ پھر اپنی حقیقی زندگی اس کے سانچے میں ڈھال کر ایسا بنا دیتے تھے کہ مغائرت کا احساس باقی نہ رہتا تھا۔ منشاء یہ تھا کہ طلبہ اس عمل کو اپنی شخصیت کی ہر سطح میں دہرائیں۔ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں اس کام کے پہلے حصے میں کامیابی حاصل کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ البتہ اس کا دوسرا حصہ خاصہ مشکل ہے۔ کیونکہ صرف وہی معلم اس خواب کو پورا ہوتے دیکھ سکتا ہے جو ادب کو ایک وقتی پیشے یا مشغلے کے طور پر نہیں بلکہ زندگی کی شاہراہ کے طور پر اختیار کرتا ہے۔
    بہت جلد پروفیسر بخاری کی جماعتوں کی شکل کچھ سے کچھ ہوگئی۔ ان کا تربیتی کام ایک استاد کے بےکیف لیکچروں اور طلبہ کے نوٹ لینے کا نام نہ تھا۔ ان میں گرما گرم بحثیں ہوتی تھیں۔ ہرطالب علم کسی نظم یا ڈرامے کے ٹکڑے کی ٹیکنک کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کرتا تھا۔ یہ سوقیانہ ہے۔ یہ ارفع ہے، اس میں یہ خوبی ہے، یہ عیب ہے۔ پروفیسر بخاری خود بحث کا آغاز کرتے بلکہ اسے چلانے کے لئے خود بھی حصہ لیتے، عموماً ایسا ہوتا کہ وہ زید کے حق میں دلیلیں دے رہے ہوتے لیکن بہت جلد معلوم ہو جاتا کہ وہ کلیتہً اس کے حق میں نہیں۔ بلکہ جزوی طور پر اس سے متفق ہیں۔ ایسی بحثوں کا ایک پہلو نہایت قابل تعریف ہوتا۔ وہ یہ کہ کوئی شخص محض منطق کے زور پر انہیں قائل نہیں کرسکتا تھا۔ اپنی بات منوانے کے لئے اسے لازمی طور پر بحث مصنف کی تخلیق ہی کے دامن میں پناہ ڈھونی پڑتی تھی۔ اس کی دلیل بظاہر کتنی ہی وزنی کیوں نہ ہو اس وقت تک قابل قبول نہ سمجھی جاتی جب تک وہ یہ ثابت نہ کرے کہ اس نے اصلی کتاب کو عقلمندی سے سمجھ سوچ کر پڑھا ہے۔ اس طرح پروفیسر بخاری کی نظر میں مقبول ہونے کے لئے ایک طالب علم کو اپنے میدان مطالعہ میں چار چول چوکس رہنا پڑتا تھا۔
    اپنے طلبہ میں ادب کا ذوق پیدا کرنے کا جذبہ پروفیسر بخاری میں عشق کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ اس سے نہ وہ بوجھ محسوس کرتے تھے نہ ان کے اپنے مشاغل میں کمی واقع ہوتی تھی۔ بلکہ یہ شوق بڑھتا ہی جاتا تھا یہاں تک کہ ادب سے ملتی جلتی تھی۔ ان تمام شاخوں کے مطالعہ کے لئے بھی مہمیز کا کام دیتا تھا جن کے سمجھے بغیر مطالعہ میں جان نہیں پڑ سکتی۔ تھیٹر، مشاعرہ، مذاکرہ اور کالج میگزین سے ان کا دلی لگاؤ بھی اس بات کا ظاہری ثبوت ہے کہ انہیں ادب اور زبان سے گہری شیفتگی تھی۔ ان کے دوست جانتے ہیں کہ زبان کی باریکیوں اور اسلوب بیان کے حسن سے انہیں انتہائی رغبت تھی۔ یہاں لسانی مہارت ان کی شخصیت کے پھلنے پھولنے میں کام آئی۔ اور اہم ترین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ زبان کو اس سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جاتی کہ وہ چند منجمد علامتوں کا ایک نظام ہے۔ مگر ان کی نظر میں یہ ایک زندہ تحریک تھی وہ اسے ایک ایسا جال تصور کرتے تھے جس کے ذریعے ادب کے شیدائی زندگی کے بےپایاں سمندر سے الفاظ اور محاوروں کی جھلملاتی مچھلیاں شکار کرسکیں۔
    وہ زندہ اور خوبصورت الفاظ سے محبت کرتے تھے اور یہ قدرت کا ایک ایسا عطیہ تھا جس کی بدولت وہ ہر لمحہ اور ہر حال میں پیچیدگیوں کامقابلہ کرتے تھے۔ اسی میں ان کی بذلہ سنجی، مزاح، طنز اور بات چیت کے جادو کا راز مضمر ہے۔ پروفیسر بخاری ان چند خیال انگیز خوش بیانیوں میں سے ایک تھے جن سے مجھے ملنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اسی سحر آفرینی کے باعث ان کا حلقہٴ احباب وسیع ہوتا گیا اور اب بھی مداحین کا دائرہ بڑھتا رہے گا۔ جو ان کے نزدیک آتا ہر قیمت پر چند لمحے ان کے ساتھ گزارنے پر بہ خوشی آمادہ ہو جاتا۔ وہ ایک ایسے دانشور تھے  جن کی طنز وظرافت سے ان کے ملاقاتی اپنی علمی استعداد اور فہم وفراست کے مطابق خط و فرحت حاصل کرتے تھے۔ کند ذہن آدمی ہنسی کی بات سے کبھی لطف اندوز نہیں ہو سکتا، ان کا مزاح ہمدرانہ ہوتا تھا۔ وہ دوسروں کے ساتھ قہقہے نہیں لگاتے تھے۔ ان کا تمسخر نہیں اڑاتے تھے۔ بلکہ ان کی کلفت وپریشانی ہنسی میں اُڑا دیتے تھے۔ ان کا طنز ان کی ادراکی قوت کی پیداوار ہوتی تھی۔ وہ ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کی کمزوری بھی اسی طرح بےنقاب کرتے تھے۔ جس طرح بڑے سے بڑے اکڑباز اور طرح دار کی زندگی کا سارا تانا بانا ان کے لئے میدان کارزار تھا اور ان کی دیانت ان کی شمشیر، وہ کسی کو نہ بخشتے تھے اور کسی سے یہ توقع نہ رکھتے تھے کہ انہیں معاف کرے۔
    پروفیسر بخاری نے جتنے سال گورنمنٹ کالج لاہور میں طلبہ کو پڑھانے میں صرف کئے، ان کا جائزہ لینے کے بعد آدمی کہہ سکتا ہے کہ اپنی قابلیتوں کو بروئے کار لانے اور شاگردوں میں وہی اوصاف اور رجحانات پیدا کرنے کے لئے کالج اور کلاس روم بے پناہ امکانات رکھنے کے باوجود ان کے لئے محدود جولاں گاہ تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ ان کے اردگرد ارباب فضل وہنر کافی تعداد میں موجود ہیں۔ انہیں صرف منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ کام اپنے ذمہ لیا۔ مجلس اردو اسی کی ایک شکل ہے۔
    یہ سوسائٹی کالج کے ذہین نوجوانوں اور پروفیسر بخاری کے زیادہ تجربہ کار احباب کے لئے قائم کی گئی تھی۔ ہر شخص جو طبع زاد افسانہ، ڈرامہ، تنقیدی مضمون یا نظم لکھ سکتا تھا، اس مجلس میں بار پاسکتا تھا۔ اسے خوش آمدید کہا جاتا تھا اور اسے اجازت ہوتی تھی کہ وہ اس شام کو پڑھی جانے والی ہر ادبی کاوش پر تنقید کرے خواہ وہ کتنی ہی کڑی کیوں نہ ہو۔ تنقید کا معیار اتنا بلند رکھا جاتا تھا کہ اس میں اردو فارسی اور عربی کے قدیم اصول تنقید کے علاوہ مغرب کا جدید انداز تبصرہ بھی شامل ہوتا تھا۔
    پروفیسر بخاری نے مجلس اردو کو بہت جلد ایک ایسی پُرکشش جماعت بنا دیا کہ ہر ہونہار نوجوان جو لاہور کی ادبی مجالس کی روح ورواں تھا۔ یہ محسوس کرنے لگا کہ اسے مجلس اردو یا اس کی حریف بزم فروغ اردو میں سے کسی ایک میں شامل ہوئے بغیر چارہ نہیں۔ بزم فروغ اردو ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر جیسے مشہور شاعر اور فاضل کی نگرانی میں اپنی سرگرمیاں اسلامیہ کالج لاہور میں جاری کئے ہوئے تھی بالکل اسی طرح جس طرح پروفیسر بخاری گورنمنٹ کالج لاہور میں مجلس اردو چلا رہے تھے۔
    جن اصحاب کو معلوم ہے کہ بخاری اور تاثیر نے اپنے نوجوان ادیب دوستوں کے لئے ان مجالس کے ذریعے کیا کچھ کیا۔ وہ یہ کہنے میں کبھی دریغ نہ کریں گے کہ ان جماعتوں نے اور کچھ نہیں تو اتنا ضرور کیا کہ ہمارے عہد اور خطے کی ادبی تربیت کی تاریخ میں ان دونوں عظیم استادوں کا نام محفوظ کر دیا۔ جن پر ہمیشہ فخر کریں گے۔
    اور میں نے تو آرٹ اور ادب کے کئی پرستاروں کو ٹھنڈی آہیں بھر کر اپنی بدقسمتی کا ماتم کرتے دیکھا ہے کہ اس نے ہمیں ان دونوں سے کیوں محروم کر دیا۔ اگر آپ ان کی ایماندارانہ رائے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ پروفیسر بخاری اول وآخر ادب اور آرٹ کی دنیا کے باسی تھے۔ وہ جتنی جلدی اس دنیا میں لوٹ آئیں اتنا ہی بہتر ہے۔ وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ، ادیب، شاعر اور ناول نویس لاہور جیسے تمدنی صدر مقام میں دن رات ادب کی قابل ستائش خدمت کرنے کے باوجود پروفیسر بخاری کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ جن کی وفات سے پیدا شدہ خلاء کبھی پُر نہیں ہوگا۔ یہ مضمون ختم کرنے سے پہلے مجھے ایک معمولی لیکن اہم بات کا ذکر کرنے کی اجازت دیجئے۔ آپ شاید یہ خیال کرتے ہوں گے کہ انگریزی ادب کے استاد کی حیثیت سے پروفیسر بخاری کا کارنامہ صرف انگریزی تک محدود تھا لیکن حقیقت یہ نہیں۔ اردو اور فارسی ادب کے لئے بھی ان کا عشق اتنا ہی بڑھا ہوا تھا جتنا انگریزی ادب کے لئے۔ اگر کسی صاحب کو انہیں نیویارک میں ملنے کا اتفاق ہوا ہو تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ ان کے کتب خانے میں نوراللغات کی چاروں جلدوں کو وہی شرف حاصل تھاجو ملینکن کی امریکن انگلش کی پانچ جلدوں کو۔ اور یہ کہ انہیں دیوان حافظ اتنا ہی عزیز تھا جتنی شیکسپیئر کی تصانیف۔ وہ پشتو، پنجابی اور اردو میں بھی اتنے ہی خوش گفتار تھے جتنے انگریزی میں۔ ان تمام زبانوں پر ان کا علم یکساں وسیع تھا۔

(ترجمہ)

* * *

پطرس

For proper Urdu Nastaliq Fonts, please use Internet Explorer.

پطرس

(حکیم یوسف حسن)

    جینئس بننے یاکہلانے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی کی پشت پر بہت سی تصنیفات لدی ہوں یا اس کے سینے پر بہت سی تعلیمی ڈگریوں کے طلائی تمغے جھلملا رہے ہوں۔ جینئس پیدائشی ہوتا ہے، اکتسابی نہیں ہوتا اس کی غیر معمولی ذہانت ہی اسے اس رتبہ پر پہنچا دیتی ہے۔اس ربع صدی کے نامور اور ذہین ادباء ایک نظر ڈالی جائے تو زیادہ سے زیادہ ایک درجن ناموں پر نگاہ رکتی ہے اور اس نظریہ کے ثبوت میں کہ غیرمعمولی ذہانت کا ڈگریوں سے کوئی تعلق نہیں ہمیں تاثیر وپطرس کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔ تاثیر میرا دوست، میرا ساتھ اور نیرنگ خیال کا مدیر معاون تھا اس لحاظ سے تاثیر مرحوم کے مجھ پر بہت سے حق حقوق ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب تاثیر کیمبرج میں داخلے کے لئے پہنچے تو انہوں نے بی اے میں داخلہ لیا۔ اور پطرس نے بھی بی اے ہی میں داخلہ لیا۔ لیکن تاثیر نے انگریزی ادب کے متعلق اتنا کچھ پڑھا ہوا تھا کہ اگر میں کہہ دوں کہ وہ کئی لائبریریوں کو نگل چکا تھا تو اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے، کیمبرج کے پروفیسر سے تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا۔ وہ تاثیر کی عظیم واقفیت سے بےحد متاثر ہوئے اور انہوں نے اسے براہِ راست ایم اے میں داخلے کی اجازت دے دی او رپھر ایم اے میں اس کی قابلیت کے جوہر جو کھلے تو کیمبرج کے مروجہ دستور کے علی الرغم انہیں پی ایچ ڈی میں بیٹھنے کی اجازت کیمبرج کونسل کے ایک اسپیشل اجلاس میں دے دی گئی۔ تاثیر کو پی ایچ ڈی کے لئے قرون وسطیٰ کی انگریزی نظم میں تصوف کے رجحانات پر تحقیقی مقالہ تیار کرنا تھا۔ عنوان ہی سے اس کی سنگ لاخی ظاہر ہے مگر تاثیر نے کیمبرج سے پی ایچ ڈی نمایاں حیثیت سے حاصل کر لی۔ شاید تاثیر پہلے ہندوستانی تھے جنہیں یہ فضیلت حاصل ہوئی تھی۔ تاثیر مرحوم نے اس واقعہ کی تفصیل اپنے ایک خط میں دی ہے جو نیرنگ خیال میں شائع ہوچکا ہے۔
    پطرس جب بی اے (کیمبرج) بن کر آئے تو ان سے ملاقات ہوئی، تاثیر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بےساختہ کہا۔ حکیم صاحب تاثیر وہاں پڑھنے تھوڑا گیا ہے وہ تو پروفیسری کررہا ہے۔ تاثیر اور پطرس کی کیمبرج کی ڈگریوں میں عظیم تفاوت ہے۔ تاثیر کا انگریزی ادب پر عبور محیرالقول ہے لیکن جہاں تک فطری ذہانت کا تعلق ہے پطرس کا مقام بہت آگے ہے۔ تاثیر اور پطرس کی انگریزی اور اردو کا بغور مطالعہ کیا جائے تو پطرس میں جو رنگینی، لطافت اور لچک پائی جاتی ہے وہ تاثیر میں موجود نہیں۔
    تاثیر بھی مزاحیہ رنگ میں چند مضامین نیرنگ خیال میں لکھے تھے جو ادب میں اچھا مقام رکھتے ہیں لیکن ہم انہیں پطرس کے مزاحیہ مضامین کے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ پطرس کا ادبی کارنامہ صرف ”پطرس کے مضامین“ ہیں اس ننھی سی کتاب کے متعلق کیا کہیں، شیخ سعدی نے فرمایا تھا کہ:

ہر چہ بہ قامت کہتر یہ قیمت بہتر

اس کے مصداق یہ چند مضامین ہی پطرس کی عالمگیر شہرت اور ناموری کا باعث بن گئے۔ اگر میں یہ کہہ دوں کہ ہندو پاکستان کی تمام مزاحیہ کتابوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالا جائے اور پطرس کے مضامین دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں تو پطرس کے مضامین بھاری رہیں گے۔ پطرس کے مضامین کے بعض حصے نیرنگ خیال میں بھی شائع ہوچکے ہیں اور پطرس کی یہ مزاحیہ تصنیف تو قریباً ہر پڑھے لکھے آدمی کی نظر سے گذری ہوگی لیکن پطرس نے ان مزاحیہ مضامین کے علاوہ اور بھی بہت کچھ لکھا ہے جس کا مجموعہ نقوش کے اس خاص نمبر میں آپ کے ملاحظہ سے گزرے گا اور جس سے معلوم ہوگا کہ پطرس نے ادب اور زندگی کے ہر شعبہ میں بہت سی کارآمد باتیں لکھی ہیں۔
    پطرس کی شہرت ان مضامین سے بھی ہوئی تھی جو نیاز مندانِ لاہور کی طرف سے نیرنگ خیال اور کاروان میں شائع ہوئے تھے۔ ان مضامین میں طنز ومزاح کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ نیاز مندانِ لاہور کون تھے؟ یہ سوال تو لوگوں کو پریشان کرتا رہا۔ نیاز مندانِ لاہور سے مراد تین اصحاب تھے: پطرس، تاثیر اور سالک۔ جو مضمون بھی شائع ہوتا اس پر تینوں متفق ہوتے تھے، اصل میں ہوتا ہوں تھا کہ دفتر نیرنگ خیال میں تبادلہ کے رسائل اور ریویو کے لئے کتابیں موصول ہوتیں تھیں۔ جب ان میں کوئی چیز ایسی آجاتی جس پر بحیثیت پنجابی ہونے کے ہمیں توجہ کی ضرورت ہوتی تو میں وہ مواد تاثیر کے سپر د کر دیتا کہ اس کتاب یا اس رسالے کے فلاں مضمون پر نشتر زنی کی ضرورت ہے۔ تاثیر صاحب وہ مواد اپنے خیالات اور تحقیق کے ساتھ پطرس صاحب تک پہنچا دیتے۔ اور پطرس صاحب اس پر ایک مضمون قلم بند فرماتے جس میں آخری ٹچ عبدالحمید صاحب سالک کی ہوتی تھی اور پھر وہ مضمون نیرنگ خیال میں شائع ہوجاتا۔ ان مضامین کی ان دنوں یو پی اور اہل زبان میں بڑی دھوم تھی ان میں مزاح سے زیادہ طنز اور تنقید ہے۔ پطرس صاحب زندہ مزاج تھے۔ احباب کے ساتھ جس مجلس میں بھی وہ بیٹھتے، ان کے درخشاں اور شگفتہ چہرے سے مزاح کی فضا ترقی پکڑتی تھی، ان کے منہ سے مزاح بھرے فقرے اور الفاظ اس طرح مسلسل ادا ہوتے تھے کہ تمام مجلس لوٹن کبوتر بنی رہتی تھی۔ اس مزاح میں عامیانہ اور گھٹیا انداز میں کوئی بات نہ ہوتی تھی۔ جی چاہتا تھا کہ گھنٹوں بیٹھے پطرس کی باتیں سنتے رہیں۔
    جب پطرس صاحب آل انڈیا ریڈیو میں ڈائریکٹر جنرل تھے تو ریڈیو کی بعض پالیسیوں کے متعلق میں نے نیرنگ خیال میں سختی سے نکتہ چینی کی۔ یہ سلسلہ کوئی دو مہینے چلا ہوگا کہ پطرس کا ایک خط مجھے ملا جس میں اس قسم کے الفاظ تھے: ”سب میرے خلاف سب کچھ لکھیں تو میں برداشت کر لوں گا لیکن میرے خلاف نیرنگ خیال میں کچھ لکھا جائے تو میں اسے برداشت نہ کرسکوں گا“۔ خط کے پہنچتے ہی میں نے یہ سلسلہ نیرنگ خیال میں فوراً روک دیا۔
    ایک دفعہ ہمارے دوستوں نے نیرنگِ خیال کو نیچا دکھانے کے لئے مخزن کا سہارا لیا ”تاثیر مع اپنے عملہ“ کے مخزن کے دفتر میں جا پہنچے۔ صبح سے شام تک پورا عملہ مخزن کو بڑھانے اور مقبول بنانے میں مصروف نظر آتا تھا۔ پطرس، سالک اور امتیاز کو بھی اپنے ڈھب پر لانے کی انہوں نے بہت کوشش کی اور ان کے بعض مضامین جو نیرنگ خیال کو ملتے تھے۔ انہوں نے راستے ہی سے اچک لئے۔ اس معرکہ میں پطرس صاحب نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ”چوہے بلی کے گلے میں گھنٹی تو باندھیں گے لیکن اس کی میاوٴں کا کیا علاج کریں گے۔ تمہارے طائفہ کے پاس سب کچھ ہے لیکن حکیم صاحب کی سوجھ بوجھ کہاں سے لاؤ گے؟“ چنانچہ اس جماعت کی یہ تمام کوشش پوری طرح ناکام ہوگئی۔
    پطرس نیرنگِ خیال کے دورِ اول کے لکھنے والوں میں سب سے نمایاں شخصیت تھے۔ بلکہ مجموعی طور پر انہوں نے دوسروں سے کچھ زیادہ ہی لکھا ہے۔ ان تحریروں میں ڈراما، فلم، افسانہ، ادب لطیف، تنقید، طنز ومزاح سب ہی کچھ شامل ہے۔

* * *